جن غیریورپی اقوام نے گزشتہ دو سو سال میں جدیدیت کے وسائل کو اختیار کر کے ترقی اور طاقت حاصل کی ہے ان کے اہل علم و معاملہ بہت جلد اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ جدیدیت ایک پورا پیکج ہے اور اس میں ترک و اختیار کا کوئی پہلو شامل نہیں ہے۔ مغرب میں اہل فکر و اختیار کا بھی عین یہی موقف تھا کیونکہ انھوں نے جدیدیت کو ایک پورے پیکج کے طور پر ہی کلیسا و مذہب کے خلاف صف آرا کیا تھا۔ مغرب کے اہل علم و معاملہ اپنی مذہبی علمی روایت اور کلیسا کی فرمانروائی کے خلاف ہی خود کو منظم کر رہے تھے۔ جاپان، چین اور جنوبی کوریا وغیرہ جس روایت و تاریخ کے وارث تھے اس میں ایسی کوئی چیز شاید نہ تھی جو انھیں اس سے مختلف نتیجے پر پہنچاتی، اور انھوں نے جدیدیت کو تاریخ کی ایک ایسی واقعاتی حقیقت (fiat a ccompli) اور فکر کے طور پر قبول کر لیا جس کو وہ undo نہیں کر سکتے تھے اور نہ اپنے روایتی وسائل سے اس کا سامنا کر سکتے تھے۔ ان معاشروں نے جدیدیت کی پیداکردہ تاریخی condition کو اس کے علمی اور تہذیبی choices کے ساتھ قبول کیا اور تھوڑے بہت فرق کے ساتھ وہ جدید معاشرے اور ریاستیں قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے جو تہذیبی طور پر مغرب کی توسیعات ہی تھیں لیکن ان معاشروں کی بقا کے لیے ضروری تھیں۔
مسلمانوں کے ہاں جدیدیت کے روبرو ردِ عمل بہت کچھ مختلف رہا ہے۔ اہلِ اختیار کا پہلا اور وقتی ردِ عمل شکست پر منتج ہونے والی سیاسی مزاحمت تھی، اور یہ ردِ عمل عین فطری بھی تھا۔ تہذیبی مستجاب (response) کی ذمہ داری علما کی تھی، اور اس حوالے سے نپولین کے ساتھ ازہری علما کے تعامل کا مطالعہ بہت دلچسپ ہے، جس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ امت مسلمہ پر کیسے دن آنے والے ہیں۔ مجموعی طور پر علما میں دو رویے غالب نظر آتے ہیں۔ ایک یہ کہ روایت سے متحجر تمسک کو ”باقی“ رکھا جائے۔ یہ حالات سے آنکھیں بند کر لینے والا رویہ تھا اور اس سے دینی روایت اور مسلم تاریخ ہمارے شعور اور عمل سے بتدریج غیرمتعلق ہوتے چلے گئے۔ دوسرا بڑا اور غالب رویہ دینی روایت اور مسلم تاریخ کو ترک کر دینے کا تھا تاکہ جدیدیت کا عکس لیے ہوئے دین کی ایسی تعبیرات سامنے لائی جا سکیں جو جدیدیت سے ہم آہنگ نظر آئیں، اور اس طرح مذہب کو ”بچانے“ کی کوشش کی جائے۔ اس اپروچ سے جدیدیت، اس کے ہمہ قسم ادارے اور سائنسی علوم بتدریج ”اسلامی“ ہوتے چلے گئے اور مسلم معاشروں میں دینی معاشرت بھی بتدریج ختم ہو گئی۔ لیکن سماجی اور ذاتی سطح پر داڑھی کے سائز، پائنچے کی بلندی، کالر اور بین کی ترجیحات، پردے کے تقاضے، وغیرہ جیسے مسائل جن کا فقہ سے بھی کچھ لینا دینا نہیں تھا اور وہ ہمارے آداب سے متعلق تھے، اہمیت اختیار کرتے چلے گئے۔ ہمارے علما کی دینی اور تہذیبی بصیرت کا یہ عالم رہا ہے کہ بینکنگ تو ”اسلامی“ ہو گئی اور جمہوریت بیچاری غیراسلامی ہی رہی کیونکہ استعمار کے زیر سایہ سیاسی طاقت کے جو نئے نظام قائم ہوئے تھے ان میں معاشی جبر اور غلبے کے ہر نظام کو مذہبی جواز دینا ضروری تھا جبکہ ایسے تمام جدید سیاسی وسائل جن سے عوامی آرزوؤں کا حصول ممکن تھا مذہبی جواز سے محروم رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بینکنگ کا اسلامی ہو جانا اتنی بڑی ”دریافت“ تھی اور اس سے جڑے ہوئے مذہبی افکار اتنی بڑی ”ایجاد“ تھے کہ جدیدیت اور مذہب میں اب کوئی تناقضات ہی باقی نہیں رہے تھے اور یہ ”دریافتیں“ اور ”ایجادات“ ہی اب مذہب کی جگہ لے چکی ہیں۔ لیکن حیرت ہوتی ہے کہ اب بھی ”اسلامی“ اور ”غیر اسلامی“ کا جھگڑا چلا آتا ہے، اور اس کا باقی رہنا محض سیاسی ضروریات کے تابع ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے سود کے بارے میں اللہ کا جو حکم ہے وہ بہت ہی دوٹوک ہے جبکہ جمہوریت پر اس طرح کا کوئی شرعی حکم موجود نہیں ہے۔ اگر جدید بینکاری نظام ”اسلامی“ ہو سکتا ہے اور جمہوریت ”غیراسلامی“ ہو سکتی ہے تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں ایک دلچسپ صورت حال سامنے آئی اور ہمارے بہت سے اہل علم کو اچانک پتہ چلا کہ جدیدیت نام کی کوئی شے ہوتی ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا تفہیم مغرب کے زیر عنوان اس کا ”فہم“ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور پھر اس فہم کو مذہبی علما کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ اس میں خاموش چالاکی یہ تھی ہمارے مذہبی علما تہذیب مغرب اور اس کی فکر سے واقف نہیں ہیں اور جو ایک ضروری کام ہے۔ یہ مکتب فکر ”تفہیم مغرب“ کو مذہبی اہل علم کی ”خدمت“ کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ذہن فکر کے قابل ہو جائے اور عمل خدمت میں صرف ہو جائے تو اس سے اچھی بھلا کیا بات ہو سکتی ہے۔ لیکن ابھی تک ”مفکرینِ“ تفہیم مغرب کو اتنا ہی معلوم پڑا ہے کہ اسلام تو صرف فطری صورت حال (natural condition) میں ہی قابل عمل ہے، ٹکنالوجیائی صورت حال (technological condition) میں یہ قابل عمل ہی نہیں ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جب تک کوئی ”آدمی“ تاریخ کا پہیہ واپس گھما کر انھیں فطری صورت حال (natural condition) میں نہیں لے جاتا، وہ موجودہ ٹکنالوجیائی صورت حال (technological condition) پر مذہبی دم کرنا جائز نہیں رکھتے۔ ان کا گولر کا پھول بھی اسی طرح کا ہے جس طرح کا ہمارے سیاسی علما کا ہے کہ جب تک ان کو خلیفہ نہیں بنایا جائے گا، اسلام نافذ نہیں ہو سکتا۔
ہمارے موجودہ حالات میں دو سوال اہم ہیں: کیا مسلمان صرف فطری صورت حال (natural condition) میں مکلف ہے یا وہ ٹکنالوجیائی صورت حال (technological condition) میں بھی ویسا ہی مکلف اور مخاطَب ہدایت ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مغرب و مشرق کے ک.فا.ر اہل فکر و عمل کی رائے کے مطابق جدیدیت ایک پورا پیکچ ہے یا اس میں ایسے پہلو ہیں کہ جن کے ساتھ رد و قبول کا معاملہ کیا جا سکتا ہے؟ ایک مسلمان کے لیے اس میں گہرا نکتہ یہ ہے کہ کیا جدیدیت کا choice مکمل جبر لیے ہوئے ہے یا اس میں تکلیف (obligation) باقی رہتی ہے اور مذہبی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انسانی ایجنسی کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے؟ یہ ضروری سوال ہم مسلم تاریخ کے ایک ایسے لمحے میں پوچھ رہے ہیں جب مسلم اہل فکر و دانش بنیادی فیصلے کر چکے ہیں، اور وہ اب ایسے کسی مذہب کے امکان سے ہی دستبردار ہو چکے ہیں جو جدیدیت کا سامنا کر سکے، اور جس میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی رحمۃ للعالمینی کے سائے میں پناہ لی جا سکے۔ ہمارے مذہبی سیاسی طبقات دین کو اپنی طبقاتی تشکیل اور معیشت انگیزی میں مکمل طور پر کھپا چکے ہیں، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے ان کو پورے کے پورے وسائل جدیدیت سے فراہم ہوئے ہیں جو ان کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ یہ برصغیر کی مسلم تاریخ کا ایک حیرت انگیز مظہر ہے، اور عصر حاضر میں ہمارے سیاسی علما کے نزدیک ان کی طبقاتی تشکیل میں دین اپنے تہذیبی مقاصد پورے کر چکا ہے، اور اس سے آگے دین کی کوئی تہذیبی معنویت باقی نہیں رہی ہے۔ جدیدیت نے جو ہمہ قسم ادارے تشکیل دیے تھے ان کو بس ”اسلامی“ کہنے کی ضرورت تھی، اور اس کے لیے کسی اصول اور علم کی بھی ضرورت نہیں رہی تھی بس وہی طاقت کافی تھی جو انھیں طبقاتی اور فرقہ وارانہ تشکیل سے حاصل ہو چکی تھی۔ ادارے اور آرگنائزشینیں جدیدیت کا عمل ہیں اور ان کو اسلامی بنانے میں ہمارے سیاسی طور پر فعال علما ہراول کا کام کرتے رہے ہیں۔ یہ عملی تجدد ہے اور ہمارے سیاسی علما مذہب کی سیکولرائزیشن کا عمل مکمل کر چکے ہیں کیونکہ مذہب کو الوہی ہدایت سے ایک سیاسی یا غیر سیاسی نظریہ بنا دینے سے مذہب کی سیکولرائزیشن کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ ہمارے وہ علما جنھیں بظاہر غیر سیاسی کہا جاتا ہے انھوں نے جدیدیت کو علمی جہت سے ”اسلامی“ قرار دے دیا اور اس مقصد کے لیے تجدد کا وسیع مکتب فکر پیدا ہوا جس کا کل وقتی کام یہی ہے۔ اس میں یہ پہلو دلچسپ ہے کہ جدیدیت کے عمل کو ”اسلامی“ بنانے والے علما کو بالعموم روایتی کہا جاتا ہے اور جدیدیت کے علوم کو ”اسلامی“ بنانے والے علما کو بالعموم جدید یا متجدد کہا جاتا ہے۔ ہمارے مذہبی علما مختلف دائروں میں ایک ہی کام کرتے آ رہے ہیں، اور ان کی آپسی نورا کشتی عامۃ المسلمین کو بے وقوف بنانے کے لیے ہے۔
روس، جاپان، چین اور جنوبی کوریا کے معاشروں میں جدیدیت کو تہذیبی کلیت کے طور پر اختیار کرنے کا فیصلہ فکری اور تہذیبی سوالوں سے جڑا ہوا تھا اور وہ معاشرے طویل اور بسا اوقات ایک سفاک فکری نبردآزمائی میں رہنے کے بعد جدید ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ مسلمان اہل فکر و دانش میں جدیدیت پر کوئی سوال اٹھانے کی جرات ہی کبھی پیدا نہ ہو سکی اور انھوں نے سارے سوال خود اسلام، مسلمانوں اور اپنے معاشروں پر اٹھائے تاکہ نئی فرقہ وارانہ اور طبقاتی تشکیلات کو مکمل کر کے اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ہمارے علما نے نہایت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمان کو مسلمان کہنے کا ”اختیار“ اپنے لیے خاص کر لیا اور اس اختیار کے ساتھ جو طاقت ضروری تھی وہ مسلم معاشرے میں علما کی پیدا کردہ نئی فرقہ وارانہ اور طبقاتی تشکیلات سے فراہم کی گئی۔ ہمارے سیاسی علما نے یہ بھانپ لیا تھا کہ جدید ریاست کو امن عامہ کے سیاسی پہلو کے علاوہ اس سوال میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس طرح جدیدیت کے روبرو، روس، جاپان، چین اور جنوبی کوریا کے اہل فکر و معاملہ نے زیادہ دیانت داری سے کام لیا اور ہم عصر تاریخ میں اپنے معاشروں کی بقا کے لیے زیادہ دیانت دارانہ فیصلے کیے۔ مغرب کی پیدا کردہ دنیا میں ہمارے اہلِ معاملہ نوکِ شمشیر کے روبرو جو بھلے برے فیصلے کرتے آئے ہیں وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں لیکن ہمارے اہل علم کی ناکامی تہذیبی سطح کی ہے اور ان میں کوئی حریتِ شعور نظر آتی ہے اور نہ کوئی دیانتِ فکری۔ جدید تاریخ کی پیدا کردہ ٹکنالوجیائی صورت حال (technological condition) میں ہدایت کو رہنما بناتے ہوئے جو راستہ مطلوب ہے اس کی نشاندہی کرنا ہمارے اہل علم کی ذمہ داری ہے، اہل معاملہ و اختیار کی نہیں، اور اس میں وہ مکمل طور پر ناکام چلے آتے ہیں۔




کمنت کیجے