Home » کس کی شریعت ؟
فقہ وقانون

کس کی شریعت ؟

پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ اسلامی احکام سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور رائج الوقت قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس پر بعض اوقات یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اسلامی احکام سے تصادم یا ہم آہنگی کا فیصلہ کیسے کیا جائے گا، جبکہ یہاں دیوبندی بھی ہیں، بریلوی بھی ہیں، اہلِ حدیث بھی ہیں، شیعہ بھی ہیں، سنی بھی ہیں، تو پھر کس کی شریعت نافذ ہوگی؟
یہ سوال اگر ایسے لوگ اٹھائیں جو نہیں جانتے کہ قانونی نظام کیسے کام کرتا ہے، تو اس پر حیرت نہیں ہوتی، لیکن جب یہ سوال قانون دانوں کی طرف سے آتا ہے تو اس پر افسوس ہوتا ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ کیا آئین کی تشریح کرتے ہوئے، یا اس کی کسی دفعہ کا مفہوم متعین کرتے ہوئے، تمام ججوں کا ہمیشہ اس بات پر اتفاق ہوتا ہے کہ اس کا ایک ہی مطلب ہے؟ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کسی قانون کے بارے میں ایک فیصلہ کرتی ہے، پشاور ہائی کورٹ اسی قانون کے بارے میں دوسرا فیصلہ دیتی ہے، پھر معاملہ سپریم کورٹ جاتا ہے، جہاں ایک بنچ ایک رائے قائم کرتا ہے اور دوسرا بنچ کوئی اور رائے، اور بعض اوقات ایک بنچ میں بیٹھے ججوں کا بھی آپس میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ ایسے میں آخر کس کی تشریح نافذ ہوتی ہے؟
ان اختلافات کو طے کرنے کے لیے ہر قانونی نظام نے کچھ اصول مقرر کیے ہوتے ہیں، اور ہمارے ہاں بھی یہ اصول طے ہیں۔ مثال کے طور پر، خیبر پختونخوا میں قانون کا وہ مفہوم نافذ ہوگا جو پشاور ہائی کورٹ نے متعین کیا، اور پنجاب میں قانون کی وہ تعبیر مانی جائے گی جو لاہور ہائی کورٹ نے طے کی؛ اور اگر سپریم کورٹ نے کوئی مفہوم متعین کر دیا، تو پھر وہ فیصلہ پورے ملک میں نافذ ہوگا۔ سپریم کورٹ میں بھی مختلف بنچوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے، تو دیکھا جائے گا کہ بڑے بنچ کا فیصلہ کیا ہے؛ اور اگر کسی بنچ میں بھی آرا منقسم ہوں، تو اکثریت کا فیصلہ نافذ ہوگا۔ نافذ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اسے دل سے درست ہی سمجھے۔ ممکن ہے کوئی اسے غلط سمجھے، اس پر تنقید کرے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعد میں خود سپریم کورٹ ہی اس فیصلے کو تبدیل کر دے، جیسا کہ عملی طور پر کئی بار ہو چکا ہے۔ اسی طرح اسلامی قانون میں بھی فقہی اختلافات کو حل کرنے کے اصول موجود ہیں۔ ضرورت صرف ان اصولوں کو سمجھنے کی ہے۔ جب تک ہمارے آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کہ تمام قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کرنا لازم ہے، تب تک اس ذمہ داری سے عدالتیں، جج اور وکلا جان نہیں چھڑا سکتے۔
آئین کی پچاس سالہ تقریبات کے ضمن میں ہم نے شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں خصوصی خطبات کا سلسلہ شروع کیا تھا، جن میں ایک خطبہ سینیٹر رضا ربانی نے دیا۔ انھوں نے قرار دیا کہ آئین کی کسی بھی شق میں ترمیم کی جاسکتی ہے اور پارلیمان کے پاس ترمیم کا جو اختیار ہے، اسے محدود نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اگلی سانس میں انھوں نے یہ کہا کہ البتہ آئین کی بنیادی خصوصیات کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ نئی آئین سازی کے مترادف ہوگی جس کے لیے عوام سے مینڈیٹ لینا ضروری ہوگا۔ میں نے پوچھا کہ بنیادی خصوصیات سے آپ کی کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا کہ وفاقیت، پارلیمانی نظام، بنیادی حقوق کا تحفظ اور اسلامیت ۔ اپنی گفتگو میں انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کا مقصد آئین کو اس کی اصول صورت میں بحال کرنا تھا۔ میں نے پوچھا کہ اصل آئین میں تو وفاقی شرعی عدالت نہیں تھی، پھر آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ انھوں نے پوری دیانت داری کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری رائے تو یہی تھی کہ یہ عدالت ختم کردینی چاہیے، لیکن مذہبی سیاسی جماعتوں نے شدید مخالفت کی اور جمہوریت میں سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے! یہ مثال اس لیے ذکر کی کہ جب تک آئین کا اسلامی تشخص موجود ہے، ہمارے معاشرے میں موجود سیکولر افراد کو، انگریزی محاورے کے مطابق، اسی اسلامی آئین کے ساتھ جینا پڑے گا۔
آئین کی اسلامیت کی کا سب سے بڑ امظہر ”قراردادِ مقاصد“ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا اقرار کیا گیا ہے اور مانا گیا ہے کہ پاکستان میں تمام ریاستی اور حکومتی اختیارات ایک ”مقدس امانت“ کی حیثت رکھتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر ”منتخب نمائندوں کے ذریعے“ استعمال کیا جائے گا۔ اپنے سیکولر دوستوں کو یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ مشہور ’عاصمہ جیلانی مقدمے (1972ء)‘ میں سپریم کورٹ نے قراردادِ مقاصد پر ہی انحصار کرتے ہوئے مارشل لا کو ناجائز قرار دیا تھا۔ اسی طرح ’راولپنڈی بار مقدمے (2105ء)‘ میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قراردادِ مقاصد ہی کی بنیاد پر فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے کی گئی آئینی ترمیم کو ناجائز قرار دیا تھا۔
اس قرارداد نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ آزادی کے بعد جب بڑے پیمانے پر مسلمانوں نے بھارت سے ہجرت کی اور غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد بھارت چلی گئی، تو دونوں ممالک میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرگیا تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے آج بہت سے لوگ بھول چکے ہیں۔ اس ’لیاقت–نہرو معاہدہ‘ میں طے ہوا کہ بھارت کی حکومت وہاں مسلمانوں، ان کی مساجد اور اوقاف اور جائیدادوں کو بھارت کے آئین کے تحت تحفظ فراہم کرے گی، جبکہ پاکستان کی حکومت اپنے ہاں غیر مسلموں کو تحفظ قراردادِ مقاصد کے تحت فراہم کرے گی۔
واضح رہے کہ اس قرارداد نے طے کیا ہے کہ پاکستان میں آزادی، جمہوریت اور حقوق کا وہ مفہوم نافذ ہوگا جو اسلام نے طے کیا ہے۔ اس لیے عدالتوں پر لازم ہے کہ آئین میں مذکور بنیادی حقوق کا مفہوم اور وسعت متعین کرتے ہوئے اسلامی اصول مد نظر رکھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نے ’گاؤ ماتا‘ کے تحفظ کے لیے اپنے سیکولر آئین میں ’پالیسی کے اصولوں‘ کے باب میں خصوصی دفعہ رکھی، اس پر ہمارے سیکولر دوستوں کو اعتراض نہیں ہوتا، لیکن پاکستان کے آئین پر انھیں اعتراض ہوتا ہے کہ اس میں پالیسی کے اصولوں میں یہ بات کیوں لکھی گئی ہے کہ ریاست مسلمانوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق بسر کر سکیں، اور زندگی کا مفہوم اسلامی اصولوں کے مطابق متعین کر سکیں!
سو باتوں کی ایک بات۔ جب تک آئین کی اسلامیت باقی ہے، تب تک ہماری عدالتوں، ججوں، وکلا اور تمام حکومتی اداروں اور محکموں پر اسلامی اصولوں کی پابندی لازم ہے۔ اس لیے بار کونسلوں اور سروسز اور جیوڈیشل اکیڈمیوں پر لازم ہے کہ جائزہ لیں کہ کیا ان کا نصاب ایسے افرادِ کار تیار کررہا ہے جو یہ آئینی تقاضوں پورا کرسکیں؟

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ شریعہ وقانون کے چیئرمین ہیں اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ذیلی ادارہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

(mushtaq.dsl@stmu.edu.pk)

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں