Home » تاریخی مادیت اور مذہبی آئیڈیالوجی
تاریخ / جغرافیہ تہذیبی مطالعات فلسفہ

تاریخی مادیت اور مذہبی آئیڈیالوجی

عمران شاہد بھنڈر

تاریخی مادیت، بقول جارج لوکاش، مارکسزم کی آئیڈیالوجی ہے۔ یہ سماج اور تاریخ کو دیکھنے کا ایک طریقہ کار ہے۔ اس میں مرکزی حیثیت معاشی ’بنیاد‘ کو حاصل ہوتی ہے، یعنی کسی بھی سماج میں ضرورت کی اشیا کیسے پیدا کی جاتی ہیں اور ان کی تقسیم و تبادلہ کیسے کیا جاتا ہے۔ تکنیکی الفاظ میں اس کو ”طریقہ پیداوار“ (Mode        of          Production) کہا جاتا ہے۔ یہی طریقہ پیداوار کسی بھی سماج کے ارتقا کی قوتِ محرکہ ہوتا ہے۔ انسانی تاریخ میں اب تک چار ”طریقہ پیداوار“ ہوئے ہیں: ابتدائی اشتراکیت، غلام داری، جاگیر داری اور سرمایہ داری۔ ان چاروں نظاموں یا طریقہ پیداوار کے مخصوص پیداواری اور سماجی رشتے ہوتے ہیں۔ ایک مخصوص طریقہ پیداوار کے تحت مخصوص رشتے تشکیل پاتے ہیں اور اسی طریقہ پیداوار کے تحت سماجی، سیاسی، علمی اور مذہبی رجحانات متعین ہوتے ہیں۔ اگرچہ بنیاد (طریقہ پیداوار) اور بالائی ساخت (سیاسی، مذہبی، فلسفیانہ اور دیگر نظریات) کے درمیان تعلق میکانکی نوعیت کا نہیں ہوتا، بلکہ ایک انتہائی پیچیدہ، گنجلک اور جدلیاتی نوعیت کا ہوتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ طریقہ پیداوار کی تبدیلی سے نظریاتی و مذہبی تبدیلیوں کا برپا ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بورژوا انقلابِ فرانس جو کہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب سمجھا جاتا ہے، جس کو برپا کرنے والے تمام فلسفی لبرل تھے، اس انقلاب کا بیج اس وقت بویا گیا جب جاگیرداری طریقہ پیداوار کے اندر سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار تشکیل پا چکا تھا۔ سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار نے نئے سماجی رشتے و اقدار کی تشکیل کی۔ جاگیرداری طریقہ پیداوار نئے سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار سے براہِ راست تضاد میں آگیا۔ یہ تضاد صرف ایک طریقہ پیداوار کے درمیان نہیں تھا بلکہ یہ دو مختلف پیداواری طریقوں کے درمیان شدید قسم کا نظریاتی تضاد بھی تھا۔ بورژوازی لبرل ازم کی نمائندہ تھی، جب کہ دوسری طرف جاگیرداری و مذہبی اشرافیہ جو کہ قدامت پسند اقدار کی حامل تھی جس میں شہنشاہ کو زمین پر خدا کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ انقلابِ فرانس اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جاگیرداری طریقہ پیداوار کو سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار سے ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا تھا، اور نہ ہی لبرل ازم اور مذہب میں مصالحت ممکن تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کی مرکزیت کا خاتمہ ہوا اور جمہوریت کے لیے راستہ ہموار ہو گیا۔ مذہب کو انفرادی سطح تک محدود کر دیا گیا، کیونکہ جدید سرمایہ داری سے جاگیرداری، قبائلی مذہبی اقدار کی مصالحت ناممکنات میں سے تھی۔ کیا جدید سرمایہ داری میں یہ ممکن ہے کہ اس میں غلام داری، قبائلی مذہبی اقدار لاگو کر دی جائیں؟ اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ بذریعہ جبر، تشدد، دہشت، خوف اور طاقت کی بنیاد پر اس عوام کو دبایا جائے جن کا شعور سرمایہ داری کے زیرِ اثر کسی بھی صورت میں قبائلی، جاگیرداری اقدار سے متصادم ہو چکا ہے۔ بقول مارکس ہمارا سماجی وجود ہمارے شعور کو متعین کرتا ہے نہ کہ اس سے الٹ۔ طریقہ پیداوار ہمارا سماجی وجود ہوتا ہے اور وہی طریقہ پیداوار شعور کی تعیین کرتا ہے۔ سماجی وجود کی تبدیلی سے عوام کا شعور ہی نہیں بلکہ ان کے جذبات اور احساسات کی ساخت بھی تبدیل ہو جاتے ہے۔
سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار کی وہ خصوصیات جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران میں اس وقت سرمایہ داری نظام رائج ہے ان میں ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت، اجرتی محنت، قدرِ زائد اور منافع کا حصول اور منڈی کی معیشت نمایاں ہیں۔ وہ تمام سماجی اقدار اور قوانین جو کہ سرمایہ دارای نظام سے ”فطری“ طور پر جنم لیتے ہیں ان کو بذریعہ جبر دبا کر ان کی جگہ ”شیعہ شریعت“ کو نافذ کر دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر نکاح، طلاق اور وراثت کے قوانین، زنا، چوری، قصاص، دیت اور عورتوں کے لیے حجاب کی پابندی وغیرہ یہ اقدار و قوانین جدید سرمایہ داری کے تشکیل کردہ سماجی وجود کے ساتھ صدیوں پرانی قبائلی شریعت کے تحت غیر نامیاتی طور پر جوڑ دیے گئے ہیں۔ اگر تاریخی مادیت کے قوانین کو مدِ نظر رکھیں تو ان سفاک قوانین کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں نکلتی۔ ان کے اطلاق کی وجہ سرمایہ داری کی ”جمہوری“ روح نہیں بلکہ صدیوں پرانے قبائلی سماج کے ”غیر فطری“ قوانین ہیں، جن کو صرف عقیدے کی بنیاد پر لوگوں پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ عقیدے کو ’فطری‘ انداز میں نئے طریقہ پیداوار کے تحت ڈھالا جاتا، ایرانی مُلاؤں نے طریقہ پیداوار کی حقیقی روح کو کچل ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی عوام کو انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔
احتجاج کرنا جمہوریت کی روح ہے، اور جمہوریت لبرل آئیڈیالوجی کا سب سے بنیادی آدرش ہے۔ اگرچہ لبرل جمہوریت کا تصور ’مثالی‘ نہیں ہے، تاہم یہ اپنی اساس میں ردِ مذہب ہے۔ تصورِ انصاف کو انسانی حقوق سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، لیکن یہاں گھناؤنی قبائلی، اسلامی سزائیں نافذ ہیں۔ آزادی اور انفرادیت لبرل آئیڈیالوجی کے ستون ہیں، جو براہِ راست مذہبی اقدار سے متصادم ہیں۔ عقلیت پسندی لبرل ازم کی اساس ہے جس کی عقیدے سے مصالحت ناممکن ہے۔ مختصر یہ کہ کسی بھی حوالے سے یہ ممکن نہیں ہے کہ متروک اور فرسودہ طریقہ پیداوار کی نظریاتی اساس (مذہب) کو جدید سرمایہ داری اور اس کی آئیڈیالوجی (لبرل ازم) سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔مذہب کو جدید سماج پر لاگو کرنا ایسا ہی ہے جیسے سرمایہ داری کو تباہ کر کے غلام داری یا جاگیرداری کو نافذ کر دیا جائے۔ یہ ناممکن ہے کہ تاریخ کے پہیے کو اُلٹا گھما دیا جائے۔ متروک طریقہ پیداوار کی آئیڈیالوجی کو جدید سرمایہ داری پر لاگو کرنے کا نتیجہ ہے کہ ایران جیسی دہشت پسند، جابر، متشدد اور ظالم ریاستیں اپنے شہریوں پر ظلم ڈھاتی ہیں۔ انہیں احتجاج اور اختلاف کرنے پر پھانسیاں دیتی ہیں۔ عورتوں کو دُرے مارتی ہیں۔ وجہ یہ کہ ان احتجاج کرنے والوں کا شعور قدیم مذہبی آئیڈیالوجی کو قبول نہیں کرتا۔ ریاستی ظلم و جبر کی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک متروک عقیدے کو جدید سماج پر لاگو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہر وہ انسان جو ظالم و جابر مذہبی ریاستوں کے ظلم و جبر سے چشم پوشی اختیار کرتا ہے، وہ اس ظلم کا حصہ ہے۔ ایسی ریاستوں کے پاس انسانیت کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، ان کو اساطیری عقیدے وراثت میں ملتے ہیں اور وہ ان کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جدید سماجوں کی تشکیل میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ جدید سیاسی و سماجی نظریات نے انسان کو یہ سکھایا ہے کہ ریاست کا حتمی مقصد عوام کی عاقبت سنوارنا نہیں بلکہ ان کی دنیا کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ ان کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ انفرادیت، فطرت کی عطا ہے، اس کی نشو و نما ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ہر انسان کا حق ہے کہ اس کو اس کا ’جوہر‘ دریافت کرنے کے لیے ماحول فراہم کیا جائے۔ عقل ایک فطری صلاحیت ہے، ہر انسان کا حق ہے کہ اس کو اس کی عقل استعمال کرنے دی جائے تاکہ وہ تحقیق و دریافت کے نئے زاویے تلاش کر سکے۔ یہ بھی انسانوں کا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق حکومت کی تشکیل کا انتخاب کر سکیں۔ قوانین کو زیادہ سے زیادہ انسانی حقوق کے بنیادی لوازمات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ان معنوں میں دیکھیں تو ایران ایک غیر انسانی، غیر فطری اور غیر اخلاقی اور تاریخی اعتبار سے ایک ناجائز ریاست ہے۔ ایک متروک قبائلی مذہب کی حفاظت جس کی اولین ترجیح ہے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں