اطلاع ہے کہ صرف اسلام آباد میں روزانہ اوسطاً تنسیخِ نکاح کے تین سو مقدمات دائر کیے جارہے ہیں، اور ان مقدمات میں اکثر یا تو تنسیخِ نکاح کےلیے سبب ہی خلع ذکر کیا جاتا ہے، یا عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ وہ ’متبادل داد رسی‘ کے طور پرخلع کے ذریعے تنسیخِ نکاح کردے۔ اس خبر اور خاندانی نظام کی بربادی کے اسباب پر علمی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ تاہم اس بحث میں عموماً اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ تنسیخِ نکاح کے مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اہم کردار اس ’آٹو میٹک خلع‘ کا ہے جسے ہماری عدالتوں اور مقننہ نے بڑی محنت سے ’ایجاد‘ کیا ہے ۔
اسلامی قانون میں خلع میاں بیوی کے درمیان سمجھوتے کا نام تھا، ایسا سمجھوتہ جس کے ذریعے بیوی کچھ قیمت ادا کرکے شوہر کو اس پر راضی کرتی کہ وہ اسے طلاق دے دے۔ یوں یہ ’طلاق بالمال‘ یا ’طلاق بالعوض‘ کی ایک صورت ہوجاتی۔ سمجھوتے میں فریقین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ اس وجہ سے شوہر کی مرضی کے بغیر خلع ممکن نہیں تھی۔ اسلامی قانون نے بعض مخصوص حالات میں قاضی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ مرد کی مرضی کے بغیر اس کی بیوی کو نکاح کے بندھن سے آزاد کردے۔ اس کو ’فسخ‘ کہتے تھے۔ فسخ کے لیے محض یہ کافی نہیں تھا کہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، بلکہ اس کے لیے مخصوص اسباب میں کسی سبب کا ہونا ضروری تھا۔ البتہ قاضی کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ عورت پر ظلم نہ ہونے دے اور مظلوم کی دادرسی کے لیے از خود کارروائی کرکے ثبوت اکٹھے کرے۔
حنفی فقہ میں عدالت کے ذریعے نکاح فسخ کرنے کے اسباب بہت محدود تھے لیکن قانون کی اس سختی کو قاضی کی ذمہ داریوں کے ذریعے متوازن کیا گیا تھا۔ غلامی کے دور میں انگریزوں نے قاضیوں سے اختیارات چھین کر اپنا عدالتی نظام بنا دیا جس میں جج کی حیثیت محض ایک خاموش تماشائی کی ہوگئی اور سبب کے’بارِ ثبوت‘ کا معاملہ فسخِ نکاح کے لیے آنے والی عورت پر ڈال دیا گیا۔ اب خواتین کے لیے مسئلہ سنگین ہوگیا، تو مولانا اشرف علی تھانوی نے دیگر علمائے کرام کے ساتھ مشاورت کے بعد فتوی دیا کہ مجبوراً مالکی فقہ میں مذکور اسباب پر بھی فسخِ نکاح کیا جاسکتا ہے۔ نیز انھوں نے اس مقصد کے لیے قانون سازی کی طرف توجہ کی جس کے نتیجے میں’مسلم تنسیخِ نکاح ایکٹ 1939ء ‘ وجود میں آگیا۔ اس قانون کی دفعہ 2 میں متعدد ایسے اسباب ذکر کیے گئے تھے جن کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح کا دعوی دائر کیا جاسکتا تھا۔
آزادی کے بعد ضروری تھا کہ قاضی کو اسلامی قانون کے تحت اختیارات لوٹا دیے جاتے اور اس پر ذمہ داریاں عائد کی جاتیں، لیکن مسئلے کی جڑ کا علاج کرنے کے بجائے ہماری عدالتوں نے فسخِ نکاح کے لیے کسی سبب کی ضرورت سے ہی انکار کردیا اور قرار دیا کہ عدالت صرف اس بنیاد پر ہی نکاح فسخ کرسکتی ہے کہ عورت اس شخص کے ساتھ مزید رہنا نہیں چاہتی، خواہ اس شخص سے اسے کوئی شکایت نہ ہو، یا شکایت ہو لیکن اس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔ اس نتیجے تک پہنچنے کا محرّک اصل میں میاں بیوی کے درمیان ’مساوات‘ کا وہ تصور تھا جو مغرب سے مابعدِ استعمار دور میں درآمد کیا گیا۔
چنانچہ نکاح و طلاق کے مسائل کو اسی تناظر میں دیکھنے اور ’متوازن‘ کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ مفروضہ قائم کیا گیا کہ جیسے طلاق شوہر کا حق ہے، ایسے ہی خلع بیوی کا حق ہے، اور جیسے شوہر کسی سبب کے بغیر بھی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے، ایسے ہی بیوی کو بھی شوہر سے علیحدگی کے لیے کوئی سبب پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مساوات کے اس تصور کی راہ میں ایک رکاوٹ یہ تھی کہ بیوی کو طلاق دینے کے لیے شوہر کو عدالت سے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ ’عدالتی خلع‘ کے لیے بیوی کو عدالت ہی سے استدعا کرنی پڑتی ہے۔
حقوقِ نسواں کے بعض کارکنوں کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ شوہر کے حقِ طلاق کو بھی عدالت کے فیصلے سے مشروط کیا جائے۔ تاہم پاکستان میں تا حال ایسا نہیں کیا گیا، البتہ جنرل ایوب خان کے دور میں نافذ کیے گئے مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس 1961ء کی دفعہ 7 میں طلاق کے لیے ایک تفصیلی ضابطہ دے کر قرار دیا گیا کہ جب تک اس ضابطے پر عمل نہ ہو، طلاق مؤثر نہیں ہوگی۔ 1963ء میں ’علی نواز گردیزی بنام کرنل محمد یوسف‘ مقدمے میں سپریم کورٹ نے آگے بڑھ کر قرار دیا کہ اگر شوہر نے بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس دفعہ میں مذکور ضابطے پر عمل نہیں کیا، تو قانون یہ فرض کرے گا کہ اس نے طلاق واپس لے لی ہے اور قانون کی نظر میں یہ دونوں بدستور میاں بیوی رہیں گے۔ اس فیصلے کے نتائج بہت دوررس نکلے، لیکن ان پر بحث سے بات کہیں اور نکل جائے گی۔
عائلی قوانین کی دفعہ 7 کو وفاقی شرعی عدالت نے 1999ء میں ’اللہ رکھا بنام وفاقِ پاکستان‘ مقدمے میں اسلامی احکام سے متصادم قرار دے کر کالعدم کردیا۔ تاہم اس کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں دائر کی گئیں، تو وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ معطل ہوگیا۔ تب سے آج تک، یعنی تقریباً 27 سال بعد بھی، یہ قانون پاکستان میں محض اس وجہ سے رائج ہے کہ سپریم کورٹ ان اپیلوں کی سماعت نہیں کررہی۔
دوسری جانب 1967ء میں سپریم کورٹ نے ’خورشید بی بی بنام بابو محمد امین‘مقدمے کے فیصلے کے ذریعے’عدالتی خلع‘ ایجاد کرکے عورت کو یہ حق دیا کہ اگر وہ شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، تو اسے کوئی سبب بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، بس اس کا یہ کہنا کافی ہے کہ وہ شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، تو محض اس بنیاد پر ہی عدالت اس کا نکاح فسخ کردے گی۔ ایک اور قانون ’عائلی عدالتوں کے ایکٹ 1964ء‘ کی دفعہ 10 میں جنرل مشرف کے دور میں ترمیم کرکے یہ طے کیا گیا کہ عورت کی جانب سے خلع کے دعوے کے بعد پہلی پیشی میں ہی، اگر صلح کی کوشش ناکام ہو، تو عدالت پر لازم ہوگا کہ وہ نکاح فسخ کردے۔ یوں ’عدالتی خلع‘ کو ’آٹو میٹک خلع‘ میں تبدیل کردیا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ 2021ء میں وفاقی شرعی عدالت نے بھی عدالتی خلع کو جائز قرار دیا ہے اور یہ معاملہ بھی اب سپریم کورٹ میں معلق ہے۔
عدالتی خلع نے تنسیخِ نکاح ایکٹ کو عملاًغیر مؤثر کردیا ہے اور وہ قانون محض کاغذات میں ہی باقی رہ گیا ہے۔ البتہ مہر کا معاملہ پیچیدہ ہوگیا ہے کیونکہ اکثر یہ تنازعہ جاری رہتا ہے کہ شوہر نے مہر ادا بھی کیا تھا یا نہیں، یا کتنا مہر معجل تھا اور کتنا مؤجل، نیز عورت جہیز میں کیا کچھ لائی تھی اور وہ اب موجود ہے یا نہیں ہے، وغیرہ۔ اس تنازعے کے حل کےلیے ایک جانب ہماری عدالتوں نے اور دوسری جانب ہماری مقننہ نے جو کوششیں کیں، اس کا حال یہی ہے کہ: ڈور کو سلجھا رہے ہیں اور سرا ملتا نہیں!
حدیث کی وضاحت :
بعض لوگ خلع کے متعلق اس مشہور حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس میں آنحضرت ﷺ نے خاتون سے کہا کہ کیا وہ اپنے شوہر کو اس کا باغ لوٹانے کےلیے تیار ہے؟ اس نے ہاں میں جواب دیا، تو آنحضرت ﷺ نے ان کے شوہر سے کہا کہ یہ باغ قبول کرلو اور اسے ایک طلاق دے دو۔
اس حدیث کو نقل کرکے کہا جارہا ہے کہ یہاں تو شوہر کی رضامندی کی بات ہی نہیں ہے۔
ہم بارہا واضح کرچکے ہیں کہ کسی بھی حدیث کو دیگر احادیث، آیات اور قانونی اصولوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، نہ ہی تنہا سمجھا جاسکتا ہے۔
نیز یہ بات بھی ہم بارہا واضح کرچکے ہیں کہ حدیث کوئی پہلی دفعہ آپ نے بیسویں یا اکیسویں صدی میں دریافت نہیں کرلی، بلکہ چودہ صدیوں سے اس پر بحث جاری ہے اور فقہائے کرام نے ساری نصوص اور قانونی اصولوں کو مد نظر رکھنے کے بعد کسی حدیث کا کوئی مفہوم متعین کیا ہے۔ اس مفہوم پر دوسری جانب سے اعتراض یا سوال ہوا، تو اس پر بحث چل پڑی، جواب الجواب کا سلسلہ بھی چل پڑا اور تفصیلی تجزیے کے بعد ہر فریق نے اپنی پوزیشن متعین کرلی۔ آپ صدیوں کی اس بحث کو نظر انداز کرکے براہِ راست قرآن و سنت تک چھلانگ لگا کر اپنی مرضی سے اس کا متعین مفہوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر فقہائے کرام کو اس حدیث یا اس حدیث کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار دیتے ہیں۔ یہ طریقہ اصولی طور پر ہی غلط ہے۔
ان دو اصولی غلطیوں کی توضیح کے بعد بھی اگر آپ کسی اور آیت، حدیث یا قانونی اصول کی طرف نہیں بھی دیکھنا چاہتے تو ذرا اسی حدیث کو دیکھ لیجیے اور درج ذیل سوالات کے جوابات دیجیے:
اگر خلع عورت کا “حق” ہے، تو آنحضرت ﷺ نے اس “حق” کےلیے ان خاتون کو قیمت ادا کرنے کےلیے کیوں کہا؟ انھیں کیوں کہا کہ وہ باغ لوٹا دیں؟
اگر وہ خاتون یہ باغ نہ لوٹاتیں، تو کیا ہوتا؟ اس کا تو ذکر ہی اس حدیث میں نہیں ہے۔ آپ اس سوال کا جواب اپنے مفروضات پر ہی دیں گے، تو وہ مفروضات کہاں سے نکلے ہیں؟
آنحضرت ﷺ نے ان خاتون کے شوہر کو کہا کہ وہ باغ قبول کرلیں، تو کیا یہ ایسا امر تھا جس کا ماننا واجب تھا؟ اگر شوہر یہ حکم نہ مانتا، تو کیا ہوتا؟ اس سوال کا جواب بھی آپ اپنے مفروضات پر دیں گے کیونکہ اس کا جواب تو اس حدیث میں موجود نہیں ہے، تو وہ مفروضات کہاں سے نکلے ہیں؟
آنحضرت ﷺ نے ان خاتون کے شوہر سے کہا کہ وہ انھیں ایک طلاق دے دے۔ سوال پھر یہ ہے کہ وہ نہ دیتے، تو کیا ہوتا؟ پھر بات آپ کے مفروضات تک پہنچ جاتی ہے، تو وہ مفروضات کہاں سے آئے ہیں؟
اس حدیث کے مطابق تو آنحضرت ﷺ نے از خود، شوہر کی مرضی کے بغیر، نکاح کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا، بلکہ شوہر ہی کو کہا کہ وہ ایک طلاق دے دے، تو آپ کی عدالتوں نے از خود، شوہر کی مرضی کے بغیر، نکاح ختم کرنے کا اختیار اس حدیث سے کیسے حاصل کرلیا؟
سوالات اور بھی ہیں، لیکن فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔
اصل بات یہی ہے کہ عدالتی خلع کا جو تصور ہمارے ملک میں رائج کیا گیا ہے، اس کا اسلامی قانون کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ تصور اسلامی قانون کےلیے اجنبی ہے، یہ صرف اور صرف میاں بیوی کے درمیان مساوات کے مغربی تصور سے متاثر ہونے کے نتیجے میں ایجاد کیا گیا ہے۔
چند سوالات اور الجھنیں :
:1
کئی امور ہیں جو باہم مختلط ہونے کی بنا پر آپ کو الجھن میں ڈال سکتے ہیں :
پہلی بات یہ ہے کہ “کسی بھی طرح کے جبر و تشدد” کا موجود ہونا تو باقاعدہ سبب ہے فسخِ نکاح کا، جو مسلم تنسیخِ نکاح ایکٹ کی دفعہ 2 میں مذکور ہے۔ یہ وہ صورت تو نہیں ہے جسے خلع کے سیاق میں ذکر کیا جاتا ہے کہ وجہ کوئی نہیں ہے، بس خاتون رہنا نہیں چاہتی۔ جس چیز کی ہم نفی کررہے ہیں، وہ یہ دوسری صورت ہے۔ اگر ظلم و تشدد ہے، تو اس کا ذکر تو کالم میں بھی ہوا کہ اسلامی قانون کی رو سے اس ظلم کا روکنا قاضی کی ذمہ داری تھی اور جب اسے شکایت کی گئی، اور وہ شکایت کنندہ کے حالات دیکھ کر مطمئن ہو کہ شکایت بے بنیاد نہیں ہے، تو ثبوت و شواہد اکٹھے کرنا اس کی ذمہ داری تھی۔ یہ چیز انگریزوں نے ختم کردی۔ اب عدالت یہ نہیں کرتی بلکہ شکایت کنندہ خاتون سے ہی ثبوت و شواہد مانگتی ہے۔
اب خاتون کو وکیل کہتا ہے کہ بی بی ظلم و تشدد کا ثبوت آپ کہاں سے لائیں گی؟ کوئی ظاہری چوٹ یا میڈیکل رپورٹ وغیرہ ہے، تو پھر بھی معاملہ چل جاتا ہے لیکن اگر ایسے ثبوت نہیں ہیں، تو گواہی کےلیے کون آئے گا؟ کیا آپ کی نند آئے گی یا ساس؟ یا وہ اپنے بھائی اور بیٹے کا ساتھ دیں گی؟ اس لیے اس چکر میں نہ پڑیں۔ بس سیدھا سادہ خلع کا مطالبہ کرلیتے ہیں جس کےلیے کسی وجہ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بس عدالت میں آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ آپ کسی صورت اس شخص کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں۔ بات ختم۔
یا بعض اوقات وہ کہہ دیتا ہے کہ ظلم و تشدد کی بات بھی کرلیں گے، لیکن اسے ثابت کرنا مشکل ہوگا، اس لیے “متبادل کے طور پر” خلع کا بھی مطالبہ کرلیں گے۔
یہ وہ سلسلہ ہے جس پر ہم تنقید کررہے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ نان نفقہ نہیں دے رہا تھا اور اب دینے لگا ہے، تو کیا فسخِ نکاح کا سبب ختم نہیں ہوجائے گا؟
تیسری بات یہ ہے کہ اگر خاتون بغیر کسی سبب کے بس رہنا ہی نہیں چاہتی، تو بغیر سبب کے عدالت فسخِ نکاح نہیں کرسکتی۔ ہاں، وہ شوہر کو کچھ قیمت ادا کرکے طلاق دینے پر راضی کرسکتی ہے، تو کوشش کرلے۔ گاڈ فادر کا مشہور ڈائیلاگ ہے:
Make him an offer he cannot refuse
:2
خلع اور طلاق میں فرق کیا ہے ؟
پوچھتے ہیں کہ جب خلع سمجھوتے کا نام ہے، اور سمجھوتے کےلیے فریقین کی رضامندی ضروری ہے، تو پھر تو خلع شوہر کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوسکتا؛ اور اگر ایسا ہی ہے، تو پھر طلاق اور خلع میں کیا فرق ہوا؟
غور کیجیے، تو یہ سوال اسی مفروضے سے پھوٹا ہے جو میں نے اس ساری بحث کی ابتدا میں ہی ذکر کیا تھا؛ وہ مفروضہ کہ میاں بیوی کے درمیان مساوات ہونی چاہیے اور اس لیے جیسے طلاق مرد کا “حق” ہے، ایسے ہی خلع عورت کا “حق” ہے۔
اس مفروضے کی لغویت پہلے ہی واضح کی جاچکی ہے، اس لیے اس پر مزید بات نہیں کرتے۔
اس وقت یہ وضاحت مقصود ہے کہ خلع طلاق ہی کی ایک قسم ہے، ایک خاص قسم، جب شوہر طلاق نہیں دنیا چاہتا، لیکن بیوی اس کی رضامندی کی قیمت ادا کرکے اسے طلاق دینے پر راضی کرلیتی ہے، اور ان دونوں کے درمیان سمجھوتے کے نتیجے میں شوہر طلاق دے دیتا ہے، اس قیمت کے عوض جو بیوی اسے ادا کرتی ہے۔
خلع کا یہی مفہوم صدیوں سے اسلامی دنیا میں، چاروں سنی مذاہب – بلکہ اثنا عشری فقہ میں بھی – رائج رہا ہے۔
بیسویں صدی میں جب ایک جانب ہمارا عدالتی نظام برباد کردیا گیا اور عورتوں کے حقوق کی حفاظت سے عدالتوں نے جان چھڑالی، اور دوسری جانب میاں بیوی کے درمیان مساوات کا نظریہ رائج کیا گیا، تو ہماری عدالتوں نے “عدالتی خلع” نامی چیز ایجاد کرلی؛ ایک ایسی چیز جو ہمارے نظام میں سرے سے تھی ہی نہیں۔ اس نئی چیز نے نہ صرف طلاق اور فسخ کا فرق ہی ختم کردیا، بلکہ فسخِ نکاح کےلیے جو اسباب شریعت نے دیے ہوئے تھے، ان اسباب کو ہی لایعنی کردیا۔
اب اس کے بعد ہمارے وکلا یہ سمجھنے کے بجائے کہ طلاق اور فسخ میں کیا فرق ہے، یہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ طلاق اور خلع میں کیا فرق ہے!
:3
کیا عورت کو دیوار میں چنوا دیں ؟
جب “عدالتی خلع” کا بے بنیاد ہونا واضح ہوگیا، تو ہمارے دوست اچانک ہی ہمارے معاشرے کی انتہائی بھیانک تصویر پیش کرکے پوچھنے لگتے ہیں کہ اگر عدالتیں خلع نہ دیں، تو کیا عورت کو دیوار میں چنوا دیں؟ کچھ نے مزید تڑکا لگا کر پوچھا: تو کیا عورت کو زندہ درگور کردیں؟
حد ہوتی ہے، یار!
یہ ہمارے برصغیر کے گرم میدانی علاقوں کی آب و ہوا کا اثر ہے یا مرچ مسالوں کا، کہ ان دوستوں کو درمیان میں کچھ نظر نہیں آتا، بس کوئے یار سے سیدھے سوئے دار ہی چلتے ہیں!
تھوڑا ٹھنڈا پانی، یا ٹھنڈی لسی، پی کر ایک طرف چھاؤں میں بیٹھ جائیں، اور پھر سوچیں کہ یہ کس نے کہا ہے کہ عدالتی خلع نہیں، تو کچھ بھی نہیں؟ اور یہ کس نے کہا ہے کہ اس طرح کے toxic relationship میں اس عورت کو جلنے بھننے دیں؟
ابھی تو صرف اتنی ہی بات ہوئی ہے کہ عدالتی خلع کے نام سے جو حل تجویز کیا گیا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ حل نہیں ہے، بلکہ اس نے بہت سے مزید سنگین مسائل پیدا کرلیے ہیں۔
یہ حقیقت تسلیم کرلیجیے کہ عدالتی خلع حل نہیں، بلکہ مسئلہ ہے۔ اس کے بعد اس مسئلے کا بھی، اور اصل مسئلے کا بھی، حل نکل آئے گا، ان شاء اللہ۔




کمنت کیجے