Home » کیا وجودِ باری عقلا ثابت شدہ تصور ہے ؟
کلام

کیا وجودِ باری عقلا ثابت شدہ تصور ہے ؟

ڈاکٹر خضر یسین

اس سوال کا جواب دینے سے قبل میں یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہاں مذہبی ایمانیات پر بات نہیں کر رہا ہوں۔ یہ فقط ایک تصور ہے جس کی نسبت بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ثابت شدہ حقیقت ہے اور انہی لوگوں جتنے سیانے دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ایسا تصور ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے۔
تصور اور متصور اس وقت دو مختلف فضائل ہوتے ہیں، جب تصور اور شے متصور میں عینیت کا رشتہ نہ ہو۔ مثلاً زید اور زید کا تصور دونوں میں عینیت نہیں ہے۔ زید کی ہستی، زید کی نسبت تصور سے قبل موجود تھی، جب میں یا آپ زید کی نسبت ارادہ تعقل سے متوجہ ہوئے تو زید کی ہستی کا تصور ہمارے حیطہ تعقل میں قائم ہو جاتا ہے۔ اب تصور کے مقابل خارج میں ایک ہستی ہے، جس کی نسبت سے یہ تصور منسوب ہے۔ ایسا تصور جس کے مقابل خارج میں متصور موجود نہ ہو خیال محض ہے اور کچھ نہیں ہے۔
میں ارادہ تعقل کی نیت سے خارج کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ فقط اپنے خیال کے دائرہ عمل میں رہتے ہوئے خیال بننے لگتا ہوں۔ خیال بننے کے نتیجے میں اب جو تصور سامنے آیا ہے، ایسا ہے کہ اس کی شے متصور تصور کا عین ہے۔ فرض کریں میں اس تصور کے ساتھ ایک اور تصور جمع کر دیتا ہوں کہ میرے خیال میں موجود “خیالی شے” میرے خیال سے باہر بھی موجود ہے۔ اس خیال در خیال میں تصور اور شے متصور میں دوئی نہیں آ جاتی۔ جب تک ان دونوں میں دوئی نہیں آتی، یہ شے خیال کی پروڈکشن ہے اور بس
واقعی علم یا positive        science میں علم اور معلوم کے مابین ناقابل عبور دوئی واجب ہوتی ہے۔ جب تک یہ دوئی سو فیصد قائم نہیں ہو جاتی، واقعی علم وجود میں نہیں آتا۔ چنانچہ علمیاتی سطح پر سب پہلے وجود باری کے تصور اور متصور میں ثنویت ثابت کرنی واجب ہے۔ پہلے مرحلے میں اگر یہ ثنویت ہی اسٹیبلش نہ ہو سکے تو یہ ساری بحث پانی میں مدھانی چلانے کے برابر ہو گی۔
اگر وجود باری کا تصور ثابت شدہ حقیقت ہے تو اسے تصور سے متصور کو باہر نکال کر مستقل بالذات ثابت کرنا ضروری ہے۔ تصور کے ساتھ ایک تصور ملا دینا ایسا ہے جیسے صفر کے ساتھ صفر جمع کر دی جائے اور حاصل جمع کو عدد بنا دیا جائے۔
عقلی تصور میں سلب و ایجاب کی اہلیت ہوتی ہے۔ مگر سلب و ایجاب جب تک تصور اور متصور کے مابین ثنویت پر حکم نہ بنے نفس الامر میں خیال محض pure        imagination ہی رہتا ہے۔
ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ وجود تو مستقبل بالذات حقیقت ہے اور عدم امر اضافی ہے۔ وجود مستقل بالذات حقیقت نہیں ہے، یہ شے موجود کی صفات میں سے کوئی مستقل بالذات صفت بھی نہیں ہے۔ جب میں کسی شے کی شیئت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تو وہ چند صفات کا ایک مجموعہ ہے۔ ان میں سے ایک ایک کر کے میں صفات کو منہا کرنے لگوں تو آخر الامر جس صفت کو مجھے رفع کرنا ہے وہ محل یا مکان ہو گا۔ میں مکان یا محل کو بھی منہا کر دوں تو شے کا وجود مکمل طور پر معدوم ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ وجود فی نفسہ مستقل شے نہیں بلکہ چند صفات کی یکجائی شے کا وجود متصور ہوتی ہے۔ وجود باری کے تصور کو جب ہم دیکھتے ہیں تو وہ انہی صفات کا مجموعہ ہے جن کو ہم اس میں شامل کرتے جاتے ہیں۔ جن صفات کو ہم اس میں شامل کرتے ہیں انہیں ہم اس سے منہا بھی کر سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں وجود باری ایک وضعی تصور تو بن جاتا ہے، لیکن اسے ایک بنیادی تصور متصور نہیں کیا جا سکتا۔
عدم باری کی نسبت آپ ان دلائل کو معکوس آرڈر پر لے آئیں جو وجود باری کی نسبت قائم کیے ہیں تو آپ معدومیت باری تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی طرح معدومیت باری کے دلائل کا معکوس آرڈر پر لے کر چلیں تو آپ وجود باری تک پہنچ جاتے ہیں۔
تصور سے کھیلنے کا وظیفہ مدرسے کے بچوں کی ذہانت تیز کرنے کا وسیلہ ہوتا ہے۔ اس میں تعلیمی غرض شامل ہوتی ہے۔ جہاں تک نفس الامر کا تعلق ہے تو اس کے اور تصور کے مابین مغائرت پہلے مرحلے میں ثابت کرنی پڑتی ہے۔ جسے وجود باری اور معدومیت باری پر تماشا رچانے والے متکلمین قیامت ثابت نہیں کر سکتے

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں