Home » مال کا تصور بتانا شریعت کا کام ہے ؟
مدرسہ ڈسکورسز

مال کا تصور بتانا شریعت کا کام ہے ؟

بعض لوگ معترض ہیں کہ مال کا تصور کیا ہے، یہ بتانا شریعت کا کام نہیں۔ اس کی غلطی کو سمجھنے کے لئے چند متعلقہ امور کا علم ضروری ہے۔ دلائلِ لفظیہ (linguistic        eidence) کے لحاظ سے حقائق کی تین اقسام ہیں:

۱) حقائقِ لغویہ: وہ معنی جو کسی لفظ کی اصل لغوی وضع (stipulation) یا تشکیل سے متعین ہوتے ہیں، جیسے خاص اشیا کے لئے اردو زبان میں کرسی، مرغی، سورج، دن وغیرہ کے الفاظ۔

۲) حقائقِ عرفیہ: وہ معنی جو کسی معاشرے یا کسی علمی و فنی کمیونٹی کے عرف سے متعین ہوتے ہیں۔ کبھی یہ عرفِ عام ہوتے ہیں (جیسے پاکستان میں “گوشت” کا تصور جو عموماً بکرے، گائے، دنبے وغیرہ کے گوشت پر بولا جاتا ہے اگرچہ لغوی اعتبار سے مرغی و مچھلی کا گوشت اس میں داخل ہوسکتا ہے)، اور کبھی عرفِ خاص (جیسے ماہرین فزکس کا “جسم” یا “قوت” کا تصور، ماہرین معاشیات کا طلب (demand) کا تصور، یا فقہاء کا “حد”، “ملکیت” اور “قبضہ” کا تصور)۔ عرفِ خاص کے مفاہیم لغوی معنی یا عام عرف سے مختلف اور زیادہ مخصوص ہوتے ہیں۔

۳) شخصی اصطلاح یا انفرادی حقائق: وہ معنی جو کسی مخصوص متکلم و مصنف کے ہاں یا اس کے نظریاتی نظام کے اندر کسی لفظ کے خاص استعمال سے پیدا ہوتے ہیں، جیسے اقبال کا تصورِ “خودی”، ہیگل کا تصورِ “روح” (Geist)، شارع کا تصور صلوۃ یا تصور ایمان و کفر وغیرہ۔ متکلم جب کسی لغوی یا عرفی حقیقت میں ایسے معانی یا قیود وغیرہ شامل کردے جو اس کی وضاحت کے بغیر معلوم نہ ہوسکیں تو اصول فقہ کی اصطلاح میں اسے “مجمل” (unelaborated        term) کہتے ہیں۔

کلام میں اجمال و ابہام (vagueness) کی مختلف کیفیات ہوسکتی ہیں، ان کی عمومی حقیقت ایسے لفظ کا استعمال ہے جو بیک وقت متعدد افراد پر اس طرح صادق ہو کہ یہ تعین نہ ہوسکے کہ متکلم نے کونسا فرد مراد لیا ہے نیز حکم پر عمل کے لئے سب افراد مراد نہ لئے جاسکیں اور مزید وضاحت کی ضرورت رہے۔ اجمال کی ایک متعلقہ کیفیت یہ ہے کہ بعض اوقات کسی لفظ کے معنی واضح ہوتے ہیں لیکن متکلم اس سے کوئی مجہول استثنا کردیتا ہے جس کی وجہ سے کلام میں اجمال آجاتا ہے۔ اگر کوئی کہے:

10 – X

اگرچہ 10 کا عدد معلوم و متعین حقیقت ہے، لیکن X کے مجہول ہونے کی وجہ سے حاصلِ جواب بھی معلوم نہیں ہوگا۔ لہذا اس وقت تک یہ معاملہ مجمل رہے گا جب تک X کا تعین نہ ہوجائے۔

شرعی کلام میں اس کی مثال اللہ کا ارشاد ہے:

أُحِلَّتۡ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلۡأَنۡعَٰمِ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُم (المائدۃ: 1)

یہاں “بہیمۃ الانعام” (چوپائے جانوروں) کے حلال ہونے کا بیان ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ “سوائے ان کے جن کا ذکر تمہارے سامنے کیا جائے گا”۔ یہاں ایک مجہول چیز کا استثنی کیا گیا ہے۔ چونکہ مستثنی (exempted) افراد کا تعین مستقل بیان کا محتاج ہے، اس لیے صرف اس آیت کی بنیاد پر “حلال جانور” کا مکمل تصور متعین نہیں ہوتا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ شرع کی نظر میں حلال جانور کا تصور مجمل ہے۔ چنانچہ اگر کوئی کہے کہ فلاں جانور لغوی و عرفی طور پر جانور ہونے کے باوجود شرعاً ان جانوروں میں شامل نہیں جن کا گوشت کھانا جائز ہے، تو یہ درست ہوگا۔

اسی طرح بیع کا تصور ملاحظہ ہو:

أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرۃ: 275)
یعنی اللہ نے بیع حلال کی ہے اور ربا حرام کیا ہے

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وہ معاملہ جسے عرف میں بیع کہا جاتا ہے وہ شرعاً جائز ہے، بلکہ مراد وہ بیع ہے جسے شارع نے معتبر قرار دیا ہے۔ شرعی بیع کا مفہوم عرفی بیع پر شرعی قیود کے اضافے سے متعین ہوتا ہے:

شرعی بیع = عرفی بیع − وہ صورتیں جنہیں شارع نے خارج کیا

چنانچہ ربا، غرر، جہالت، اکلِ مال بالباطل وغیرہ وہ امور ہیں جن کی وجہ سے بعض عرفی معاملات شرعی بیع کے دائرے سے خارج ہو جاتے ہیں۔ لہذا بیع کا شرعی مفہوم شارع کے بیان کے بغیر مکمل طور پر متعین نہیں ہوتا۔ درج بالا آیت میں چونکہ ربا کا تصور مجمل ہے، لہذا بیع کا تصور بھی مجمل ہے۔

نکاح اور طلاق کے تصورات بھی محض عرفی حقائق نہیں بلکہ شرعی اصطلاحات ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی معاشرے میں کسی خاص جملے، رسم یا طریقے کو ازدواجی تعلق ختم کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہو، لیکن مفتی اس پر یہ حکم لگائے کہ “یہ طلاق یا شرعی علیحدگی نہیں ہوئی”۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ علیحدگی کے کسی عقلی معنی یا کسی عرفی واقعہ کا انکار کر رہا ہے، بلکہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ فعل شرعی طلاق کے مفہوم کے تحت داخل نہیں ہوتا۔ لہذا جس طرح “طلاق” کا شرعی مفہوم عرفی تصورِ طلاق سے زائد قیود رکھتا ہے، اسی طرح “مال” کا شرعی مفہوم بھی محض عرفی قدر و قیمت رکھنے والی ہر چیز کو شامل نہیں کرتا۔

مال کا لغوی مفہوم میلان اور رغبت کے معنی رکھتا ہے، عرف میں ہر وہ چیز مال کہلاسکتی ہے جو انسانوں کے نزدیک قابلِ قدر اور قابلِ انتفاع ہو۔ لیکن شریعت نے عرفی مال کے تصور کو بلا قید قبول نہیں کیا بلکہ اس پر بعض شرعی قیود عائد کی ہیں۔ مثلاً شراب عرفاً ایک قابلِ قدر چیز تھی جس کی خرید و فروخت ہوتی تھی اور لوگ اس کی قیمت ادا کرتے تھے، لیکن شریعت نے مسلمان کے حق میں اسے معتبر مال نہیں مانا۔ اسی طرح مثلاً خنزیر کے گوشت (یا کسی معاشرے میں مرے ہوئے انسان کا گوشت) بھی لغوی یا عرفی طور پر مال ہوسکتا ہے لیکن شرع نے اسے مال نہیں مانا۔ لہٰذا “عرف میں مال ہونا” اور “شرعاً مال ہونا” دو الگ سوالات ہیں۔ جیسے ہر عرفی بیع شرعی بیع نہیں، اسی طرح ہر عرفی مال “شرعی مالِ متقوَّم” نہیں۔

پس یہ کہنا کہ “مال کا تصور بتانا شرع کا کام نہیں، کیونکہ مال ایک عرفی یا عقلی حقیقت ہے”، یہ استدلال محلِ نظر و غیر متعلق ہے۔ شارع اگرچہ عرفی حقائق کو نظر انداز نہیں کرتا، لیکن ان میں تصرف کرکے ان کے شرعی اعتبار کی حدود متعین کرسکتا اور کرتا ہے۔ لہذا اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ کسی چیز کو مال سمجھتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ چیز ان اوصاف کی حامل ہے جنہیں شریعت نے مال یا مالِ متقوَّم کے لیے معتبر قرار دیا ہے؟ اسی طرح کرپٹو کرنسی کے بارے میں بحث یہ نہیں کہ آیا وہ عرفی طور پر قدر رکھنے والی چیز ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ شرعی معیار کے مطابق ایسی چیز ہے جس پر “مال” کا حکم جاری کیا جاسکے؟

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں