Home » “وجود باری کا علم خبر (قرآن) سے آتا ہے” کہنے والوں پر امام رازی کا تبصرہ
اسلامی فکری روایت شخصیات وافکار کلام

“وجود باری کا علم خبر (قرآن) سے آتا ہے” کہنے والوں پر امام رازی کا تبصرہ

امام رازی سورۃ بقرۃ کی آیت 22 (يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اعْلَمْ أَنَّهُ سُبْحَانَهُ لَمَّا أَمَرَ بِعِبَادَةِ الرَّبِّ أَرْدَفَهُ بِمَا يَدُلُّ عَلَى وُجُودِ الصَّانِعِ وَهُوَ خَلْقُ الْمُكَلَّفِينَ وَخَلْقُ مَنْ قَبْلَهُمْ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَا طَرِيقَ إِلَى مَعْرِفَةِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا بِالنَّظَرِ وَالِاسْتِدْلَالِ وَطَعَنَ قَوْمٌ مِنَ الْحَشْوِيَّةِ فِي هَذِهِ الطَّرِيقَةِ وَقَالُوا الِاشْتِغَالُ بِهَذَا الْعِلْمِ بِدْعَةٌ

مفہوم: جان لو کہ جب اللہ تعالی نے رب کی عبادت کا حکم دیا تو اس کے ساتھ اس بات کا ذکر بھی فرمایا جو خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہے، اور وہ ہے (مخاطب) مکلفین کی اور ان سے پہلے سب لوگوں کی تخلیق۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نظر و استدلال کے سوا اللہ تعالی کی معرفت کا کوئی ذریعہ نہیں۔ البتہ حشویہ میں سے ایک جماعت نے اس طریقے پر طعن کیا اور کہا کہ اس (نظری دلائل سے معرفت باری کے) علم میں مشغول ہونا بدعت ہے۔

پھر اگلی آیت (وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَداءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ) جس میں نبی علیہ السلام کی نبوت پر دلیل قائم کی گئی ہے، اس کے تحت لکھتے ہیں:

[في فساد قول التعليمية والحشوية] اعْلَمْ أَنَّهُ سبحانه وتعالى لَمَّا أَقَامَ الدَّلَائِلَ الْقَاهِرَةَ عَلَى إِثْبَاتِ الصَّانِعِ وَأَبْطَلَ الْقَوْلَ بِالشَّرِيكِ عَقَّبَهُ بِمَا يَدُلُّ عَلَى النُّبُوَّةِ، وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى فَسَادِ قَوْلِ التَّعْلِيمِيَّةِ الَّذِينَ جَعَلُوا مَعْرِفَةَ اللَّهِ مُسْتَفَادَةً مِنْ مَعْرِفَةِ الرَّسُولِ، وَقَوْلِ الْحَشَوِيَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تَحْصُلُ مَعْرِفَةُ اللَّهِ إِلَّا مِنَ الْقُرْآنِ وَالْأَخْبَارِ

مفہوم: [تعلیمیہ اور حشویہ کی بات کا رد] جان لو کہ اللہ تعالی نے جب خالق کے اثبات پر واضح دلائل قائم کیے اور (اس کے ساتھ کسی کے) شریک ہونے کے قول کو باطل قرار دیا، تو اس کے ساتھ ان دلائل کو بھی ذکر کیا جو نبوت پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ (طریقہ خطاب) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تعلیمیہ (وہ جن کا کہنا تھا کہ امام معصوم کے بغیر خدا کی معرفت ممکن نہیں) کا قول باطل ہے جن کے مطابق اللہ کی معرفت رسول کی معرفت سے حاصل ہوتی ہے، اور اسی طرح حشویہ کا موقف بھی باطل ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ کی معرفت صرف قرآن اور اخبار ہی سے حاصل ہوتی ہے۔

حشویہ سورۃ اعراف آیت 3 (اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ قَلِيلاً مَا تَذَكَّرُونَ) سے یہ استدلال کیا کرتے تھے کہ نبی کی خبر کے سوا کسی چیز کی اتباع نہیں لہذا دلائل عقلیہ سے وجود باری پر استدلال کرنا درست نہیں۔ امام رازی تبصرہ کرتے ہیں:

الْحَشْوِيَّةُ الَّذِينَ يُنْكِرُونَ النَّظَرَ الْعَقْلِيَّ وَالْبَرَاهِينَ الْعَقْلِيَّةَ تَمَسَّكُوا بِهَذِهِ الْآيَةِ وَهُوَ بَعِيدٌ لِأَنَّ الْعِلْمَ بِكَوْنِ الْقُرْآنِ حُجَّةً مَوْقُوفٌ عَلَى صِحَّةِ التَّمَسُّكِ بِالدَّلَائِلِ الْعَقْلِيَّةِ فَلَوْ جَعَلْنَا الْقُرْآنَ طَاعِنًا فِي صِحَّةِ الدَّلَائِلِ الْعَقْلِيَّةِ لَزِمَ التَّنَاقُضُ وَهُوَ بَاطِلٌ

مفہوم: حشویہ جو کہ عقلی نظر اور عقلی دلائل کا انکار کرتے ہیں انہوں نے اس آیت کو (وجود باری پر نظری استدلال کے خلاف) دلیل بنایا ہے مگر یہ دور کی کوڑی ہے، اس لیے کہ قرآن کے حجت ہونے کا علم خود عقلی دلائل کے صحیح ہونے پر موقوف ہے۔ لہٰذا اگر ہم قرآن کو عقلی دلائل کی صحت پر طعن کرنے والا بنا دیں تو اس سے تناقض لازم آئے گا، اور یہ باطل ہے۔

قرآنی آیت لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ کے تحت امام رازی نے ذات باری کے حوادث سے پاک ہونے پر بحث کی ہے۔ اس کے بعد آپ اس گروہ کے نظریات پر تبصرہ کرتے ہیں جو کسی درجے پر تجسیمی رجحانات رکھتے تھے، اور اس ضمن میں آپ بالخصوص مشہور محدث محمد بن اسحاق ابن خزیمہ (م 311 ھ / 923 ء) کی کتاب التوحید پر تبصرہ کرتے ہیں جس میں بعض نصوص کے ظاہر سے خدا کے لئے تجسیمی امور پر استدلال کیا گیا ہے۔ صاحب کتاب پر امام رازی کا تبصرہ سخت ہے جس سے ہم فی الوقت اغماز کرتے ہیں۔ آپ اس گروہ کے دلائل پر بحث کرتے ہوئے ایک نقد یہ کرتے ہیں کہ اگر خدا کے لئے تجسیم جائز ہے تو یہ سورج و چاند وغیرہ کیوں کر خدا و الہ نہیں ہوسکتے؟ آپ کہتے ہیں کہ اگر اس گروہ کے اگلے و پچھلے سب لوگ جمع ہوجائیں تو اس اعتراض کو رفع نہ کرسکیں گے۔ اس کے بعد آپ حشویہ گروہ کے مائنڈ سیٹ کے مطابق ان کی جانب سے دلیل دے کر اس پر تبصرہ فرماتے ہیں:

فَإِنْ قَالُوا هَذَا بَاطِلٌ لِأَنَّ الْقُرْآنَ دَلَّ عَلَى أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالْأَفْلَاكَ كُلَّهَا مُحْدَثَةٌ مَخْلُوقَةٌ فَيُقَالُ هَذَا مِنْ بَابِ الْحَمَاقَةِ الْمُفْرِطَةِ لِأَنَّ صِحَّةَ الْقُرْآنِ وَصِحَّةَ نُبُوَّةِ الْأَنْبِيَاءِ مُفَرَّعَةٌ عَلَى مَعْرِفَةِ الْإِلَهِ، فَإِثْبَاتُ مَعْرِفَةِ الْإِلَهِ بِالْقُرْآنِ وَقَوْلِ النَّبِيِّ لَا يَقُولُهُ عَاقِلٌ يَفْهَمُ مَا يَتَكَلَّمُ بِهِ

مفہوم: اگر وہ کہیں کہ یہ (یعنی سورج و چاند وغیرہ کا الہ ہونا) اس لئے باطل ہے کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ سورج، چاند اور تمام افلاک حادث اور مخلوق ہیں، تو انہیں کہا جائے گا: ایسی بات انتہائی درجے کی حماقت ہے کیونکہ قرآن کی صحت اور انبیاء کی نبوت کی صحت معرفتِ الہ پر موقوف ہے۔ پس معرفتِ الہ کو قرآن اور نبی کے قول سے ثابت کرنا ایسی بات ہے جو کوئی ایسا سمجھ دار شخص نہیں کہہ سکتا جو اپنے منہ سے نکلنے والی بات کو سمجھتا ہو۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں