ہمارےقانون کی تدریس کے اداروں میں اسلامی قانون جس طرح پڑھایا جاتا ہے اس سے قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں ایک عام غلط فہمی یہ پھیل گئی ہے کہ وہ فقہی مذاہب کو ”فرقے“ سمجھنے لگے ہیں۔ بدقسمتی سے ”فرقوں“ کا یہ لفظ آئین کی دفعہ 227 میں 1980ء میں شامل کی گئی ”توضیح“ میں بھی داخل کیا گیا ہے۔ جدید دور میں ”فرقوں“ کے لفظ سے ایک عمومی تنفر بھی پایا جاتا ہے۔ اس لیے ہمارے ججوں اور وکلا میں فقہی مذاہب کے متعلق ایک نوع کا منفی رویہ پایا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ اس لیے اگرچہ وہ سیکولر قانون کی تعبیر کے متعدد مناہج کو ہنسی خوشی قبول کرلیتے ہیں لیکن اسلامی قانون کی تعبیر میں اختلاف کو برا سمجھتے ہیں۔
اس زاویۂ نظر کا ایک اور اثر یہ ہوا ہے کہ ہمارے قانون دان کبھی قانون کی تعبیر میں اس روش کو پسند نہیں کرتے کہ ایک جج ایک مقدمے میں Legal Positivistsکی طرح یہ قرار دے کہ ریاست کا قانون، جیسا کہ وہ ہے، نافذ کرنا ضروری ہے، خواہ وہ کسی کے اخلاقی اصولوں سے ہم آہنگ ہو یا نہیں؛ لیکن دوسرے مقدمے میں وہ Naturalists کی طرح یہ کہے کہ ریاست کا فلاں قانون چونکہ ”قانونِ فطرت“ سے متصادم ہے، اس لیے اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔ ایسے ”اصولی تناقض“ سے جج کے لیے دور رہنا وہ لازم سمجھتے ہیں۔ تاہم جب جج ایک مقدمے میں حنفی اصول اور دوسرے مقدمے میں شافعی اصول اپنائے، بلکہ ایک ہی مقدمے کے ایک جزو میں حنفی اور دوسرے میں شافعی اصول لے، تو ہمارے قانون دانوں کو اس میں کوئی اصولی تناقض نظر نہیں آتا اور وہ ایسے ”تلفیق“ (conflation) کو ”روشن خیالی“ سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی تحسین کرتے ہیں۔ اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ”قانونی مذاہب“ کو تو وہ ”اصولی مناہج“ سمجھتے ہیں لیکن ”فقہی مذاہب “ کو وہ ”فرقے“ قرار دیتے ہیں۔
استادِ محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی نے متعدد تصنیفات میں واضح کیا ہے کہ اسلامی قانون کا ہر مکتب ایک مستقل نظامِ تعبیر ہے جس کا اپنا منفرد اصولی نظریہ ہوتا ہے۔ ایسے اصولی نظریات کی وہ تین بنیادی قسمیں ذکر کرتے ہیں: ”اصولِ عامہ“ کے نظریات، ”لفظی تعبیر “کے نظریات اور ”مقاصدِ شریعت“ کے نظریات۔ حنفی مذہب کے اصولی نظریے کو وہ پہلی قسم میں رکھتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی فقہی مذہب کے اندر ”لازمی نظائر“ کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر حنفی مذہب میں ”قانونی متون“اور فقہاء کی ایک درجہ بندی ہوتی ہے اور اوپر کے درجے کی کتاب میں مذکور حکم کو نچلے درجے کی کتاب میں مذکور حکم پر، اور اسی طرح اوپر کے طبقے کے فقہاء کو اپنے سے نچلے طبقے کے فقہاء پر، فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ ملتا جلتا نظام آج بھی ان ممالک میں کام کررہا ہے جہاں ”سول لا“ کا قانونی نظام نافذ ہے۔ اسلامی قانون کے اس نظام کو ”کامن لا“ کے نظام نے ”عدالتی شجرے“ کی صورت میں اپنا لیا۔ اس پہلو پر الگ سے تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ اس نظام میں نئے پیش آمدہ مسائل کے حل اور ان کا فیصلہ کرنے کےلیے قانون کے ماہرین جو طریقِ کار اختیار کرتے ہیں، پروفیسر نیازی اسے ”تخریج“ کا نام دیتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ کیوں یہ طریقِ ”تلفیق“ سے زیادہ مفید اور زیادہ مؤثر ہے۔
تلفیق کا نتیجہ بعض اوقات ایسی رائے کی صورت میں نکلتا ہے جو فقہاء کے اجماع کے خلاف ہوتی ہے۔ مثلا بعض مالکی فقہاء کے نزدیک جنسی تشدد پر ”حرابہ“ کا اطلاق ہوسکتا ہے؛ اور مولانا امین احسن اصلاحی کی رائے میں رجم حرابہ کی بدترین صورت کی سزا ہے۔ان دونوں باتوں کو ملا کر وفاقی شرعی عدالت نے ’بیگم رشیدہ پٹیل‘ مقدمے (1989ء) میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ”زنا بالجبر“ کی سزا رجم ہے؛ حالانکہ مالکی فقہاء سمیت تمام فقہاء کا اجماعی موقف یہ ہے کہ رجم زانی محصن کی سزا ہے، نہ کہ حرابہ کی۔
اس سے زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ مختلف فقہی مذاہب کی آراء کے یوں جمع کردینے سے قانونی نظام کمزور ہوجاتا ہے کیونکہ وہ کسی مستحکم قانونی بنیاد پر کھڑا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پرامام ابوحنیفہ نے اسلامی قانون کے مختلف مصادر کا جائزہ لینے کے بعد یہ اصول قائم کیا کہ مسلم عدالتیں اسلامی قانون کو صرف دارالاسلام کی جغرافیائی حدود کے اندر نافذ کر سکتی ہیں، یوں انھوں نے ”علاقائی دائرۂ اختیار“ کا اصول اپنایا اور پھر اسے تمام متعلقہ قانونی مسائل پر یکساں طور پر لاگو کیا۔ دوسری طرف امام شافعی نے اس اصول کو قبول نہیں کیا اور وہ قرآن و سنت کی نصوص کی مختلف تعبیر اپناتے ہیں۔ اب اگر جج ایک مقدمے میں اس اصول کو قبول کرے اور دوسرے میں اسے رد کر دے، تو یہ اصولی تناقض ہوگا۔ اس لیے کسی مخصوص فقہی مذہب کی پابندی ”علمی تنگ نظری“نہیں ہے، بلکہ یہ ”علمی دیانت“کا لازمی تقاضا ہے ۔چنانچہ جب جج کے سامنے کوئی ایسا مقدمہ آئے جس میں اس کے مخصوص فقہی مذہب (یا اصولی نظام) کی رو سے حکم پہلے سے موجود نہ ہو، تو ”اصولوں کی پابندی“ یقینی بنانے کے لیے اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ تلفیق کے بجائے تخریج کا طریقہ اپنائے۔
پروفیسر نیازی واضح کرتے ہیں کہ جج جب نئے مسائل کے لیے “نیا اصول” وضع کرنے کے لیے تخریج کا طریقِِ کار استعمال کرتا ہے، تو اس پر یہ یقینی بنانا لازم ہوتا ہے کہ وہ نیا اصول اس کے اصولی نظریے سے ہم آہنگ ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ تین معیارات ذکر کرتے ہیں: (1) یہ کہ نیا اصول قرآن و سنت کی ان تعبیرات کو تبدیل نہ کرے جو اس کے اصولی نظام نے پہلے سے اختیار کی ہوئی ہیں؛ (2) یہ کہ نیا اصول اس کے اصولی نظام کے پہلے سے طے شدہ اصولوں کے خلاف نہ ہو؛ اور(3) یہ کہ اس نئے اصول کے حق میں اس کے اصولی نظام کے اندر کوئی مثبت دلیل موجود ہو، جو یہ ظاہر کرے کہ یہ نیا اصول اس نظام کے لیے ”اجنبی“ نہیں ہے۔ پہلے دو معیارات منفی ہیں جو یہ دیکھنے کےلیے ہیں کہ نیا اصول نظام کے خلاف نہیں ہے، جبکہ تیسرا معیار ایجابی ہے جو یہ دکھاتا ہے کہ نیا اصول اس کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ پروفیسر نیازی کہتے ہیں: ”فقہاء کا قائم کردہ یہ نظام کہتا ہے کہ پورا قانون اصولوں، نظائر اور قواعد کے ایک وسیع ذخیرے کے گرد منظم کیا جا چکا ہے۔ یہ ذخیرہ توسیع اور تبدیلی کے لیے کافی لچک بھی فراہم کرتا ہے۔ پھر پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ “
سوال یہ ہے کہ کیا بار کونسل نے ججوں اور وکلا کے نصاب کا کبھی اس پہلو سے جائزہ لیا ہے؟ کیا قانون کی تعلیم کا ہمارا موجودہ نظام ججوں اور وکلا کو اس لائق بناتا ہے کہ وہ یہ سوچ سکیں کہ کسی اور نظام سے”کاروباری شراکت“ کے اصول پر ”شادی کے اثاثوں“ کا تصور ، یا ”ملازمت اور پنشن“ کی بنیاد پر ”بعد از طلاق نفقہ“ کا تصور نکاح کے اسلامی تصور اور خاندان کے اسلامی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہے بھی یا نہیں؟
فقہی مذاہب ”فرقے“ نہیں ہیں



کمنت کیجے