خلفائے راشدین کی وفات کے بعد مسلم حکمرانوں نے رومنوں اور فارسیوں کا راستہ اختیار کر لیا۔ انہی کی سیاسی روایات، اندازِ حکمرانی، استبدادی طور طریقے اور موروثی خانوادے وجود میں آ گئے۔ مسلم حکمرانوں نے ظل اللہ علی الارض ہونے کا دعویٰ کر دیا جو کہ نظریۂ سماوی حقوقِ شاہی تھا۔ اپنی سیاسی تاریخ کو یاد کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے مذہبی سکالرز کی بیشتر کتابوں میں امیر (حکمران) کے مرکزی کردار پر بحثیں ملتی ہیں، نہ کہ عوام کے کردار کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ ان میں اطاعتِ امیر کو عوام کا فرضِ اولین قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ شوریٰ (پارلیمنٹ) صرف سفارش کر سکتی ہے۔ امیر شوریٰ کے مشوروں کا پابند نہیں ہے۔
بنو امیّہ کے زمانے سے لے کر آج تک کے اپنے علماء کی کتابوں میں یہی بحثیں ملتی ہیں۔ حکمران اور شوریٰ کے اضافی اختیارات کیا ہیں؟ ان دونوں میں سے کون زیادہ اہم ہے؟ عوام کی نمائندگی شوریٰ کرتی ہے یا امیر کرتا ہے؟ اس کے علاوہ ان کا خیال یہ بھی رہا ہے کہ امیر کو اپنی پسند کے مطابق شوریٰ کا چناؤ کرنے کااختیار ہے۔
ایک لمحہ بھر اس نقطے پر غور کیجیے۔ کیا یہ خالص شہنشاہی یا آمریت نہیں ہے؟ ایک حریص شخص ایک بار امیر منتخب ہو کر اپنی پسند کی مجلس شوریٰ قائم کر لیتا ہے اور کبھی کبھار اس سے مشورہ کرکے اپنی پسند کے فیصلے مسلط کرنے لگتا ہے اور دعویٰ کر دیتا ہے کہ اسےاللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور یہ کہ وہ اس وقت تک اقتدار میں رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کیونکہ وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہے ذلیل کر دیتا ہے۔ اس سیاق و سباق میں کیا امیر دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات ہیں۔ اللہ پاک ہی اس کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ کہ وہ زمین پر سایۂ خدا ہے جو کوئی اس کی اطاعت کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور جو اس کی توہین کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی توہین کرتا ہے۔
یہ وہ مسخ شدہ تعبیر ہے جو ہمارے حکمران اقتدار پر غاصبانہ قبضے کے لیے پیش کرتے رہے۔ اسی کی آڑ میں اپنی حکمرانی کو طول دیتے رہے ہیں۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اسلام میں اس سوچ کا کوئی جواز نہیں ہے۔
عہد حاضر میں اگرچہ عمومی فکر تو یہی ہے لیکن کچھ علما اور دینی جماعتوں نے اس فکر کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ میں صرف چند مثالوں پر اکتفا کروں گا۔ 1947ء میں جب اسلام کے نام پر پاکستان وجود میں آیا تو یہ بحث شروع ہو گئی کہ سیاسی نظام کیا ہو گا۔ اس پس منظر کے ساتھ 1949ء میں دستور ساز اسمبلی میں قرار دار مقاصد منظور کی گئی۔ اس قرار داد کو پاکستان کے تقریباً تمام علماء کی حمایت حاصل تھی اور آج تک تمام مذہبی طبقہ اس کو قبول کرتا ہے۔ اس قرار داد نے اقتدار کا صحیح اسلامی تصور پیش کیا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ کائنات پر اصل حاکمیت (soveriengty) اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اس نے اپنا اختیار پاکستان کی ریاست کو تفویض (delegate) کیا ہے۔ جسے پاکستان کے عوام استعمال کریں گے۔ یہ اقتدار ایک مقدس امانت ہے۔ ریاست یہ اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ اس نظام میں جمہورت، آزادی، برابری، رواداری اور سماجی انصاف ہو گا۔ جہاں اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو گا۔ بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنایا جائیگا۔
آپ ذرا اس قرار داد پر غور کریں۔ اقتدار کسی بادشاہ کے لیے نہیں ہے۔ کسی صدر اور وزیراعظم یا امیر المومنین کے لیے نہیں ہے بلکہ پاکستان کے عوام کے لیے ہے۔ جسے عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کریں گے۔ علما اور سیاسی لیڈروں کا یہ متفقہ اعلان تھا کہ اصل حکمران عوام ہیں اور وہ حکمرانی انتخاب کے ذریعے حاصل کریں گے۔ کوئی الوہی حقوق (divine rights) نہیں ہوں گے۔ کوئی امیرالمومنین عوام کی مرضی کے خلاف نہیں ہو گا۔ کوئی حاکم اپنی مرضی سے اپنی شوریٰ نہیں بنائے گا بلکہ عوام کے منتخب نمائندوں کا پابند ہوگا۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ دولت، خاندان یا بندوق کی طاقت سے عوام کی گردن پر سوار ہو جائے۔
اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان بلکہ بہت سے مسلم ممالک کی آج کل کی مذہبی سیاسی جماعتیں بھی اس فکر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ عوام کے ووٹ کے ذریعے منتخب ہو کر آنے کے بعد پارلیمنٹ کی بالادستی کا دعویٰ کرتی ہیں۔ میں مذہبی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کی یہ سوچ اسلامی سوچ ہے۔ اس لیے کہ اسلامی سیاسی فلسفہ حاکم کی بجائے عوام کو اصل مانتا ہے۔ مسلمانوں کے پہلے خلفاء ہر لمحے عوام کے سامنے جوابدہ تھے۔ پارلیمنٹ کی جو بھی ابتدائی شکل تھی۔ وہ اس کے سامنے مکمل طور پر جوابدہ تھے۔
قرارداد مقاصد کے بعد، میں ملائشیا، ترکی اور ایران کی مثال دوں گا۔ ان برادر اسلامی ممالک میں کسی نہ کسی درجے میں عوامی طاقت سے ہی مسلمان حکومتیں بنی ہیں۔
عوام کی حاکمیت کا تصور جو اسلام میں چودہ سو سال سے ہے اور اہل مغرب نے سولہویں صدی میں اختیار کیا ہے۔ ہمارے سیاسی عمل میں آجکل بھی مکمل طور پر عمل پذیر نہیں ہو سکا۔ اکثر اسلامی ممالک میں حکمران عوام کی مرضی کے خلاف عوام کی گردنوں پر سوار ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اقتدار دیا ہے اور کبھی ہماری تہذیبی سیاسی طاقتیں کسی نہ کسی شکل میں ان کا ساتھ دیتی ہیں۔
اہل اسلام کو سوچ سمجھ کر یہ پختہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ انہیں عوامیت کا علمبردار بننا ہے اور یہ کہ اسٹیبلشمنٹ سے تعلق مناسب نہیں۔ اہل اسلام کو انقلابی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ عوام کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ عوامی زبان بولنی چاہیے۔ ظالم حکمرانوں اور مصنوعی اقتدار سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ عملی طور پر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔




کمنت کیجے