اشاعرہ و ماتریدیہ کے ناقدین ان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ لوگ حقائق میں انقلاب (inversion or transformation of essences) کی صورتیں مان کر سفسطہ کا شکار ہیں، ان کے مطابق خدا کی قدرت سے انسان گھوڑا بن سکتا ہے، کتاب سیب بن سکتی ہے، رسی سانپ بن سکتی ہے وغیرہ۔ تاہم یہ نری غلط فہمی ہے، درست بات یہ ہے کہ تمام گروہوں میں ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ انقلابِ حقائق و ماہیت کے معاملے میں سب سے زیادہ حساس ہیں (اشاعرہ و ماتریدیہ کے جوہر و عرض کے آنٹالوجیکل سسٹم پر ہم نے الگ سے تحریر لکھی تھی)۔ ان کے برعکس جزیات (particulars) کی توجیہ کے لئے افلاطون، ارسطو، معتزلہ، ابن سینا و ابن عربی وما بعد جیسے کہ علامہ طوسی و ملا صدرہ وغیرہ تمام مفکرین کی جانب سے مجردات ( abstract essences) و کلیات (universals) وغیرہ کا جو بھی نظام وضع کرنے کی کوشش کی گئی، وہ مسائل کو حل کرنے سے زیادہ مزید مسائل کا باعث بنی ہے کیونکہ اس قسم کی ہر فکر میں ایک خاص طرح کا سفسطہ پایا جاتا ہے جو “قلب حقائق” (essential inversion) کی صورت ہے۔
قلب حقائق کا معنی یہ ہے کہ کسی شے کی ماہیت و حقیقت (essence) میں تبدیلی و تحول ہوجائے۔ اشاعرہ و ماتریدیہ کے مطابق قلب حقائق محال ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ عین سفیدی ہی کالک، انسان ہی گھوڑا یا علم ہی جہل بن جائے۔ یعنی ایک ہی شے ذاتی ماہیت برقرار رکھتے ہوئے دوسری ماہیت نہیں بن سکتی کیونکہ ہر ماہیت اپنی ذات کے ساتھ متعین ہے۔ اسے یوں بھی کہتے ہیں کہ حقائق ناقابل تبدیل و تحول ہیں۔ البتہ یہ جائز ہے کہ ایک ماہیت معدوم ہوکر اس کی جگہ دوسری آجائے جیسے لکڑی کی ماہیت متعین کرنے والے اجزا (یا اعراض) معدوم ہوکر اس کی جگہ راکھ کی اعراض لے لیں، رسی کی اعراض کی جگہ سانپ کی اعراض آجائیں یا نطفے کے اجزا کی جگہ انسان کے اجزا لے لیں وغیرہ، یہ قلبِ حقائق نہیں بلکہ اجسام پر وارد ہونے والی اعراض میں سے ایک ماہیت کا زوال اور دوسری کا حدوث ہے۔ لیکن یہ محال ہے کہ انسان کی انسانیت کی اعراض برقرار رہتے ہوئے انسان مثلاً گھوڑا بن جائے یا سفیدی اپنی سفیدی کے ساتھ کالک ہوجائے اس لئے کہ انسان، گھوڑا، نطفہ، سانپ، رسی یہ سب الگ حقائق ہیں اگرچہ خلقی حقائق ( created essences) ہیں، اور اشاعرہ و ماتریدیہ کا نظام فکر قلب حقائق محال ہونے کے حوالے سے سب سے سخت گیر (strictly essentialist) ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔ چنانچہ جس طرح یہ محال ہے کہ جوہر عرض یا عرض جوہر بن جائے، اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ بعینہ ایک عرض (مثلاً سفیدی، علم، تری وغیرہ) ہی دوسری عرض (کالک، جہل، خشکی وغیرہ) بن جائے، اسی طرح کسی دو اجسام میں پائی جانے والی سفیدی اگرچہ ایک دوسرے کے مشابہ (similar) ہوں لیکن وہ یکساں (identical) نہیں ہوتیں نیز نہ ہی وہ کسی ایک کلی حقیقت (universal essence) میں شریک ہوتیں ہیں (اس صورت میں ایک ہی ماہیت کا بیک وقت دو چیزوں میں تحقق لازم آئے گا جو جمع بین الضدین کی خلاف ورزی ہے)۔ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی ایک ہی عرض دوسرے لمحے میں موجود ہو بلکہ ہر لمحے میں اس کی مثل یا مشابہ عرض وجود پزیر ہوتی ہے (دو لمحوں میں اعراض کا بقا ممکن نہیں)۔ چنانچہ حقائق میں تحول و انقلاب نہیں ہوتا بلکہ یکِ بعد دیگرے عرض خلق ہوتی ہے چاہے وہ پہلی کے مشابہ ہو یا اس سے مختلف نیز وجود میں کوئی مشترک کلی ماہیت نہیں، صرف متفرق انفرادی اجزا ہیں۔ الغرض حقائق میں قلب و تحول سفسطہ ہے جسے قبول کرنے کے بعد حقیقت کے علم کا اعتبار جاتا رہتا ہے اور اشاعرہ و ماتریدیہ اس کے قائل نہیں۔
اس کے برعکس افلاطون و مابعد کلی ماہیات کی بات کرنے والا ہر فلسفہ کسی نہ کسی صورت قلب حقائق ماننے کی مشکل سے دوچار ہے۔ ان سب میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ ایک ہی ماہیت وجود کی نوعیت (mode of existence) بدلنے سے بدل جاتی ہے۔ مثلاً خارجی گھوڑا الگ ہے جبکہ پلاٹونک فارمز کا مثالی گھوڑا الگ ہے (مثلاً وہ مثالی گھوڑا زمان و مکان سے ماورا، غیر مادی و غیر متغیر ہے جو فنا نہیں ہوتا وغیرہ)، “معدوم شے” ( non existent thingness) کی کیفیت میں جوہر تحیز (space) کے بغیر ہے لیکن اس عالم کا جوہر متحیز ہوتا ہے، خارج میں آگ جلاتی ہے لیکن وجود ذھنی ( mental existence) میں وجود رکھنے والی آگ جلانے والی نہیں، خارجی زید کی حقیقت الگ ہے جبکہ اعیان ثابتہ کا زید نری قابلیت ہے۔ اگر ایک ہی ماہیت مختلف مراتب و کیفیاتِ وجود میں مختلف احکام قبول کرتی ہے تو درحقیقت وہ ایک ماہیت نہیں رہتی، اگر وجود کی نوعیت کا بدلنا اتنا فرق پیدا کر دیتا ہے کہ تحیز، احتراق، تشخص اور فعلیت سب ختم ہو جائیں، تو پھر یہ کہنا بے معنی ہے کہ ماہیت وہی رہتی ہے۔ کیا جلانے والی آگ اور نہ جلانے والی آگ کو ایک ماہیت کہنا درست ہے؟ کیا ایک نری قابلیت کو خارج میں چلتا پھرتا زید یا آسمان پر چمکتا سورج کہا جاسکتا ہے؟ اگر وجود کی کیفیت اتنی طاقتور ہے کہ وہ کلی کو جزئی، مجرد کو مادی، غیر متغیر کو متغیر اور غیر فانی کو فانی، نری قابلیت کو فاعلیت وغیرہ بنا دے تو پھر ماہیت کی وحدت محض لفظی رہ جاتی ہے۔ الغرض ان فلسفوں کے مطابق وجود (جو ماہیت سے سوا اور اس پر زائد ہے) ایک شے کی ماہیت پر اثر انداز ہوجاتا ہے نیز وہ شے جو ماہیت پر زائد و عارض ہے وہ ماہیت کے احکام، آثار و تشخص وغیرہ پر اثر انداز ہوجاتی ہے!
خلاصہ یہ کہ وجود و ماہیت میں دوئی قائم کرنے نیز کلیات اور وجود ذہنی کا اقرار کرنے والے سب فلسفے اس قسم کی کئی مشکلات کا شکار ہیں۔ ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ نے جزیات کی توجیہہ کے لئے انفرادی جوہر و عرض کی حتمی انٹالوجی کا جو نظریہ پیش کیا، دلیل کی رو سے وہ سب سے ہم آھنگ و بامعنی ہے۔




کمنت کیجے