Home » تفہیم مغرب اور تحریک مجاہدین
تہذیبی مطالعات سیاست واقتصاد

تفہیم مغرب اور تحریک مجاہدین

تحریک مجاہدین اپنے تصور اور عمل میں اہل سنت و الجماعت کے خلاف ایک طاقتور تحریک تھی جس نے مذہبی معاشرت، کلامی علوم اور سیاست شرعیہ کا خاتمہ کر دیا۔ اس تحریک کا بنیادی کام دو شعبوں میں سامنے آیا۔ ایک یہ کہ درست عقیدہ کیا ہے؟ اور اس کا جواب ایک نئی توحید کی صورت میں دیا گیا۔ یہ دائرہ روایتی طور پر علم الکلام اور جدید عہد میں فکری اور نظری علوم کا شعبہ ہے۔ اس حوالے سے تحریک مجاہدین کے موقف کی نمائندہ اور اہم ترین علمی دستاویز مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی کتاب ”عبقات“ ہے۔ دوسرا یہ کہ شریعت کیا ہے؟ اس میں اہم ترین سوال یہ تھا کہ مسلم معاشرے کا اجتماعی عمل کیا ہے؟ اس دائرے میں تحریک مجاہدین نے جہاد اور اجتماعیت کا ایک نیا تصور پیش کیا تاکہ شریعت کو منہدم کیا جا سکے۔ جدید علوم کی اصطلاح میں یہ سیاسی تھیوری کا شعبہ ہے۔ اس حوالے سے مولانا صاحب کی کتاب ”منصب امامت“ وہابی خارجیت کے سیاسی منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔
تفہیم مغرب کا منصوبہ اپنے تصور اور عمل میں بنیادی طور پر تحریک مجاہدین کا ہی تسلسل ہے۔ ہم عصر پاکستان میں تفہیم مغرب وہابی خوارج کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کا عقل سے کوئی تعلق ہے اور نہ مذہب سے۔ تحریک مجاہدین کی طرح تفہیم مغرب بھی علم کشی کی تحریک ہے جس میں جواز مذہب سے لایا جاتا ہے۔ تفہیم مغرب کے کچھ دعویدار عقائد کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ تحریک مجاہدین کے افکار چونکہ پائے چوبیں پر استوار تھے اس لیے تفہیم مغرب کے زیرعنوان ان کی تنظیم نو کی جا رہی ہے۔ عقائد کے شعبے میں علم الکلام کے احیا کا ڈول اس لیے ڈالا گیا تاکہ وہابی خوارج کی نئی توحید کو تازہ بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔ نئے علم الکلام اور عقائد کے جدید مباحث تفہیم مغرب سے ہوتے ہوئے وہابی خوارج کی تحریک کے فکری تناظر سے مل جاتے ہیں۔ تفہیم مغرب اور نئے علم الکلام کی آڑ میں وہابی خوارج کے نئے نظریۂ توحید کے دفاع کی ذمہ داری مائل بہ تکفیر متکلم عظیم جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل نے سنبھالی ہوئی ہے۔
وہابی خوارج کا دوسرا منصوبہ ایسے سیاسی تصورات پر مبنی تھا جسے مسلم معاشرے کے خلاف صف آرا کیا گیا۔ اس میں اہم ترین جہاد کے حکم شرعی کی نئی تعبیر تھی تاکہ اسے کفار کی بجائے مسلمانوں کے خلاف بروئے کار لایا جا سکے، اور جو تحریک مجاہدین کے نام نہاد ”جہاد“ کی تاریخ سے ظاہر ہے۔ یہ سیاسی تھیوری کا شعبہ ہے، اور تحریک مجاہدین کے سیاسی تصورات کو اب ”اسلامی انقلاب“ کے مکھوٹے کے تحت سامنے لایا جا رہا ہے۔ تفہیم مغرب کے کچھ ”مفکرین“ اب اس شعبے میں سرگرم ہیں اور ان کی قیادت جناب علی محمد رضوی کر رہے ہیں۔
تفہیم مغرب کے منصوبے کے مقاصد تحریک مجاہدین کے عقائدی تصورات اور جہادی اعمال کو نئی بنیادیں فراہم کرنا ہے تاکہ ان کے ذریعے مسلم شعور اور مسلم معاشرے پر پھر سے شب خون لگانے کی تیاری کی جا سکے۔ نئے کلامی اور نئے انقلابی اس وقت وہابی خارجیت کے ہراول کا کام کر رہے ہیں۔

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں