وجودی صوفی فکر میں اعیان ثابتہ کا نظریہ معتزلہ کے معدوم شے کی ایک صورت ہے۔ معتزلہ وجود و ماھیت میں دوئی کے قائل تھے اور ان کے نزدیک ان دونوں کے مابین ثبوت نام کا واسطہ ہے جسے وہ “لاموجود و لامعدوم” کہتے تھے۔ اس ثبوتی حال کی ماھیات کو وہ “معدوم شے” کہا کرتے تھے (یہ نظریہ انہوں نے کیوں اپنایا، اس پر ہم الگ سے لکھ چکے ہیں، نیز یہ نظریہ اگرچہ افلاطون کے عالم مثال سے کچھ ملتا ہو لیکن معدوم شے عالم مثال نہیں)۔ ان کے مطابق جوہریت و عرضیت وغیرہ ماھیات بطور حقائق ازل سے ثابت ہیں، خدا ان ثابت ماہیات کو اپنے اختیار سے وجود دیتا ہے جس کے سبب وہ خارجی عالم میں موجود ہوتی ہیں۔ ان معتزلہ کے نزدیک یہ ازلی حقائق مستقل بالذات ہیں، یعنی ان کا ثبوت خدا پر موقوف نہیں البتہ ان کا خارجی وجود خدا کے ارادی فعل پر موقوف ہے۔ معدوم شے کے نظرئیے کی بنا پر معتزلہ پر قدم عالم کا نظریہ رکھنے کا الزام لگا، تاہم چونکہ وہ انہیں موجود نہیں بلکہ ثابت کہتے تھے نیز ان کے نزدیک یہ خارجی موجود عالم حادث ہے، لہذا ان کے بارے میں یہ الزامی معاملہ کسی درجے میں لوازم کا رہا اور شاید اسی وجہ سے ان کی تکفیر بھی بہت کم ہوئی۔
ابن سینا نے بھی معتزلہ کے وجود و ماہیت کی دوئی کے نظریے کو قبول کیا۔ تاہم وہ ماہیات کے خدا سے مستقل ہونے کے قول سے راضی نہ تھے، اسی طرح وہ وجود و عدم کے مابین ثبوت کے واسطے سے بھی مطمئن نہ تھے۔ البتہ انہیں بھی یہ سوال درپیش تھا کہ وجود خارجی سے منفک ماہیات کی انٹالوجیکل حیثیت کیا ہوگی؟ ان حضرات نے بوجوہ “وجود ذہنی” کا نظریہ متعارف کروایا گیا، یوں معتزلہ کی “وجود، ثبوت و عدم” کی آنٹالوجی کو وہ “وجود خارجی، وجود ذہنی و عدم” میں تبدیل کرتے ہیں۔ معتزلہ کے برعکس ثابت ماہیات کے استقلال کے نظرئیے کو ترک کرکے وہ پورے عالم کو ایک علت موجبہ کے تحت رکھتے ہیں۔ معتزلہ کے تصور میں ماہیات کے جو قدم ثبوت کے درجے میں تھا، فارابی و ابن سینا کے ہاں وہ عالم کے خارجی وجود تک پہنچ گیا۔ یوں خدا کے فاعل مختار و خالق ہونے کا مفہوم ناپید ہوگیا (الا یہ کہ اختیار کے معنی کی ایسی تاویل کی جائے جس سے بے اختیاری بھی اختیار بن جائے)۔ نتیجتاً ان افکار کے حاملین کی تکفیر ہوئی۔ اس کے برعکس معتزلہ کے ہاں خدا کے ارادی فعل کا مفہوم پایا جاتا تھا۔
شیخ ابن عربی و مابعد وجودی روایت نے ان دونوں سے کچھ مختلف نظریہ اپنایا۔ یہ حضرات بھی وجود و ماہیت کی دوئی کے مفروضے کو قبول کرتے ہوئے لاموجود و لامعدوم شے یا ماہیات کا اقرار کرتے ہیں۔ ان ماہیات کو یہ “اعیان ثابتہ” کہتے ہیں جو قدیم ہیں۔ اگرچہ اس فکر سے وابستہ بعض حضرات نے یہ کہا کہ یہ اعیان خدا کے اختیار سے ہیں، تاہم اس نظریے کے اصولی تقاضوں کی رو سے ہم آہنگ بات یہی ہے کہ یہ اعیان یا ماہیات خدا کی ذات و صفات کا لزومی تقاضا ہیں نہ کہ اختیاری (اسی طرح جیسے ابن سینا کے نزدیک یہ خارجی عالم خدا کی طبع کا بطور علت تامہ نتیجہ ہے)۔ یوں یہ حضرات معتزلہ کی جانب سے ان ماسوا اللہ ماہیات کے مستقل ہونے کے قول کی نفی کرتے ہوئے انہیں خدا کے تابع رکھتے ہیں جیسے ابن سینا پورے عالم کو رکھتے ہیں۔ معتزلہ کے نظرئیے کی طرح وجودیہ کے نزدیک بھی ان ثابت اعیان کو وجود بخشنا خدا کا ارادی فعل ہے۔ نیز ابن سینا کے برعکس یہ حضرات عالم کو خارجی مفہوم میں قدیم وجود نہیں کہتے، کم از کم شیخ ابن عربی کی حد تک یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ اسے حادث کہتے ہیں (البتہ یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ وجودیہ میں کچھ حضرات خارجی طور پر بھی عالم کو قدیم کہتے ہوں کیونکہ یہ ان کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے)۔
معتزلہ و ابن سینا کی طرح ان حضرات کو بھی یہ سوال درپیش تھا کہ خارجی موجودات سے الگ ان اعیان ثابتہ کا محل کیا قرار دیا جائے؟ بعض نے معتزلہ کے لاموجود و لامعدوم قول کی نفی کرتے ہوئے انہیں “وجود علمی یا عقلی” یا “خدا کے علم میں موجود یا ثابت” کہا جیسا کہ شیخ داؤد قیصری نے صراحت کی ہے۔ یہاں پہنچ کر اگرچہ “وجود خارجی، ثبوت و عدم” کی آنٹالوجی “وجود خارجی، وجود علمی و عدم” میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے، لیکن یہ “علم میں موجود” وجود ذہنی یا لاموجود و لامعدوم مرتبہ ثبوت سے مختلف کیسے ہے، اس بابت کوئی وضاحت نہیں ملتی۔ اسی ابہام کو بعض لوگ وجودی فکر سے معتزلہ پر لگنے والے قدم عالم ماننے کا الزام ہٹانے کے لئے یوں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اعیان گویا محض کوئی علمی (epistemic) چیز ہیں نہ کہ وجودی (ontological)۔ تاہم ایسی باتیں خلط مبحث ہیں اس لئے کہ وجودی فکر کے معتبر شارحین اعیان پر باقاعدہ متعدد طرح کے وجودی احکام مرتب کرتے ہیں (جیسے کہ استعداد ہونا، فیض اقدس کا نتیجہ ہونا، اسمائے الہیہ کی صورتیں ہونا، اسمائے فعلیہ کے لئے بدن ہونا، فیض مقدس قبول کرنا، وجود خارجی کے لئے روح ہونا وغیرہ)۔ اس بنا پر وجود علمی کو محض epistemic امر قرار دے کر اعیان ثابتہ کی ontological حیثیت سے صرف نظر کرنا درست نہیں، فکری ساخت کے اعتبار سے یہ معتزلہ کے معدوم شے اور ابن سینا کے وجود ذہنی سے گہری مشابہت رکھتا ہے اگرچہ نام کچھ اور رکھا گیا ہے۔
وجود و ماہیت کی اس دوئی کو رد کرکے انہیں ایک کہنے والی متبادل علمی روایت ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ کی رہی ہے۔ اس روایت کے مطابق معدوم شے نہیں۔




کمنت کیجے