کئی دوستوں نے کرپٹو کرنسیوں سے متعلق جناب مفتی تقی عثمانی صاحب کے فتوے سے متعلق رائے دریافت کی ہے۔ گزارش ہے کہ کسی رائے کا تجزیہ اس پر منحصر ہوتا ہے کہ اس میں دلیل کی بنیاد یا مناط کیا چیز بنائی گئی ہے نیز خود اس شخص کے نظام فکر کی رو سے اس رائے کی نوعیت کیا بنتی ہے۔ مفتی صاحب نے ان کرنسیوں کے عدم جواز کے لئے ان کے “مال نہ ہونے” کو بنیاد بنایا ہے اور مال نہ ہونے کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ یہ کھاتوں میں اندراج فرضی نمبرز ہیں نہ کہ کوئی حقیقی شے۔
یہاں ہم مختلف فقہا کے ہاں مال کی تعریفات کی بحث میں نہیں جانا چاہتے۔ یہاں یہ کہنا مقصود ہے کہ کرپٹو کرنسی کو “مال کے دائرے” سے خارج کرنے کے لیے محض یہ کہنا کافی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ فرضی ڈیجیٹل نمبرز یا لیجر میں درج اندراجات (ledger entries) وغیرہ ہیں، کیونکہ یہی وصف جدید بینکنگ نظام، الیکٹرانک منی اور متعدد غیر مادی مالی حقوق میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ جنہیں فیاٹ کرنسی کہا جاتا ہے جیسے روپیہ و ڈالر وغیرہ، یہ بھی لیجر انٹریز ہی کی صورت اختیار کرچکی ہیں اور بینکوں (بشمول اسلامی) کے کھاتوں میں موجود رقوم درحقیقت ڈیجیٹل اندراجات ہی ہیں۔ ان کرنسیوں کو بالذات یا فلوس وغیرہ کے طور پر اثاثہ قبول کرلیا گیا ہے اور خود مفتی صاحب بھی اس کے قائل ہیں (بلکہ آپ کرنسیوں میں سلم کو بھی درست سمجھتے ہیں)۔ اسی طرح آج کل کاربن کریڈٹس (Carbon Credits) بھی بنیادی طور پر الیکٹرانک رجسٹری میں درج قابلِ انتقال اندراجات ہیں جن کی بالآخر مالیت کا تعلق انسانی لذت و ضرر سے متعلق ہے۔ ان کی حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی شخص یا ادارے کو ایک معین مقدار میں کاربن کے اخراج یا اس کے آف سیٹ (offset) کا قابلِ خرید و فروخت حق دیتے ہیں۔ از خود ان حقوق کی بھی کوئی مادی جسمانیت نہیں ہوتی۔ اگر محض غیر مادی اور لیجر میں درج ہونا کسی شے کی مالیت کے منافی ہوتا، تو کاربن کریڈٹس جیسے جدید مالی حقوق کی مالیت پر بھی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے کرپٹو کے عدمِ مالیت کو ثابت کرنے کے لیے اس کو ڈیجیٹل عدد وغیرہ کافی نہیں ہوسکتا۔
چنانچہ حالیہ فتوے کے تناظر میں کرپٹو کو مال نہ ماننے کے لیے بظاہر تین میں سے کسی ایک مقدمے کو ثابت کرنا ضروری نظر آتا ہے:
اولاً، یہ ثابت کیا جائے کہ مال ہونے کے لیے کسی حقیقی شے کا ہونا شرط ہے، اور کرپٹو حقیقی شے نہیں بلکہ محض فرضی یا موہوم وجود رکھتا ہے۔ لیکن اس رائے کے قائل پر “حقیقی شے” کا مفہوم متعین کرنا لازم ہے۔ اگر حقیقی سے مراد صرف جوہر یا جسم لیا جائے تو بہت سے حقوقِ مجردہ نیز سافٹ وئیر لائسنس کی مالی حیثیت بھی محلِ اشکال بن جائے گی، حالانکہ ان کی مالی حیثیت مختلف درجات میں مسلم ہے۔ آج کل ورچوئل گیمز کے ڈیجیٹل اثاثے (جیسے ورچول لینڈ، ھتھیار، سکن، قوتیں وغیرہ) حقیقی رقم سے خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ ان کی کوئی جسمانی حقیقت نہیں لیکن ان پر اختصاص، ملکیت، بازار اور قیمت سب موجود ہیں۔ بلکہ خود “حقیقی” کو “جسمانی” کے مترادف قرار دینے پر بھی سوال ہوسکتا ہے اس لئے کہ عرض بھی ایک حقیقی موجود ہے (اگرچہ وہ مستقل بالذات نہیں ہوتا بلکہ جوہر میں قائم ہوتا ہے)۔ اسی طرح جسم و اعراض سے متعلق احکام و اعتبارات بھی کلیتاً ناقابل التفات نہیں کہے جاسکتے۔ تقریباً سب مجرد حقوق کی مالی قدر بالآخر انسانی لذت و منافع (مخصوص قسم کی اعراض) سے متعلق سٹینڈرڈائزڈ اعتبارات پر مبنی ہے اور ان اعتبارات یا احکام کو قابلِ انتقال اختصاصات (exclusive transferable entitlement) مانا جاتا ہے۔ اس لیے محض جسمانیت کو حقیقت اور مالیت کا معیار قرار دینا مشکل ہوجاتا ہے۔
ثانیاً، یہ کہا جائے کہ مال کی حقیقت کے لیے کسی شخص یا ادارے کے ذمے حق (claim) ہونا ضروری ہے جبکہ کرپٹو کسی مرکزی ادارے کا ذمہ نہیں ہے۔ تاہم مال ہونے کے لئے یہ شرط عام نہیں، کیونکہ اعیانِ خارجیہ جیسے زمین، سونا اور دیگر اموال کسی کے ذمے حق نہیں ہوتے بلکہ خود مستقل اموال ہوتے ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی کرپٹو کو مثلاً کسی سافٹ وئیر کی طرح ایک مستقل ڈیجیٹل اثاثہ (digital asset) قرار دے نہ کہ کسی کے ذمے حق، تو پھر اس پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوگا کہ یہ کسی فرد یا ادارے کا ذمہ نہیں۔
ثالثاً، یہ ثابت کیا جائے کہ کرپٹو کے ساتھ کوئی حقیقی انسانی منفعت وابستہ نہیں، بلکہ اس کی تمام قدر محض قیاس آرائی اور سٹے بازی پر قائم ہے لہذا یہ کوئی اثاثہ نہیں ہوسکتے۔ لیکن اگر کرپٹو کے ساتھ کوئی حقیقی، مستقل اور قابلِ اعتداد و لحاظ انسانی منفعت وابستہ ہونا ثابت ہوجائے (جیسے value transfer، censorship resistance، borderless settlement، یا decentralized ownership وغیرہ)، تو اس کی مالیت کا انکار صرف اس بنا پر آسان نہ ہوگا کہ وہ غیر مادی یا ڈیجیٹل ہے کیونکہ یہاں اعتبار کے لئے ایک معروضی بنیاد موجود ہوگی اور نتیجتاً اس صورت میں ان کرنسیوں کو محض کوئی فرضی اعتبار کہنا مشکل ہوجائے گا۔ ممکنہ طور پر یہاں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کے نزدیک یہ مفادات لائق التفات نہیں، لیکن اس پر یہ سوال ہوگا کہ کیا یہ فوائد عرفاً یا قانوناً ایسے انسانی مصالح ہیں جن پر ایک اعتباری حق کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے یا عقلاء انہیں مالی حق کی بنیاد کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟ یہ اسی طرح ہوگا جیسے کوئی کہے کہ اس کے نزدیک مثلاً کاپی رائیٹس کی اہمیت نہیں ہے وغیرہ۔
اس کے بعد اگر بحث اس طرف جائے کہ مثلاً:
* ان کرنسیوں میں غرر و قمار ہے
* ان کی قیمت کی تعیین میں اضطراب ہے
* ان میں لوگوں کے اموال کا تحفظ نہیں
* ان کا استعمال یا ایک خاص مقدار سے زیادہ استعمال کسی ضرر عام کا باعث ہے
* ان کا استعمال قاضی یا حاکم وقت کی قضا یا حکم کے خلاف ہے وغیرہ
تو یہ اعتراضات اپنی جگہ مستقل اہمیت رکھ سکتے ہیں اور کسی صاحب علم کے نزدیک یہ ان کے عدم جواز کی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، لیکن یہ وجوہات بذاتِ خود ان کے “مال ہونے کی نفی” نہیں کرسکتیں کیونکہ یہ اعتراضات مال کے احکام سے متعلق ہیں نہ کہ اس کی ماہیت سے متعلق۔ اسی طرح کسی شے کا مال ہونا اور اس کا کرنسی ہونا، یہ دو الگ سوالات ہیں۔ الغرض زیر بحث فتوے میں کرپٹو کرنسی کو جس بنیاد پر مال سے خارج قرار دیا گیا ہے وہ مفتی صاحب کے نظام فکر میں کمزور معلوم ہوتی ہے۔
اس بحث میں ایک موقف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح کرپٹو کرنسی مال نہیں ریاستی کرنسی بھی مال نہیں بلکہ وہ صرف بوجہ ریاستی جبر قابل استعمال ہے۔ تاہم اس تکییف پر بحث کا مدار الگ طرح سے ہوگا اور ہمارا نہیں خیال کہ مفتی تقی عثمانی صاحب کے فتوے کی بنیاد اس جہت سے ہے۔ واللہ اعلم۔




کمنت کیجے