Home » ٹرانس جینڈر، خواجہ سرا اور خنثی ؟ چند اہم قانونی سوالات
سماجیات / فنون وثقافت فقہ وقانون

ٹرانس جینڈر، خواجہ سرا اور خنثی ؟ چند اہم قانونی سوالات

لاہور میں ’ٹرانس جینڈر افراد کی پارٹی‘ کے متعلق خبریں میڈیا پر چل رہی ہیں جس پر پہلے مقدمہ قائم کرکے گرفتاریاں بھی کی گئیں لیکن پھر مجسٹریٹ نے مقدمہ ہی خارج کردیا اور اب شاید آگے اپیل کا سلسلہ چلے۔ میڈیا میں اس معاملے پر بحث میں ایک دفعہ پھر خواجہ سراؤں کا نام استعمال کیا جارہا ہے اور لوگ خواجہ سراؤں اور ٹرانس جینڈر میں فرق نہیں کر پارہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے میں چند اہم قانونی سوالات کا جائزہ لیا جائے۔
2018ء میں پاکستان کی پارلیمان نے ’ٹرانس جینڈر اشخاص (حقوق کا تحفظ) قانون‘ کے عنوان سے ایسا قانون منظور کیا ہے جس کے متعلق کہا تو یہ جاتا ہے کہ اس کے ذریعے خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کی کوشش کی گئی ہے لیکن اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے جنسی بے راہ روی اور بالخصوص ہم جنس پرستی کےلیے گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ 2023ء میں وفاقی شرعی عدالت اس قانون کو شریعت سے متصادم قرار دے چکی ہے، لیکن اس فیصلے کے خلاف چونکہ اپیلیں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں معلق ہیں، تو وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ بھی معطل ہے، اور پتہ نہیں کب تک معطل رہے گا۔
اصولی بات:
پاکستان اپنے آئین کی رو سے ایک اسلامی ملک ہے؛ اس کا ریاستی مذہب اسلام ہے؛ یہاں حاکمیت اعلی اللہ تعالیٰ کی ہے اور پارلیمان سمیت تمام ریاستی و حکومتی اداروں کے پاس اختیارات کی حیثت مقدس امانت کی ہے جسے وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے کے پابند ہیں؛ یہاں لوگوں کو آزادی اور دیگر حقوق میسر ہوں گے، لیکن ”جیسا کہ اسلام نے دیے ہیں“؛یہاں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایسا معاشرتی ماحول فراہم کرے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے مطابق بسر کرسکیں؛ یہاں کوئی قانون اسلامی احکام سے متصادم نہیں بنایا جاسکتا اور جتنے رائج الوقت قوانین ہیں، ان کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کرنا لازم ہے؛ یہاں قوانین میں اصلاحات کےلیے جو لا اینڈ جسٹس کمیشن بنایا گیا ہے، اس پر بھی لازم ہے کہ نئی قانون سازی کےلیے تجاویز دیتے ہوئے سماجی انصاف کے متعلق اسلامی اصولوں کی پابندی کرے؛ اور یہاں عدالتوں پر لازم ہے کہ کسی بھی قانون کی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے، یعنی اس کا مفہوم متعین کرتے ہوئے، یہ یقینی بنائیں کہ قانون کا مفہوم اسلامی احکام سے متصادم نہ ہو۔
اس لیے ہر قانون کے متعلق یہ بحث اٹھانی لازم ہے کہ یہ اسلامی احکام سے متصادم ہے یا نہیں؟ جب تک اس ملک کے آئین اور قانون کی اسلامی شناخت ختم نہیں کردی جاتی، اس سوال سے جان نہیں چھڑائی جاسکتی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کئی فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ آئین کی اسلامی حیثیت کو ختم کرنے کےلیے صرف چند دفعات میں ترمیم کافی نہیں ہے بلکہ اس کےلیے نیا آئین بنانا ہوگا اور نیا آئین باننے کےلیے موجودہ پارلیمان کے پاس اختیار نہیں ہے، بلکہ نئی آئین سازی کےلیے عوام سے باقاعدہ اختیار لے کر آنا پڑے گا۔ اس لیے اس ملک میں ہر قانون کا اسلامی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔
اصطلاحات کی توضیح:
اس قانون میں خواجہ سرا اور ٹرانس جینڈر کو الگ الگ ذکر کیا گیا ہے، بلکہ ساتھ ہی ’خنثیٰ‘ کے نام سے ایک تیسری قسم بھی ذکر کی گئی ہے(دفعہ 2، ذیلی دفعہ 1، شق این)۔
اس قانون کی رو سے خنثیٰ (inter        sex) سے مراد وہ شخص ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کی جنسی علامات پائی جائیں؛ جبکہ خواجہ سرا (eunuch) وہ مرد ہے جس کا جنسی عضو کاٹ لیا گیا ہو یا اسے نامرد بنا دیا گیا ہو۔
اس کے بعد ٹرانس جینڈر کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو ذاتی احساس پر مبنی اظہارِ صنف کی وجہ سے اپنے لیے وہ صنف چنتا ہے جو اس کی جسمانی جنس سے مختلف ہو۔ اس قانون میں خنثیٰ اور خواجہ سرا کا ذکر تو محض بھرتی کےلیے ہے۔ اصلاً یہ قانون بنا اس مؤخر الذکر نوع کےلیے ہے اور اس کا مناسب اردو ترجمہ ’ ماوراے صنف‘ ہے کیونکہ یہ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنی جسمانی جنس (sex) سے مختلف صنف (gender) اختیار کرنا چاہتا ہو۔
اس نوع کے تصور پر غور کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین مفروضوں پر قائم ہے:
• ایک یہ کہ جنس اور صنف ایک دوسرے سے الگ حقیقتیں ہیں؛
• دوسری یہ کہ کسی شخص کی جنس کا تعلق جسم سے ہے جبکہ صنف کا تعلق معاشرے میں کسی شخص کے کردار سے ہے؛ اور
• تیسری یہ کہ صنف کا اختیار فرد کی مرضی پر ہے اور کسی کو اس کے اس اختیار پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
یہ امور دراصل ”یوگیا کارٹا اصولوں“ (Yogyakarta         Principles) سے ماخوذ ہیں جو ”صنفی مساوات“ (gender e        quality) کے نام پر جنسی بے راہ روی کا حق دینے کےلیے وضع کیے گئے ہیں۔
یہ اصول بین الاقوامی معاہدے کی حیثیت نہیں رکھتے لیکن پاکستان سے محترمہ عاصمہ جہانگیر نے پاکستان کی ریاست کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں، بلکہ نجی حیثیت میں اس پر دستخط کیے تھے۔ان اصولوں کے ذریعے ”صنفی مساوات“ (gender e        quality) کے نام پر ہم جنس پرستی کے علاوہ جنسی رجحان کی ہر ممکن صورت کو مساوی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا اور قرار دیا گیا کہ جنسی اور صنفی مساوات یقینی بنانا ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ درحقیقت یہی اصول ہیں جو 2018ء میں ٹرانس جینڈر پرسنز کے حقوق کے تحفظ کےلیے قانون سازی کا سبب بنے ہیں۔
اسلامی قانون کے نقطۂ نظر سے دیکھیں، تو ایک تو جنس اور صنف میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جو جنس ہے وہی صنف ہے اور شریعت نے معاشرے میں انسان کے کردار کو انسان کی جنس کے ساتھ ہی جوڑا ہے۔ نیز شریعت کی رو سے جنس بس دو ہی ہیں اور اس وجہ سے صنف بھی بس دو ہی ہیں۔جہاں تک خنثیٰ کا تعلق ہے، تو وہ کوئی مستقل صنف نہیں ہے، بلکہ جب تک اس کی صنف کے تعین میں اشتباہ ہوتا ہے، اس کے متعلق فیصلہ معلّق رکھا جاتا ہے اور پھر جب ظاہری جسمانی علامات یا اندرونی تولیدی نظام کی جانچ کے ذریعے اس کی جنس کا تعین ہوجاتا ہے، تو پھر اسی جنس کے احکام کا اس پر اطلاق ہوتا ہے۔ خواجہ سرا چونکہ جسمانی طور پر مرد ہوتے ہیں، اس لیے ان پر مردوں ہی کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے خواہ خصی ہونے (یا خصی کیے جانے) کی بنا پر وہ جنسی عمل سے معذور ہوں۔
ٹرانس جینڈر دراصل ”مخنّث“ ہیں:
ٹرانس جینڈر یا ماوراے صنف اشخاص کےلیے خنثیٰ یا خواجہ سرا کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے اور یہ غلطی اگر قصداً ہورہی ہے تو یہ دھوکا اور فریب ہے۔ ان کےلیے زیادہ مناسب شرعی اصطلاح ”مخنّث“ کی ہے۔ مخنث وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہوتے تو مرد ہیں لیکن وہ عورتوں کی سی چال ڈھال اور رنگ ڈھنگ اپنا لیتے ہیں اور عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
ایسا اگر کسی جسمانی یا نفسیاتی عارضے کی وجہ سے ہو، تو ان کا علاج کیا جانا ضروری ہے، ایسے شخص کے ساتھ ہمدردی کا سلوک ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے لیکن قانونی اعتبار سے اسے مرد ہی سمجھا جائے گا اور اس پر مردوں ہی کے احکام کا اطلاق ہوگا۔
تاہم اگر کسی مرد نے عورتوں کی مشابہت فسق کی وجہ سے اختیار کی ہو، تو پھر اس پر فاسق کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں اسے تعزیری سزا بھی دی جاسکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے رحمت للعالمین ہونے کے باوجود ان مردوں پر لعنت کی جو عورتوں سے مشابہت اختیار کریں اور اسی طرح ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو مردوں سے مشابہت اختیار کریں۔قرآن کریم نے ابلیس کے حربوں میں ”اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بگاڑنے“کا خصوصاً ذکر کیا ہے (سورۃ النسآء، آیت 119)۔ اس وجہ سے ایسے تمام کام جو ”اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بگاڑنے“کے زمرے میں آتے ہوں، ان پر قانونی پابندی لگانا اور ان کی روک تھام کی کوشش کرنا اسلامی معاشرے میں حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔
اس قانون کا ہم جنس پرستی کے ساتھ تعلق:
ایک تو یہ قانون دراصل یوگیا کارٹااصولوں کی پابندی یقینی بنانے کےلیے وضع کیا گیا ہے۔ دوسرے، اس قانون کے نتیجے میں جسمانی مرد کو خود کو عورت، اور جسمانی عورت کو خود کو مرد کہلوانے کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ چنانچہ اگر قانون نے کسی جسمانی مرد کو عورت مان لیا ہے، اور یہ نام نہاد عورت کسی اور مرد سے شادی کرے، تو کیا یہ ہم جنس پرستی نہیں ہوگی؟
اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ اس قانون میں تو شادی کے متعلق کچھ ہے ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کہ اگر قانون میں کچھ نہیں ہے، تو یہ کیا یہ ماوراے صنف اشخاص، جو اس قانون کے بنانے والوں کے خیال میں پہلے ہی بہت مظلوم ہیں، شادی نہیں کریں گے؟ کیا یہ ان پر مزید ظلم نہیں ہوگا؟ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر اس قانون نے ان کےلیے شادی کے حق کی بات نہیں کی ہے، تو ان کی شادی پر پابندی بھی تو عائد نہیں کی ہے۔ تو اگر آج نہ سہی، کچھ عرصے بعد یہ شادی کرنا چاہیں، تو کس سے کریں گے؟ اس سوال کے جواب سے ہی اس قانون کا ہم جنس پرستی کے ساتھ تعلق معلوم ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ اس بات کا اضافہ کیجیے کہ دنیا کے ہر ملک میں ٹرانس جینڈرز کے حقوق کی بات ہم جنس پرستی اور جنسی آزادی کے ”حق“ کے ساتھ کی جاتی ہے۔ قریب کی مثال بھارت میں دیکھ لیجیے جہاں ٹرانس جینڈرز کے حقوق کےلیے کام کرنے والی این جی او ”ناز“ نے بھارت کے مجموعۂ تعزیرات سے ہم جنس پرستی کی سزا کے خاتمے کےلیے بھی جدوجہد کی اور بالآخر بھارت کی سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ لینے میں کامیاب ہوگئی کہ مجموعۂ تعزیرات کی مذکورہ دفعہ بھارتی آئین میں مذکور شہریوں کے بنیادی حقوق، بالخصوص مساوات کے حق اور جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت، کے خلاف ہے اور اس بنا پر بھارتی سپریم کورٹ نے اس دفعہ کو کالعدم کردیا (نوتج سنگھ جوہر بنام یونین آف انڈیا، اے آئی آر 2018 سپریم کورٹ 4321)۔
پاکستان میں بھی ٹرانس جینڈرز کے حقوق کےلیے کام کرنے والی این جی او ”ناز“ ہی کے نام سے ہے۔ چنانچہ ”ناز اتحاد برائے مردانہ صحت “ (       Naz Male        Health         Alliance) کے نام سے تنظیم ٹرانس جینڈرز اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کےلیے کام کرتی ہے۔ ”اسے بین الاقوامی ناز فاؤنڈیشن“ (Naz        Foundation        International) کے علاوہ ایشیا فاؤنڈیشن، یو ایس ایڈ اور مقامی سطح پر عورت فاؤنڈیشن اور ”فورم فار ڈگنٹی انیشیٹو“ (Forum        for         Dignity        Initiative) کا تعاون حاصل ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ شریعہ وقانون کے چیئرمین ہیں اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ذیلی ادارہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

(mushtaq.dsl@stmu.edu.pk)

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں