Home » کیا فاعلِ مختار خدا میں امکان ثابت ہوتا ہے؟ ابن سینا اور حواریوں کا ایک مغالطہ
اسلامی فکری روایت شخصیات وافکار فلسفہ

کیا فاعلِ مختار خدا میں امکان ثابت ہوتا ہے؟ ابن سینا اور حواریوں کا ایک مغالطہ

دلیلِ عقل و قرآنی کے مطابق خدا فاعل مختار ہے، یعنی اس کے لئے یہ معنی یا صفت ثابت ہے کہ وہ چاہے تو فعل کرے (یعنی اثر یا مخلوق کو وجود دے) اور چاہے تو نہ کرے، اور اس کی یہ مشئیت خود اس کے ارادے کے سوا کسی خارجی علت و داعیے کی محتاج نہیں۔ اشاعرہ و ماتریدیہ کا یہی کہنا ہے، علمائے امت کا اس پر اجماع رہا ہے۔ البتہ ابن سینا اور اس کے حواری خدا کو فاعل مختار کے بجائے علتِ موجب قرار دیتے ہیں جس سے معلول کا اثر غیر اختیاری طور پر بطریق طبع صادر ہوتا ہے، جیسے سورج سے روشنی، تاکہ ارسطو کی پیروی میں عالم کو قدیم کہنے کی سبیل نکالی جاسکے۔ اس موقف کو معقول دکھانے کے لئے یہ لوگ ایک شبہ یہ پیش کرتے ہیں کہ قدرت کا معنی اگر فعل کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہے، تو اس کا مطلب خدا میں امکان جاری کرنا ہے کیونکہ اس صورت میں اس سے فعل کا صدور کسی خارجی مرجح کا محتاج اور اس کا منتظر ہے اگر وہ مرجح قدیم ہو تو معلول قدیم ہوگا، اگر وہ حادث ہو تو یہ خدا کے فعل کو کسی حادث پر موقوف کرنا ہے اور یہ خدا میں امکان ثابت کرنا ہے اور اگر اس کے فعل کا کوئی مرجح نہیں تو یہ ممکن کا وجود بلا مرجح ماننا ہے۔

تاہم یہ ایک بوگس اعتراض ہے:

پہلی بات: امکان کا سوال حدوث سے جنم لیتا ہے، یہ اعتراض اس وقت درست ہوتا جب ہم خدا کی قدرت یا ارادے کو حادث مانتے۔ خدا کا ارادہ حادث نہیں بلکہ قدیم ہے۔ امکان کا سوال تب پیدا ہوسکتا ہے جب یہ کہا جائے کہ:

* ممکن ہے خدا باارادہ ہو یا نہ ہو (یعنی وہ ارادہ کر بھی سکتا ہے اور نہیں بھی کرسکتا)
* یا یہ کہا جائے کہ خدا کے لئے قدرت تو واجب ہے مگر ارادہ واجب نہیں،

اس کے برعکس ہم یہ کہتے ہیں کہ قدرت، علم و ارادہ یہ سب خدا کے لئے واجب نیز قدیم ہیں۔ کائنات میں جو کچھ وجود پزیر ہوتا ہے وہ خدا کے ازلی ارادے سے ہوتا ہے جو کسی خارجی علت پر موقوف نہیں بلکہ بذاتِ خود ضروری ہے، اور اس کا ضروری ہونا اس کے ارادی و اختیاری ہونے کے خلاف نہیں۔

دراصل ناقدین نے اشاعرہ و ماتریدیہ کے اس قول کو کہ “خدا چاہے تو فعل کرے اور چاہے تو نہ کرے” کو یوں سمجھ لیا ہے کہ “ممکن ہے خدا فعل کرنا چاہے اور ممکن ہے فعل نہ کرنا چاہے”، یوں ناقد نے “عدمِ مشیت” اور “مشیتِ عدم” کو خلط ملط کردیا ہے۔ جبکہ ہم یوں کہتے ہیں کہ اگر خدا کا ازلی ارادہ زید کے وجود سے متعلق ہو تو زید پیدا ہوگا، اور اگر اس کی مشیت اس سے متعلق نہ ہو تو زید پیدا نہیں ہوگا، یہ “عدمِ مشیت” کی بات ہے، نہ کہ “مشیتِ عدم”۔ اگر بات کو مزید آسان کرلیں تو یوں ہے کہ ناقد اختیار و ارادے کو خود ارادے سے متعلق کرنے کی غلط فہمی کا شکار ہے کہ “چاھے تو ارادہ کرے اور چاھے تو ارادہ نہ کرے”، یوں یہ خود ارادے کو ہی کسی خارجی چیز پر موقوف سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ ارادے کا معنی یہ ہے کہ وہ چاھے تو اثر ظاہر ہو اور نہ چاھے تو نہ ہو۔ الغرض ایسے ہی مقامات کے لئے اساتذہ کہا کرتے ہیں: فتامل، ھذا دقیق و مذلة الاقدام۔ پس ہم اس بات کو قبول ہی نہیں کرتے کہ خدا کا فاعل مختار ہونا خدا کی ذات میں امکان کے ہم معنی ہے۔ الغرض قادر وہ ہے جس سے فعل یا اثر کا صدور بطریقِ قصد ہو۔ اب اگر کوئی غیر اختیاری طریقے پر معلول کے صدور کا نام قدرت رکھے تو اسے آنکھوں میں دھول جھونکنا کہتے ہیں۔ ناقدین اپنے واجب الوجود کے غیر اختیاری صدور کو مذھبی لبادہ اوڑھانے کے لئے چپکے سے قدرت کا مطلب “صرف فعل کرنا” ہی رکھ لیتے ہیں (اگر یہاں کوئی یہ کہے کہ فاعل مختار سے خدا میں کثرت لازم آتی ہے جو امکان کو لازم ہے تو ہم اس الزام کو بھی قبول نہیں کرتے، اس پر ہم الگ سے لکھ چکے ہیں)۔

دوسری بات: اگر اس پر یہ کہا جائے کہ جب اس کا ارادہ قدیم ہے تو عالم یا اثر قدیم کیوں نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اختیاری و قصدی فعل ضرورتاً حادث ہوتا ہے، قصد کے مفہوم میں ہی عدمِ مطلوب شامل ہے اس لئے کہ قصد کا معنی اس وقت معقول ہے جب وہ چیز ابھی موجود نہ ہو جس کا قصد کیا گیا۔ اگر وہ ازل سے موجود ہو تو اس کے وجود کے قصد کا سرے سے کوئی معنی نہیں۔

تیسری بات: ارادہ از خود علت ہے، ارادے کا مطلب ہی وجہ ترجیح ہونا ہے۔ ارادے کے لیے مرجح کا سوال (کہ فلاں چیز کا ارادہ کیوں کیا) اسی طرح ہے جیسے کوئی یہ پوچھے کہ علم سے کشف حقیقت کیوں ہوتی ہے! حقائق کی تعلیل نہیں ہوتی، فافہم۔ ارادہ بذات خود مخصص ہے، اس کے لیے کسی دوسرے مخصص کا مطالبہ تسلسل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ پس “ممکن کا بلا موجد موجود ہونا” اور “اس کا ایک ایسے فاعل مختار سے وجود میں آنا جسے خود اس کے اپنے ارادے کے سوا کوئی داعیہ یا محرک فعل پر آمادہ و مجبور نہ کرے”، ان دو باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

آخر میں ہم ان ابن سینا کے پیروکاروں کے لئے ایک سوال چھوڑتے ہیں۔ میں یا آپ موجود ہیں، جبکہ دیگر بہت ساری امکانی چیزیں موجود نہیں۔ کیوں؟

* اگر آپ کہیں کہ جو وجود میں ہے اس کے سوا کسی شے کو خلق کرنے پر خدا قادر نہیں، تو یہ بات کھل کر کہیں تاکہ آپ کی حقیقت سب پر واضح ہو،

* اگر آپ کہیں کہ خدا اس کے علاوہ بھی خلق کر سکتا تھا لیکن اس نے نہیں کیا، تو آپ نے مان لیا کہ خدا کو فعل اور ترک دونوں پر اختیار ہے، اور یہی ہمارا موقف ہے۔ البتہ آپ پر یہ سوال ادھار رہتا ہے کہ بعض کے معدوم ہونے کی وجہ کیا ہے جبکہ آپ خدا کے لئے ارادہ نہیں مانتے؟

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں