Home » غیب اور شہود یا موضوع اور معروض؟ اعتذار و التماس
کلام

غیب اور شہود یا موضوع اور معروض؟ اعتذار و التماس

میں ذاتی طور پر نبوت اور وحی پر کوئی ”علمی“ گفتگو کرنے سے حد درجہ احتیاط برتتا ہوں کیونکہ میں وحی اور جوامع الکلم کے آ جانے کے بعد علم و فکر کو ہدایت کے حوالے سے قطعی غیر ضروری اور غیراہم سمجھتا ہوں۔ یہ صرف تاریخ کا جبر ہے جس کی وجہ سے علم و فکر کی گفتگو کا امکان اور گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ایک تناؤ ہماری علمی روایت میں آغاز ہی سے ہمیشہ موجود رہا اور اب تک چلا آتا ہے اور جو صدرِ اول کے کلامی مباحث میں کھل کر سامنے آ گیا تھا۔ بعدازاں، اساطینِ امت کے طرزِ عمل سے اس امر کا ایک اہم پہلو سامنے آیا کہ انھوں نے علم کو دریافت، تفہیم یا تعبیر بنانے کی بجائے اسے خارج از تہذیب پیدا ہونے والے علمی اور فکری تحدیوں کے سامنے مزاحمت اور دفاع کا ایک نہایت ثمرآور ذریعہ بنا دیا۔ اسلامی علمی روایت کے مستحکم رہنے کی ایک بڑی وجہ ہدایت اور علم کے امتیازات کا صراحت کے ساتھ باقی رہنا اور علوم کو ان کی مضبوط معقولاتی بنیادوں پر قائم رکھنا تھا۔ ہماری حالیہ تاریخ سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علم میں روایتی استحکام کے خاتمے اور علم و فکر میں بنیادی غلطی آخرکار ایمانیات پر اثرانداز ہونے کا لزوم رکھتی ہے۔ جس طرح عمل کی غلطی سے تقویٰ کے مطالبات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے اسی طرح عقل کی غلطی سے ایمانیات کے مطالبات غارت ہو جاتے ہیں۔ تحریک مجاہدین کے علم و عمل، اور بعدازاں آقائے سرسید کے ”علوم“ نے مسلم معاشرے میں ایمانیات اور مذہبی عمل کو جس طرح متاثر اور تبدیل کیا ہے، اور وہ ہمارے موجودہ تہذیبی بحران کا جس طرح باعث بنے ہیں، وہ اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ قادیانی کذاب کو اولاً تو ”متکلم اسلام“ ہی سمجھا جاتا رہا یہاں تک کہ اپنی بنیادی علمی غلطیوں کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے عقائد و ایمان کا نقب زن بن کر سامنے آیا، اور جو خاک اس کے علم کے خمیر میں تھی وہ گرد بن کر اڑی اور ہماری تہذیب کی پوری فضا کو آلودہ کر دیا۔
گزارش ہے کہ جدید علوم نے ماقبل جدیدیت معاشروں میں قائم انسانی زندگی اور کائنات کو دیکھنے کے غیب و شہود کے روایتی تناظر کو ختم کر کے شہود کے اندر موضوع و معروض کا تناظر قائم کیا ہے۔ موضوع اور معروض کا جدید تناظر اپنے ہر دو پہلوؤں میں شہودی اور مکمل طور پر humanist ہے، اس لیے اس میں موضوعی اور معروضی ہونے کی کوئی معنویت ہی باقی نہیں رہی کیونکہ اس تناظر میں علم بھی مکمل طور پر ”مادی“ ہو کر رہ جاتا ہے، اور جو نتیجے کے طور پر نہیں ہے بلکہ ماقبل ارادی فیصلے کا ثمر ہوتا ہے۔ شہودی موضوع اور معروض دونوں میں غیب کوئی حوالہ ہی نہیں ہے۔ لہٰذا، موضوع اور معروض کے جدید علمی تناظر میں مذہبی ہونے یا غیرمذہبی ہونے، یا روحانی ہونے یا دہریہ ہونے کی بھی کوئی معنویت باقی نہیں رہتی۔ یہ بات سمجھنے کے لیے زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ہے کہ paganism یا animism یا روایتی اجرامی مذاہب بھی غیب و شہود کے اس تناظر کے بغیر سامنے نہیں آ سکتے تھے۔ انسانیت کا انسان، دنیا اور کائنات کو دیکھنے کا بنیادی تناظر ہمیشہ سے غیب و شہود ہی کا رہا ہے لیکن جدیدیت نے غیب و شہود کے تناظر کو ”توہم پرستی“ قرار دیتے ہوئے اس کی جگہ موضوع اور معروض کا تناظر قائم کر دیا اور انسانی ذہن و عمل کو مکمل طور پر طبائع اور مادیات پر استوار کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا۔ انسان کا ہبوط غیب و شہود کے فطری تناظر میں ہوا تھا۔ جدیدیت ہبوط ثانی اس لیے ہے کہ اس نے اس نے غیب و شہود کے فطری تناظر کو ختم کر کے اس کی جگہ سیاسی طاقت کے جبر سے ایک مکمل خود ساختہ موضوع و معروض کا تناظر بالفعل قائم کر دیا ہے۔
غیب و شہود مذہب اور وحی و تنزیل کا تناظر ہے۔ لیکن انسان کے احوال و حالات ہستی ایسے ہیں کہ علوم، ادب اور عرفان کو دیکھنے سمجھنے کے تمام اسالیب شہودی موضوع و معروض کے تناظر میں رہ کر ہی بنائے جا سکتے ہیں، اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ موضوع اور معروض علم کا تناظر ہے، شعور کے کام کرنے کا تناظر ہے۔ شعور میں بنیادی ترین چیز ادراک ہے بھلے وہ حسی ہو، تجربی ہو یا مکشوفاتی۔ شعور اپنے ادراک کے اظہار اور ترسیل کے وسائل بھی خود بناتا ہے۔ ادراک، جن مدرکات سے متعلق ہوتا ہے وہ وجود ہے اور ادراک ہمیشہ وجود سے متعلق اور اس کے تابع ہوتا ہے۔ انواعِ ادراک مراتب وجود سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہر ادراک حسی یا نفسی یا انفسی ہے اور اس کے منشأت قوائے انسانیہ ہیں۔اس لیے ہر نوع کے ادراک کو صرف موضوع و معروض کے تناظر میں ہی زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔
وحی کا تناظر موضوع اور معروض کا نہیں ہے کیونکہ وحی کوئی حسی ادراک ہے، نہ تجربی ادراک ہے اور نہ مکشوفاتی ادراک۔ وحی تنزیل ہے اور محلِ تنزیل نبی علیہ الصلٰوۃ و السلام کا قلب مبارک ہے۔ وحی، تنزیل ہے اور غیب و شہود کے تناظر سے باہر اسے تنزیل کہنا ممکن نہیں ہے، اور اس پر موضوع اور معروض کی category کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنزیل موضوع اور معروض سے اولیٰ (prior) ہے اور ان سے بیک آن مخاطب اور ان پر بیک آن حَکم ہے۔ تنزیل چونکہ زبان میں ہے اور زبان بیک آن معروضی بھی ہے اور موضوعی بھی اس لیے لمحۂ مخاطَبت میں، تنزیل پر موضوع اور معروض کا امتیاز وارد ہی نہیں کیا جا سکتا۔ انسان جو بھی زبان لکھے یا بولے گا اس پر یا موضوع غالب ہو گا جیسے شاعری، یا معروض غالب ہو گا جیسے سائنس۔ انسان ایسی کوئی زبان لکھ بول ہی نہیں سکتا جو موضوع اور معروض سے prior ہو، اور دونوں پر بیک آن وارد بھی ہو، حَکم بھی ہو اور ان سے مخاطب بھی ہو۔ زبان شعور ہے اور نہ وجود ہے بلکہ دونوں کا برزخ ہے اور جہاں سے شعور و وجود کی دوری اور قرب یکساں ہیں۔ تنزیل بصورت کلام الہی زبان کے برزخ میں مثلاً ایک ”واقعۂ تجلی“ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جو موضوعی ہے نہ معروضی ہے، محض غیب سے تنزیل ہے۔ وحی بیک آن انفسی اور آفاقی ہے اور بطورِ تنزیل، غیب سے شہود پر ہے۔ یہاں زبان کی تحدیدات کی وجہ سے میں نے ”واقعہ“ کا لفظ برتا ہے، اور تحدید یہ ہے کہ ”واقعہ“ صرف آفاقی ہوتا ہے، انفسی نہیں ہوتا، اور ”تجلی“ انفسی ہوتی ہے آفاقی نہیں ہوتی۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ تنزیل بیک آن تجلی اور جلوہ ہے، یعنی کلام الہی انفس کے لیے تجلی اور آفاق کے لیے جلوہ ہے۔ یہ ”واقعۂ تجلی“ انفس و آفاق کے لیے بالکل ایک جیسا ہے۔ قرآن مجید نے اپنے منکروں کو جو چیلنج دیا ہے وہ آفاقی جہت سے ہے۔
میں اتنی گزارش پر بھی خود کو بمشکل آمادہ کر پایا تاکہ وہ لوگ جو عقلی علوم اور مابعدالطبیعات میں خلط کرتے ہیں، عرفان کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے تصوف پر طعن کرتے ہیں اور کلامِ الہی پر جدید ہرمینیاتی گولے برساتے ہیں ان کی خدمت میں ایک مختصر گزارش رکھ سکوں۔ میں اپنی گزارش میں اطناب کی طرف مائل ہوا ہی تھا کہ مجھے یہ شعر یاد آ گیا:
ہزار بار بشویم دہن بہ مشک و گلاب
ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبیست
اور پھر غالب کی بات یاد آ گئی:
غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است
۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ رَسُوْلِکَ وَ صَلِّ عَلٰی الْمُوْمِنِیْنَ وَ الْمُوْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَات

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں