Home » کیا سائنس کی ماہئیت یونیک ہے ؟
سائنس فلسفہ

کیا سائنس کی ماہئیت یونیک ہے ؟

علم کی بحث سے متعلق خلط مبحث میں سے ایک سائنس کو کوئی الگ تھلگ قسم کا علم سمجھنا ہے جس کی حقیقت و ماہیت (essence) گویا دیگر علوم سے کسی خاص طریقہ تحقیق وغیرہ کی بنا پر ممیز ہے۔ چنانچہ سائنس کے بارے میں درج ذیل قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں:

  • سائنس مشاہدے (observation) سے آغاز کرتی ہے
  • سائنسی مشاہدہ حسی (perceptual) ہوتا ہے
  • سائنس ابطال یا تردیدیت (falsification) کے اصول پر کام کرتی ہے
  • سائنس کا ایک خاص طریقہ تجربہ ہے جسے سائنٹفک میتھڈ کہتے ہیں
  • سائنس پیراڈائم کا نام ہے جو معاشرتی مسائل کے حال سے متعلق ہے
  • سائنس فہم یا understanding (یعنی تشریح اور پیش گوئی) کے بارے میں ہے
  • سائنس حقیقت و سچ (truth) سے متعلق ہے

علم و سائنس پر یہ طریقہ بحث غیر مفید و غلط ہے۔ سائنس کی ماہیت درج بالا میں سے کسی بھی چیز سے ڈیفائن نہیں ہوتی، سائنس کی ماہیت وہی ہے جو دیگر علوم کی ہے: یعنی علم (factive        state) ہونا جو دلیل (evidence) سے حاصل ہوتا ہے۔ دلیل نہ کسی خاص طرح کے مشمولات (content) میں محدود ہے (مثلاً حکم شرعی یا مادی امور) اور نہ ہی کنٹنٹ کے کسی خاص ماخذ (source) سے عبارت ہے (جیسے حسی مشاہدہ یا کسی خاص طریقے سے کیا جانے والا تجربہ)، بلکہ دلیل ان سے عام (general) ہے۔ متکلمین (Muslim        theologians) علم پر اسی نہج پر بحث کرتے ہیں کہ علم دلیل سے میسر آتا ہے اور دلیل ضروری (necessary) بھی ہوسکتی ہے جیسے بدیہی علم یا حسی علم یا بار بار کا تجربہ، اور استدلالی (inferential) بھی ہوسکتی ہے جیسے استخراج (deduction)، استقرا (induction)، سبر و تقسیم (abduction) وغیرہ۔ اس کے بعد تعلیمی مقاصد کے لئے وہ معلوم (known       or       object        of       knowledge) کے لحاظ سے علوم کی تقسیم کرلیتے ہیں جیسے مثلاً علم شرعی و غیر شرعی وغیرہ اور پھر علوم شریعہ کی بھی تقسیم کی جاتی ہے۔

ان دلائل سے حاصل ہونے والی چیز کو علم کہا جاتا ہے۔ سائنس بھی اصلاً ان دلائل سے متعلق ہے۔ چنانچہ بات کو سمجھنے کے لئے آسان کردیں تو درست طریقہ بحث یہ کہنا ہے کہ علم و سائنس ہم معنی ہیں، اس کے بعد ہمارے پاس مختلف علوم یا سائنسز ہیں جیسے مثلاً کلام، تفسیر، حدیث، فقہ، لسانیات، فزکس، کیمسٹری، معاشیات وغیرہ۔ جس طرح کسی بھی علم میں دلائل کی صحت کی بنا پر بعض امور تقریباً قطعی ہوتے ہیں اور بعض ظنی ہوتے ہیں، یہی حال مشہور اصطلاح میں سائنسی علوم سمجھے جانے والے علوم کا ہے۔ اس بات کو نہ سمجھنے سے طرح طرح کی غلط فمہیاں جنم لیتی ہیں۔

سائنس کے بارے میں مشہور غلط ڈسکورس ہی سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ علم گویا بس سائنس ہے۔ تاہم دلیل پر کوئی خاص قسم کی قید عائد کرکے (مثلاً حسی ہونا، لائق ابطال ہونا، پیش گوئی کرسکنا وغیرہ) دلیل و علم کو اس میں بند کردینا تحکم بھی ہے اور خود مشہور اصطلاح کے مطابق سائنسی علوم کی تاریخ اور ان کے تنوع سے بھی ہم آہنگ نہیں۔ اگر کسی علم میں بعض معلومات کا حصول مثلاً کسی خاص طریقہ تجربہ سے ہوتا ہے تو ان معلومات کا اعتبار خود اس طریقہ تجربہ کے دلیل ہونے کی حیثیت سے ہے، نہ کہ دلیل کے اس خاص طریقے میں بند ہونے میں۔ اس قسم کی باتیں سائنس کے نام پر علم کو ایک exclusive چیز بنانے کی کاوش ہوتی ہے اور بس جبکہ علم اپنی حقیقت و ماہیت میں inclusive (سب سے جنرل و پرائمری) ہے۔ پھر چونکہ اس قسم کے تصورات بعض وجوہ سے عام ہوگئے، لہذا بعض مذہبی لوگ بھی علم کو سائنس کے ہم معنی سمجھ کر یہ گمان کرتے ہیں کہ اس طرح ہم مسلمانوں کے تصور علم کو inclusive بنارہے ہیں جبکہ وہ از خود تحکمات و تعصبات پر مبنی ایک exclusive تصور علم کا شکار ہوتے ہیں۔ علم کے بارے میں اسی غلط فہمی کا شکار ہوکر ایسے لوگ نبی کی سچائی کے علم نیز اس سچے شخص کی خبر (جو از خود دلیل کی ایک قسم ہے) سے ثابت امور کو علم سے خارج کرکے ایمان نام کے ڈبے میں شامل کردیتے ہیں۔ اسی طرح ملحدین بھی سائنس کے بارے میں درج بالا قسم کی سٹیٹمنٹس کو بنیاد بنا کر خلط مبحث پیدا کرکے سائنس کو کوئی الگ تھلگ بالا تر قسم کا علم باور کراتے ہیں اور ان کے جواب میں اہل مذہب بھی ان اصطلاحات کو سائنس کی ماہیت و حقیقت کا بیان سمجھ کر ان سے بحث کررہے ہوتے ہیں جبکہ ان غیر ضروری امور کے بجائے گفتگو میں علم کی اولیت (primacy        of        knowledge) پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ البتہ ان امور سے سہو نظر کرتے ہوئے اگر کوئی شخص محض ایک اصطلاح ایجاد کرنا چاہتا ہے تو ظاہر ہے اس میں جھگڑا نہیں ہوسکتا۔

سائنس کو منہج یا “دلیل کی سورس” کی بنا پر کوئی خاص یا برتر قسم کا علم سمجھنا دراصل مغربی تاریخ میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور تعصبات کا نتیجہ ہے۔ ابتدائی دور میں اس غلط فہمی و تعصب کی شدت اس قدر تھی کہ صرف طبعیات کو سائنس سمجھا جاتا تھا، پھر مرور زمانہ کے ساتھ دیگر مادی علوم کے لئے اس لفظ کا استعمال روا رکھا گیا، پھر وقت کے ساتھ سماجیات و تجارت (بزنس) سے متعلق علوم کو بھی سائنس قبول کرلیا گیا، یہاں تک کہ اب ھیومینیٹیز اور قانون بھی سائنس کہلاتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ سائنس کے اطلاق کا یہ پھیلاؤ شاید ان علوم میں حصول علم کے کسی خاص اور واحد طریقہ کے رواج کی بنا پر ہے جبکہ فلاسفی آف سائنس کی جدید بحثوں سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ سائنس کہلانے والے علوم میں “سائنٹفک میتھڈ” نام کا کوئی ایک مخصوص اور واحد طریقہ مشترک نہیں، بلکہ سائنسی علوم مختلف النوع دلائل کے مجموعے سے عبارت ہیں۔ علوم ماخذات علم یا دلائل علم کے اعتبار سے نہیں بلکہ موضوع یا معلومات کے لحاظ سے تقسیم کئے جاتے ہیں۔ ایسا کوئی پیچیدہ و منظم ذخیرہ علم (باڈی آف نالج) موجود نہیں جس کی تمام معلومات محض کسی ایک قسم کی دلیل سے ماخوذ و مرتب شدہ ہوں۔ یاد رہے کہ انگریزی میں یہ لفظ سائنس جس زبان سے لیا گیا ہے، وہاں یہ لفظ علم ہی کے لئے بولا جاتا تھا جسے بعض غلط فہمیوں اور تعصبات کی بنا پر ایک خاص طریقے میں محدود کہا جانے لگا۔

ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ سائنس اس لئے خاص ہے کیونکہ سائنس معروضی (objective) ہے جس کے تصورات و نظریات کو بپلک ڈومین میں دلیل سے جانچا جاسکتا ہے۔ تاہم دوسرے کے لئے دلیل سے کسی دعوے کی جانچ و جرح وغیرہ ممکن ہونا، یہ کوئی ایسی خصوصیت نہیں ہے جسے سائنس کی خاصیت کہا جاسکے۔ متکلمین کی اصطلاح میں اسے دلیل میں الزام (bindingness) کا پہلو کہتے ہیں، یعنی دلیل ایسی ہونی چاہئے جو مخاطب کو اسے ماننے پر قائل و مجبور کرسکے (کیونکہ وہ کسی مشترک بنیاد پر قائم ہے) اور کسی دلیل میں یہ الزام کی شدت ہی کا پہلو ہے جو کسی دلیل کو رد کرنے والے پر معاند و مکابر (wilful /        arrogant        denier        or        stubborn) کا حکم جاری کرنے کا فائدہ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متکلمین مسائل عقلیہ و قطعیہ میں صوفیا یا عام لوگوں کے الہام و خواب کو دلیل قبول نہیں کرتے اس لئے کہ اس میں دوسرے پر الزام کا پہلو نہیں ہوتا (مسائل ظنیہ میں ذاتی نوعیت کے امور کا مسئلہ الگ ہے)۔ چنانچہ جسے کسی دعوے کی بذریعہ تجربہ جانچ کا امکان کہتے ہیں، یہ دلیل کے ملزِم (binding) ہونے کا صرف ایک خاص طریقہ ہے نہ کہ واحد طریقہ (اس کے واحد پیمانہ ہونے کی غلط فہمی دلیل کو ایک خاص مفہوم میں بند کرنے سے پیدا ہوتی ہے جس کی غلطی پر ہم تبصرہ کرچکے ہیں)۔ چنانچہ بدیہی دلیل، حسی دلیل، استدلالی ساختوں پر مبنی دلیل، تجربے پر مبنی دلیل وغیرہ سب ملزِم کہلاتی ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ سب دلائل ایک ہی طرز پر الزام کے پہلو کے حامل ہوں۔

دلیل میں الزام کے پہلو کو نام نہاد تصور سائنس کے ساتھ خاص کرنے کی غلطی ہم ایک مثال سے سمجھاتے ہیں۔ علم حدیث کو لیجئے۔ فرض کریں ایک محدث کی تحقیق کا دائرہ کار یا موضوع یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا کسی معین خبر کی نسبت نبی علیہ السلام کی جانب درست ہے یا نہیں۔ اس کے لئے وہ ثقہ و غیر ثقہ راوی (authentic        and        unauthentic        reporter) کی جانچ کا نظریہ یا اصول مقرر کرتا ہے اور اس عمل میں وہ دلائل لفظیہ و عقلیہ نیز انسانی تجربات سے استنباط کرتے ہوئے انسانی رویوں کو تقسیم (classify) کرتا ہے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ مثلاً فلاں فلاں قابل مشاہدہ اوصاف کسی انسان کے ثقہ یا غیر ثقہ ہونے کا پیمانہ ہیں۔ پھر وہ انسانوں کا مشاہدہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ اس میں وہ فلاں وصف پایا گیا یا نہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ دور دراز علاقوں کا سفر بھی کرتا ہے، لوگوں کے مشاہدے کے لئے ان سے ملاقات کرتا اور ان کے ساتھ رہتا ہے وغیرہ۔ اس عمل سے جو ڈیٹا اسے حاصل ہوتا ہے اس سے وہ استدلال کے اصولوں (مثلاً استقرا و ابڈکشن وغیرہ) کو بروکار لاکر اپنے نتائج فکر مرتب کردیتا ہے کہ فلاں راوی معتبر ہے اور فلاں نہیں ہے۔ اس کی یہ علمی کاوش اسی قسم کے دلائل کی روشنی میں دوسروں کے لئے لائق جانچ و جرح ہوتی ہے اور اسی معروضی و ٹرانسپیرنٹ علمی پراسس کی بنا پر ایک محدث دوسرے محدث سے اختلاف کرتا ہے، علم حدیث کے ماہرین جانتے ہیں کہ بسا اوقات یہ اختلاف دلیل کی رو سے ثقہ و غیر ثقہ کے نظرئیے کی سطح پر ہوتا ہے اور بسا اوقات کسی خاص انسان سے متعلق مشاہدے سے حاصل شدہ معلومات سے متعلق اور اسی لئے مختلف محدثین کے ہاں نتائج فکر (یعنی راویوں کے احکام) میں اختلاف ہوجاتا ہے۔

الغرض کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دیگر علوم میں بھی دلیل میں الزام کے پہلو پر توجہ دی گئی ہے، یہ کوئی ایسی خاصیت نہیں جس کی بنا پر سائنس کو کوئی انوکھا علم بنا دیا جائے۔ سب سے واضح بات یہ کہ جسے کسی خاص قسم کا تجربہ کہتے ہیں، اس میں الزام کا پہلو بدیہی، حسی و استدلالی دلائل کے الزام کے پہلو پر موقوف ہے، فافھم۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں