مبین قریشی
پہلی صدی ہجری کے سیاسی اور مذہبی ماحول کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مہدی کا تصور عباسی دور سے پہلے ہی مسلمانوں کے ذہن میں موجود تھا۔ اسی تصور کی وجہ سے بعض گروہوں نے اپنے رہنماؤں کو مہدی قرار دیا۔ مثال کے طور پر کربلا کے بعد کیسانیہ فرقے نے محمد بن الحنفیہ کو مہدی کہا اور ان کے بارے میں غیبت اور واپسی کا عقیدہ اختیار کیا۔ اسی طرح عباسی دور کے آغاز میں محمد النفس الزکیہ کے پیروکاروں نے انہیں بھی مہدی سمجھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں پیشن گوئیوں کے تحت ایک ایسے عادل حکمران کی پیشن گوئی موجود تھی جو ظلم کے بعد عدل قائم کرے گا، اور اسی امید کے زیر اثر مختلف سیاسی تحریکوں نے اپنے قائدین کو اس تصور سے جوڑنے کی کوشش کی۔
بعد کے زمانے میں بعض روایات میں مہدی کی جو مخصوص نشانیاں بیان ہوئیں—جیسے کہ وہ اہل بیت میں سے ہوگا، اس کا نام محمد اور اس کے والد کا نام عبد اللہ ہوگا، مشرق خصوصاً خراسان سے سیاہ جھنڈوں کے ساتھ لشکر نکلے گا—ان میں سے بہت ساری علامتیں حیرت انگیز طور پر دوسرے عباسی خلیفہ منصور کے بیٹے محمد بن عبد اللہ المہدی کی سیاسی تحریکی حقیقت کے عین مطابق ہیں۔ عباسی انقلاب خود خراسان سے اٹھا، اس کی فوجیں سیاہ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھیں اور عباسی خلافت نے اہل بیت سے قربت کے نعرے کو اپنی سیاسی مشروعیت کے حق کے لیے استعمال کیا۔ اسی وجہ سے اس طرح کی ساری روایات تقریباً مشکوک ہوتے ظاہر کرتی ہیں کہ اس دور میں مہدی کے پہلے سے موجود تصور میں حسب حال روایات گھڑ کر ایسی صورت دی گئی جس سے وہ عباسی حکومت کے حق میں جاتی محسوس ہوتیں تھیں۔ مذھب کا یہ ناجائز استعمال صرف اس وقت پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ یہ شہادت عثمان رض کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فتن کے دور سے عباسی + علوی اتحاد بمقابلہ بنو امیہ کشمکش میں مسلسل چلتا چلا آرہا تھا۔ اسی تناظر میں کعب احبار کی روایات میں آپکو شام کے فضیلیت کے آثار و روایات بھی ملتی ہیں۔
ابتدائی اسلامی استعمالات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ “مہدی” دراصل کوئی منفرد اور مخصوص لقب نہیں تھا بلکہ ایک عمومی وصف تھا جس کا معنی ہے “ہدایت یافتہ” یا “عدل قائم کرنے والا حکمران”۔ اسی وجہ سے حدیث میں “الخلفاء الراشدين المهديين” کا لفظ جمع میں آیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تاریخ میں کئی ایسے حکمران گزر سکتے ہیں جو ہدایت اور عدل کے ساتھ حکومت کریں۔ لیکن اس میں خاص بات یہ تھی کہ غالبا آخر الزمانی پیشن گوئیوں میں کسی بادشاہ کی کچھ نہ کچھ قابل تعریف پیشن گوئی موجود تھی جسے استعمال کرتے اس دودھ کے گلاس میں اتنی پانی کی بالٹیاں انڈھیل دی گئیں کہ اب مہدی سے متعلق ہر روایت ہی پہلی نظر میں مشکوک ٹھہرتے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے محض سند پر اعتبار اور عدم اعتبار کی بجائے تاریخی سیاسی کشمکش کے اثرات و شواہد کی درایت کی تشکیک لئے پرکھا جائے۔ صرف مہدی سے متعلق روایات ہی نہیں بلکہ قتل عثمان رض کے بعد فتن کے دور کی تقریباً ساری ہی روایات کی حالت یہی ہے۔
نوٹ : اس تحریر کو مہدی کے اقرار و انکار کے پہلو سے نہ دیکھا جائے ۔ اس بابت مجھے اگر کبھی لکھنا ہوا تو تفصیل سے لکھوں گا ۔ اس تحریر کو صرف اس پہلو سے دیکھیں کہ روایات کی کتب میں آئی پیشن گوئی اس طرح کی نہیں ہوتی کہ اس پر کوئی عمارت کھڑی کرلی جائے ۔ اور نہ ہی انھیں اس طرح دیکھا یا پڑھا جائے جیسے “ انجینئر صاحب “ اکثر کہتے نظر آتے ہیں کہ رسول اللہ ص نے بخاری میں فرمایا ۔ “وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ” کے ہاں اس طرح کے جملے تاریخ اور فن حدیث سے ناواقفیت کی دلیل ہوتے ہیں ۔




کمنت کیجے