Home » فکرِ مالکیہ اور شیخ الطریفی کی علمی کاوش
اسلامی فکری روایت عربی کتب

فکرِ مالکیہ اور شیخ الطریفی کی علمی کاوش

حسن ابن ساقی

کسی بھی علمی فن پارے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان شخصیات کے حوالے سے جانا جائے جن کی قلمی کاوشوں کی بنا پر وہ علمی فن پارہ وجود میں آیا اور اس نے علومِ اسلامیہ کو جلا بخشی ہے۔ جیسا کہ “المغربية في شرح العقيدة القيروانية” کو سمجھنے کے لیے دو ایسی شخصیات کا تعارف ناگزیر ہے کہ جن کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہونے کے باوجود منہج اور مقصد میں ایک گہرا ربط پایا جاتا ہے۔ انھیں دو شخصیات میں سب سے پہلے صاحبِ کتاب امام ابو محمد عبد اللہ بن ابی زید القیروانی رحمہ اللہ (۳۱۰ھ – ۳۸۶ھ)کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے جن کا شمار چوتھی صدی ہجری کے ان بلند پایہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے مغربی افریقہ (مغربِ اسلامی) میں مالکی مذھب کی ترویج و اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا۔۔۔۔ انہیں بجا طور پر ’مالکِ صغیر‘ کہا جاتا ہے۔

آپ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے محض فقہی فروعیات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ عقائد کے معاملے میں سلف کے منہج کو حرزِ جاں بنایا۔ آپ کی تصنیف ’الرسالة‘ دراصل وہ علمی کارنامہ ہے جو صدیوں تک مدارسِ اسلامیہ میں نصاب کا حصہ رہا۔ اس کتاب کا مقدمہ درحقیقت ان کے عقیدہ کی پاکیزگی اور سلفیت پر ان کی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ابن ابی زید القیروانی نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تدریس اور تصنیف میں گزارا، اور آپ کا قلم ہمیشہ کتاب و سنت کی نصرت کے لیے وقف رہا۔ اسی طرح دوسری جانب شیخ عبد العزیز بن مرزوق الطریفی کا علمی مقام آج کے دور میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔

آپ کا تعلق سعودی عرب کے ممتاز علمی گھرانے سے ہے اور آپ اپنی خداداد صلاحیتوں اور غیر معمولی علمی رسوخ کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ شیخ الطریفی کی سب سے بڑی علمی خوبی ان کا “منہجِ استدلال” ہے کیونکہ وہ فقہی مسائل اور عقائدی مباحث کو کتاب، سنت اور آثارِ صحابہ کے آئینے میں پرکھتے ہیں۔ آپ کی تحریریں سطحی اور رسمی نہیں ہوتیں بلکہ ہر لفظ تحقیق کی گہرائی اور ائمہ سلف کے اقوال سے مزین ہوتا ہے۔ “المغربية” جیسی شرح لکھ کر شیخ الطریفی نے نہ صرف ابن ابی زید کی عقیدتی فکر کو دوبارہ زندہ کیا ہے بلکہ اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ مالکی مذھب کے اصل مآخذ عقائدِ سلف سے کس قدر ہم آہنگ ہیں۔ شیخ الطریفی نے اس کی شرح کر کے اسے موجودہ دور کے جدید فکری و عقائدی چیلنجوں کے سامنے ایک مضبوط ڈھال بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ دونوں شخصیات اس بات پر متفق ہیں کہ دین کا اصل مدار کتاب و سنت کی اتباع اور صحابہ کے فہم کے عین مطابق چلنے پر ہے۔ ابن ابی زید کا علمی پس منظر قیروان کا وہ علمی مرکز ہے جو علومِ حدیث اور فقہ کا گہوارہ تھا، اور شیخ الطریفی کی تحقیق اسی علمی ورثے کی جدید علمی اسلوب میں ایک بہترین ترجمانی ہے۔

شیخ الطریفی نے اس شرح میں ایک خاص اسلوب اختیار کیا ہے، پہلے وہ ابن ابی زید کی عبارت نقل کرتے ہیں اور پھر اس کے ہر لفظ کی لغوی و شرعی وضاحت کرتے ہیں، مزید برآں اس کی تائید میں صحابہ، تابعین اور ائمہ کے اقوال پیش کرتے ہیں۔ ان کا استدلال اتنا مضبوط ہے کہ پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی جدید بحث کو نہیں، بلکہ قدیم صدیوں کے علمی مباحث کو پڑھ رہا ہے۔

کتاب میں انہوں نے فقہی مسائل کو عقائد کے ساتھ اس طرح جوڑا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ مالکی مذھب صرف احکام کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک خالص عقیدتی منہج ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے جو مالکی مذھب کے ساتھ ساتھ اس کے پسِ پشت کارفرما عقیدتی فکری بنیادوں کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ ”الرسالة“ کو مالکی مذھب میں ایک استنادی حیثیت حاصل ہے مگر دیکھا جائے تو اس کے ابتدائی صفحات میں مصنف نے جو ”مقدمۃ العقیدۃ“ تحریر کیا ہے وہ درحقیقت سلف کے عقائد کا ایک نچوڑ ہے۔ شیخ عبد العزیز الطریفی نے اپنی شرح ”المغربية“ میں اسی مقدمے کو بنیاد بنا کر ایک ایسی علمی عمارت تعمیر کی ہے جو بیک وقت فقہی بصیرت اور عقائد کی پختگی کا حسین امتزاج ہے۔

کتاب کا آغاز روایتی انداز میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اثبات سے ہوتا ہے۔ مصنف نے ابن ابی زید کی اس عبارت کو نہایت اہتمام سے نقل کیا ہے: أَنَّ اللَّهَ إِلهٌ وَاحِدٌ لَا إِلهَ غَيْرُهُ، وَلَا شَبِيهَ لَهُ، وَلَا نَظِيرَ لَهُ، وَلَا وَلَدَ لَهُ، وَلَا وَالِدَ لَهُ، وَلَا صَاحِبَةَ لَهُ، وَلَا شَرِيكَ لَهُ۔ شیخ الطریفی اس عبارت کی تشریح میں بتاتے ہیں کہ یہ توحید، خالصتاً سلفِ صالحین کا منہج ہے جو نفیِ تعطیل اور نفیِ تشبیہ کے درمیان اعتدال کی راہ ہے یعنی شارح نے یہ بات واضح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ان صفات کا اثبات بلا کسی کیفیت یا تمثیل کے ہے، جیسا کہ امام مالکؒ کا مشہور قول نقل کیا گیا ہے: “الاستواء معلوم، والكيف مجهول، والسؤال عنه بدعة”۔ یعنی استواء کی حقیقت معلوم ہے (جو لغوی معنی میں ہے)، مگر اس کی کیفیت کا علم اللہ کو ہے، اور اس پر بحث کرنا بدعت ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جسے کئی متکلمین تسلیم کر کے بھی تسلیم نہیں کرتے۔ خیر اسی طرح جب ہم آگے بڑھتے ہیں تو قرآن مجید کے غیر مخلوق ہونے کے مسئلے پر انتہائی سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ مثلاً: وَأَنَّ الْقُرْآنَ كَلَامُ اللَّهِ، غَيْرُ مَخْلُوقٍ، مِنْهُ بَدَأَ، وَإِلَيْهِ يَعُودُ۔۔۔ شیخ الطریفی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اہل مغرب کے ائمہ نے اس معاملے میں کبھی تذبذب کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اسی طرح انھوں نے تاریخی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ امام مالکؒ اور ان کے شاگردوں نے اس عقیدے کے دفاع میں سخت موقف اختیار کیا تھا، کیونکہ قرآن اللہ کی صفت ہے، اور صفتِ باری تعالیٰ مخلوق نہیں ہو سکتی۔ اس حصے میں شارح نے معتزلہ اور جہمیہ کے شبہات کا علمی جواب دیتے ہوئے سلف کے اس اصول کو اجاگر کیا ہے کہ “اللہ کی صفات اس کی ذات سے الگ نہیں ہو سکتیں”۔

اسی طرح کتاب کا ایک اہم حصہ ایمان کی حقیقت کو سمجھنے پر مشتمل ہے۔ ابن ابی زید کی عبارت ہے: وَأَنَّ الْإِيمَانَ قَوْلٌ بِاللِّسَانِ، وَإِخْلَاصٌ بِالْقَلْبِ، وَعَمَلٌ بِالْجَوَارِحِ، يَزِيدُ بِالطَّاعَةِ، وَيَنْقُصُ بِالْمَعْصِيَةِ۔ شارح نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تعریف ایمان کے اس جامع تصور کو پیش کرتی ہے جو مرجئہ اور خوارج دونوں کے افراط و تفریط سے پاک ہے۔ یہاں شیخ الطریفی نے عمل کو ایمان کا جزوِ لازم قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ عمل کے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے۔ انہوں نے سلف اور فقہاے مالکیہ کے باہمی اشتراک کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب تک دل کا یقین قول اور عمل کے ساتھ نہیں ملے گا، وہ ایمانِ کامل نہیں کہلائے گا۔ نیز تقدیر کے باب میں بھی ابن ابی زید کی عبارت نہایت بلیغ ہے: وَأَنَّ مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ۔۔۔ وَخَالِقُ أَعْمَالِ الْعِبَادِ كُلِّهَا۔ شارح اس مقام پر وضاحت کرتے ہیں کہ خیر اور شر کا خالق اللہ ہے، لیکن بندے کو اختیار اور ارادہ دیا گیا ہے جس پر اس کا محاسبہ ہوگا۔ شیخ الطریفی نے یہاں “قضاء و قدر” پر بحث کرتے ہوئے بتایا کہ یہ عقیدہ انسان کو توکل اور اعتماد علی اللہ سکھاتا ہے، نہ کہ اسے جبر و قنوطیت کی طرف لے جاتا ہے۔

کتاب کا آخری اہم حصہ صحابہ کرام کے بارے میں ہے۔ مصنف نے لکھا: وَأَنَّ خَيْرَ الْقُرُونِ الْقَرْنُ الَّذِينَ رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآمَنُوا بِهِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ۔ شارح اس ضمن میں بتاتے ہیں کہ صحابہ کرام کا احترام دین کا حصہ ہے۔ انہوں نے ان روایات کا رد کیا ہے جن میں صحابہ کی شان میں گستاخی کی گئی ہو۔ اس حصے میں شارح نے اہل سنت کے اس اصول کو دہرایا ہے کہ صحابہ کے مابین پیش آنے والے اختلافات پر بحث و تکرار سے گریز کرنا ہی سلف کا منہج رہا ہے۔ مختصر یہ کہ ”المغربية في شرح العقيدة القيروانية“ محض ایک شرح نہیں بلکہ سلف کے عقیدہ اور مالکی مذھب کے باہمی رشتے کو سمجھنے کی ایک بہترین کلید ہے۔ ابن ابی زید القیروانی کی جامعیت اور شیخ عبد العزیز الطریفی کی محققانہ بصیرت کا یہ حسین امتزاج قاری کو فکری اعتدال اور علمی گہرائی سے روشناس کراتا ہے۔ آج کے دور میں، جہاں عقائد کے باب میں افراط و تفریط عام ہے وہیں یہ کتاب، کتاب و سنت کے خالص منہج پر جمے رہنے کے لیے ایک بہترین علمی اور روحانی ورثہ ہے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں