
عمران شاہد بھنڈر
جدید اور روایتی مُلّا میں ایک مشترک خصوصیت ہے کہ وہ جب بھی اپنے مخالف کے متعلق گفتگو کرتا ہے تو انتہا پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ خیال کل میرے ذہن میں جاوید احمد غامدی صاحب کا ”فلسفے“ پر تیسرا پروگرام دیکھنے کے بعد پیدا ہوا۔ آنجناب بار بار ایک ہی فقرہ دُہرا رہے تھے کہ سترہویں، اٹھارویں صدی کی جدید سائنس نے قدیم فلسفے کے کائنات بارے نظریات کو ”تہس نہس“ کر دیا۔ فلسفے اور سائنس کے طالبِ علم کے لیے یہ تحکمانہ انداز یقیناََ حیرانی کا باعث ہے۔ کیا فلسفے اور سائنس میں کوئی بات ایسی ہے جو ”تہس نہس“ ہو جاتی ہے؟ یا پھر یہ خیالات کی ”رد و نمو“ (Sublation) کا عمل ہے جس میں نفی کا مطلب ”تہس نہس“ نہیں ہوتا بلکہ مضبوط شواہد کی بنیاد پر رکھی گئی زیادہ طاقت ور دلیل کی نمو ہو جاتی ہے، اور جس کی تصدیق نہ ہو سکے اس کا رَد کر دیا جاتا ہے۔ اس دنیا میں موجود تمام علوم سے متعلق یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ علوم کے ارتقا میں غلطی بھی صحیح جتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ جب کسی علم کا آغاز ہوتا ہے تو اس میں اغلاط کا ارتکاب بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم مذہب کے برعکس علوم کی صفت یہ ہے کہ ان میں اغلاط کو تسلیم کیا جاتا ہے، وجہ یہ کہ اغلاط کو تسلیم کیا جانا علوم کے ارتقا کی لازمی شرط ہوتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مذہب کے برعکس علوم میں کوئی ”مطلق“ سچ نہیں ہوتا کہ جس کو خطرہ درپیش ہوتا ہو۔ اغلاط ہر علم کی روح ہوتے ہیں۔ جب کہ یہی اغلاط مذہب کی قبر کھودتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب میں باطل تعبیرات کا انبار لگا دیا جاتا ہے، لیکن مذہبی کتاب میں موجود اغلاط کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ نتیجہ یہی کہ مذہب بالآخر ایک ہی جگہ ٹھہر کر سڑاند مارنے لگتا ہے، اور جدید و روایت پرست مُلّا اس سڑاند سے بچنے کے لیے اس غلط بات کی مختلف تشریحات کرنے لگتے ہیں، جب کہ بنیادی اغلاط مذہبی کتاب میں موجود ہوتے ہیں۔
میں پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ جدید سائنس نے جزیات میں بے حد ترقی کی ہو گی، لیکن نتائج کے اعتبار سے یونانی فلسفیوں کے افکار سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکی۔ یونانی فلسفیوں کی اکثریت یہ تسلیم کرتی تھی کہ کائنات قدیم ہے۔ جب کہ دوسری طرف یونانی فلسفی یہ بھی مانتے تھے کہ کائنات ایک خاص وقت میں وجود میں آئی۔ مثال کے طور پر انیکساغورث کے مطابق کائنات میں موجود ہر شے لامحدود مادے کی شکل میں ایک وحدت کی صورت میں ایک نکتے پر مرکوز تھی۔ کائنات کا ذہن اس مادے کے اندر موجود تھا۔ بعد ازاں کائنات پھیلتی چلی گئی، اور مزید پھیلتی جائے گی۔ انیکساغورث کہتا ہے کہ کائنات ایک نہیں ہے، بلکہ جس طرح ہماری کائنات کے سورج، چاند ستارے ہیں، اسی طرح یہ دوسری کائناتوں میں بھی موجود ہیں۔ انیکساغورث کے بعد افلاطون نے کائنات کی تخلیق کا نظریہ پیش کیا۔ افلاطون کے مطابق زمان کی ابتدا کائنات کی پیدائش کے ساتھ ہوئی تھی۔افلاطون کا دعویٰ تھا کہ کائنات کی تخلیق میں ریاضی کے فارمولے کارفرما ہیں۔ ریاضی کے انہی فارمولوں کی وجہ سے کیپلر نے گلیلیو کو خط لکھا کہ”ہمارے سچے استاد فیثاغورث اور افلاطون ہیں۔“ کیپلر فلکیات کی تاریخ کو ہر دوسرے سائنس دان اور فلسفی کی طرح اس کے تسلسل میں دیکھتا ہے نہ کہ ”تہس نہس“ جیسے مُلائی خیالات پیش کر کے خود کو تسلیاں دیتا ہے۔ کیپپلر لکھتا ہے کہ قدما نے جو خواب دیکھے تھے، ہم نے سچ کر دکھائے۔انیکسی مینڈر نے اگر یہ کہا تھا کہ زمین بیضوی ہے تو افلاطون نے یہ واضح کیا کہ زمین اپنے مدار کے گرد گردش کرتی ہے۔ اور مذہب؟ مذہب آج تک یہ نہیں بتا پایا کہ زمین چپٹی ہے یا حرکت میں ہے۔ خدا نے پہاڑ زمین میں گاڑ دیے تاکہ ”ہِل“ نہ سکے، جب کہ افلاطون زمین کے ہلنے کا نظریہ گیارہ سو برس پہلے ہی پیش کر چکا تھا۔ جدید اور روایت پرست مُلّا آج تک زمین کے چپٹی ہونے اور اس کے نہ ہلنے کے بارے میں قبائلی دیوتاؤں کے باطل خیالات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ دیوتا جو کہتا ہے اسے چھوڑ کر من گھڑت تعبیرات پیش کر رہے ہیں۔دوسری طرف اکیسویں صدی میں سٹیفن ہاکنگ اور راجر پین روز جیسے سائنسدان ڈیموکیٹس، ہیراقلیٹس، ارسطو اور ارسٹارکس سمیت کئی یونانی فلسفیوں کے حوالے استعمال کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مذہب کا اساطیری خدا کہتا ہے کہ وہ جب کسی آیت کو منسوخ کرتا ہے تو اس جیسی یا اس سے بہتر آیت گھڑ کر لے آتا ہے، تو اس وقت یہی مُلّا ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب حالات بدل جائیں تو تقاضے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ان ہی کے خیالات کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ اساطیری خدا نے اپنی ہی بصیرت کو ”تہس نہس“ کر دیا۔ یعنی خدا میں اتنی استعداد ہی نہیں تھی کہ وہ مستقبل میں جھانک سکتا، وہ حالات کے ہاتھوں مجبور تھا کہ اپنے فرمودات کی تنسیخ کرے، ان کو ”تہس نہس“ کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر علم اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے، اور اس علم کی تاریخ اس کے ارتقا کی تاریخ ہے۔ جو علم غلط نہیں ہو سکتا، وہ صحیح بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ غلط ہی ہمیں صحیح کا شعور دیتا ہے، اور صحیح ہی ہمیں بتاتا ہے کہ غلط کیا ہے۔اس ارتقا میں غلط اور صحیح نتائج نکلتے رہتے ہیں۔ فلسفیانہ اور سائنسی ظرف یہ ہے کہ ان اغلاط کو تسلیم کیا جائے، اور مذہب کی کم ظرفی یہ ہے کہ ان اغلاط کو انسان کے فہم سے جوڑ کر انسان کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب آج اپنی موت آپ مرنے پر مجبور ہے۔ مذہب کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کرے، اور اپنی غلطی کو اپنے ماننے والوں کی تفہیم کی غلطی سے تعبیر کرتے ہوئے خود کو ماورائے اغلاط ثابت کرے۔ جب کہ ہمارے نزدیک جس طرح قدیم ترین فلسفی کے افکار لاتعداد تعبیرات کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں، خواہ وہ خود غلط بھی کیوں نہ ثابت ہو جائیں، اسی طرح مذہب اپنی اساس میں اغلاط کا انبار لگا دیتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ انسان اپنی غلطیوں کو تسلیم کر لیا کرتا ہے، لیکن وہی انسان دیوتاؤں کی غلطیوں کو بھی اپنے کھاتے میں ڈال کر مذہبی دیوتاؤں کو مزید کچھ عرصہ زندہ رہنے کا موقع فراہم کرتا رہتا ہے۔ دیوتا کمزور اور خوف زدہ انسان کا آخری سہارا ہوتے ہیں۔
ایک مفکر سے کسی نے سوال کیا کہ سائنس نے آج تک بے شمار ایجادات کی ہیں، فلسفے نے کیا ایجاد کیا ہے؟ اس پر اس مفکر نے جواب دیا کہ ”فلسفے نے سائنس ایجاد کی ہے۔“ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فلسفے کی سب سے بڑی ایجاد سائنس ہے۔ یہ فلسفی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے کائنات کو عقلی تقاضوں کے تحت سمجھنے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے صرف اساطیری دیوتا موجود تھے، جو بنیادی طور پر قدیم جادوگری کا تسلسل ہیں، وہ کہتے ہیں ”ہوجا“ اور ”ہو گیا۔“ حقیقت یہ ہے کہ قدیم اساطیر پر مشتمل یہ مذاہب فلسفے کا ”اینٹی تھیسز“ ہیں۔ فلسفہ متحرک ہے، مذہب جامد ہے۔ فلسفہ نئے خیالات کا خالق ہے، مذہب قدیم خیالات سے چمٹے رہنے کا نام ہے۔ اغلاط فلسفیانہ تفکر کی روح ہیں، یہی اغلاط مذہب کی موت ہیں۔ فلسفے کی بنیاد خیالات پر ہے، مذہب کی بنیاد شخصیات پر ہے۔ شخصیت گئی تو مذہب بچ نہیں سکتا۔ اس لیے ہر حال میں مذہبی شخصیت کی ہر غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر علمی حرکتوں کو ماورائی جواز فراہم کرنا ہے۔جب کہ دوسری طرف منطقی تفکر جو کہ فلسفے کی روح ہے، وہ اپنی سرشت میں ردِ ماورائیت ہے۔فلسفے میں عقل فعال ہوتی ہے۔ مذہب میں عقل وحی کی پابند ہوتی ہے۔ فلسفے میں عقلی فعلیت انسانی فعلیت ہے، اس طرح انسان مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ مذہب میں مرکزی حیثیت اساطیری کردار کی ہے، اس سے منسوب ہر غلط بات کو ماورائی تحفظ حاصل ہے۔ موجودہ دنیا فلسفیانہ تفکر کا نتیجہ ہے۔ مذہب میں موجودہ دنیا صرف ”کھیل تماشا“ ہے۔ فلسفے میں جو موجود ہے وہ حقیقی ہے، اور”حقیقی عقلی ہے، اور عقلی حقیقی ہے۔“ یہاں ’موجود‘ سے مراد متحرک موجود ہے۔ مذہب میں جو موجود نہیں ہے، وہ حقیقی ہے، اور جو موجود ہے وہ ”کھیل تماشا“ ہے۔ اگر مذہب موجودہ دنیا کو ”کھیل تماشا“ سمجھتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مذہب کوئی ایسا کام کرے یا کوئی ایسا کام کرنے کی استعداد پیدا کرے، جو اس دنیا کو بہتر بنا سکتا ہو۔
مسلمانوں کو اسلام کے فوراََ بعد یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی مذہبی کتاب میں علم نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عباسی دور میں یونانی علوم کے تراجم کیے گئے۔ اگر مذہبی کتاب میں علم نام کی کوئی چیز موجود ہوتی، تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یونانی علوم کے تراجم کروائے جاتے۔ مسلمانوں کا علمی عروج یونانی علوم کا مرہونِ منت ہے، نہ کہ ان کی اپنی مذہبی کتاب کا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن یونانی علوم کے تراجم کرائے گئے ان میں صرف ”مابعد الطبیعات“ ہی نہیں بلکہ اخلاقیات، سیاسیات سمیت دیگر کئی علوم بھی شامل تھے، اور ان ہی علوم نے مسلمانوں کو سوچنا سکھایا۔ ان میں تنقیدی بصیرت پیدا کی، ورنہ ان کے پاس صرف اور صرف توسیع پسند جنگی آئیڈیالوجی کا ایک منشور تھا، جس کی بنیاد پر وہ مختلف اقوام پر جنگیں مسلط کر کے اپنی لوٹ مار کو ممکن بناتے تھے اور یہی لوٹ مار ان کا وسیلہ روزگار تھا۔ یونانی علوم جن کے تراجم کیے گئے وہ ”تہس نہس“ نہیں ہوئے تھے، بلکہ وہ علوم ریاضی، طب سمیت کئی دیگر علوم کے بنیاد گزار ثابت ہوئے اور ان کی وجہ سے علوم کا ارتقا ممکن ہو سکا۔ آج انسان کو اگر اپنے انسان ہونے پر فخر ہے تو اس کی وجہ اس کے وہی حاصلات ہیں جن کی بنیادیں فلسفے نے استوار کی تھیں، اور اگر حقیقت پسند کے طور پر مذہبیات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو سوائے ندامت کے کوئی صورت نظر نہیں آتی۔




جدید و روایتی ملاں اور فلسفہ کے نام سے مضمون ایک غیر معیاری اور غیر تحقیقی مضمون ہے۔ آپ کا اسے اپنی اشاعت میں جگہ دینا نامناسب ہے۔ میری وال پر اس کا جوابی مضمون موجود ہے۔
سلام ! امید ہے آپ عافیت سے ہوں گے ڈاکٹر صاحب
معیار سب کے ہاں مختلف ہوتے ہیں ۔ صاحبِ تحریر کے ہاں جو معیارات ہیں ممکن ہے ہم بھی اس سے متفق نہ ہوں لیکن علمی مکالمہ اسی طرح ہوتا ہے ۔
آپ اپنی تحریر ہم سے شئیر کر سکتے ہیں ۔
درج ذیل ای میل ایڈریس استعمال کیجئے ۔
hassahzadi24@gmail.com
منجانب :ایڈیٹر مدرسہ ڈسکورسز