ڈاکٹر خضر یسین
نبوت کی جانشینی جائز ہے اور نہ نبی کا جانشین کوئی بن سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نبوت انسان کو ذاتی جدوجہد سے نہیں ملتی اور نہ ہی انسان کے اختیار کردہ تقوی و تدین کی کسی منزل کا نام “نبوت” ہے۔ نبوت کی عطا مشیت ایزدی پر منحصر ہے۔ الله جل مجدہ جسے چاہتا ہے، اس منصب سے سرفراز فرماتا ہے۔ نبوت وہب محض ہے، رب العالمین کا بذل خالص اور فضل محص ہے۔ یہ انسانوں کا فیصلہ ہے اور نہ انسانوں کی جدوجہد اس باب میں کوئی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ نبی کی جانشینی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نبی اور نبوت کی خلافت ممکن ہے اور نہ جانشینی جائز ہے۔ خلیفۃ الرسول کی ترکیب ایک خاص مائنڈ سیٹ کی پیدا کردہ ہے۔
سنی اسلام میں نبوت کی جانشینی اجماع اور اجتہاد کو سونپی گئی ہے اور نبی کی جانشینی خلیفۃ الرسول کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ “ختم نبوت” کے بعد اللہ تعالٰی کی طرف انسان پر ایسا کچھ اب کبھی نازل نہ ہو گا جس پر ایمان لانا واجب ہو یا عمل کرنا واجب ہو۔ لیکن سنی اسلام میں اجماع و قیاس نبوت ہی کا تسلسل ہیں۔ یہاں تک کہ اجماع و اجتہاد سے منزل من اللہ احکام کی فہرست میں انسان کمی بیشی تک کر سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ سنی اسلام میں خلافة اور خلیفہ کا تصور کس عقیدے کو ظاہر کرتا ہے؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم “خاتم النبیین” آپ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ علیہ السلام کی نبوت یعنی “کتاب و سنت” خاتم الوحی ہیں۔ پھر خلافت اور خلیفہ کس کے جانشین ہیں؟ کیا یہ نبی اور نبوت کی جانشینی ظاہر کرتے ہیں؟ ابوبکر صدیق رض رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جانشین کیسے ہو سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر تو وحی خداوندی نازل ہوتی تھی۔ جن معاملات میں وحی کی راہنمائی آ جاتی تھی، اس پر عمل کیا جاتا تھا۔ باقی مسائل میں وہی عام طریقہ اختیار کیا جاتا جو قانون کی تاریخ کا معروف ترین طریقہ ہے۔ انتظامی امور کے لیے حسب ضرورت قانون سازی کی جاتی تھی۔ کیا ابوبکر صدیق رض بھی مہبط وحی تھے؟ ظاہر ہے ہرگز نہ تھے۔ پھر ابوبکر صدیق رض کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کون سی جانشینی کا اعزاز حاصل تھا؟ عمر ابن الخطاب رض ابوبکر صدیق رض کے خلیفہ تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خلیفہ تھے؟ اگر ابوبکر صدیق رض رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خلیفہ تھے اور عمر رض ابوبکر رض کے خلیفہ تھے تو بھی عمر رض رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی خلافت لیگسی legacy لے کر چل رہے تھے۔ خلافت اور خلیفہ خالی جگہ پر کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دنیوی زندگی میں ہی اللہ جل مجدہ کے نبی تھے۔ کوئی غیرنبی ان کی خالی کردہ جگہ پر کیسے بیٹھ سکتا ہے؟ سنی اسلام میں ایک اور گمراہ کن اصطلاح، خلافت علی منہاج النبوۃ ہے۔ نبوت کا منہاج کیا ہے؟ منہاج نبوت کا بنیادی اصول وحی خداوندی یا تنزیل من رب العالمین ہے۔ وہ جو فیصلہ فرما دے، وہ حرف آخر ہوتا ہے۔ ہر حال میں اس کی تعمیل واجب ہوتی ہے۔
سنی اسلام میں خاتم النبیین کا معنی نبوت یا “تنزیل من رب العالمین” کا اختتام نہیں ہے۔ اس کا مطلب بس اس قدر ہے کہ اب کوئی شخص نبوت کا دعویدار نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک منزل من اللہ احکام و اخبار کی فہرست کا تعلق ہے تو وہ انتہا کو نہیں پہنچی۔ سنی اسلام میں وقت کی ضرورت یا مقتضائے حال کے پیش نظر اس کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا جا سکتا ہے۔ خلیفہ اور خلافت سنی اسلام میں دینی مصطلحات ہیں۔ یہ انتظامی امور سے کچھ بڑھ کر ہے۔
سنی اسلام میں خلافت نبوت کی نسبتاً ہبوط گزیدہ کا ہے اور خلیفہ نبی صلی علیہ وآلہ و سلم کی ہستی کا نسبتاً کم تر درجے کا بروز ہے۔
شیعہ اسلام میں امام و امامت، نبی اور نبوت کا نسبتاً کم تر درجے کا تسلسل اور بروز ہے۔
سنی اسلام نے لفظ امام کو کسی فن کے بہترین ماہر کے لیے خاص اس لیے کیا ہے تاکہ شیعہ اسلام کے ساتھ مماثلت پیدا نہ ہونے پائے۔ دوسری طرف سنی اسلام میں تصوف کے میدان خلافت اور خلیفہ تزکیہ نفس کی تعلیم و تربیت کے ساتھ خاص سمجھا گیا ہے۔ شیعہ اسلام میں امامت اور امام الوہی منصب اور الوہی انتخاب متصور ہوتا ہے۔ جس کا مطلب ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاتم النبیین اس معنی میں نہیں ہیں کہ آپ علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی اب قیامت تک انسانیت کو کفایت کرے گی، اس کے برعکس امامت کے الوہی منصب ہونے اور امام کے الوہی انتخاب کا مطلب ہے کہ انسانیت خاتم النبیین اور ختم نبوت سے انسانوں کے الوہی منصب کے چنگل سے آزاد نہیں ہوئی۔ شیعہ اسلام کے فروعی عقائد و اعمال تو محتویات نبوت سے ادنیٰ درجے کی مناسبت بھی نہیں رکھتے، ان کا تذکرہ غیر ضروری اور وقت کا ضیاع ہے۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سنی اسلام نے شیعہ اسلام سے نظریاتی سطح پر بہت کچھ اخذ کیا ہے۔ باطنیت کی تعلیم و تربیت انسانی سماج پر بڑے گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ سیاسی تصورات جب دینی معتقدات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو اولین ترجیح نبوت کے محتویات کا تحفظ نہیں رہتا۔
میں نے جن شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ دورہ حدیث کیا تھا، ان سے جب پوچھا قرآن مجید میں اہل بیت کی ترکیب اس معنی میں استعمال نہیں ہوئی جس معنی میں حدیث میں آئی ہے تو انھوں نے لمحہ بھر کا تردد کیے بغیر فرمایا کہ قرآن مجید ازواج مطہرات کے لیے آیا ہے اور حدیث میں پنجتن پاک کے لیے استعمال ہوا ہے۔ بس دونوں ثابت ہیں۔




کمنت کیجے