Home » توہین مذہب کے الزامات اور اسلامی فقہ
سماجیات / فنون وثقافت فقہ وقانون

توہین مذہب کے الزامات اور اسلامی فقہ

 

(۵ فروری ۲۰۲۶ء کو ’’بلیک ہول’’ اسلام آباد میں منعقدہ پینل ڈسکشن میں سوالات کے جوابات، معمولی حک واضافہ کے ساتھ)

سوال: میرا بنیادی سوال ہے کہ توہین یا اہانت کی ہمیں تعریف بتائی جائے کہ توہین یا اہانت ہوتی کیا ہے؟

جواب:  توہین کا جو لفظ ہے ،یاتصور ہےاس طرح کے تصورات ایسے ہوتے ہیں —جیسے ہمارے ہاں عام طور پر فحاشی کے بارے میں بھی سوال ہوتا ہے کہ فحاشی کیا چیز ہے؟— کہ اس کی کچھ شکلیں بالکل واضح ہوتی ہیں، یعنی اس میں کوئی تردد  دیکھنے سننے والے کو نہیں ہوتا کہ یہ توہین ہوئی ہے۔ کچھ شکلیں بہت واضح ہوتی ہیں کہ وہ توہین نہیں ہے اور کچھ شکلیں درمیان میں ہوتی ہیں جس میں پھر آپ کو کئی اور فلٹر لگا کر یا کچھ معیار طے کر کے ان کی روشنی میں دیکھنا ہوتا ہے کہ یہاں توہین ہوئی ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص اگر کسی مذہبی مقدس کتاب کو اٹھا کر گندگی میں پھینک دے— کسی بھی مذہب کی کتاب ہو— اس عمل میں کسی کو کوئی شبہ  نہیں ہوگا کہ یہ آدمی اس کتاب کی توہین کرنا بھی چاہ رہا ہے اور اس نے کی بھی ہے۔ لیکن مثال کے طور پر  قرآن مجید میں واقعہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ ایک خاص کیفیت میں، غصے کی کیفیت میں، انہوں نے جو تورات کی  الواح اٹھائی ہوئی تھیں، وہ ایک طرف ڈال دیں یا پھینک دیں۔ اپنے بھائی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے  ان کی توجہ اس طرف نہیں رہی ۔ اب یہ دیکھنے میں بظاہر عمل وہی ہے، لیکن ان کا محرک یا ان کی نیت یا ان کا قصد توہین کرنے کا نہیں ہے بلکہ اصل میں ناراضگی کی کیفیت میں ان کو یہ احساس نہیں رہا اور وہ اپنے بھائی کی طرف آگے بڑھے۔ اس طرح کی مثالیں آپ اور بھی دیکھ سکتے ہیں۔

اسی طرح کسی شخصیت کے بارے میں یا کتاب کے بارے میں کوئی شخص مثلاً‌ گالی دے تو کوئی اس میں بحث نہیں پیدا ہوگی کہ اس نے توہین کی ہے، لیکن اگر کوئی اس کے بارے میں اپنی رائے بیان کرے، اپنا نقطہ نظر بیان کرے کہ میں اس کتاب کے بارے میں یا اس شخصیت کے بارے میں یہ رائے رکھتا ہوں اور وہ الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جو بظاہر offensive ہو تو اس کو ہم توہین نہیں کہیں گے۔ لیکن ان دونوں کے درمیان میں کئی تعیبرات (expressions) ایسی ہو سکتی ہیں، أفعال  (actions) ایسے ہو سکتے ہیں کہ ان میں پھر ہمیں یہ دیکھنا پڑتا ہے۔ یہی وہ دائرہ ہے جس میں آپ کے قوانین بھی آپ کو بہت سے معیارات بتاتے ہیں ،ہماری فقہ میں بھی اس پر بہت تفصیلات ہیں۔ اس طرح کے اعمال میں یا اس طرح کے اقوال میں ہمیں دیکھنا چاہیے کہ سیاق کیا تھا، سچویشن کیا تھی، الفاظ کیا بولے گئے اور کہنے والے کی نیت کیا تھی؟ نیت بہت اہم بن جاتی ہے کہ عمل کرنے والا یا الفاظ بولنے والا کس مقصد سے اور کس نیت سے عمل کر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بظاہر دیکھنے میں بہت offensive ہو، سننے والے یا دیکھنے والے کے نقطۂ نظر کے لحاظ سے اس کی عقیدت کو مجروح کرنے والا ہو، لیکن قائل کی یا فاعل کی نیت توہین کرنا نہیں ہے۔ تو یہ پھر بیچ میں ایک grey area آ جاتا ہے اور ظاہر ہے اس میں پھر ہمیشہ بحث کی گنجائش رہتی ہے۔ عدالتیں  اس کی سماعت کرتی ہیں، پھر اس نوعیت کے معاملات میں وہی طے کرتی ہیں کہ کیا واقعی نیت توہین کی ہے یا نہیں۔

سوال:  میں یہ ایک سوال رکھ رہا ہوں کہ چونکہ اب یہ ایک ریاست ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں، جس کے قوانین ہیں، جس کے ادارے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں، عدالتیں ہیں، ہمارے پاس تین بلکہ چار قسم کی ہماری پرتیں ہیں عدالتوں کی، ہمارے پاس سیشن کورٹس ہیں، ہائی کورٹس ہیں، سپریم کورٹ ہے، اور ہمارے پاس شریعت بینچ ہے، وہ بھی بہت سارے فیصلے کرتی ہے اور بہت سے فتاوی جاری کرتی ہے۔ تو سوال میرا یہ ہے کہ ریاست میں یہ کون بتائے گا کہ یہ توہین ہے؟ ریاست میں ایسا کون سا ادارہ ہوگا، ایسے کون سے علماء ہیں؟  کیا یہ پرائم منسٹر کا کام ہے؟ گورنر کا کام ہے؟ آئی جی کا کام ہے؟ محلے کے مولوی صاحب کا کام ہے؟ دانش ور کا کام ہے؟ شاعروں کا کام ہے؟ کس کا کام ہے کہ جو یہ بتائے کہ یہ توہین ہے؟

جواب:  آپ کا جو سوال ہے، اصل میں یہ ہے کہ واقعتاً کسی نے کوئی ایسے الفاظ بولے ہیں یا ایسا کوئی عمل کیا بھی ہے تو اس پر قانونی کارروائی کا یا اس کو سزا دینے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ کیا جس نے دیکھا یا سنا، وہ از خود طے کر کے کہ اس نے توہین کی ہے، اسے سزا دے سکتا ہے؟ تو اسلامی قانون میں اور شریعت میں یہ بہت واضح ہے کہ از خود کسی پر مقدمہ چلانا یا اس کا فیصلہ کرنا اور اس کو سزا دینے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جب قرآن مجید میں یہ ہدایت اتری کہ اگر کوئی آدمی کسی پر بدکاری کا الزام لگاتا ہے تو اس کو چار گواہ پیش کرنے ہوں گے تو اس پر ایک صحابی آپ کے پاس آئے اور کہا کہ  اگر کوئی شخص اپنے گھر میں دیکھے کہ اس کی بیوی  کسی غیر مرد کے ساتھ ملوث ہے تو وہ چار گواہ کہاں سے ڈھونڈے گا؟  اگر میرے ساتھ ایسا واقعہ ہوا تو میں تو وہیں اس کو قتل کر دوں گا۔ اب دیکھیں اتنا پرائیویٹ معاملہ ہے، ایک آدمی کے گھر کا نجی معاملہ ہے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی اجازت نہیں دی ۔اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے یہ منقول ہے کہ اسی نوعیت کے  ایک واقعے کی ان کے پاس رپورٹ آئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو یا وہاں موجود ایک  شخص کو قتل کر دیا اور وہ کہتا ہے کہ یہ بدکاری میں ملوث تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ اس سے چار گواہ مانگو اور اگر وہ نہیں پیش کر سکتا تو اس کو قصاص کے لیے  مقتول کے وارثوں کے حوالے کر دو۔ تو اس میں اسلامی قانون میں، شریعت میں اور کسی بھی فقہ میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ خاص طور پر توہین رسالت کے باب میں تو حنفی فقہ میں بڑی دلچسپ بات کہتے ہیں کہ اگر الزام کسی مسلمان پر ہے جس کے بارے میں ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ اس نے توہین کی ہوگی، اگر اس پر الزام ہے اور وہ انکار کرتا ہے کہ میں نے یہ نہیں کی، تو چاہے اس نے وہ عمل کیا بھی ہو، پھر بھی اس کا انکار ہی کافی ہوگا اس بات کے لیے کہ اس کو اس الزام سے بری قرار دیا جائے گا۔ گویا یہ اس کی توبہ شمار ہوتی ہے۔

سوال:   توہین  رسالت کے قانون کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف ہے کہ:

“اس وقت جو قانون بنایا گیا ہے وہ قرآن مجید کی مجموعی تعلیمات کے بھی خلاف ہے، قرآن مجید کی تصریحات کے بھی بالکل خلاف ہے، وہ مسلمانوں کا جو فقہی سرمایہ ہے اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کے بھی خلاف ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر احناف ہیں حنفی فقہ کے ماننے والے لوگ ہیں، ان کے ہاں توہین اپنی ذات میں زیر بحث ہی نہیں ہے۔ وہ ارتداد کے ذیل میں اس پر بحث کرتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان نے اللہ تعالی کے پیغمبر کی توہین کی ہے یا پیغمبروں کی توہین کی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ارتداد اختیار کر لیا ہے  اس نے دین چھوڑ دیا ہے تو وہ اس کو اس کے تحت دیکھتے ہیں، اور اس میں بھی یہ کہتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں توبہ و استغفار کے لیے کہا جائے ، آدمی کو نصیحت کی جائے اور اس سے کہا جائے کہ تم نے غلط بات کی ہے، تمہیں چاہیے کہ اپنی غلط بات سے رجوع کر لو، بار بار توجہ دلانے کے باوجود اگر وہ صحیح رویہ اختیار نہیں کرتا تو پھر وہ ارتداد کی سزا بیان کرتے ہیں۔ یہ قانون تو معلوم نہیں کہ کس بنائے استدلال پر قائم ہے۔ میں نے ایک مرتبہ اس پر تبصرہ کیا تھا برسوں پہلے کہ یہ نہ قرآن پر مبنی ہے، نہ حدیث پر مبنی ہے، نہ فقہ پر مبنی ہے۔ اس کا ماخذِ استدلال جذبات ہے، اور کوئی چیز نہیں ہے۔”

غامدی صاحب کے موقف پر آپ کی رائے کیا ہے؟

جواب:  غامدی صاحب کی چونکہ آپ نے پوری گفتگو نہیں چلائی تو اس ٹکڑے میں  پوری بات سامنے  نہیں آتی کہ اس قانون میں غلطیاں اور نقائص کیا ہیں۔ لیکن میں تین نکات عرض کر دیتا ہوں جو اس قانون میں قابل ِغور ہیں اور ان کی اصلاح اور ان کے لحاظ سے قانون کی بہتری ممکن ہے۔ یہ صرف غامدی صاحب کی رائے نہیں ہے، آپ نے  ڈاکٹر مشتاق صاحب کا ذکر کیا، انہوں نے بھی یہ بات لکھی ہے اور پاکستان میں  دوسرے بہت سے جید علماء ہیں ، وہ بھی  اس پر رائے دے چکے ہیں۔ اس میں بنیادی طور پر تین چیزیں ہیں جو اس قابل اصلاح ہیں۔

  1. پہلی بات تو یہ ہے کہ قانون اس وقت اس شکل میں ہے کہ وہ ارادتاً اور نیت سے توہین کرنے میں اور غفلت میں یا بے پرواہی میں یا غیر محتاط طور پر جملے کوئی منہ سے نکل جائیں، اس میں فرق نہیں کرتا۔ یہ فرق تو سارے فقہی مکاتب ملحوظ  رکھتے ہیں۔ اس نکتے کو لازماً‌ قانون میں شامل ہونا چاہیے  کہ ارادتاً اور نیت کے ساتھ کی جانے والی گستاخی پر یہ قانون لاگو ہوگا، اگر کسی سے بے احتیاطی سے یا بلا ارادہ ا ایسے کلمات نکل گئے ہیں تو وہ اس قانون کے تحت نہیں آئے گا۔
  2. دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی نے گستاخی کی بھی ہے تو کیا اس پر توبہ کی گنجائش ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے؟ اس میں فقہاء کے نقطہ نظر مختلف ہیں اور ہمارے قانون میں ایک موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس کی  توبہ کا اس میں ذکر نہیں ہے۔ لیکن قرآن مجید سے بھی، احادیث اور صحابہ کے فتوؤں سے بھی معلوم ہوتا ہے اور  متعدد  فقہی مکاتب کے نزدیک بھی، جو خاص طور پر احناف کے ہاں توبہ کی گنجائش ہوتی ہے اور توبہ کی گنجائش اس کو دینی چاہیے۔ ہاں، یہ بات ٹھیک ہے جیسے مولانا نعیم صاحب نے کہا کہ اگر کوئی توبہ کر لے تو اس کو آپ گستاخی کی سنگین  سزا تو نہ دیں، لیکن  اگر وہ اس کا مستحق ہو تو اس کو آپ کم تر تعزیری سزا دے سکتے ہیں۔ بہرحال، قانون میں یہ اصلاح مطلوب ہے۔
  3. تیسری بات یہ کہ کیا اس گستاخی کے جرم کی واحد سزا موت ہے؟ یا اس سے کم تر بھی ہو سکتی ہے؟ اس میں بھی فقہا کا اختلاف ہے۔ ہمارے ہاں قانون امام  ابن تیمیہ کے قول پر بنایا گیا ہے، لیکن حکومت  کے پاس اختیار ہوتا ہے، وہ اس قانون کو بدل سکتی ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اس میں موت کے علاوہ دوسری جو متبادل سزائیں ہیں، ان کی بھی گنجائش رکھنی چاہیے۔ جرم کی نوعیت کے لحاظ سے، مجرم کے حالات کے لحاظ سے اور کس نوعیت کی اور کس درجے کی غلطی ہے، اس کے مطابق سزا ہونی چاہیے۔

یہ تین نکات قانون میں شامل کر لیے جائیں تو مجھے غامدی صاحب کی رائے سے مکمل اتفاق ہے۔

سوال:  میرا نام ذیشان سید ہے۔ میرا سوال جو یہاں  قابل احترام مہمان ہیں، ان سے ہے کہ یہ جو معاملات چل رہے ہیں، اس پر علماء کرام کی خاموشی کیوں ہے؟ تقریباً‌  700 خاندان متاثر ہیں، اس معاملے پر ان کی خاموشی کیوں ہے؟ اور دوسرا یہ کہ جو لوگ ابھی بڑی عدالتوں سے یعنی کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بری ہو گئے، ان پر جنہوں نے غلط الزامات لگائے، اس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟ اور ان کو کیوں سزائیں نہیں دی جا رہیں، اس پر کیوں نہیں بولا جا رہا ؟

جواب:  ذیشان صاحب کا سوال ہے کہ جو ذمہ دار بڑے علماء ہیں جو اس طرح کی مہموں میں شریک نہیں یا اس طرح کے جو گینگ ہیں، ان کا اس طرح حصہ نہیں ہیں، وہ اس پورے معاملے میں بات کیوں نہیں کرتے ۔ تو بڑے علماء، ذمہ دار علماء کی پوزیشن کے حوالے سے  دو تین چیزیں ہمیں سمجھنی چاہییں۔ ایک تو دیکھیں ان کے سامنے ایک بڑا مسئلہ اور خطرہ جس کا آج کی گفتگو میں بار بار اظہار ہو رہا ہے، وہ یہ ہے کہ مغربی قوتوں کی طرف سے اور ان کی حکومتوں کی طرف سے ایک مطالبہ موجود ہے اور ہمارے ہاں بھی اس کے نمائندے موجود ہیں جو چاہ رہے ہیں کہ توہین مذہب کو ایک جرم قرار دینے اور اس پر سزا کا جو قانون ہے، یہ ختم ہونا چاہیے۔ مغرب میں آپ کو معلوم ہے کہ اس کو rights میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک بڑا خطرہ علماء کے سامنے یہ ہے کہ ہم اگر اپنا وزن اس پلڑے میں ڈالیں یا ہماری کسی بات سے وزن اس پلڑے میں چلا جائے تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں عوام کا جو جذباتی پن ہے اور جس سطح پر وہ پہنچا ہوا ہے، اس میں ہمارے بڑے علماء نے وقت پر احساس نہیں کیا ہوگا اور اس کو پنپنے دیا ہوگا، اس میں کوئی ذمہ دارانہ موقف نہیں لیا ہوگا اور اب آ کر ان کے لیے بھی بہت مشکل ہو گیا ہے۔ لوگوں کے جذبات اس مسئلے میں مشتعل ہیں، تو اس سے ہٹ کر وہ کوئی بات کریں تو خود ان کی اپنی جو ایک credibility ہے یا ان کا مقام ہے، وہ متاثر ہوتا ہے۔ میرے خیال میں یہ اسباب ہیں جس کی وجہ سے وہ بات نہیں کرتے۔

یہ جو کیسز والا معاملہ ہے، میرے خیال میں اس میں گورنمنٹ کو اور ذمہ دار بڑے علماء کو مل کر ان پہلوؤں پر بات کر کے اس کا کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔ جہاں تک اس کا تعلق ہے کہ پی ٹی اے نے ویب سائٹس پکڑی ہیں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے ہیں تو ظاہر ہے، اس پر ہم نہیں بات کر سکتے۔ اگر کوئی ایسی ویب سائٹ ہے یا ایسے اکاؤنٹس ہیں تو ان کا پیچھا کرنا چاہیے، ان کو لازماً‌ بند ہی کرنا چاہیے اگر ان پر  ایسا گستاخانہ مواد ہے۔  لیکن یہ جو کیس آپ بتا رہے ہیں، ان میں سے شاید زیادہ تر ایسے ہوں گے جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ وٹس ایپ گروپس میں جا کر اور ان کو ٹریس کر کے اور پھر اس میں اس طرح کے طریقے استعمال کر کے جیسے ہنی ٹریپ ہے، ان پر  مقدمے بنوائے گئے ہیں۔  میرے خیال میں اس پر علماء کو اسٹینڈ لینا چاہیے اور اس میں علماء اور گورنمنٹ کے ذمہ داران بیٹھ کر اس کو دیکھیں کہ یہ اخلاقی طور پر بھی غلط رویہ ہے اور یہ قانون کا بھی شاید صحیح استعمال نہیں ہے کہ آپ کسی کو اس طرح ٹریپ کریں۔ اگر کچھ لوگ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور آپ مقدمہ بنوانے کے لیے خود اس میں شریک ہوں اور کچھ لوگوں کو ہنی ٹریپ کر کے قانونی ثبوت  فراہم کریں تو یہ اخلاقی اور قانونی دونوں لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔

اس میں دینی اور اخلاقی لحاظ سے  جو سٹریٹیجی زیادہ مناسب ہے ،وہ یہ ہے کہ ایسے گروپس اگر ٹریس ہوں یا ان کا پتہ کیا جائے جس میں اس طرح کا مواد شئیر ہو رہا ہے تو ماہرین نفسیات اور اہل علم  سے مدد لی جائے۔ خاص طور پر جو نوجوان بچے ہیں، کم عمر کے بچے ہیں، اس کا امکان ہو سکتا ہے اس طرح کے گروپس میں شامل ہوں اور اس لت میں مبتلا ہوتے چلے جائیں اور اس میں جو ان کی مذہبی اور اخلاقی حس ہے وہ دب جائے۔  ان کے ساتھ ہمدردی سے ان کے نفسیاتی علاج کا اور ان کی اصلاح کا کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ جو گروپ لیڈرز ہوں گے جو اس طرح کا مواد تخلیق کر رہے ہوں گے یا لوگوں کو اس میں مبتلا کر رہے ہوں گے، ان کو آپ پکڑیں،  لیکن جن نوجوانوں کو اس میں ملوث کیا جا رہا ہے، وہ اس میں دو لحاظ سے ہمدردانہ  نقطہ نظر کے مستحق ہیں۔ ایک تو انسانی ہمدردی کا تقاضا  ہے کہ وہ اس عادت میں پختہ نہ ہو جائیں، ان کی شخصیت بگاڑ کا شکار نہ ہو جائے، تو ان کو rehabilitation کے عمل سے گزارنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ آپ نے کسی پر قانونی طور پر کیس بنا  دیا تو ان کے خاندان  بھی اس کی زد میں ہیں۔  ہمارے جیسے معاشروں میں اس طرح کے نازک معاملات میں صرف ایک آدمی ملوث نہیں ہوتا، ان کے متعلقین ،ان کا خاندان وہ سارا اس کے ساتھ زد میں آ جاتا ہے۔ تو ان خاندانوں پر جو اثرات پڑتے ہیں، ان کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں ،وہ اذیت اور کرب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اس کی بھی اس میں رعایت ہونی چاہیے۔

ان سارے کیسز کے بارے میں ابھی تک یا تو ایک سیاسی جنگ  ہے یا ایک قانونی جنگ  ہے اور وہ دونوں طرف سے جو بھی  گروپس ہیں یا لابیز ہیں، وہ اپنا اپنا  زور لگا رہی ہیں، لیکن ان نوجوانوں کا اور ان کے خاندانوں کا یہ حق بنتا ہے کہ ان کے معاملے کو ہمدردی سے دیکھا جائے اور اس میں بڑے علماء اور ذمہ دار لوگ آگے آئیں  اور گورنمنٹ کے ساتھ بیٹھ کر، حکومت کے ساتھ مل کر کوئی اہم راستہ نکالیں۔ جو اس کیمپین کے لیڈرز ہیں ، جو دانستہ یہ کر رہے ہیں، ان کے معاملات کو الگ کیا جائے، اور جو لوگ اس میں مبینہ طور پر  ملوث ہوئے ہیں—مجھے نہیں پتہ کہ ان مقدمات  میں سے کتنے درست ہیں اور کتنے نہیں ہیں—تو اگر کوئی قانونی بے ضابطگی کر کے ان پر مقدمہ  بنایا گیا ہے، غیر اخلاقی طریقے اختیار کر کے مقدمہ  بنایا  گیا ہے تو ان کے لیے راستہ نکالنا چاہیے اور اگر کچھ لوگ واقعتاً اس عادت میں مبتلا  ہو چکے ہیں تو ان کے لیے rehabilitation کا کوئی راستہ ڈھونڈنا چاہیے۔

سوال:  مغربی ملکوں میں عام طور پر  غیر مسلم ہی اسلام کے خلاف   توہین کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں۔ مسلمان ایسے واقعات میں بہت کم ملوث نظر آتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب:  مغربی ممالک میں مسلمان بلاسفیمی کے مرتکب نہیں ہوتے تو اس کی وجہ تو وہاں کی سیاسی صورتحال ہے۔ مسلمان اقلیت میں ہیں، کمزور ہیں اور ان کے لیے اس طرح کا کوئی محرک بھی نہیں ہے کہ وہ کسی مذہب کے خلاف، خاص طور پر وہاں کا غالب مذہب مسیحیت ہے تو اس کے بارے میں اس طرح کی بلاسفیمی کریں۔ جارحیت  جو ہے، وہ  وہاں کے ان طبقوں میں ہے جو وہاں اسلام کی موجودگی کو یا مسلمانوں کی موجودگی کو وہاں کی تہذیب یا کلچر کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسلاموفوبیا کا عنصر کیونکہ مغرب میں ہے اور اس کے سیاسی اسباب ہیں تو اس لیے زیادہ تر آپ کو کیسز ایسے ہی نظر آتے ہیں کہ  ان لوگوں کی طرف سے اسلام پر حملہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو کوئی ضرورت بھی نہیں ہے اور کوئی محرک بھی ایسا نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتیں  کریں۔

سوال:  ایسا لگتا ہے کہ ہمارے علماء اور عدالت کو نہیں پتہ کہ اس الزام اور ایشو کا حل کیا ہے؟  اس قانون اور اس ایشو کی تعلیم کیوں نہیں دی جاتی کہ یہ غلط لکھا ہے، معافی قبول ہوتی ہے، شریعہ میں بندے کی نیت اور دماغی توازن سمجھنا ضروری ہے؟  ہم  یہ کیوں نہیں سمجھاتے کہ 295 سی خطرناک ہے، اس کا شریعت سے تعلق نہیں؟ اور عوام کو حوصلہ دیا جائے کہ اس قانون اور الزام کے مافیا کو ختم کرنے کی کوشش میں سارے علماء ساتھ مل کر کام کریں۔

جواب:  جو گفتگو ہم نے کی ہے، اس میں کم سے کم یہاں جو لوگ موجود ہیں، ان کا پوائنٹ آف ویو تو آپ کے سامنے آ گیا۔  اصل میں سوسائٹی میں ایک خاص سطح پر کچھ عناصر منظم ہو گئے ہیں جنہوں نے اس ایشو کو ایک سیاسی ایشو بنا کر اور اس میں لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر اس کے ساتھ مختلف مفادات بھی جوڑ رکھے ہیں۔ اس پر آپ دیکھیں، سرکاری اداروں کے اندر جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے ساتھ بھی ان کی  ایک نیٹ ورکنگ ایسی بن گئی ہے کہ اس پر بات کرتے ہوئے یا اس پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ریاست بھی گھبراہٹ میں مبتلا ہوتی ہے۔ علماء کی صورتحال میں نے عرض کی کہ علماء کی اپنی limitations ہیں، آپ اس کو اخلاقی کمزوری بھی کہہ سکتے ہیں، وہ موجود ہے۔  تو اس میں ایک مدد اور تائید  میرے خیال میں سول سوسائٹی کی طرف سے چاہیے۔ مثلاً‌ آپ اس فورم پر بات اٹھا رہے ہیں، اس طرح اور بھی لوگ ہیں، میڈیا پر بہت سے لوگ ہیں جو بات کر رہے ہیں۔ تو ہمیں ایک ایسا ماحول بنانے میں ریاست کی بھی مدد کرنی چاہیے  اور اس طرح جو ذمہ دار علماء  دیانتداری سے سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کو ایڈریس کرنا چاہیے، لیکن وہ کسی دباو کی وجہ سے نہیں کر پا رہے، ان   کو بھی سپورٹ مہیا کرنی چاہیے۔  اس طرح کے فورمز پر  اور دوسرے پلیٹ فارمز سے جب یہ بات ہوگی، سوالات اٹھیں گے، تو اسی سے اس دباو  کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ میرے خیال میں اس سے سازگار فضا  بنے گی۔

آپ دیکھیں، یہ بات پہلے نہیں ہو رہی تھی لیکن اب بات ہونا شروع ہو گئی ہے، اور میں نے تو یہ نوٹس کیا کہ اس طرح کے کیسز کے بارے میں جب گفتگو ہونا شروع ہوئی تھی تو ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کے بھی کچھ لیڈرز دفاع میں آ گئے تھے، انہیں کچھ گرم بیانات دینے کی ضرورت محسوس ہوئی، لیکن جیسے جیسے تفصیلات سامنے آئی ہیں، جیسے جیسے کیسز کی نوعیت سامنے آئی ہے، مقدمات کی پیچیدگی ایکسپوز ہوئی ہے تو آپ دیکھیں، جو بڑی نمایاں مذہبی قیادت ہے، وہ ان کے پیچھے کھڑی نہیں ہے۔  یہ اسی کوشش کا نتیجہ ہے کہ کچھ رپورٹس آئیں، کچھ جرنلسٹس نے بات کی، عدالت میں بات چلی گئی، آپ کے اس پلیٹ فارم پر بات ہوئی، اپنے اپنے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر لوگوں نے بات کی۔ تو ہمیں یعنی اس میں ریاست اور مذہبی قیادت کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ وقت آئے جب سارے ذمہ دار لوگ اس میں کوئی فیصلہ کن قدم اٹھا سکیں۔

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں