ہمارے سیاسی نظام کی اصلاح کے لیے مشاورت کی بے حد ضرورت ہے۔ ہم اپنے سیاسی نظام میں کوئی اصلاح نہیں لاسکتے جب تک کہ ہم اپنی سیاسی فکر میں تبدیلی نہیں لے آتے۔ حضور نبی کریمﷺ کے زمانے میں سرزمین عرب میں جو سیاسی نظام رائج تھا وہ نیم قبائلی اور نیم ملوکانہ تھا۔ جبکہ پڑوسی ممالک ایران اور روم میں موروثیت اور مطلق العنان شہنشاہیت پر مبنی نظام تھے۔ جن میں عام آدمی کو ریاستی معاملات میں بولنے کاکوئی حق حاصل نہیں تھا۔ اسلام نے عرب سیاسی نظام کو شراکت اور رضا مندی پر مبنی سیاسی نظام میں تبدیل کردیا۔
قرآن مجید (سورۃ آل عمران، آیت: ۱۵۹) نے اعلان کیا:
وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهَ.
(اور اپنے کاموں میں ان سے مشاورت کیا کرو اور جب (کام کا)پکا ارادہ کر لو تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو)
یہ واضح حکم ہے جو بغیر کسی ابہام کے حضور نبی اکرمﷺ تک کے لیے مشاورت کو لازم قرار دیتا ہے۔ اگرچہ آپﷺ کو خداوند عالم کی طرف سے غیر معمولی دانش و بصیرت عطا کی گئی تھی۔ آپﷺ کا قلب مبارک انسانوں سے محبت اور ان کی فلاح و بہبود اور خیر خواہی سے معمور تھا۔ مزید برآں آپﷺ کو بذریعہ وحی بھی تائید و حمایت اور رہنمائی حاصل تھی۔ اس کے باوجود اگر حضور نبی اکرمﷺ کے لیے مشاورت ضروری تھی تو بعد کے مسلم حکمرانوں کے لیے یہ بدرجہ اتم ضروری ہے۔
قرآن پاک (سورۃ الشوریٰ، آیت: ۳۸) اس لازمی مشاورت کے لیے ایک دلیل دیتا ہے:
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۠ وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ ۠ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ .
(جو لوگ اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، ہم نے جو رزق انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں)
یہاں شوریٰ کو اہل ایمان کی ایک لازمی خصوصیت اور ان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ اس خصوصیت کاا ن کی دیگر خصوصیات کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی، ادائیگی نماز (فرض نماز) اور ادائیگی زکوٰۃ وغیرہ۔ یہ سب مسلمانوں کے مذہبی فرائض کا حصہ ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن مجید نے شوریٰ کو ایک نظام حکمرانی کے طور پر نہیں بلکہ اصولِ حکمرانی کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ فرق بہت اہم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے یہ بات مسلمانوں کی آئندہ آنے نسلوں پر چھوڑ د ی ہے کہ وہ اپنے زمانے کے معاملات کو اصولِ شوریٰ کے تحت طے کریں۔
شوریٰ اس امر کی متقاضی ہے کہ فیصلہ سازی میں سنجیدہ اور موثر شراکت کا اہتمام کیا جائے۔ اسے محض ایک رسمی طریق کار نہ بنایا جائے۔ قرآن کریم حضور نبی کریمﷺ کو جن پر نزول وحی ہوتا تھا، مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جن امور کے بارے میں آپﷺ پر کوئی خصوصی وحی نہ آئے، ان کے فیصلے کے لیے شوریٰ پر انحصار کریں۔ لہٰذا تمام اہل ایمان کو اس ہدایت پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ سکیں۔ ممتاز مفسرِ قرآن ابن عطیہؒ اس آیت کے بارے میں اپنی تفسیر میں لکھتا ہے کہ شوریٰ شریعت کی بنیادوں میں سے ہے اور ایک امرِ لازم کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس شخص کو عوامی امور طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے وہ اگر علم اور خدا کا خوف رکھنے والوں سے مشورہ لیے بغیر کام کرے تو اسے اس کے عہدے سے برطرف کر دیا جانا چاہیے۔ (المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز از ابن عطیہ اندلسیؒ، ذیل سورۃ شوریٰ، آیت: ۳۸)
لہٰذا چاروں خلفاءِ راشدین عوامی بیعت کے ذریعے عوام کے پاس گئے اور ان سے اپنی حیثیت کی منظوری حاصل کی تھی۔ بیعت ایک باہمی معاہدہ ہوتی ہے جس کے تحت حکمران یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اسلامی قوانین پر عمل کرے گا۔ اس سے متعلق عوام کو مطمئن کرے گا اور عوام کی طرف سے اس کے ساتھ یہ عہد کیا جاتا ہے کہ وہ حکمران کی تائید و حمایت کریں گے اور اسے مشورے دیتے رہیںگے۔
لہٰذا آئینی طور پر جب پُر امن طریقے سے ممکن ہو توبیعت کو منسوخ کیاجا سکتا ہے۔ یہ طریق کار مواخذے اور منصب سے معزولی کے مترادف ہوتا ہے۔ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اتفاق رائے سے حضور نبی کریمﷺ کا جانشین منتخب ہونے کے بعد واضح طور پر اس حق کی توثیق کرائی تھی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی میں مسلمانوں کی بیعت لینے کے بعد اپنے خطاب میں فرمایا: مجھے تم پر اختیار دیا گیا ہے، مگر میں تم سے بہترین نہیں ہوں۔ تم اپنے معاملات کے انتظام و انصرام کے لیے میری اطاعت کرتے رہنا۔ جب میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں رہے گی۔
اسی انداز میں خلیفۂ ثانی حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اگر میں ٹھیک کام کروں تو تم میری مدد کرنا، اگر غلط کروں تو تم مجھے ٹھیک کر دینا۔
مندرجہ بالا آیاتِ قرآن مجید اور تاریخی نظائر بتاتے ہیں کہ ہر ایک فیصلہ شورائی عمل کا نتیجہ ہونا چاہیے جو کہ اصولِ اکثریت ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ اور خلفاء الراشدین کی زندگیوں میں پائے جانے والے تاریخی نظائر بتاتے ہیں کہ فیصلے اکثریت کی رائے کے مطابق ہو سکتے ہیں، خواہ سربراہ کی رائے اُس رائے سے مختلف ہو۔ اسلام اس اصول کی بنیاد پر سبق دیتا ہے کہ فرد کو معاشرے یا اجتماع (الجماعت) سے متفق ہونا چاہیے جس کی تعبیر اکثریت کی جا سکتی ہے۔ درج ذیل حدیث اسی اصول اکثریت کا اظہار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ میری امت کو کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہونے دے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے۔ اس لیے اکثریت (سوادِ اعظم) کا ساتھ دیا جانا چاہیے اور جو کوئی ان سے اختلاف کرتا ہے جہنم کی راہ کا راہی بن جاتا ہے۔ (مستدرک علیٰ الصحیحین، رقم الحدیث: ۱۱۶)




کمنت کیجے