برصغیر میں گزشتہ دو سو سال کی اصل علمی بحث ہی اسلامی اور غیراسلامی کی ہے۔ اس بحث کے بنیادی علمی وسائل کا تعلق استناد اور تعبیر سے ہے اور عقلی وسائل کا اس سے اب تک کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ تکفیر عام کا مسئلہ بھی اس بحث کے نتائج کے طور پر سامنے آیا تھا کیونکہ اس میں مسلمان کے اسلامی اور غیراسلامی ہونے کا سوال بھی کھڑا ہو گیا تھا۔ دو قومی تھیوری (theory) اصل میں کوئی نظریہ (ideology) نہیں تھی، برصغیر میں مسلمانوں کے تاریخی تجربے کا بیان تھا جسے جدید سیاست میں شناخت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سامنے لایا گیا تھا۔ لیکن ہمارے مذہبی علوم میں نظریہ سازی کا اس قدر غلبہ تھا کہ مولانا مودودی نے اسے بھی آخر الامر ایک نظریہ (ideology) ہی بنا دیا۔ نظریہ، مذہب کی علمی توسیع، توضیح وغیرہ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی، بلکہ اس کی replacement ہوتی ہے۔ نظریے کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا سوال ایسا ہی ہے جیسے کہ یہ پوچھا جائے کہ کیا بھینس یا ٹرک اسلامی یا غیراسلامی ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ کوئی زبردستی انھیں اسلامی بنا لے تو آدمی کیا کر سکتا ہے لیکن ان چیزوں کا اسلامی غیر اسلامی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
نظریہ (ideology) غیرمذہبی آدمی کا مسئلہ ہے۔ کوئی آدمی اگر خود کو حامل ہدایت سمجھتا ہے تو نظریہ اس کی کوئی ضرورت پوری نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ اپنے مذہب سے جان چھڑانا چاہتا ہے تو وہ یہ کام نظریے کی آڑ میں سرانجام دیتا ہے۔ نظریہ بالعموم دو محلات پر سامنے آتا ہے: نیچر اور تاریخ میں منشأت (origins) کا مسئلہ، اور تاریخ میں اجتماعی عمل کی اساس کا مسئلہ۔ مسلم تناظر میں، منشأت کے روبرو بننے والا نظریہ ایمان کو ختم کر کے اس کی جگہ لے لیتا ہے اور تاریخ میں اجتماعی (سیاسی) عمل کی اساس کا نظریہ شریعت کو ختم کر کے اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ مثلاً حیاتِ ارضی کے منشأ و منبع کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نظریۂ ارتقا سامنے آیا تھا، اور جدید انسان کے لیے اس کی حیثیت ایمانیات کی ہے۔ جبکہ اشتراکیت، فسطائیت اور نیولبرلزم کے سیاسی نظریات معاشرے کےاجتماعی عمل کی اساس فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے تمام نظریات وجودی (ontological ) ہوتے ہیں، عقلی اور تعبیری نہیں ہوتے۔ لیکن جہاں تک نیچر اور تاریخ کے ”مظاہر“ کا تعلق ہے، ان کے بارے میں بنائے ہوئے نظریات وجودی نہیں ہوتے بلکہ عقلی اور ہرمینیاتی ہوتے ہیں، اور ہر آدمی کی طرح مذہبی آدمی کو بھی ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جیسے دو قومی نظریہ (theory) ہے جو تاریخ کے ایک خاص لمحے میں مسلم سیاسی شناخت کو ہمارے تاریخی تجربے میں گراؤنڈ کرتی ہے۔ یہ ایک بیان تو ہے، لیکن کوئی مذہبی تعبیر یا نظریہ (ideology) وغیرہ نہیں ہے۔
ہماری علمی روایت میں کارفرما تہذیبی شعور کے انہدام کی وجہ سے ہم نے جو نظریہ سازی کی ہے وہ ساری کی ساری ک.فا.ر کی ریس میں سامنے آئی ہے۔ اس میں خیریت یہ ہوئی کہ ہمارے ہاں کوئی ایسا نظریہ سامنے نہیں آیا جو نیچر یا تاریخ میں منشأت و منابع سے تعرض کرتا ہو کیونکہ اس کی ایمانی over tones بہت ہی زیادہ واضح ہیں۔ ہمارے سیاسی ملاؤں میں اتنی استعداد تو تھی نہیں کہ وہ نیچر یا تاریخ کو موضوع بنا کر اجتماعی (سیاسی) عمل کا کوئی نظریہ سامنے لاتے کیونکہ تاریخ اپنے تمام تر مؤثرات و حرکیات میں ہمارے سیاسی ملاؤں کے ادراک و تخیل میں غیر حاضر چلی آتی ہے۔ انھوں نے اپنے عقلی اور فکری افلاس میں دین کو خام مال سمجھتے ہوئے اس میں سے نظریہ سازی کے اجزا فراہم کیے ہیں، جیسے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے ہاں امامت کا سیاسی نظریہ، مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا مودودی کا نظریۂ انقلاب، اور مولانا ابوالکلام آزاد کا حکومت الہیہ کا نظریہ، (جسے بعد میں انھوں نے ترک کر دیا) اور مولانا حسین احمد مدنی کا متحدہ قومیت کا نظریہ۔ مولانا ڈاکٹر اسرار احمد کے ہاں تو اسلامی انقلاب کی تفصیلات طلسمات کا رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ اشتراکیت، فسطائیت اور نیولبرلزم وغیرہ جیسے سیاسی نظریات سیاسی طاقت کی تشکیل و جواز، معیشت اور معاشرے کی ساخت، اور ایک واضح تصورِ انسان رکھتے ہیں۔ ہمارے سیاسی ملاؤں نے جو بھی سیاسی نظریے بنائے، وہ انھوں نے ہمیشہ اپنی ہی مسلم آبادی کی اکثریت کے خلاف اپنے سیاسی عمل کو مذہبی جواز دینے کے لیے بنائے گئے۔ ہمارے سیاسی ملاؤں کے اجتماعی نظریات میں تاریخ اور مسلم معاشرہ بنیاد ہی میں خارج ہوتے ہیں، اور مذہب سے ان نظریات کی نسبتیں مکمل طور پر مضطرب ہوتی ہیں۔
مذہب کو نظریے کا خام مال بنانا اصل میں مذہب کی سیکولرائزیشن کا پہلا قدم ہوتا ہے، اور مذہبی سیاسی نظریات پر سیاسی عمل کو تشکیل دینا معاشرے کی سیکولرائزیشن کا عملی آغاز ہوتا ہے۔ مذہبی سیاسی نظریہ، انسان کے مذہبی رہنے کے وسائل و امکانات کا خاتمہ کر دیتا ہے۔




کمنت کیجے