ابن سینا اور اس کی فکر کے وابستگان کا کہنا ہے کہ خدا کا فاعلِ مختار ہونا نقص جبکہ علت موجبہ ہونا کمال ہے۔ اس دعوے کے جواز کے لئے ایک شبہ یہ پیدا کیا گیا کہ چونکہ خدا جواد و احسان کرنے والا ہے اور وجود عطا کرنا جود و سخا ہے لہذا لازم ہے کہ خدا ازل سے وجود بخشنے والا اور سب سے بہترین (best) صادر کرنے والا ہو۔ پس عالم اگر قدیم ہے تو خدا جود و سخا کے لئے قابل تعریف ہوگا ورنہ نہیں نیز اس کا جود و احسان معطل ہونا بھی لازم آئے گا۔
یہ محض ایک خطابی دلیل ہے جس میں کئی الجھاؤ و خلط مبحث ہیں۔
پہلی بات: یہ نظریہ موخر حوادث سے منقوض (invalidated) ہے۔ یعنی اگر زید مثلاً سن ۱۰۸۰ میں پیدا ہو اور راشد ۱۹۹۰ میں تو کیا آپ کے نزدیک راشد کے حق میں خدا کم جواد ہے؟ پس اس نظرئیے کا حاصل یہ ہے کہ ہر چیز قدیم ہو۔ اگر موخر حوادث کا ہونا خدا کے جود و سخا کے خلاف نہیں، تو حدوث عالم کیوں کر؟
دوسری بات: خدا کے قادر مطلق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا فعل خود اس کے ارادے کے سوا کسی خارجی مرجح (pre pondrant) پر موقوف نہیں، وہ چاہے تو کسی ممکن کو موجود کرے اور نہ چاہے تو نہ کرے۔ یہی اس کی شانِ کمال و غنا ہے۔ ناقدین کے مفروضے کے مطابق خدا اگر فعل کرکے مخلوق پیدا کرے تو کامل ہے اور نہ کرے تو ناقص ہے۔ گویا خدا کا کمال مخلوق کو پیدا کرنا ہے اور وہ مخلوق پیدا کرکے کمال حاصل کرتا رہتا ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ غیر کی محتاجی پر مبنی کمال اس کمال سے کم تر ہے جو غنا سے حاصل ہوتا ہے۔ پس خدا اگر سارا عالم فنا کردے وہ تب بھی اتنا ہی باکمال ہے جتنا خلق کرنے کے ساتھ ہے۔
تیسری بات: ہم اس بات کو نہیں مانتے کہ غیر اختیاری فعل اختیاری فعل کے مقابلے میں زیادہ تعریف کا مستحق ہے۔ جود وہ ہوتا ہے جس میں فاعل ترک پر بھی قادر ہو مگر پھر بھی عطا کرے، غیر اختیاری اور وجوبی صدور کو جود و احسان نہیں کہا جاتا بلکہ یا یہ طبع ہے اور یا ڈیوٹی۔ سورج سے روشنی کے اخراج کو کوئی سورج کا جود و سخا کہتا ہے؟ اگر زید کے لئے راشد کو ۱۰۰۰ روپے دینا واجب ہو، تو یہ احسان نہیں کہلاتا۔ پس غیر اختیاری صدور کا قابل تعریف ہونا ہی محل نظر ہے۔
چوتھی بات: فلاسفہ جب خدا کے لئے ارادہ و اختیار نہیں مانتے، تو اس کے بعد جود و سخا اور “سب سے بہترین کے انتخاب” کی ساری گفتگو محض خطابی و شاعرانہ باتیں ہیں۔ یہ ایسی ہی گفتگو ہے جیسے کوئی مثلاً دریائے سندھ کے بارے میں کہے کہ یہ بڑا جواد و فیاض ہے، یہ اگرچہ کسی اور طرف نکل سکتا تھا لیکن اس نے پاکستان کے لوگوں کے لئے سب سے عمدہ راستے کا انتخاب کیا وغیرہ۔ الغرض اس لفاظی کا خارج میں کوئی مصداق نہیں، جس طرح دریائے سندھ کا کوئی ارادی فعل نہیں اسی طرح ابن سینا کے واجب الوجود کا بھی کوئی ارادی فعل نہیں۔ ابن سینا اور ان کے حواری اپنی وحدت کے نظرئیے کو رد کرتے ہوئے واجب الوجود کے لئے اگرچہ علم کی بات کرتے نظر آتے ہیں لیکن اس کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس غیر اختیاری واجب الوجود کو یہ شعور ہے کہ اس سے یہ سب صادر ہورہا ہے (اگرچہ درست بات یہ ہے کہ بغیر تضاد اس کے حق میں علم ثابت کرنا بھی ابن سینا کے لئے ممکن نہیں اور تحقیقی بات یہی ہے کہ ابن سینا کا واجب الوجود ایک بے شعور ذات ہے)۔
پانچویں بات: جود و سخا وغیرہ خدا کی صفات ذاتیہ (essential attributes) نہیں بلکہ صفات فعلیہ (attributes of action) ہیں جو اس کی ازلی قدرت و ارادے سے متعلق ہیں۔ چونکہ ازلی فعل یا اثر محال ہے لہذا جود و سخا کا ازلی اثر بھی محال ہے۔ پس قدمِ عالم کے لئے جود و سخا کو حوالہ بنانا محلِ نزاع ہی کو دلیل بنا لینا ہے۔
(نوٹ: حدوث عالم سے خدا کی صفات پر تعطل لازم آنے کے شبہے پر ہم الگ سے تبصرہ کرچکے ہیں، ملاحظہ ہو تحریر: “حدوث عالم اور خدا کی صفات میں تعطل و خدا میں تغیر کا شبہ”)۔




کمنت کیجے