Home » علم کی حقیقت
اسلامی فکری روایت شخصیات وافکار فلسفہ

علم کی حقیقت

علم کی حقیقت و ماہیت پر اسلامی تاریخ میں کس نہج پر بحث ہوئی ہے، اس کے لئے یہاں چند صفحات کا عکس پیش کیا گیا ہے (ترتیب کے لئے “مقدمه: الطریق الی معرفة الله تعالی النظر” سے دیکھنا چاھئے)۔ یہ عکس امام جوینی (م 478 ھ) کے شاگرد علامہ ابو القاسم الانصاری (م 511 ھ) کی کتاب “الغنیة فی الکلام” جلد اول کے ہیں اور یہاں آپ نے اپنے دور تک ہوچکنے والے مباحث کا خلاصہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ علامہ الانصاری بلند مرتبہ اشعری متکلم تھے، آپ نے علم کلام پر امام جوینی کی کتاب “الارشاد الی قواطع الادلة” کی شرح بھی لکھی ہے جو تین جلدوں میں میسر ہے (اہل علم جانتے ہیں کہ امام جوینی کی یہ کتاب آپ کے دوسرے اہم شاگرد امام غزالی (م 505 ھ) کی علم کلام پر کتاب “الاقتصاد فی الاعتقاد” کا ایک اہم ماخذ ہے)۔ یہاں ان تمام صفحات میں درج امور کی تفصیل بیان کرنا یا ان کا ترجمہ کرنا مقصود نہیں، چند اہم امور کا خلاصہ بیان کیا جاتا ہے:
1) آپ گفتگو کا آغاز اس نکتے سے کرتے ہیں کہ اللہ کی معرفت کے حصول کا طریقہ اس کی نشانیوں کے ذریعے استدلال ہے، اس لئے کہ جس شے کی معرفت علم ضروری و حسی سے نہ ہو اسے ان نشانیوں و علامات سے جانا جاتا ہے جو اس پر دال ہوں (جی ہاں، اچھے سے نوٹ کرلیجئے کہ متکلمین کے نزدیک ذات باری کی معرفت اصلاً استدلال سے ہوتی ہے)۔ متعدد قرآنی آیات جو خدا کی نشانیوں سے خدا پر استدلال سے متعلق ہیں، انہیں پیش کرنے کے بعد آپ کہتے ہیں کہ جب ذات باری کی معرفت نظر یعنی استدلال پر موقوف ہے، تو سب سے پہلے ان مقدمات پر بحث لازم ہے جن پر نظر کی صحت موقوف ہے اور ان میں سب سے پہلا مقدمہ علم کی حقیقت و ماہیت ہے۔ ایسا اس لئے کہ اگر آپ علم کی حقیقت سمجھنے میں چوک گئے یا اس کا معنی ہی آپ نے غلط مقرر کیا، تو استدلال کی حقیقت بھی آپ سے مخفی رہ جائے گی۔
2) اس کے بعد آپ “فی اثبات العلم و حقیقته” کی فصل میں علم کا مفہوم بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ علم کا ثبوت اشیا کی حقیقت و خصائص کے ثبوت پر مرتب ہوتا ہے اس لئے کہ عالم اس کو کہتے ہیں جو ان حقائق و خصائص کو جانتا ہو جن سے اشیا ایک دوسرے سے ممیز ہوتی ہیں، جبکہ جو ان حقائق کے بر خلاف اعتقاد رکھے اسے جاہل کہتے ہیں۔ علم نہ حقائق کی تخلیق و تشکیل کا نام ہے اور نہ ہی حقیقت کسی کے علم کی وجہ سے حقیقت بنتی ہے، بلکہ علم حقیقت کے مطابق یا اس کے تابع (reality tracking) ہوتا ہے (ان العلم یتبع المعلومات ولا یستتبعھا)۔
3) آپ کہتے ہیں کہ وہ سوفسطائیہ جنہوں نے علم (یعنی “حقیقت جیسی کہ وہ ہے” کے ادراک و کشف) اور حقائق کے ثبوت کا انکار کیا، یہ اہل نظر میں سے نہیں اور دراصل یہ مکابرہ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ مناظرہ لاحاصل ہے اس لئے کہ بحث و مناظرے کا حاصل بعض بدیہی حقائق کے ضروری علم سے استدلال کرنا ہوتا ہے اور جو علم ضروری ہی میں مکابرہ کرے اس سے گفتگو محال ہے (ایسے لوگوں کا علاج کچھ اور ہے)۔
4) پھر آپ سوال اٹھاتے ہیں: علم کی حقیقت و ماہیت کیا ہے؟ اسلامی تاریخ میں چونکہ علم کی تعریف متعدد طرح کی گئی ہے، لہذا آپ مختلف تعریفات کا احاطہ کرنے کے لئے متعدد الفاظ لائے ہیں جو یہاں خاصے کی چیز ہیں:
• علم وہ شے ہے جس سے متصف ہونے کی وجہ سے کوئی ذات عالم کہلائے (عالم کا مفہوم ابھی اوپر گزرا)
• علم حقائق کا ظہور، معلوم کا کشف یا معرفت ہے
• علم معلوم جیسا کہ وہ ہے کے مطابق اعتقاد و معرفت ہے (لفظ “معرفت” کے ساتھ یہ قاضی باقلانی (م 403 ھ) کی تعریف سے قریب ہے)
جی ہاں، علم “معلوم جیسا کہ وہ ہے” سے متعلق کیفیت کو کہتے ہیں (عین اسی کیفیت کا نام فضیلت وغیرہ رکھ کر علم کو اس سے الگ کرنا نرا تحکم و اصطلاح سازی ہے)۔
علامہ الانصاری نے یہاں جو یہ تعریف لکھی ہے کہ “علم وہ شے ہے جس سے کوئی ذات عالم کہلائے”، یہ امام اشعری (م 324 ھ) کی تعریف ہے (امام ماتریدی (م 333 ھ) کی تعریف بھی اس سے ملتی جلتی ہے، امام ابومعین نسفی ماتریدی (م 508 ھ) نے اسے یوں ادا کیا ہے: العلم صفة یتجلی بھا لمن قامت ھی به المذکور، یعنی علم وہ صفت ہے جس کے ذریعے مذکور شے اس کے لیے منکشف ہو جاتی ہے جس کے ساتھ یہ صفت قائم ہو)۔ یہ تعریف اس مشہور بحث سے متعلق ہے جو اس باب میں معتزلہ وغیرہ کے ساتھ رہی، یہ لوگ توحید کے مخصوص تصور کی بنا پر صفات باری کے قائل نہ تھے بلکہ انہیں ذات کا عین کہتے تھے اور نتیجتاً یہ لوگ علم کو ذات سے سوا کوئی صفت یا حقیقت نہیں مانتے تھے۔ اس کے برعکس اہل سنت کے نزدیک علم صفت ہے نہ کہ عین ذات اور اس صفت کی بنا پر ذات عالم کہلاتی ہے۔ چلتے چلتے یہاں ضمناً یہ بات نوٹ کرلیجئے کہ علم اگر واقعی صفت ہے تو علم کی ماہیت و حقیقت پر گفتگو کے لئے فاعل (agent) کے حوالے کی ضرورت نہیں کہ وہ کون ہے، بلکہ علم کی حقیقت خود اس کی ذات سے آنی چاہئے۔ یعنی علم کیا ہے اس پر گفتگو کے لئے یہ جاننا ضروری نہیں کہ فاعل خدا ہے، بندہ ہے، فرشتہ ہے یا جن۔ کیوں؟ اس لئے کہ علم علم، یعنی فاعل کو حاصل ہونے والا حقیقت کے کشف سے متعلق حال (factive state)۔ مغرب کے بعض فلاسفہ اور ان کے مقامی متبعین نے جو یہ بات کہی ہے کہ عالم (knower) کے ذہن یا نفس میں مخصوص تفہیمی ساخت یا ملکہ وغیرہ ہونا علم کی شرط ہے، تو یہ عالم کو علم سے خلط ملط کرنا ہے (نیز ان کی یہ بات اگر درست ہے تو پھر خدا کے لئے علم کی صفت کے اثبات کا کوئی معنی نہیں رہتا)۔
علم کی حقیقت سے متعلق مسلم فلاسفہ کے نظرئیے کی رو سے تعریف کا ذکر علامہ الانصاری نے یہاں نہیں کیا، اسے “انطباع” یا “حصول ماہیت یا حصول صورت فی الذھن” کہتے ہیں۔ ان پر آگے چل کر علامہ بغدادی (م 538 ھ) اور امام رازی (م 606 ھ) وغیرہ کے یہاں بحث ملتی ہے۔
5) معتزلہ اپنے مخصوص نظرئیے کی بنا پر چونکہ علم کو عالم یا ذات کا اعتقاد کہا کرتے تھے، لہذا اس کے بعد علامہ الانصاری یہ وضاحت کرتے ہیں کہ علم کی حقیقت اعتقاد (belief) نہیں ہے۔ اس پہلو پر ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں (ملاحظہ کیجئے ہماری تحریر: “کیا علم اعتقاد یا رپریزنٹیشنل ادراکی کیفیت ہے؟”)
6) معتزلہ کے نزدیک علم چونکہ رسی کی مانند خارجی شے سے متعلق ہونے والا آلہ ہے، لہذا وہ اس کی تعریف میں “شے” کا ذکر کرتے تھے (یعنی “علم شے جیسی کہ وہ ہے کا اعتقاد ہے”)، نتیجتاً خدا کے ازلی علم کی توجیہ کے لئے انہوں نے یہ قرار دیا کہ ماہیات تخلیق سے قبل بھی ثابت و کسی مفہوم میں موجود تھیں اور خدا کا ازلی علم ان ماہیات سے متعلق تھا (اسے “معدوم شے ہے” کا نظریہ کہتے ہیں، اس کے مختصر تعارف کے لئے ملاحظہ کیجئے ہماری تحریر: “معتزلہ کا معدوم شے اور وجودی مفکرین کا اعیان ثابتہ”)۔ اہل سنت کا کہنا ہے کہ علم کے لئے معلوم کا موجود ہونا کوئی شرط نہیں بلکہ معلوم (known) موجود و معدوم دونوں ہوسکتا ہے، اس لئے قاضی باقلانی علم کی تعریف میں “شے” کے بجائے “معلوم” لاتے ہیں۔ چنانچہ علامہ الانصاری اس حقیقت کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ علم کی تعریف میں شے کا ذکر کرنا غلط ہے کیونکہ معدوم شے نہیں ہے لیکن وہ بھی معلوم ہے۔ مغربی فلاسفہ کی تعلیمات سے متاثر ہوکر جہاں بعض لوگوں نے عالم کی ذھنی ساخت کو علم کی حقیقت کے لئے شرط قرار دینے کی غلطی کی، وہاں ساتھ ہی انہوں نے آبجیکٹ آف نالج کے خارجی وجود کی شرط رکھ کر اسی پرانی غلطی کا اعادہ کیا ہے۔
یہاں یہ بات بھی اچھے سے سمجھ رکھنا چاہئے کہ تجربے کے ذریعے ویری فائی ایبیل ہونا یا فالسی فائی ایبل ہونا وغیرہ، یہ امور علم کی حقیقت میں شامل نہیں۔ اسی طرح معلوم کا حسی ہونا، نظری ہونا، انسانی قوائے علمیہ وغیرہ سے حاصل ہونا، خبر متواتر یا نبی کی خبر سے حاصل ہونا جیسے امور بھی حقیقتِ علم میں شامل نہیں (بلکہ یہ دراصل حادث علم کے مدارک یا طریقے ہیں)۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں