Home » امام ابو حنیفہؒ اور ان کا طرز استدلال
مدرسہ ڈسکورسز

امام ابو حنیفہؒ اور ان کا طرز استدلال

پیر سید نصیر الدین نصیر گولڑوی متعدد کتابوں کے مصنف تھے انہوں نے ایک کتاب امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں لکھی۔ جس کا نام ‘امام ابو حنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال ‘ ہے۔ پہلے آپ نے اس کو بصورت مختصر مقالہ لکھا جس کی اشاعت کے بعد آپ سے اس میں مزید اضافہ بالخصوص متعصبین کے امام اعظم پر لگائے اعتراضات کے جوابات دینے کی گزارش کی۔ جس سے اس کی وسعت بڑھ گئی۔ پیر صاحب نے اس حوالے سے کافی اضافہ بھی کیا مگر اس دوران ان کی توجہ کچھ اور مسائل کی جانب ہو گئی جس کے بعد ان کو زندگی نے مہلت نہ دی کہ وہ اس کام کو مکمل کر سکیں۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پیر صاحب کی ایک نامکمل تصنیف ہے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند پیر غلام نظام الدین جامی نے اس کی جدید کمپوزنگ کروا کر شائع کرنے کا اہتمام کیا۔
پیر صاحب نے امام اعظم ابوحنیفہ کے نام اور نسب سے کیا ہے۔ آپ کی کنیت ابو حنیفہ کے بارے میں یہ بات من گھڑت ہے کہ حنیفہ نام کی آپ کی بیٹی جس نے آپ کی مشکل مسئلہ کے حل میں مدد کی تو اس کی وجہ سے آپ نے یہ کنیت اختیار کی۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ حنیفہ نام کی آپ کی کسی بیٹی کا ذکر نہیں ملتا۔پیر صاحب نے علامہ ابنِ حجر مکی شافعی کے حوالے سے کنیت کی وضاحت کی ہے کہ آپ کے پاس اکثر دوات ہوتی تھی جس کو عراق میں حنیفہ کہا جاتا تھا۔ آپ اس کا کثرت سے استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ ابو حنیفہ کہلائے۔
آپ کے نسب کے بارے میں مورخین کے اختلاف کا پیر صاحب نے ذکر کیا اور بتایا کہ کچھ روایات کے مطابق آپ کے دادا کا نام زوطی جبکہ کچھ کے مطابق نعمان تھا۔ اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ قبل از اسلام ان کا نام زوطی ہو اور بعد از اسلام ان کا نام نعمان ہو۔
آپ کے پردادا کے بارے میں یہ ملتا ہے کہ وہ غلام تھے بعد میں آزاد ہوئے۔ اس پر پیر صاحب نے بتایا کہ خاندان میں غلامی کا در آنا کوئی عیب نہیں ہے۔ اسلام میں تقویٰ کا درجہ انساب سے بلند ہے۔ لہٰذا یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے امام اعظم کا درجہ گھٹایا جائے۔
پیر صاحب نے بتایا ہے کہ آپ کے والد ثابت رحمہ اللہ اور ان کی ذریت کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے دعا فرمائی۔
امام اعظم کے تابعی ہونے پر بھی پیر صاحب نے گفتگو کی ہے اور آپ کی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رویت کا ذکر کیا ہے۔اس پر تائید میں علامہ ابنِ حجر عسقلانی اور نواب صدیق حسن خان بھوپالی سمیت علماء کی ایک فہرست فراہم کی ہے جنہوں نے امام اعظم کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رویت کو تسلیم کیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تابعیت کے اوپر وارد ہونے والے شبہات کو پیر صاحب نے غیر منصفانہ قرار دیکر مسترد کیا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ چھے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا بھی امام اعظم کو شرف حاصل ہے۔ جس میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ ، حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ ،حضرت عبداللہ بن حارث بن جزءالزبیدی رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابیہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ بنت عجرذر رضی اللہ عنہا کی زیارت بھی کی۔ اس کے ساتھ کمسنی میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بھی زیارت کی۔ علامہ ابن حجر مکی نے تیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر کیا جن کی امام اعظم نے زیارت کی۔
اس کے بعد پیر صاحب نے کوفہ کے بطور علمی مرکز ہونے پر بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کوفہ دو جلیل القدر فقیہ صحابہ یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علم سے فیضیاب ہوا۔ ان دو صحابہ کی فقاہت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بلند ترین تھی ۔ یہ دونوں ہستیاں دور رسالت میں بھی اصحاب فتوی تھے۔ ان دونوں مقدس ہستیوں کی علمی برتری کو بیان کرتے ہوئے علماء نے لکھا کہ یہ دونوں حضرات تمام صحابہ کے علم کے جامع تھے ۔ پیر صاحب نے بتایا کہ کوفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا علم کوفہ میں ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا علم مدینہ ااسور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا علم مکہ میں پھیلا۔یہ حضرات اور ان کے اصحاب فقہ و علم دین کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ تھے۔
پیر صاحب نے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے علمی مقام اور اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علمی مقام اور اس کے بارے میں احادیث کو ذکر کیا ہے۔ پیر صاحب نے بتایا ہے کہ کوفہ فقط فقہ کا مرکز نہیں بلکہ حدیث کا بھی مرکز تھا۔ اس حوالے سے امام ابن سیرین رح کا ایک قول ذکر کیا کہ کوفہ میں چار ہزار طلبہ حدیث موجود تھے۔ امام بخاری کے بھی طلب حدیث کے بارے میں احوال سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے احادیث کو جمع کرنے کے لیے جہاں اور شہروں کا سفر کیا وہاں کوفہ و بغداد کا سفر اتنی دفعہ کیا کہ حد شمار سے باہر ہے۔ کوفہ کے مرکز حدیث ہونے کا ذکر امام مالک رحمہ اللہ سے بھی پیر صاحب نے نقل کیا ہے۔
اس کے بعد پیر صاحب نے امام اعظم کے اساتذہ کی فہرست ذکر کی ہے جن کی تعداد تقریباً اڑھائی سو تک ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام اعظم نے حصول علم کے لیے کتنی تگ و دو کی۔ علامہ ابن حجر مکی نے بتایا کہ آپ نے چار ہزار اساتذہ سے حدیث حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں اکثر تابعین اور صحابہ کے شاگرد ہیں جو صحاح کے راوی ہیں۔
امام صاحب نے جہاں کثیر تعداد میں اساتذہ سے علم حاصل کیا تو آپ کا حلقہ درس بھی بہت وسیع تھا۔ نو سو زیادہ کبار علما آپ کے حلقہ درس میں شامل تھے۔
امام صاحب پر قلت علم حدیث کا الزام بعض معاندین نے لگایا جو کہ عناد و تعصب پر مبنی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے پیر صاحب نے بتایا کہ قلت روایت قلت علم کی دلیل نہیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ، سیدنا فاروق اعظم سمیت کئی صحابہ کرام جو سابقون الالون میں شمار ہوتے ہیں ان سے روایت کردہ احادیث کی تعداد کم ہے۔ جبکہ بعد میں اسلام لانے والے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایات زیادہ مروی ہیں۔ لہذا قلت روایت قلت علم کی دلیل نہیں۔ اس کے ساتھ پیر صاحب نے محدث ابنِ عدی رح، محدث بشر بن موسی رح،محدث مسعر بن کدام رح ، امام یحییٰ بن معین رح سمیت کئی اور محدثین کی گواہی پیش کی ہے جنہوں نے حدیث میں امام اعظم کی عالم ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
جہاں تک قلت روایت کا تعلق ہے تو اس بارے میں بھی پیر صاحب نے وضاحت کی ہے کہ امامِ اعظم روایت میں بہت محتاط تھے۔ ان کی احتیاط کے حوالے سے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی بھی گواہی نقل کی ہے۔ اس کے ساتھ آپ کی قبولیت حدیث کے لیے کڑی شرائط کا بھی ذکر کیا ہے۔
امام اعظم کے فن حدیث میں امام ہونے پر پیر صاحب نے مزید گفتگو کی ہے اور امام ابو داؤد رح کا حوالہ ذکر کیا جس میں انہوں نے آپ کو امام لکھا ہے۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے آپ کا ذکر حفاظ حدیث میں کیا ہے۔ صاحب مشکوٰۃ المصابیح نے بھی آپ کی عالم ، متقی اور علوم شرعیہ میں امام ہونے کا ذکر کیا ہے۔علامہ ابن خلدون بھی علم حدیث میں آپ کے امام ہونے کا ذکر کیا ہے۔ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے امام اعظم کی جو توثیق کی ہے اس کو متعدد حوالوں سے پیر صاحب نے ذکر کیا ہے۔ اس کے ساتھ امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ نے بھی آپ کی توثیق کی ہے۔
ائمہ حدیث اور احادیث کے دو بڑے راوی امام وکیع بن الجراح رح اور امام عبداللہ بن مبارک رح کا بھی پیر صاحب نے متعدد جگہ ذکر کیا ہے۔ یہ دونوں ائمہ امام اعظم رحمہ اللہ کے شاگرد اور آپ سے روایت لیتے ہیں۔ یہ بھی علم حدیث میں آپ کے امام ہونے کا ثبوت ہے کہ خود ائمہ محدثین آپ کے شاگرد ہیں۔ پیر صاحب نے اس حوالے سے مزید ۱۷۶ محدثین کا ذکر کیا ہے جو امام اعظم کے تلامذہ ہیں اور وہ صحیحین سمیت سنن اربعہ اور دیگر کتب احادیث کے راوی ہیں۔ پیر صاحب نے بتایا ہے کہ تقریباً سات سو مشائخ نے امام اعظم سے روایت لی ہے۔
اس کے بعد امام اعظم کے طرزِ استدلال کے اصولوں پر گفتگو کی ہے اور اس بارے میں امام اعظم کی زبانی ان کے اصول استدلال کا ذکر ہے کہ پہلے وہ مسئلہ کا حل قرآن مجید میں تلاش کرتے ہیں ، وہاں نہ ملے تو دوسرے مآخذ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اگر وہاں سے بھی مسئلہ واضح نہ ہو تو وہ مذکورہ مسئلہ کے حل اقوال صحابہ میں تلاش کرتے ہیں لیکن جب نوبت ابراہیم نخعی رح، شعبی رح، حسن رح ، ابن سیرین رح اور سعید بن مسیب رح تک آتی ہے تو وہ خود اجتہاد کرتے ہیں۔
یہ امام اعظم کی زبانی ان کے اصول استدلال کا بیان ہے۔ اپنے اجتہاد میں آپ استحسان اور تعامل مسلمین کا خیال رکھتے۔پیر صاحب نے امام اعظم کے چاروں اصول استدلال یعنی قرآن مجید ، سنت رسول ، اجماع صحابہ اور قیاس و اجتہاد کے اوپر الگ سے گفتگو کی ہے اور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ نیز استحسان پر بھی بات کی ہے۔
اجماع کی تین صورتوں کا ذکر کیا ہے۔ اول اجماع صحابہ یعنی ایسا مسئلہ جس پر صحابہ کا اختلاف منقول نہ ہو اس کے منکر کافر ہے۔ دوسرا اجماع تابعین کا ہے جس پر صحابہ کا اختلاف منقول نہ ہو اس کا منکر ضال و گمراہ ہے جبکہ تیسرا تابعین کا اجماع ایسے مسئلہ پر جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اختلافی آراء منقول ہوں اس کے منکر کو گمراہ نہیں کہا جاسکتا۔
قیاس کے دلیل شرعی ہونے پر بھی پیر صاحب نے قدرے تفصیل سے بات کی ہے اور اس کے حق میں مختلف اہل علم کی آراء کو نقل کیا ہے اور بتایا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی قیاس سے امور طے کیا کرتے تھے۔ قیاس ہی کے ضمن میں استحسان اور اس کی مختلف اقسام کو بھی مختصر انداز میں ذکر کیا ہے۔
امام اعظم کے طرزِ استدلال کا پہلا مصدر قرآن مجید تھا۔ اس کو باقی مصادر پر تقدم حاصل تھا۔ یہ بات فقہ حنفی کو باقی فقہ سے ممتاز کرتی ہے کیونکہ قرآن مجید کو تقدیم تو ہر فقہ میں حاصل ہے لیکن جس طرح کا انطباق اس کا فقہ حنفی میں ہوتا ہے وہ دوسری فقہ میں نہیں ملتا۔ اس پر پیر صاحب نے کئی مسائل جس میں فقہ حنفی کا مستدل قرآن ہے اور اس کا باقی فقہاء سے اختلاف ہے کا ذکر کیا ہے۔ جیسے کہ مسلئہ قرآت خلف الامام ، ذبیحہ مسلم کا مسئلہ ، صفا و مروہ کی درمیان سعی کا واجب ہونا، مصارف زکوٰۃ میں امام اعظم کا امام شافعی سے اختلاف ، مسئلہ ترتیب فی الوضو سمیت تقریباً گیارہ سے زائد مسائل پر پیر صاحب نے گفتگو کی اور بتایا کہ قرآن مجید کی بنیاد پر آپ نے دوسرے فقہاء سے اختلاف کیا۔
امام اعظم کی تدوین فقہ کے حوالے سے مشہور مستشرق جوزف شاخت کا بیان بھی ذکر کیا ہے کہ فقہ حنفی کی تدوین ایک نہایت وسیع اور دشوار کام تھا۔ اس کے لیے امام صاحب نے اہل علم کی ایک مجلس بنائی جس کے اہم ارکان میں امام ابویوسف رح، امام محمد بن حسن شیبانی رح اور امام زفر بن ہذیل رح جیسے لوگ شامل تھے۔ امام اعظم کی سرکردگی میں یہ مجلس تیس برس تک کام کرتی رہی۔ پیر صاحب نے متعدد جگہ وضاحت کی ہے کہ امام اعظم کبھی بھی خود کو صحابہ کرام کے اجتہادات سے مستغنی نہیں سمجھتے تھے۔ وہ کبھی بھی ان کے اقوال کے مقابل قیاس نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ان کے طرزِ استدلال کا ایک مصدر اقوال صحابہ ہے۔
پیر صاحب نے امام اعظم کی علمی زندگی اور ان کا علم الکلام سے علم فقہ تک کے سفر کا بھی مختصر ذکر کیا ہے۔ یہاں پر پیر صاحب نے امام اعظم کی اپنے شاگرد امام ابو یوسف رح کی گئی وصایا و ہدایات کو بھی نقل کیا ہے جو بہت ہی قیمتی ہیں۔
امام اعظم نے امام ابو یوسف رح کو وصیت کی کہ سلطان وقت کے ساتھ تعلقات و مراسم نہ رکھنا۔ بادشاہ کے پاس آمد و رفت کم رکھنا اور ہر وقت اس طرح پرخطر رہنا جیسے انسان آگ سے احتیاط کرتا ہے۔
امام صاحب نے اپنے شاگرد کو ہدایت کی کہ
بغیر کسی مجبوری کے سلطان کے پاس نہ جانا تاکہ اپنا اعزاز و وقار قائم رہے۔
عہدہ قضاء کے قبول کرنے کے بارے میں امام اعظم نے امام ابو یوسف کو ہدایت کی کہ پہلے دریافت کر لینا کہ وہ تمہارے طریقہ اجتہاد سے موافق ہے یا نہیں ؟ ایسا نہ ہو کہ سلطنت کے دباؤ تم کو اپنی رائے کے خلاف عمل کرنا پڑے۔
ایک وصیت یہ کی کہ
بادشاہ سے اگر کوئی نامناسب حرکت سرزد ہو تو صاف کہہ دینا کہ گو میں عہدہ قضاء کے لحاظ سے آپ کے مطیع ہوں۔ تاہم آپ کو غلطی پر مطلع کرنا میرا فرض ہے۔ اس کو تنہائی میں بھی سمجھانا کہ اس کا عمل قرآن اور احادیث کے خلاف ہے۔ اگر سمجھ کر قبول کرے تو خیر ورنہ اس کے شر سے پناہ مانگنا۔
امام اعظم نے یہ بھی وصیت کی کہ اپنا گھر بادشاہ کے گھر کے قریب کبھی نہ بنانا۔
امام صاحب نے امام ابو یوسف کو دولت مندوں سے بھی کم میل جول رکھنے کی ہدایت کی۔
امام صاحب نے شاگردوں کے حوالے سے ہدایت دی کہ ان سے ایسے خلوص سے پیش آنا کہ عام آدمی دیکھنے والا سمجھے کہ یہ تمہاری اولاد ہیں۔
جب لوگ آداب مناظرہ سے ناواقف ہوں تو ایسوں سے کبھی گفتگو مت کرنا۔
پیر صاحب نے لکھا ہے کہ امام اعظم نے حضرت محمد بن علی المعروف امام محمد باقر علیہ الرحمہ اور ان کے فرزند حضرت جعفر بن محمد المعروف امام جعفر الصادق علیہ الرحمہ سے استفادہ علمی کیا۔ پیر صاحب نے بتایا کہ شیخ ابن تیمیہ نے اس کا انکار کیا ہے جبکہ علامہ شبلی نعمانی نے بھی علامہ ابنِ تیمیہ کی اس بات کو درست نہیں مانا۔ ایسے ہی سیاسی میدان میں بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ آل حسن میں سے ابراہیم جو محمد نفسِ زکیہ کے بھائی تھے کی حمایت کی لیکن عملی جدوجہد میں ان کے ساتھ شریک نہ ہو سکے۔
امام اعظم کی ذہانت تو مسلمہ ہے مگر پیر صاحب کہتے ہیں کہ ان کی ذہانت کے واقعات کو نقل کرتے ہوئے بعض مصنفین نے تحقیق سے کام نہیں لیا اور کئی غلط قصے بھی شامل کر دئیے گئے۔ پیر صاحب نے امام اعظم کے کچھ مناظروں کا ذکر کیا ہے جو کہ پایہ ثبوت تک پہنچتے ہیں جیسے کہ امام اوزاعی کے ساتھ رفع الیدین کے مسئلہ پر مناظرہ ، ایک خارجی سے مناظرہ ، قتادہ بصری سے مناظرہ ، قاضی کوفہ یحییٰ بن سعید سے مناظرہ کو ذکر کیا ہے۔۔ پیر صاحب نے بتایا ہے کہ مناظرہ اس وقت درس کا خاص طریقہ تھا اور امام صاحب نے اپنے اساتذہ سے اس طریقے پر بھی تعلیم پائی تھی۔
امام بخاری نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح کی، اس پر بھی پیر صاحب نے گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ اس معاملے میں امام بخاری نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر مرجئہ ہونے کی جرح کی گئی جبکہ پیر صاحب نے بخاری و مسلم سمیت صحاح کے تقریباً اسی رواۃ کا ذکر کیا ہے جن پر اہل بدعت کے مختلف طبقات یعنی قدریہ ، مرجئہ ،رفض اور نصب کی جرح کی گئی ہے۔ اس سے یہ گمان پختہ ہوتا ہے کہ امام بخاری رح نے امام اعظم کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
جہاں تک امام اعظم پر مرجئہ ہونے کا الزام ہے اور اس حوالے سے مخالفین شیخ عبد القادر جیلانی رح کی کتاب غنیتہ الطالبین سے بھی سند لاتے ہیں کہ انہوں نے گمراہ فرقوں میں حنفیہ کو شمار کیا ہے۔
اس پر پیر صاحب نے گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ شیخ جیلانی نے کل احناف کو مرجئہ نہیں بولا بلکہ بعض معتزلہ و مرجئہ جو فقہی لحاظ سے حنفی تھے وہ مراد لیے ہیں۔ جیسے صاحب تفسیر کشاف علامہ زمخشری معتزلی بھی تھے اور حنفی بھی۔ پیر صاحب نے آگے شیخ عبد القادر جیلانی کے حوالے سے لکھا کہ انہوں نے امام اعظم کی الامام لکھ کر ان کی تکریم بھی کی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی مراد بالعموم احناف نہیں بلکہ معتزلہ و مرجئہ میں جو فقہی طور پر حنفی تھے وہ مراد ہیں۔
امام صاحب پر ارجاء کے الزام پر بات کرتے ہوئے پیر صاحب نے بتایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اس اتہام کا نشانہ بنایا گیا۔ پھر ابنِ قتیبہ نے اپنی کتاب المعارف میں جہاں مرجیہ کی ایک فہرست نقل کی جس میں امام صاحب کے علاوہ بھی کئی شخصیات کا ذکر ہے۔ اس فہرست پر پیر صاحب نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے کیونکہ اس میں شامل گیارہ شخصیات سب صحاح ستہ کے راوی ہیں اور کچھ امام بخاری کے دادا استاد بھی ہیں۔
پیر صاحب نے بتایا کہ امام اعظم اور احناف پر مرجیہ کا الزام دراصل قدریہ نے لگایا۔
امام بخاری کے ساتھ ساتھ امام دارقطنی اور حافظ ابوبکر خطیب بغدادی نے بھی امام اعظم کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ اس پر پیر صاحب نے علامہ عبد الحی لکھنوی رح کے حوالے سے بتایا ہے کہ امام اعظم پر دارقطنی و ابن عدی وغیرہ کی جرح تعصب پر مبنی ہے جس کو کبھی بھی قبول نہیں کیا جاسکتا ۔
امام نسائی کی جانب سے بھی امام صاحب پر جرح کا ذکر ہے۔ اس پر پیر صاحب نے لکھا کہ یہ اول تو یہ جرح غیر مفسر ہے اور دوسرا صاحب تہذیب التہذیب کے بقول امام نسائی نے امام اعظم سے روایت لی ہے جس یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام نسائی نے اس جرح سے رجوع کر لیا تھا۔
معلوم ہوتا ہے کہ پیر صاحب کے ذہن میں دفع مطاعن کے اس سلسلے کو آگے بڑھانے کا ارادہ تھا مگر وہ اس کو جاری نہ رکھ سکے۔ بعد میں ان کو زندگی نے مہلت نہ دی کہ وہ اپنے اس نامکمل کام کو مکمل کر سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں تک بھی پیر نصیر الدین نصیر صاحب نے کافی اہم چیزیں بیان کر دیں ہیں اور امام صاحب کی ذات پر مخالفین کی جانب سے اعتراضات کا کافی عمدگی سے جواب دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی یہ کاوش قبول فرمائے۔ انہوں نے سب احناف کی جانب سے امام صاحب کی وکالت کی ہے۔ پیر صاحب نے دفاع کرتے ہوئے بھی حفظ مراتب کا خیال رکھا ہے اور مخالفین کے مرتبے کو اس طرح سے داغدار نہیں کیا جیسا کہ انہوں نے امام اعظم کے ساتھ کیا ہے۔ ان کی خدمات کا ہمیں اعتراف ہے لیکن امام اعظم کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے ان سے غلطی ہوئی اور انہوں نے اپنے معیار تحقیق کا پاس نہیں رکھا اور جلد بازی سے کام لیتے ہوئے امام اعظم کے بارے میں منفی رائے قائم کر لی جو ان کی علمی شان سے میل نہیں کھاتا۔ کاش پیر صاحب اس کام کو مکمل کرتے، اس مقالے کے بعد بھی تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رہا تو اس پر بھی اگر وہ توجہ کرتے تو یقیناً اس کام میں مزید نکھار آتا

راجہ قاسم محمود

راجہ قاسم محمود پیشے کے اعتبار سے اکاونٹنٹ ہیں اور مختلف علمی وفکری موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔
rajaqasimmehmood@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں