Home » مسئلہ شر میں وجوب کا سوال
کلام

مسئلہ شر میں وجوب کا سوال

یہ بہت دلچسپ اعتراض ہے کہ آپ خدا کو پابندکر رہے ہیں کہ وہ لازما آپ کے ساتھ اچھا ہی کرے۔ ظاہر ہے کم ہی کوئی شخص، خدا پر اس پابندی کو اس معنی میں قبول کرے گا۔ سو مسئلہ خیر و شر میں ہونے والے اعتراضات سے پہلو بچانے کا یہ انداز خوب ہے کہ جی آپ خدا کو پابند کر رہے ہیں حالانکہ یہاں سوال خدا کو پابند کرنے کا ہے ہی نہیں بلکہ تصور خدا کی
Intelligibility
اور اس تصور خدا پر پیدا ہونے والے سوالات/اعتراض کا ہے۔ مثلا آپ اگر یہ کہتے ہیں کہ میرا تصور خدا، ایک ایسے خدا کا تصور ہے کہ وہ انسانوں کو جبرا جہنم میں بھی ڈال دے تو تم کون ہوتے ہو سوال کرنے والے یعنی یہ جبرا جہنم میں ڈالنا اچھا ہی ہوگا۔ آپ اس تصور خدا کو رکھنے میں حق بجانب ہیں۔ اس میں منطقی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ اب خدا میرے حق میں بھلائی چاہے یا وہ میرے حق میں برائی، میری کیا مجال اور اس کا ہر عمل اچھا ہی ہوگا؟ اس کے بعد آپ فوری پلٹ کر مجھے یہ اعتماد نہیں دلا سکتے کہ دیکھو وہ تمہارے ساتھ لازما “اچھا” ہی کرے گا کیونکہ وہ “سر تا سر خیر” ہے کیونکہ آپ نے اچھائی اور برائی کا میرا پیمانہ
Dissolve
کردیا ہے۔ اب جبکہ میرا پیمانہ (خدا کے حق میں) باقی نہیں تو میرے لیے یہ بات کہ خدا “سر تا سر اچھائی” ہے
Intelligible
نہیں رہے گی یا یہ کہ خدا “میرے حق میں” اچھا ہی کرے گا۔ ہاں آپ یہ کہہ
سکتے ہیں خدا “تمہارے حق میں کچھ کرے گا”۔

اسی طرح آپ یوں دلیل نہیں گھما سکتے کہ خدا سے متعلق “اچھائی” تو تمہاری سمجھ میں آسکتی ہے یا خدا پر لفظ اچھائی کا اطلاق تو کیا جاسکتا ہے لیکن لفظ برائی کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں آپ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ خدا انسان کے سمجھ سے کُلاً ماورا ہے۔ سر تسلیم خم!

سو جب یہ سوالات و اعتراضات کیے جاتے ہیں تو یہ نہیں کہا جاتا کہ خدا پر واجب ہے کہ وہ اچھا کرے۔ سوال آپ کے تصور خدا پر ہے جس کے کچھ تقاضا جات ہیں جو لزوم نہیں بلکہ
Intelligibility
سے پیدا ہوتے ہیں۔ آپ محض یہ کہہ کر آگے نہیں بڑھ سکتے کہ لزوم پیدا نہیں ہو رہا۔ آپ جس ہستی کا تصور پیش کر رہے ہیں ان صفات کے کچھ تقاضا جات ہیں اور وہ تقاضا جات ان صفات کو
Intelligible
بناتے ہیں۔ آپ یا تو ان صفات کی
Intelligibility
باقی رکھ سکتے ہیں اور سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں یا وہ ختم کرتے ہوئے آپ فہم ذات کو
Reduce
کرسکتے ہیں پھر آپ اس نوعیت کے
Tautological
جملے بول سکتے ہیں جو اوپر مذکور ہیں۔

مثلا سامنے والا آپ کے تصور خدا پر سوال اٹھا رہا ہے تو یہ سوال آپ کا تصور خود پیدا کرتا ہے۔ آپ کہیں ایک ہستی
omnipotent,        omniscient,         omnipresent,           and         omnibenevolent
ہے تو سوال یہاں سے پیدا ہوتے ہیں کہ کیسے ایسی صفات کا حامل خدا ایک ایسی دنیا تخلیق کرسکتا ہے جس میں انسانوں کو درد ملے یا انسان تکالیف کاٹیں وغیرہ جبکہ وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایسی دنیا و امتحان گاہ پیدا کرسکتا جہاں یہ تکالیف نہ ہوتیں! آپ کہیں کہ دیکھیے خدا پر لازم نہیں ہے کہ وہ آپ کو لازما سمجھ آئے، درست ہے۔ سر تسلیم خم۔ سو پھر اسے پوری طرح قبول کرنا چاہیے اور کسی نوعیت کی
Intelligibility
کی کوشش کو (اس باب میں) لایعنی قبول کرنا چاہیے کیونکہ یہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ پھر خدا سمجھ نہیں آسکتا اور بس! اس پر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا کی اچھائی تم سمجھ سکتے ہو یا اچھائی کا یہ پہلو سمجھ سکتے ہو اور باقی نہیں سمجھ سکتے یا یہ کہ خدا پر لازم نہیں ہے کہ وہ اچھا ہی کرے۔ ہاں اگر آپ یہ دلیل دیتے ہیں تو اس کے نتائج کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ مثلا اگر کوئی مذہب ایک ایسے دیوتا پر یقین رکھتا ہے جو انسانوں کو اذیت دیتا ہے اور وہ اذیت اس کے ہاں بری بھی نہیں کیونکہ اس پر انسانی پیمانے لاگو نہیں ہوسکتے تو آپ اب اچھائی کی گفتگو بھی نہیں کرسکتے۔ اب بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ دیوتا ہے، وہ یہ کرنے پر قادر ہے اور وہ انسانوں کے حق میں یہ کرتا ہے۔

آپ مختلف تصور خدا پیش کریں تو سوال مختلف ہوں گے لیکن آپ اگر خدا کو فی نفسہ “اچھا” پیش کر رہے ہیں تو اس سے مزید سوال جنم لیں گے جن کا جواب دینے کی کوشش سے جو مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں ان سے پہلو لزوم کا سوال اٹھا کر نہیں بچایا جاسکتا۔ سو یہ تقاضا آپ کا تصور خدا خود پیدا کر رہا ہے۔

جس طرح یہ بات کہ انسانی اخلاقی قواعد کا اطلاق خدا پر نہیں کیا جاسکتا اور خدا جو کرتا ہے وہ حسن بمعنی جائز ہے۔ درست ہے۔ آپ یہ جواب دینے میں بھی حق بجانب ہیں لیکن اب اس کے نتائج کو بھی دیکھئے:

۱- اگر انسانی اخلاقی قواعد کا “اطلاق” خدا پر نہیں ہوسکتا تو حسن بمعنی جائز کا اطلاق کیونکر خدا پر ہوسکتا ہے کیونکہ حسن ایک خالی کیٹگری ہے سو جملہ یوں بنے گا:

خدا جو کرتا ہے وہ کرتا ہے یا خدا جو کرتا ہے وہ کرسکتا ہے!

آپ اس کو کوئی بھی
Positive value assign
نہیں کرسکتے اور بس یہی دہرا سکتے ہیں کہ خدا جو کرتا ہے وہ کرتا ہے۔ آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ خدا کا جو فعل ہے، وہ جائز ہے۔آپ بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا جو فعل ہے وہ فعل ہے کیونکہ وہ افعال انجام دے سکتا ہے۔

۲- اگر خدا کے افعال انسانوں کے حق میں برائی سے اعتبار نہیں ہوسکتے تو آپ بس اچھائی کی بات کیسے کہہ سکتے ہیں اس طرح خدا کا
Omnibenvolent
بھی کوئی معنویت نہیں رکھتا۔ کیونکہ خدا کے افعال کسی کے “حق” میں اچھے یا برے ہوسکتے ہیں۔ بصورت دیگر جملہ یہ ہوگا کہ خدا اچھا ہے لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ اس اچھائی سے مراد کیا ہے اور وہ اچھائی کس کے لیے ہے۔

سو آپ کو اس سارے مسئلے کی
Intelligibility
قربان کرتے ہوئے مسئلے کو حل کرنا پڑے گا جس میں تمام تر کوشش نقد سے خود کو بچانے کی ہے جس میں خیر و شر سے متعلق ہماری معلومات میں بہت کم اضافہ ہوتا ہے۔

محمد حسنین اشرف

محمد حسنین اشرف صاحب بیلیفیڈ یونیورسٹی (جرمنی) میں ایم ۔اے فلسفہ و تاریخ سائنس کے طالب علم ہیں اور میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار ہسٹری آف سائنس میں بہ طور ریسرچ اسسٹنٹ کام کر رہے ہیں۔

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں