Home » صوفیہ ، مراتبِ وجود اور مسئلہء وحدت الوجود : قسط دوم
اسلامی فکری روایت فلسفہ کلام

صوفیہ ، مراتبِ وجود اور مسئلہء وحدت الوجود : قسط دوم

 ڈاکٹر زاہد مغل 

سہیل طاہر مجددی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2۔ توحید وجودی سے متعلق مسائل

اعیان ثابتہ کے وجود خارجی کی نوعیت

اب ہم تیسرے مرتبے اور مابعد اعیان ثابتہ کے خارجی وجود کا جو  سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، وجود حقیقی کے ساتھ اس  نسبت پر گفتگو کرتے ہیں جسے نہ سمجھنے کے سبب متعدد غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ سب سے پہلے عدم کا مفہوم سمجھنا چاہئے کیونکہ صوفیہ عدم سے تخلیق کے قائل ہیں تاہم عدم سے ان کی مراد نفی محض (absolute          nothing)  نہیں۔

عدم کا مفہوم

عدم کسی شے کی نفی کو کہتے ہیں (یعنی وہ نہیں پائی جارہی)، لہذا عدم کا حکم کسی شے کے پائے جانے کے ساتھ ہے۔ دوسرے لفظوں میں عدم کسی وجود کی وجہ سے ہوتا ہے، کسی شے کے وجود کی نفی اس کی “ہویت” (ہونے) کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے۔ مثلاً قدرت کا عدم عاجزی ہے، علم کا عدم جہل ہے، بصارت کا عدم اندھا پن وغیرہ۔ انہیں “عدمات خاصہ” کہا جاتا ہے۔ ہر تعیین (یعنی خاص قید کے ساتھ شے کے ہونے) کی نفی سے خاص قسم کا عدم ثابت ہوگا۔ زید کا معذور ہونا ایک عدم ہے تو زید کا نابینا ہونا ایک اور قسم کا۔ ہر عدم ایک “عدم متمیز” (differentiated        nothing) کے طور پر مفہوم ہے کہ وہ ایک خاص حکم کا منشا ہے۔ الغرض ہر اسم الہی کا عکس ایک عدم خاص ہے۔ اس کے برعکس “عدم عامہ” کا مطلب ایسا عدم ہے جو کسی بھی حکم (اثبات و نفی) کو قبول نہ کرے، یہ عدم محض (یا امکان محض) ہے جو “وجود محض” (یا واجب) کے مقابلے پر ہے۔ چنانچہ غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ عدم (یعنی “پایا نہ جانا”) بھی اللہ کی طرف سے ہے کہ اللہ قادر ہے تو اس بنا پر اس کا عدم عاجزی ہے، وہ موجود ہے تو اس اعتبار سے عدم محض ہے۔

اوپر وضاحت گزری کہ اسمائے کونیہ یا اعیان ثابتہ کی حقیقت عدمات خاصہ یا اسمائے الہیہ کے عکوس ہونا ہے۔ ان کا یہ اعتباری عدم صفات و اسماء کی وجہ سے مفہوم ہے کہ چونکہ ذات باری قادر ہے تو قدرت کی نفی کے تصور سے اس کا الٹ مفہوم ہے (یعنی عاجز ہونا)، چونکہ وہ المحی ہے لہذا اس خاص فعلیت کی نفی سے ایسا عکس ثابت ہے جو اس فعل کا اثر قبول کرنے میں مفہوم ہے (یعنی میت ہونا)۔ الغرض اعیان ممکنہ کی اپنی حقیقت عدم کے سوا کچھ نہیں، اور یہ بطور انفعالی استعدادات ثابت ہیں۔ ان  انفعالی استعداد میں سب سے بنیادی استعداد وجود قبول کرکے اس کا مظہر بن سکنا ہے۔ اسمائے الہیہ ازلی حقائق یا قابلیتیں ہیں جو اپنی حقیقتوں (یا اعیان ثابتہ) کا تقاضا کرتے ہیں۔ مثلاً الوہیت (یا معبودیت) عبد کا تقاضا کرتی ہے، اسم خالق کا تقاضا ہے کہ مخلوق ہو نیز اللہ کے انگنت اسماء میں سے بعض وہ ہیں (مثلاً الرازق وغیرہ) جو اپنے جلوے کے لیے مخلوق کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسماء الہیہ سے ثابت ہونے والے یہ اعیان ان اسماء کے محتاج ہیں۔

عدم سے خلق کا مفہوم

درج بالا وضاحت سے یہ واضح ہوا کہ عدم کی حقیقت یہ ہے کہ ذات باری نے موجودگی یا عدم کے احکام کو بنایا ہے۔ جس کا حصہ وہ اس کے عین ثابتہ سے کاٹ دے وہ معدوم کہلائے گی اور جس کا حصہ ظاہر کردے وہ موجود ہو جائے گی۔ لہٰذا جس وجودی نسبت یا حکم کو اللہ نے عدم فرمایا ہے اور اس کے وجود کی غیر موجودگی (یا عکس) پر اس کو لاگو کردیا ہے، صوفیہ نے اس کو اشیا کے وجود کا مواد یا مسالہ ماننے یا نہ ماننے پر بحث کی ہے۔ لہذا مخلوق کے مسالے یا مواد سے متعلق اب سوال یوں ہے کہ یہ مخلوقات اسماء الہیہ (جو کہ مراتب وجود میں وجودی حقائق ہیں) کی وجہ سے ہیں یا ان کے عدمات کی وجہ سے؟ اس پر صوفیہ کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ:

الف)      یہ اسماء کی تجلی ہے،

ب)         یہ ان کا عدم (یعنی عکوس) ہے،

ج)          یہ ان دونوں کا مرکب ہے، یعنی ایک جہت سے دیکھو تو تجلی اور دوسری سے عدم ہے۔

اشیاء کو اعتباری وجود کہنے والوں نے ان کو اسماء کی تجلیات کہا جو بس اپنے عدمات خاصہ پر چمک اٹھی ہیں۔ مطلب یہ کہ قدرت نے عجز (یعنی قدرت کے عکس) کو وجود اعتباری دے کر اسے چمکا دیا ہے تو اب عاجز بھی ہیں اور قادر بھی۔ جنہوں نے مخلوق کو حقیقی وجود مراد لیا انہوں نے دوسری بات کہی کہ معاملہ تو یوں ہی ہے مگر ہماری موجودگی کی اصل عاجزی یا میت ہونا ہے، ہم صرف اس لیے قادر یا زندہ ہیں کہ الحی اور قادر مطلق کی نیست پر تجلی ہوئی ہے۔ ان دو آراء والوں کے مابین معاملہ بڑھ گیا تو شاہ ولی اللہ (م 1762 ء ) نے تیسری بات کہہ کر اسے ختم کردیا کہ یہ نزاع لفظی ہے۔ [1]

مثال سے وضاحت

پس صوفی فکر کی رو سے اگر اس سوال پر غور کیا جائے کہ اعیان ثابتہ کے وجود خارجی کی حقیقت کیا ہے، یا باالفاظ دیگر ان کے وجود کو وجود حقیقی سے کیسی نسبت ہے؟ تو شیخ ابن عربی و صوفیہ کی ایک پسندیدہ مثال کی رو سے اس کا جواب یہ ہے کہ یا اس کی صورت یہ ہے کہ تجلی اسماء گویا آئینے کی طرح ہے جس کے روبرو ہونے کے سبب اس میں اعیان ثابتہ کے احکام و تعیینات ظاہر ہوگئے ہیں اور یا پھر اعیان ثابتہ آئینے کی طرح ہیں جن میں اسماء و صفات الہیہ کی تجلیات ظاہر ہوئی ہیں، [2]دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان اعیان ثابتہ میں ان کی حسب استعداد وجود متعین ہوا ہے اور اگرچہ یہ وجود متعین وجود حقیقی نہیں (کہ وجود حقیقی وجود مطلق ہے)، تاہم اس متعین وجود کا منبع وجود حقیقی ہی ہے کہ اس کے سوا کوئی وجود نہیں۔ ہر دو صورت میں اعیان ثابتہ از خود ظاہر نہیں ہوتے (کہ ان کی حقیقت عدم ہے) بلکہ جو ظاہر ہوتا ہے اول اعتبار میں وہ بصورت اسماء و صفات وجود ہے جس کی تجلی کی بنا پر اعتبار ثانی میں اعیان ثابتہ کے احکام ظاہر ہوجاتے ہیں۔ فیض اقدس جس طرح اعیان ثابتہ کے ظہور فی العلم کا مبداء ہے، اسماء کی تجلی ان احکام کے وجود خارجی کا مبداء ہیں۔ پس اعیان اپنی حقیقت میں معدومات یعنی فاقد الذات ہیں، جب ان پر اسمائے الہی کی تجلی پڑتی ہے تو یہ عدمات بقدر اسم کی تجلی چمک اٹھتے ہیں۔ یعنی “جو نہیں تھا” قادر اسے بھی اعتباراً موجود کر دیتا ہے (شہودیہ کی اصطلاح میں موجود تو نہیں کرتا البتہ انہیں موجود ہونے کا شہود یا حضور عطا کردیتا ہے)، تو اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ عالم اعیان ثابتہ کا صرف خارجی عکس ہے جو وجود کے آئینے میں جھلکا ہے۔ اسی بنا پر شیخ کہتے ہیں کہ اعیان ثابتہ نے وجود کی بو تک نہیں سونگھی اور وہ اب بھی حالت عدم ہی میں ہیں۔ قرآن میں آیا:

كُلُّ شَيْءٍ هالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ[3] (ہر شے ہلاک ہے اور ہونے والی ہے، سوائے اس کی ذات کے)

امام غزالی (م 1111ء )  نور وجود سے اشیاء کے منور ہونے کے معاملے کی مثال یوں دیتے ہیں کہ تصور کیجئے کہ اس دنیا میں روشنی کا سورج کے سوا کوئی ذریعہ نہ ہو اور سورج طلوع نہ ہو  ۔ ایسے میں  ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوگااور کچھ ظاہر نہ ہوگا۔ اس اندھیرے کو آپ عدم تصور کیجئے۔ پھر جب سورج طوع ہوگا تو جہاں جہاں تک اس کی کرنیں پہنچیں گی وہاں تک مختلف رنگوں کی اشیا ظاہر ہوجائیں گی ۔ سورج کی یہ کرنیں نہ اس کا عین ہیں اور نہ غیر، جن اشیاء پر پڑ کر وہ انہیں رنگ برنگی دکھا رہی ہیں نہ وہ ان کرنوں کے عین ہیں اور نہ غیر۔ تو کوئی کہنے والا اگر کہے کہ میں سورج کی روشنی کے سوا کچھ نہیں دیکھتا تو ایک جہت سے وہ بھی درست ہے ، جو کہتا ہے کہ سورج کی روشنی نے جو ظاہر کیا وہ نہ سورج ہے اور نہ اس کی کرن تو وہ بھی درست ہے۔ ایک مثال آپ یہ دیتے ہیں کہ جیسے ایک شخص گھر کے سوراخ سے چاند کی روشنی کو کسی ایسے آئینے پر پڑتا ہوا دیکھے جو دیوار میں نصب ہے، جس کی روشنی پھر اس آئینے کے مد مقابل دوسری دیوار پر پڑے اور پھر وہ روشنی زمین پر پڑے جس سے زمین منور ہوجائے۔ تو زمین کا نور دیوار کےنور کے، دیوار کا نور آئینے کےنور کے  اور آئینے کا نور چاند کے نور کے تابع ہے اور پھر چاند آفتاب سے نور حاصل کرتا ہے، ان میں سے ہر نور دوسرے کے مقابلے میں کامل تر ہے اور اپنے اپنے درجے پر ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔[4] اس مثال میں حقیقی نور آفتاب ہی کا ہے اور آئینے اور اس کے ماتحت نور کو آفتاب کے نور کے مقابلے میں بس مجازی طور پر نور ہونے کی نسبت ہے۔ اسی لئے آپ کہتے ہیں کہ عارفین نے مجاز کی پستی سے حقیقت کی بلندی کی جانب سفر کرکے اس حقیقت کو جان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی موجو دنہیں اور اس کے سوا ہر شے نہ صرف یہ کہ ہلاک ہونے والی ہےبلکہ وہ ازل تا ابد ہلاک ہے۔[5] آئینے میں ظاہر ہونے والا عکس نہ اصل ہوتا ہے اور نہ اصل سے الگ، یعنی  “من وجہ ھو ” و “من وجہ لا ھو”۔[6] پھر مزید غور کرو کہ شے جب آئینے کے روبرو ہو تو صرف اپنا عکس دیکھتی ہے، رہا آئینہ تو وہ دکھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح اعیان ثابتہ وجود مطلق کے آئینے میں اپنا آپ (یعنی وجود متعین) تو دیکھتے ہیں مگر وجود مطلق کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ شیخ کہتے ہیں کہ دیکھنے والا جب بغور دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اپنا عکس اپنی بصارت اور آئینے کے مابین حائل دکھائی دیتا ہے، یہی معاملہ یہاں ہے اور اس سے آگے بڑھنے کی جستجو کرنا ایک محال شے کی طلب کرنا ہے کیونکہ وجود متعین کی نفی کرکے وجود مطلق کی جستجو کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ بندہ اپنی حقیقت یا صفت ذاتی کو فنا کرکے عدم کے گھاٹ جا اترے۔ اسی لئے شیخ کہتے ہیں کہ بندے کی جانب سے اعیان کے عکس سے آگے ادراک کی کوشش عدم محض کی جستجو ہے۔[7]

وحدت میں کثرت کی مثال یوں ہے جیسے کسی شے کے ارد گرد مختلف رنگوں و سائز کے آئینے رکھ دئیے جائیں تو وہی شے اب مختلف رنگوں و مقداروں میں دکھائی دینے لگے گی جبکہ دکھائی دی جانے والی چیز اصلاً ایک ہے نیز وہ ان رنگوں و مقداروں سے متصف بھی نہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہی شے ان سب صورتوں کے قیام کا ذریعہ بن کر ان کا قیوم ہے۔ پس اعیان ثابتہ کو جب اپنی ذات میں دیکھا جائے تو یہ عدم ہیں اور اس لئے وجود کا غیر (یا نفی) ہیں، اور جب اس جہت سے دیکھا جائے کہ ان پر اسماء کی تجلی ہوئی ہے جس کی بنا پر یہ اپنی انفعالیت کے ساتھ اعتباراً موجود ہیں تو یہ اسماء کا عین ہیں (یعنی اس کے مفہوم میں شامل ہیں اور اس بنا پر اسماء الہیہ ان اسمائے کونیہ کے باطن و حقائق ہیں)۔ جس طرح ہر انفعالیت کی حقیقت فعل کا اثر ہونا ہے اور اس اثر کے سوا نہ یہ قابل تصور ہوتی ہیں اور نہ موجود، اسی معنی میں اعیان ثابتہ کی حقیقت اسمائے الہیہ ہیں۔ وجود کی تجلی سے اعیان کو عکس یا سائے کی طرح موجود کرنا ذات باری ہی کا کام ہے، قرآن میں ارشاد ہوا:

أَلَمْ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا[8] (کیا تم نے اپنے رب کی جانب نگاہ نہ ڈالی کہ وہ کس طرح سائے کو پھیلاتا ہے، اگر وہ چاہتا تو اسے ساکن کردیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ہے )

یعنی اعیان کا وجود خارجی سائے کی مانند ہے اور رب تعالی چاہتا تو انہیں مستقلاً مرتبہ علمی کے پردہ خفا ہی میں روکے رکھ سکتا تھا، پھر اس معاملے کو سمجھانے کے لئے اس نے سورج کی روشنی کو دلیل بنادیا۔ شیخ کہتے ہیں کہ واجب الوجود نور ہے تو ممکن الوجود سائے کی مانند  جبکہ ممتنع الوجود نری ظلمت ہے۔ شیخ ایک مثال سے معاملے کو یوں سمجھاتے ہیں کہ جب ممکن الوجود (یعنی اعیان) کو موجود کیا گیا تو انہوں نے اپنے  بائیں جانب خود سے پھوٹنے والے سائے کو پا کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ دائیں جانب وجود سے آواز آئی کہ یہ تمہاری حقیقت (یعنی عدم) ہے، اگر تم بھی روشنی یعنی وجود  ہوتے تو تمہارے عدم کی یہ پرچھائی نہ ہوتی، میں وہ روشنی ہوں جو اس سائے کو ختم کرنے والی ہے۔ یہ جو نور وجود تمہیں میسر ہے یہ اس بنا پر ہے کہ تمہارا چہرہ میری جانب ہے اور اس سبب ہی تمہیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ تم “میں” یعنی وجود مطلق نہیں ہوسکتے کہ میں نور بلا سایہ ہوں اور تم بوجہ اپنے امکان ملاوٹ ذدہ نور ہو۔ اگر تم اپنے سائے سے بھاگنے کی کوشش کرو گے تو یہ عین اپنی حقیقت یعنی ممکن ہونے سے فرار کی بات ہوگی اور اگر تم نے اپنی حقیقت یعنی ممکن الوجود ہونے سے فرار کی کوشش کی تو تم مجھ سے جاہل و غافل ہوجاؤ گے اور مجھے کبھی نہ پہچان سکو گے کیونکہ تیرے پاس اپنے ممکن الوجود ہونے کے سوا یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ میں تمہارا الہ، رب اور پیدا کرنے والا ہوں۔ پھر اگر تم سائے کے مشاہدے میں ہمہ وقت مشغول ہو کر روشنی سے کلی طور پر منہ موڑ بیٹھے تو تمہیں یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ یہ دراصل تمہارے امکان کا سایہ ہے کیونکہ روشنی ہی سے سایہ مفہوم ہو سکتا ہے۔ اس حال میں تمہیں یہ محسوس ہوگا گویا یہ محال کا سایہ ہے، واجب اور محال ہر لحاظ سے متضاد ہیں، اگر تم محال ہوتے اور اس حال میں تمہیں حکم دیتا کہ “ھوجا” تو تم اسے سن کر اس پر لبیک نہ کہتے کیونکہ محال ہونے کا حال تمہیں میری پکار سننے سے بہرا کردیتا۔ پس اپنی نگاہ کو میری جانب اس طرح نہ ٹکا کہ تجھ سے تیرے سائے کا شعور و ادراک ختم ہوجائے کیونکہ اس حال میں تو یہ کہے گا “تو میں ہے” اور ایسا دعوی جہالت میں پڑجانا ہے کیونکہ ممکن واجب نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی اپنے سائے میں اس طرح گم ہوجا کہ تجھے مجھ سے بے شعور کردے کہ پھر تو بہرہ ہوجائے گا اور یہ جان نہ سکے گا کہ تجھے کیوں پیدا کیا۔ پس  تو ‘نفی و اثبات’ یا ‘ھو ولا ھو’ کا مجموعہ بن کر کبھی ایک شعور کا حامل ہو اور کبھی دوسرے کا۔ الله نے تجھے دو آنکھیں اسی لئے عطا کیں کہ ایک سے تو اس کی جانب دیکھے اور ایک سے سائے کی جانب۔ [9]

توحید وجودی اور معیت باری تعالی

اس لحاظ سے ذات باری کو ہر شے سے ایک ایسی وجودی معیت حاصل ہے جو اس معیت سے مختلف ہے جو جوہر کو جوہر، جوہر کو عرض اور عرض کو عرض سے حاصل ہے اور نہ ہی یہاں حال و محل کے اتحاد جیسی کوئی شرط ہے۔ کائنات کی تخلیق کا مطلب نہ یہ ہے کہ ذات باری نے اپنے سوا پہلے سے موجود کسی شے (مثلاً ھیولی) کو کسی خاص ڈھب پر ڈھال دیا ہے اور نہ یہ ہے کہ اس نے وجود کو اس طرح کسی شے کی ذاتی صفت بنادیا ہے کہ خلق کے بعد دو مستقل وجود ہوگئے ہیں، نہ یہ کہ اپنی ذات اور صفات ہی کو کائنات بنا دیا ہے اور نہ یہ کہ وہ اعیان کے ساتھ متحد ہوگیا ہے بلکہ یہ مؤثر اور اثر کے مابین ایسا احاطہ قیومی ہے جو اعیان (یعنی اثر) کے احکام کا پوری طرح احاطہ کئے ہوئے ہے۔ امام غزالی آیت اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ[10] (اللہ آسمانوں و زمین کا نور ہے) کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ذات باری ہر شے کے ساتھ اس طرح ہے جیسے اشیاء کے ساتھ نور ہے کہ وہ ہر شے کو ظاہر کرنے والا ہے اور صاحب عقل جانتے ہیں کہ ظاہر کرنے والا اس شے سے کلی طور پر جدا نہیں ہوتا جو  ظاہر کی جاتی ہے۔[11] شیخ ابن عربی واشگاف انداز سے اس معاملے کو واضح فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ “عین وجود اشیاء” ہونے اور “عین اشیاء” ہونے میں فرق ہے۔ اشیاء اپنی تعیینات و احکام کے لحاظ سے وجود مطلق کا غیر ہیں، صرف اس اعتبار سے عین ہیں کہ ان کا موجود ہونا خود اپنی طرف سے نہیں بلکہ بذریعہ تجلی جو ان میں ظاہر ہوا اپنی اصل میں وہ وجود مطلق ہی کی جانب سے ہے کیونکہ وجود وجود ہی سے مستعار ہوسکتا ہے نہ کہ عدم سے۔ پس “بااعتبار ظہور” وجود ایک ہے مگر با اعتبار مظاھر وجود (locus         of          manifestation) تعیینات متعدد ہیں۔[12] اعیان ثابتہ کی حقیقت ہونا ذات باری کا اول و باطن ہونا ہے، تو بطور وجود ان مظاہر کے ظہور کا منبع ہونا آخر و ظاہر ہونا ہے۔  قرآن میں آیا:

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ[13] (وہی ہے اول، اور وہی ہے آخر، اور وہی ہے ظاہر، اور وہی ہے ہاطن)

شیخ کہتے ہیں کہ وجود کا بذریعہ اعیان یہ ظہور ایسا نہیں کہ جو ظاہر ہوگیا وہ اب غیب نہ رہا بلکہ ذات باری کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی جس صفت و اسم کو ظاہر کرتے ہیں بیک وقت وہ غیب میں چھپی ہوئی بھی رہتی ہے۔ اعیان ثابتہ منصفہ ظہور میں آنے کے باوجود درجہ ثبوت میں جوں کے توں باقی رہتے ہیں، اس کی صفت کا ظہور اس کی غیوبت کو کم کرنے والا نہیں۔ ایک حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ اگر اول و آخر اور جن و انس وغیرہ سب مل کر اللہ سے کچھ مانگیں اور اللہ انہیں وہ سب عطا کردے تو اس کے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہیں آتی جتنی سمندر میں سوئی ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں آتی ہے۔[14] پس وہ ظاہر و باطن ایک ساتھ ہے۔

یاد رہے کہ اعیان وجود سے مستفیذ نہیں ہوتے بلکہ مظہر وجود ہونے سے مستفیذ ہوتے ہیں۔[15] شیخ “مظہر” کو وجود کے ظہور کے ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں اور یہ جو عالم کو ذات باری کی نشانی یا علامت کہا جاتا ہے، شیخ اسے اس کے ظاہری معنی میں مراد لیتے ہیں (یعنی عالم “مظہر وجود” ہونے کے معنی میں نشانی ہے)۔ جس شے کو ذات باری اپنے ظہور کا ذریعہ یا نشانی بنائے وہی موجود ہوپاتی ہے، یعنی کوئی شے اس کی نشانی بنے بغیر موجود ہو ہی نہیں سکتی اور ظہور کے اسی پہلو کو شیخ “تشبیہہ ” کہتے ہیں، پس تنزیہہ و تشبیہہ بھی ایک ساتھ ہیں۔ اسی لئے شیخ کہتے ہیں کہ اس عالم میں اٹھنے والی ایسی کوئی نگاہ نہیں کہ وہ اٹھے مگر اس کا مشاہدہ نہ کرے ۔[16]   آفاق و انفس میں ذات باری کی نشانیاں ہونے کو آپ اسی مفہوم میں دیکھتے ہیں:

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ[17] (ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں عالم اور خود ان کے نفس میں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ وہی حق ہے)

صوفی فکر کے بعض اقوال کا معنی

صوفی فکر میں “انا الحق” نیز “شاھد و مشہود،  شاکر و مشکور اور حامد و محمود ایک ہیں” جیسی جو عبارات ملتی ہیں، وہ عینیت و معیت (“ھو”) کے اسی پہلو سے ہیں، تاہم ان عبارات کا مطلب غیریت (“لاھو”) کے اس پہلو کا انکار کرنا نہیں جو صوفی فکر کے مطابق تعیینات کی صورت مخلوق کے لئے ثابت اور حقیقی نیز حکم باری ہونے کی بنا پر نافذ ہیں۔ مرتبہ فنا میں محض عینیت کی جانب نگاہ کرکے بات کہنا سکر ہے جبکہ اس کے ساتھ غیریت کی جانب توجہ برقرار رکھنا صحو ہے، بعض صوفیہ حالت سکر میں “انا الحق” جیسی بات کہتے ہیں۔[18] عینیت کے اس تناظر میں قرآن مجید میں حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوا کہ جب رب تعالی نے انہیں ندا فرمائی تو ایک درخت سے آپ کو  یہ آواز سنائی دی کہ میں ہی رب ہوں:

فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ[19] (جب موسی علیہ السلام وہاں پہنچے تو وادی  (طور)  کے دائیں کنارے پر بابرکت مقام پر واقع ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسی بے شک میں ہی اللہ ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہوں)

ایک حدیث میں آتا ہے:

اللهم لك الحمد انت نور السموات والارض ولك الحمد انت قيوم السموات والارض، ولك الحمد انت رب السموات والارض ومن فيهن. انت الحق، وقولك الحق، ووعدك الحق، ولقاؤك حق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق[20]

مفہوم: “اے میرے اللہ! حمد و ثنا تیرے ہی لئے ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور حمد و ثنا تیرے ہی واسطے ہے، تو ہی زمین و آسمان کا قیوم ہے اور حمد و ثنا تیرے ہی لئے ہے، تو ہی زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب کا رب ہے، تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے اور تیرا وعدہ حق ہے اور تیری ملاقات حق ہے اور جنت حق ہے اور جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے”

غور کیجئے کہ ذات باری کے ساتھ متعدد امور کو “حق” ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:

أَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَأَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخْطِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ جَلَّ وَجْهُکَ لَا أُحْصِي ثَنَآئً عَلَيْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَيْتَ عَلٰی نَفْسِکَ[21]

مفہوم: “اے اللہ میں تیرے عذاب کی تیرے عفو سے پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے غضب کی تیری رضا سے پناہ چاہتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں کماحقہ تیری تعریف بیان نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف بیان کی”

امام غزالی [22]کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اولاً اللہ کے افعال پر نظر فرمائی تو اس کے فعل سے اس کے فعل کی پناہ چاہی، پھر اس درجے سے ترقی فرما کر افعال کے مصدر یعنی صفت کا ذکر فرما کر ایک صفت سے دوسرے کی پناہ چاہی، پھر صفات سے ترقی فرما کر ذات کی جانب بڑھے اور اس سے اسی کی پناہ چاہی۔ غور کیجئے کہ رب سے رب ہی کی پناہ طلب کی جارہی ہے۔  پھر اس مقام پر اپنی ذات کے حوالے کو توحیدمیں نقص سمجھتے ہوئے آپﷺ مزید آگے بڑھے اور فرمایا کہ میں تیری تعریف کرنے سے عاجز ہوں تو ویسا ہی ہے جیسا تو نے خود اپنی تعریف کی۔ اس جملے کا پہلا حصہ فنائے نفس کی جانب اشارہ ہے اور دوسرا اس جانب کہ ثنا گو اور جس کی ثنا کی گئی ایک ہی ذات ہے، اس کے سوا جو کچھ ہے وہ فنا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ پھر جب بندے کے سب افعال اسی کی جانب سے ہیں تو بندے کا اس کا شکر کرنا ایسا ہی ہے جیسے وہ خود ہی شاکر ہے۔ اگر ایک شخص اپنی بنائی ہوئی تصویر کی تعریف کرے تو وہ دراصل اپنی تعریف کرتا ہے۔ [23] تم ایک ربوٹ بناؤ اور اس میں گویائی کی صلاحیت پیدا کرو جس سے وہ تمہاری تعریف کرے تو تم نے خود اپنی ہی تعریف تو کی!

صوفیہ کے ہاں بعض عبارات میں “کائنات کو حق ” کہہ دیا جاتاہے، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر عالم کے تمام اعتبارات و تخصیصات سے قطع نظر کرلیا جائے تو معاملہ ذات باری کی جانب لوٹ جائے گا، قرآن میں ارشاد ہوا: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ[24]  (اور اسی کی جانب  سب امور کا لوٹایا جانا ہے)۔ اسی طرح صوفی فکر میں جو اس قسم کے اقوال ملتے ہیں کہ “مقام فنا میں ایک مقام ایسا ہے جہاں نہ عابد ہے اور نہ معبود”، تو اسے بھی مراتب وجود کے درج بالا نظام میں سمجھا جاسکتا ہے۔ ان مراتب وجود کے مطابق “حضرت الوھیت” (یعنی جہاں عابد و معبود متحقق ہیں) دوسرے تعین سے متعلق ہے جس سے پرے مقام وحدت ہے جہاں نہ عابد ہے اور نہ معبود، صرف وجود مطلق و ذات باری ہے۔  اس عبارت میں “فنا” سے مراد بندے کے شعور کا زائل ہوجانا ہے، جب شعور عبد زائل ہوجائے تو اس سے پرے مقام پر عابد و معبود متحقق نہیں رہتے کہ بندہ تو وہاں علمی طور پر فنا کے گھاٹ اتر چکا، یہی اس عبارت کا مفہوم ہے۔ ایسی ہر عبارت اس نظام فکر میں کسی خاص وجہ پر مبنی ہوتی ہے۔ اسی لئے امام غزالی کہتے ہیں کہ اگر کوئی کہے میں “خدا کے سوا کسی کو نہیں پہچانتا” تو اس کا قول بھی درست ہے اور اگر کہے کہ “میں خدا کو نہیں پہچانتا” تو یہ بھی درست ہےکہ ان دونوں باتوں میں وجہ کلام مختلف ہے۔ [25]اسی وجودی معیت کے پیش نظر صوفیا کے بعض اقوال “مشاہداتی وحدت” کی جانب اشارہ کرتے ہیں جیسے یہ کہ اس کائنات میں اٹھنے والی ایسی کوئی نگاہ نہیں جو اٹھے مگر وہ رب کا مشاہدہ نہ کرے، نیز  بعض عارفین کا حال یہ ہے کہ انہوں نے پہلے شے کو دیکھا پھر ذات باری کو  دیکھا (یہ وہ ہیں جو معلول سے علت کا استدلال کرکے ذات باری کو ثابت کرتے ہیں)، جبکہ بعض وہ ہیں جنہوں نے ہر شے کے ساتھ  ذات باری کو دیکھا اور پھر وہ بھی ہیں جنہوں نے ہر شے سے پہلے خدا کو دیکھا پھر شے کو دیکھا۔ امام غزالی کہتے ہیں کہ یہ آخری  درجہ صدیقین کا مشاہدہ ہےجبکہ پہلا علمائے راسخین کا،[26] ان مراتب کا ذکر قرآن میں یوں ہوا:

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ[27]  (ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں عالم اور خود ان کے نفس میں بھی دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ وہی حق ہے، کیا آپ کے رب کی یہی بات کافی نہیں کہ وہ ہر شے پر گواہ ہے؟)

یعنی “یہ عالم خدا پر شاہد ہے” سے “خدا عالم پر شاہدہے” کاسفر ہے۔

الغرض شیخ اور صوفیہ پر اتحاد کا الزام لگانے والوں سے معاملے کو سمجھنے میں سخت چوک ہوئی، یہ الزام تب درست ہوسکتا تھا جب وہ یہ کہتے کہ خالق و مخلوق کے وجود کا ظرف یا محل بھی ایک ہے۔ وجود کی ایک صورت واجب الوجود جبکہ دوسری ممکن الوجود ہے اور یہ دونوں اعتبار جدا ہیں۔ نیز جب پہلے قدم پر اعیان کو “انفعالی استعداد” کہہ کر انہیں “فعلی استعداد” (یعنی اسمائے الہیہ) کا غیر کہہ دیا گیا تو اس کے بعد اعیان میں ظاہر ہونے والے وجود کا منبع وجود مطلق قرار دینے سے اتحاد کیسے ثابت ہوگیا جبکہ غیریت اس سے پہلے ہی متحقق ہوچکی؟ رہا حلول کا الزام تو وہ اتحاد کے الزام سے بھی زیادہ بے معنی ہے کیونکہ حلول کا مطلب ایک شے کا دوسری میں اس طرح گم ہوجانا ہے کہ وہ اپنی جداگانہ شناخت کھو بیٹھے جبکہ صوفیہ اس مسئلے میں ایسی بات کے قائل نہیں، رب رب ہی رہتا ہے اور عبد عبد،شیخ کہتے ہیں کہ بندہ رب کی کسی صفت ذاتی سے متصف نہیں ہوتا۔   [28] قرآنی آیت مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ[29]  (اس نے دو سمندر رواں کئے جو باہم مل جاتے ہیں، (البتہ) ان کے مابین ایک آڑ حائل ہے ، وہ دونوں اپنی حد سے تجاوز نہیں کرسکتے) پر شیخ کہتے ہیں کہ دو سمندروں سے مراد وجود واجب اور وجود ممکن ہیں اور ان کے مابین ایسی  برزخ حائل ہے جو دونوں کو جدا  رکھتی ہے۔[30] شیخ کہتے ہیں کہ جو لوگ صرف “ھو” پر نظر کرتے ہیں وہ بھینگے ہیں اور جو “ھو” کے ساتھ “لاھو”کو بھی دیکھتے ہیں وہ اہل معرفت ہیں۔[31] پھر جب رب اور بندے کے مابین سمیع و بصیر نیز رؤوف و رحیم  کی نسبت مشترک ہونے کے باوجود شرک لازم نہیں آتا تو وجود کی نسبت مشترک ہونے سے کیوں کر لازم آیا؟  اسی طرح بعض اہل علم کو یہ وہم ہوا کہ وجود کا تحقق چونکہ خارج میں پائے جانے والے افراد و تعیینات کے ساتھ ہی ہوتا ہے تو توحید وجودی کا مطلب یہ ہوا کہ ذات باری کے وجود کو خارجی وجود کے ہم معنی قرار دیا جارہا ہے جبکہ یہ صرف غلط فہمی ہے کیونکہ صوفیہ تعینات سے عبارت وجود خارجی کے اعتبار سے توحید وجودی کا قول اختیار نہیں کرتے۔

  • وجودی معیت اور نصوص

وجود کی وحدت کا درج بالا تصور شیخ کے نزدیک ذات باری کے اسم “محیط” کا مفہوم ہے۔[32] درج ذیل آیات کا یہی مضمون ہے:

أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ[33] (بے شک وہ ہر چیز پر گواہ ہے)

إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطٌ[34] (بے شک وہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے)

اسی طرح ذات باری کے اسم “جامع”کو بھی شیخ اسی معنی میں دیکھتے ہیں۔  [35] جنگ بدر میں آپﷺ کی جانب سے پھینکے گئے سنگ ریزوں پر قرآن کا یہ تبصرہ “ھو ولا ھو” کی اسی حقیقت کا بیان ہے:

وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ [36]  (آپ نے وہ سنگ ریزے نہیں پھینکے جبکہ آپ نے پھینکے بلکہ وہ تو اللہ نے پھینکے)

اس آیت میں نفی و اثبات کے جمع کے اسلوب پر توجہ رہے: وَمَا رَمَيْتَ سے بندے کے پھینکنے کی نفی کی گئی، إِذْ رَمَيْتَ سے اس کا اثبات کیا گیا اور پھر وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ سے نفی کی گئی۔ [37]اسی بنا پر شیخ ابن عربی درج ذیل آیات میں بیان کردہ ذات باری کی مخلوق کے ساتھ معیت و قرب جیسے امور کو علمی معیت کے بجائے وجودی معیت پر محمول کرتے ہیں:

وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ[38]   (اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو)

مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا[39] (کہیں بھی تین کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے، اور نہ ہی پانچ کی سرگوشی ہوتی ہے مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ ان سے کم اور نہ زیادہ کی مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے)

وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ[40] (اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی اس کے قریب ہیں)

وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ[41] (اور ہم (مرنے والے) سے تمہارے مقابلے میں زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھتے نہیں)

اس آیت میں “لَّا تُبْصِرُونَ” (مگر تم دیکھتے نہیں) پر توجہ رہے۔ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو اس باب میں صوفیہ دراصل وہی بات کہتے ہیں جو متکلمین کہتے ہیں کیونکہ متکلمین “علم” کو صفت کہتے ہیں جبکہ صوفیہ صفت کو ایک مرتبہ وجودیا تجلی کہتے ہیں۔ صوفیہ کے نزدیک زیر بحث آیت میں اللہ کو بواسطہ اس تجلی ہی مخلوق کے ساتھ وجودی معیت ہے۔ مزید ارشاد ہوا:

فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ [42] (پس تم جدھر بھی رخ کرو، وہ وہاں جلوہ گر ہے)

وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ[43]  (آسمانوں اور زمین میں وہی اللہ ہے)

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ[44]  (بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے)

يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ[45]  (ان کے ہاتھوں  پر اللہ کا ہا تھ ہے)

حدیث میں ارشاد ہوا:

لَوْاَنَّکُمْ دَلَّیْتُمْ بِحَبْلٍ اِلَی الْاَرْضِ السُّفْلیٰ لَهَبَطَ عَلَی اللّهِ  ثُمَّ قَرَأَ: {هُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ}[46]  (اگر تم ایک رسی زمین کی گہرائی میں ڈالو تو وہ اللہ ہی پر گرے گی، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: وہی ہے اول، اور وہی ہے آخر، اور وہی ہے ظاہر اور وہی ہے باطن)

الغرض اس مضمون کی متعدد نصوص ہیں جو شیخ کے نظام فکر میں اپنے ظاہر پر مفہوم ہوجاتی ہیں۔

وجودیہ و شہودیہ کے اختلاف کی حقیقت

یہاں سے صوفیہ کی یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ مخلوق (ممکنات) کا کوئی حقیقی وجود نہیں، وجود صرف واجب کو حاصل ہے جو از خود قائم ہوتا ہے۔ کائنات کے وجود کو خدا کے وجود سے اتنی نسبت بھی نہیں جتنی کہ مثلاً ہاتھ میں پکڑے پین کی حرکت کو حاصل ہے جو ہاتھ کی حرکت سے بالواسطہ حرکت کرتا ہے کہ پین کی حقیقت ہاتھ کے مقابلے میں عدم نہیں۔ جب وجود اور اسماء کی طرف نظر کرو گے تو ان کے عکوس (یعنی مخلوق) معدوم ہی نظر آئیں گے، جب عدم کے ظہور کے پس پردہ کار فرما تجلی کی جانب نظر کرو گے تو ظاہر شدہ مخلوق کے باطن میں اسماء ہی کا عکس جھلکتا دکھائی دے گا۔ شہودیہ اور وجودیہ میں اس سے زیادہ فرق نہیں کہ دونوں ایک سکے کے دو رخوں میں سے ایک جانب پر زیادہ زور دیتے دکھائی دیتے ہیں: وجودیہ کہتے ہیں عکوس اسماء میں جو چمکا ہے اس کا منبع و حقیقت اسماء  کی تجلی ہے، شہودیہ کا زور اس پر ہے کہ جو چمکا ہے اس کی حقیقت معدوم ہونا ہے اور دونوں کا اس پر اتفاق ہے کہ جو چمکا ہے وہ وجود میں شامل نہیں۔ وجودیہ اور شہودیہ میں فرق کو مزید تکنیکی انداز میں یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ وجودیہ دائرہ اول کے مرتبہ واحدیت کے شئون “وجود” پر زور دیتے ہیں جبکہ شہودیہ مرتبہ “شہود” پر۔

اہم وضاحت

اس ضمن میں آخری بات یہ یاد رہے کہ عالم ذات باری کی حقیقت و ماہیت ظاہر نہیں کرتا بلکہ صرف اس کا یہ مرتبہ ظاہر کرتا ہے کہ “وہ ہے”، یہ ہمیں صرف اس کی صفات و اسماء کا علم دیتا ہے جبکہ ذات باری ہمیشہ پردہ خفا میں رہتی ہے۔ [47]اگرچہ صوفیہ بات سمجھانے کے لئے آئینے اور روشنی کی مثالیں پیش کرتے ہیں، تاہم شیخ سمیت وہ اس بات کے مدعی نہیں کہ ہم وجود مطلق کی حقیقت نیز اعیان ثابتہ کے خارجی وجود کے ساتھ اس کی نسبت احاطہ کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں۔ اعیان میں وجود حقیقی، ازلی  و مطلق نہیں جھلکتا کہ وہ وراء الوراء ہے   بلکہ بذریعہ تجلی جو جھلکتا ہے  وہ وجود کے مقابلے میں بس سائے و عکس کی مانند ہے یا اس سے بھی کم تر ہے نیز وہ بھی اس وجود کا عکس جو صفات و اسماء کے مرتبے پر متحقق ہوا ۔  جب خود “ہمارے وجود” کی ماہیت ہی ہم پر واضح نہیں تو اس سے پرے معاملے میں سوائے حیرت اور کچھ میسر نہیں۔ ذات باری کو عالم سے ایسی وجودی معیت حاصل ہے جس کی حقیقت ہم پر واضح نہیں۔ امام غزالی اس کی مثال یوں دیتے ہیں کہ جیسے ایک صاحب مال اپنے کنگلے غلام کو کپڑے و گھوڑا وغیرہ دے کر اس کا نام مالک رکھ دے تو اس نام رکھنے سے وہ حقیقتاً تو کجا مجازاً بھی غنی نہیں بنے گا  کیونکہ عاریتاً مال حاصل کرنے والا یہ غلام اب بھی اسی طرح فقیر ہوگا جیسے پہلے تھا اور غنی صرف مال دینے والا ہی کہلائے گا کہ اسی کی جانب رجوع اور ابتدا ہے۔[48] پس اسی طرح آئینہ وجود میں اعیان کے عکس جھلکنے پر انہیں موجود ہونے کا شہود عطا کردینے سے وہ اعیان “وجود” سے متصف نہیں ہوجاتےبلکہ وجود کے مقابلے میں کالعدم ہی رہتے ہیں۔ صوفیہ “وجود واحد” کے مسئلے میں اسی طرح حیرت میں ہیں جیسے اشاعرہ مسئلہ جبر و قدر میں “فاعل واحد” کے مسئلے میں حیرت میں ہیں، یعنی دلیل قطعی سے اتنا تو ثابت ہے کہ فاعل حقیقی ایک ہی ہوسکتا ہے، رہی بندے کی فاعلیت تو اس کی حقیقت معلوم نہیں۔ اسی طرح صوفیہ بندے کے وجود کو کبھی غیر حقیقی کہتے ہیں تو کبھی سایہ۔ اسی لئے امام غزالی  کہتے ہیں کہ توحید کے ادراک کا تیسرا درجہ “لافاعل الا الله” ہے تو چوتھا  درجہ “لاموجود الا الله”،[49]   نیز کہتے ہیں کہ جس طرح سورج تمام عالم میں پھیلنے والے نور کا سرچشمہ ہے، اسی طرح وہ معنی جسے ادا کرنے سے عبارت قاصر ہے اور جسے قدرت ازلیہ کے نام سے موسوم کیا گیا وہ اس وجود کا سرچشمہ ہے جو تمام موجودات پر فائز ہوا، لہذا اس معنی میں خدا کے سوا کوئی شے موجود نہیں۔ [50] روشنی کی یہ مثال قرآنی آیت اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے) میں بیان کردہ مثال سے ماخوذ ہے۔ شیخ ابن عربی اس معاملے کو بیان کرنے کے لئے حدیث کے الفاظ “نفس الرحمان” اور “عماء”  نیز قرآنی الفاظ “كَلِمَاتُ اللَّهِ” استعمال کرتے ہیں، یعنی یہ عالم اللہ کے کلمات ہیں۔[51]

خلاصہ بحث

درج بالا بحث سے واضح ہوا کہ:

  • “وجود”یا “پایا جانا” ایسی بلند تر صفت ہے جو تمام موجودات کے مابین کسی نہ کسی طور پر برزخی کیفیت کے ساتھ مشترک ہے۔ “دو مستقل وجود اور موجود” کا مفروضہ نہیں مانا جاسکتا کہ یہ ثنویت و کھلا ہوا شرک ہے۔ اولاً موجود ایک ہی ذات کو ماننا ہوگا، اس کے بعد جب مخلوق کے موجود ہونے کی بات ہوگی تو تین باتیں ماننا ہوں گی:

الف)              اس کا وجود مستقل نہیں عطائی ہوگا

ب)                اس وجود کا ماخذ و منبع مستقل وجود مطلق ہی ہوسکتا ہے

ج)                 اس ماخذ کے ساتھ اسے گوں نا گوں “ھو” کی نسبت ہوگی، یعنی وجود مطلق، مستقل یا واجب اور وجود  متعین، محتاج یا ممکن کے مابین وجود کی نسبت مشترک ہوگی

اس کے بعد صوفیہ کا کہنا ہے کہ مستقل وجود کے مقابلے پر محتاج وجود کو سائے، خیال و عکس وغیرہ سے زیادہ نسبت نہیں۔ اس اعتبار سے یہ قول کہ “موجود صرف ذات باری ہے (لا موجود الا اللہ)” دو معانی کا حامل ہے:

  • اس کے سوا دیگر موجودات کالعدم ہیں
  • محتاج وجود مستقل وجود سے قائم ہونے کی بنا پر اس کے ساتھ “ھو” کی نسبت رکھتا ہے کہ عکس کا قیام بدون وجود ممکن نہیں
  • صوفیہ جنہیں تجلیات، تنزلات یا مراتب وجود کہتے ہیں، ان میں ایسی کوئی تعلیم نہیں جسے اتحاد یا حلول کی صورت شرک قرار دیا جاسکے، ایسے فتوے ان کے موقف کو نہ سمجھنے کی بنا پر جاری کئے جاتے ہیں اور اس غلط فہمی کی وجہ صوفیہ کی عبارات کو ان کے مخصوص نظرئیے سے ہٹا کر پڑھنا اور پھر ان کے شرکیہ لوازمات پیدا کرلینا ہے وہ بھی ایسے جن کے وہ صراحتاً منکر ہیں
  • شیخ کے ہاں لاتعین، وجود مطلق  اور وجود متعین کے درجات بیک وقت اتصال و انفصال، تنزیہہ و تشبیہہ نیز ظہور و خفا جیسے امور کسی درجے میں قابل فہم بنا دیتے ہیں اور نتیجتاً متعدد نصوص کے ظاہری معنی درجہ خفا کے ساتھ متعین ہوتے ہیں
  • اس نظام فکر کے بعض اجزاء عقلی استدلال پر مبنی ہیں، بعض نصوص پر اور بعض کا تعین الہام و کشف پر مبنی ہے۔ صوفیہ کا کہنا ہے کہ کشف و الہام سے انہی امور کی جزوی تفصیل معلوم ہونا ممکن ہے جن کے نشان راہ نبی کی وحی نے مقرر کردئیے ہوں

جو لوگ شیخ ابن عربی اور صوفیہ کی فکر کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ساری فکر گویا افلاطون (م 347 ق م) سے مستعار لی ہے، ہم ان سے کہتے ہیں کہ وہ افلاطون اور نیو افلاطونی فکر سے ہمیں وجود کے یہ پانچ مراتب تلاش کرکے دکھائیں۔ افلاطون کے ہاں بس ایک ایسے عالم مثال کا ذکر ملتا ہے جہاں اس عالم ناسوت کی اشیاء بایں معنی ایک مثالی صورت میں موجود ہیں کہ عالم ناسوت میں اس مثالی شے کی کاپیاں ظاہر ہوجاتی ہیں۔ مثلاً خارج میں جو “انسان” پائے جاتے ہیں وہ لمبے و چھوٹے قد، موٹے و پتلے، گورے و کالے، بھوری و کالی آنکھ وغیرہ والے ہوتے ہیں۔ رہا ذہن میں متصور ہونے والا وہ “مجرد انسان” جو ان تمام تشخصات سے پاک ہو، تو وہ خارجی مشاھدے میں نہیں آتا کہ خارج میں ہر انسان ایسے تشخصات کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ یہاں سے سوال پیدا ہوا کہ آخر ان تشخصات سے پاک اس “مجرد انسان” کے تصور کا ماخذ کیا ہے؟ اس کا جواب دینے کے لئے افلاطون کہتے ہیں کہ ذہن میں موجود مادی تشخصات وغیرہ سے پاک تصور انسان کا منبع عالم مثال میں موجود “مثالی انسان” ہے جس کی کاپیاں مختلف انسانوں میں یہاں ظاہر ہوجاتی ہیں۔ افلاطون کے اس عالم مثال کو شیخ ابن عربی کی فکر میں “اعیان ثابتہ” کے مشابہہ کہا جاتا ہے جبکہ یہ موازنہ بھی غلط ہے کیونکہ شیخ کے ہاں کسی شے کی کاپی ظاہر ہونے کا کوئی تصور موجود نہیں۔ عالم ناسوت میں ظاہر ہونے والی ہر شے یکتا طور پر مرتبہ اعیان میں ثابت ہے اور وہ اپنی یکتا استعداد کے ساتھ اللہ تعالی کی یکتا مخلوق -کے طور پر موجود ہوتی ہے اور ہر ہر شے میں انفرادیت و یکتائیت کا یہ احساس بھی اس بنا پر ہے کہ اس پر ذات باری کی صفت “ھویت” کی تجلی ہے۔ پھر افلاطون یہ نہیں بتاتے کہ آخر عالم مثال کی ان مثالی صورتوں کا منبع کیا ہے جبکہ شیخ اعیان ثابتہ کو ذات باری کے اسماء و صفات کے ساتھ جوڑ کر اس خلا کو پر کرتے ہیں۔ شیخ کی فکر سے قبل فلسفے کے معلوم نظریات میں یہ بات کسی کے ہاں نہیں ملتی کہ عالم ذات باری کی صفات و اسماء کی تجلی ہے، مباحث وجودیات و کاسمولوجی میں یہ ان کا خصوصی کنٹریبیوشن ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ذات باری کے اسمائے حسنی کی جو تفصیل قرآن وسنت میں مذکور ہے، پچھلی امتوں کی دستیاب کتب میں وہ مفقود ہے۔

بعینہہ ناقدین کا یہ تبصرہ بھی بے معنی ہے کہ توحید وجودی کی فلاں صورت مثلاً شنکر اچاریہ (م 820 ء ) کے ہاں بھی موجود تھی۔ یہ ایسا ہی اعتراض ہے جیسے عیسائی و ھندو وغیرہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں بہت سی تفصیلات بائبل یا ویداؤوں سے ماخوذ ہیں۔ چنانچہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا ھندو تعلیمات نے بھی توحید وجودی کی یہی تفصیل پیش کی تھی یا وہ “ہمہ اوست” (سب کچھ خدا ہے) کا نظریہ تھا؟ سنسکرت ماخذات کے مطابق اس ضمن میں ایک مشہور نظریہ یہ تھا کہ “پرماتما سوگیا ہے اور یہ عالم جس میں ہم جی رہے ہیں یہ اس کا خواب ہے”۔ کیا صوفیہ نے اسے قبول کیا؟ بھلا وہ اسے کیسے قبول کرسکتے تھے جبکہ قرآن نے ذات باری کی شان “لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ”  [52]  (نہ اسے انوگھ آتی ہے اور نہ نیند) بتائی ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ صوفیہ نے اگر مثال لی تو نور، سائے  اور آئینے کی، اول الذکر دو قرآن سے لی گئی ہیں اور تیسری حدیث سے  (کہ اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا)۔ چنانچہ اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ صوفی فکر کے بعض اجزاء ھندو تعلیمات میں موجود تھے تب بھی دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ کیا صوفیہ نے اس کی تفصیل کو نصوص کے تقاضوں کے پیش نظر توحید کے اسلامی تصور سے ہم آہنگ رکھا یا نہیں؟ کیا خود عدم سے تخلیق کا نظریہ بھی پچھلی امتوں میں موجود نہیں رہا؟ تو کیا اسے بھی اس بنا پر رد کردیا جائے کہ یہ نظریہ تو ماقبل اسلام ایک عیسائی پادری جان فلاپنس (م 570 ء ) نے بیان کیا تھا؟

الغرض کسی بھی مفکر کی فکر میں اپنے سے ماقبل مفکرین کی فکر سے جزوی مماثلتیں موجود ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ اصل کنٹریبیوشن وہ مجموعی تصویر ہوتی ہے جو ایک شخص پہلے سے میسر اجزاء کے ساتھ چند نئے اجزاء ملا کر پیش کرتا ہے۔ مجموعی تصویر دیکھ لینے کے بعد پہلے سے موجود بعض اجزاء کے ساتھ جزوی مماثلتیں تلاش کرلینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پوری تصویر ہی کسی سے مستعار ہے۔

آخری بات یہ کہ “مائیتھالوجی” کے لفظ سے اگرچہ لوگ چڑنے لگے ہیں، تاہم ہر مذہب کی ایک مائیتھالوجی ہوتی ہے (مائیتھالوجی کو ڈی گریڈ کرنے کے پس پشت فکر انسانی کے ارتقاء سے متعلق بعض جدید فلاسفہ کے اس قسم کے خیالات بھی ہیں کہ پہلےدور  کا انسان مائیتھالوجی پر یقین کرتا تھا، پھر فلسفہ آگیا اور پھر سائنس کے بعد اس کی ضرورت ختم ہوگئی وغیرہ)۔ مائیتھالوجی سے ہماری مراد عالم ناسوت یا عالم مشاھدہ سے ماوراء حقائق ہیں جن کے علم کا بنیادی ماخذ انبیاء کی وحی ہوتی ہے۔ دیگر مذاہب کی طرح اسلام کی بھی اس معاملے میں کوئی تخصیص یا استثناء نہیں کہ درج بالا معنی میں یہ بھی مائیتھالوجی کا حامل ہے۔ بھلا اہل اسلام اس معنی میں مائیتھالوجی سے کس طرح شرمسار ہوسکتے ہیں جبکہ قرآن و سنت ایسے امور کے بیانات سے بھرے ہوئے ہیں؟ مثلاً قصہ آدم و حوا علیہما السلام اور ابلیس، ذریت آدم سے عہد الست لیا جانا، زمین و آسمان و پہاڑوں پر امانت کا پیش کیا جاناوغیرہ جیسے امور کا انکار بھلا کیسے ممکن ہے؟ اسلامی مائیتھالوجی کی تدوین صوفی فکر نے کی ہے اور ذات باری کے اسماء حسنی اس اسلامی مائیتھالوجی کی بنیاد ہے۔ شیخ ابن عربی کو اس لئے بھی “شیخ اکبر” کہا جاتا ہے کہ وہ اس علم کے اسی طرح مدون ہیں جیسے امام شافعی (م 820 ء ) اصول فقہ کے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی :

[1] فیصلہ وحدت الوجود و الشہود

[2] فصوص الحکم  48

[3] القرآن: القصص 88

[4] مشکاۃ الانوار: 53

[5] مشکاۃ الانوار: 55

[6] الفتوحات المکیۃ: 1 / 204

[7] فصوص الحکم: 61

[8] القرآن: الفرقان 45

[9] الفتوحات المکیۃ:  2 / 303

[10] القرآن: النور 35

[11] مشکاۃ الانوار: 63 – 64

[12]الفتوحات المکیۃ:  2 / 21  ، نیز 2/ 160 ، نیز 3 / 484

[13] القرآن: الحدید 3

[14] صحیح مسلم: 2577

[15] الفتوحات المکیۃ:  2 / 484

[16] الفتوحات المکیۃ:  3 / 449

[17] القرآن: فصلت 53

[18] مشکاۃ الانوار 57

[19] القرآن:القصص 30

[20] سنن نسائی: 1620

[21] شعب الایمان لبیہقی،: 3837

[22] احیاء العلوم: 4 / 87

[23] احیاء العلوم: 4 / 86

[24] القرآن:ھود 123

[25] شرح معانی اسماء الحسنی  49

[26] مشکاۃ الانوار 63

[27] القرآن:فصلت 53

[28] الفتوحات المکیۃ:  1 / 366 – 367   نیز 3/ 224  نیز 3 / 378

[29] القرآن:الرحمن 19-20

[30] الفتوحات المکیۃ:  3 / 347

[31] الفتوحات المکیۃ:   2 / 438 ، نیز  2 / 303

[32] الفتوحات المکیۃ:  4/ 193

[33] القرآن:فصلت 53

[34] القرآن:فصلت 54

[35] الفتوحات المکیۃ:  2/ 516

[36] القرآن:الانفال 17

[37] الفتوحات المکیۃ:   2 / 216

[38] القرآن:الحدید 4

[39] القرآن:المجادلۃ 7

[40] القرآن:ق 16

[41] القرآن:الواقعۃ 85

[42] القرآن:ق 16

[43] القرآن:البقرۃ 115

[44] القرآن:الانعام 3

[45] القرآن:نور 35

[46]  ترمذی: 3298

[47] الفتوحات المکیۃ: 3 / 405

[48] مشکاۃ الانوار 54

[49] احیاء العلوم: 4 / 245 – 246

[50] شرح اسماء الحسنی 58

[51] الفتوحات المکیۃ: 2 / 390 ، نیز 3 / 148۔ عالم کو کلمۃ اللہ کہنے کا استدلال کلمۃ “کن” نیز قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کو “کلمۃ اللہ” کہے جانے سے ہے  (آل عمران 45، النساء 171)

[52] القرآن:البقرۃ 255

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں