Home » بدایۃ المجتہد ونھایۃ المقتصد : اسلامی تقابلی فقہ کا ایک بے مثال اور لافانی شاہکار
عربی کتب مطالعہ کتب

بدایۃ المجتہد ونھایۃ المقتصد : اسلامی تقابلی فقہ کا ایک بے مثال اور لافانی شاہکار

حسن ابن ساقی 

دیکھا جائے تو اندلس کی سرزمین حکمت اور علم کا وہ گہوارہ رہی ہے جس نے انسانی تاریخ کو کئی عبقری دماغ دیے جنہوں نے علم کے دھارے کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ انہی نامور شخصیات میں ایک بڑا نام امام الائمہ قاضی ابنِ رشد مالکی (ابو الولید محمد بن احمد بن رشد) کا ہے، جو بیک وقت ایک عظیم فلسفی و طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ فقیہ تھے۔انہوں نے اپنے پیچھے علمِ فقہ اور قانونِ اسلامی کے میدان میں ایک ایسی لازوال تصنیف چھوڑی جس نے اسلامی فکر کو جمود کے اندھیروں سے نکال کر اجتہاد اور عقلِ سلیم کی روشنی عطا کی۔

یہ شاہکار کتاب وہی ہے جسے ” ہدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد “ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کتاب میں محض روایتی احکام نہیں، بلکہ اسلامی قانون (Islamic        Jurisprudence) اور تقابلی مطالعے (Comparative        Law) کی تاریخ کا ایک ایسا منفرد سنگِ میل ہے جس کی نظیر تیرہویں صدی سے لے کر آج تک دوبارہ پیش نہیں کی جا سکی۔ اس کتاب کا پہلا حیران کن کمال اس کے عنوان میں ہی پوشیدہ ہے۔ بظاہر یہ ایک روایتی نام لگتا ہے لیکن گہرائی میں اتریں تو معلوم پڑتا ہے کہ امام ابنِ رشد نے اس کے اندر ایک پورا فکری فلسفہ اور متضاداتی توازن چھپا رکھا ہے۔

عنوان کا پہلا ٹکڑا یعنی ” ہدایۃ المجتہد “ ( مجتہد کی ابتدا ) یہ اعلان کرتا ہے کہ یہ کتاب کسی اندھی تقلید کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے شخص کے لیے ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ اس طالبِ علم کے سفر کا نقطۂ آغاز ہے جو دلیل کی بنیاد پر پرواز کرنا چاہتا ہوں۔ عنوان کا دوسرا ٹکڑا یعنی ” نہایۃ المقتصد “ ( مقتصد کی انتہا ) یہ واضح کرتا ایک متوسط (درمیانے درجے کے) طالب علم کی آخری حد”۔ یعنی یہ کتاب ایک مقتصد کو اس کے علمی سفر کی اس آخری منزل تک پہنچا دیتی ہے جہاں کے بعد اس کی بنیادی معلومات مکمل ہو جاتی ہیں۔ یہ نام ہی اپنے اندر ایک حیرت انگیز فکری توازن رکھتا ہے کہ جہاں ایک مجتہد کی علمی پرواز شروع ہوتی ہے اور ایک مقتصد کی فکری انتہا ہوتی ہے۔ فقہی اور اجتہادی اعتبار سے یہ کتاب مسلم امہ پر ابنِ رشد کا ایک بہت بڑا احسان ہے۔

عام طور پر فقہ کی کتابیں محض اقوال، فتاویٰ اور حلال و حرام کی خشک فہرستوں پر مشتمل ہوتی ہیں جبکہ ابنِ رشد نے اس کتاب میں بہت منفرد اندازِ تحریر اپنایا۔ ان کا سب سے بڑا جرأت مندانہ کمال یہ ہے کہ انہوں نے صرف مختلف ائمہ (امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور دیگر فقہاء) کے مکاتبِ فکر اور ان کے اختلافات کو نقل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر مسئلے کے نیچے ایک جملہ لکھا: والسبب في اختلافهم ۔ یعنی اور ان کے مابین اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے۔ انہوں نے فقہی اختلافات کو لغت کے اسرار، احادیث کے درجات، اصولِ فقہ کے قواعد اور عقل کے فہم کے زاویوں سے سمجھایا۔ انہوں نے امت کو یہ سکھایا کہ ائمہ کا اختلاف کوئی ذاتی ضد یا عناد پر مبنی نہیں تھا بلکہ ان تمام کے ہاں ایک ہی چشمے سے علم کشید کرنے کے مختلف علمی طریقے تھے۔

ابنِ رشد مسلم فقہاء کے اختلافات کو اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے وہ کائنات کے ابدی قوانین پر بحث کر رہے ہوں۔ وہ مالکی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے اور اندلس کے قاضی ہونے کے باوجود کسی ایک مسلک کی وکالت نہیں کرتے بلکہ بالکل غیر جانبدار، منصف اور جج کی طرح تمام دلائل کو عقل اور نقل کے ترازو میں تولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب مسلکی حدود سے بالاتر ہو کر پوری امت کے لیے ایک متفقہ نصاب ثابت ہوئی ہے۔ کتاب کا فنی اور منہاجی (Methodological) پہلو ابنِ رشد کی فلسفیانہ جلالتِ علمی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جہاں وہ ایک متبحر فقیہ تھے، وہیں وہ ارسطو کے سب سے بڑے شارح اور عظیم فلسفی بھی تھے۔ انہوں نے اپنی اس فلسفیانہ صلاحیت کو فقہ کی تدوین میں اس طرح استعمال کیا کہ فقہ کو جذباتی یا محض روایتی پیرائے سے نکال کر خالص (لوجیکل) اصولوں پر استوار کر دیا۔ ان کا قائم کردہ خاکہ اس قدر مضبوط ہے کہ وہ پہلے مسئلے کی علمی تعریف کرتے ہیں پھر اس کے عقلی امکانات کا جائزہ لیتے ہیں، اس کے بعد نقلی دلائل (قرآن و سنت اور آثار) لاتے ہیں اور آخر میں ایک محاکمہ پیش کرتے ہیں۔

اس دور میں جب مسلم دنیا فکری جمود کا شکار ہو رہی تھی اور تقلیدِ جامد کو ہی دین سمجھا جانے لگا تھا تب امام ابنِ رشد نے اس کتاب کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اسلامی قانون کوئی جامد اور مردہ چیز نہیں ہے بلکہ ایک بہتا ہوا متحرک دریا ہے جس میں ہر دور کے نئے اور جدید مسائل کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ ادبی اور لسانی لحاظ سے بھی اگر دیکھا جائے تو ’ہدایۃ المجتہد‘ ایک منفرد اور مدوجزر سے پاک اسلوبِ بیاں کی حامل ہے۔ فقہ کی عمومی زبان اصطلاحات کی کثرت کی وجہ سے بوجھل اور خشک ہوتی ہے، مگر امام صاحب کا ادبی اسلوب اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان کی تحریر میں ایک فلسفیانہ فصاحت (Philosophical        Eloquence) پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ان کا جملہ مختصر، نپا تلا، جامع اور اثر انگیز ہوتا ہے۔ وہ طویل لفاظی اور سستی جذباتیت سے کوسوں دور نظر آتے ہیں ۔ تحریر کا وقار اور دبدبہ پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ اسلوب کا سب سے خوبصورت ادبی حسن یہ ہے کہ جب ابنِ رشد اپنے سخت ترین علمی مخالف کا مؤقف بھی لکھتے ہیں، تو اتنی دیانت داری، متانت اور خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو گمان ہوتا ہے کہ شاید ابنِ رشد خود اسی نظرئیے کے حامی ہوں۔ مخالف کے علمی مؤقف کے لیے ایسا صوتی و معنوی احترام اور ادبی دیانت داری اسلام کی تاریخ کے بہت کم مصنفین کے حصے میں آئی ہے۔ یہ کتاب آج کے دور کے بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے طلبہ و اساتذہ کے لیے ایک ایسی روشن پگڈنڈی ہے جو اندھی تقلید کی تاریکی سے نکال کر بصیرت، رواداری اور اجتہاد کے اجالے کی طرف لے جاتی ہے۔ قرطبہ کے اس عظیم قاضی نے اپنے قلم سے جو نقشِ لا فانی چھوڑا ہے وہ یقیناً رہتی دنیا تک فہمِ انسانی اور فکرِ اسلامی کو جلا بخشتا رہے گا۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں