Home » چار فرقے تین سوال
تاریخ / جغرافیہ • تہذیبی مطالعات • کلام

چار فرقے تین سوال

ائمہ کلام بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر صدر اول میں جو مختلف فرقے پیدا ہوئے، ان کو بنیادی طور پر چار عنوانات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے:
1۔ انکارِ تقدیر
2۔ ارجاء یعنی ایمان اور عمل کو کلیتاً‌ غیر متعلق سمجھنا
3۔ خارجیت، یعنی عمل کو ایمان کا واحد پیمانہ قرار دینا
اور
4۔ رفض، یعنی آنحضور علیہ السلام پر ایمان لانے اور نصرت وحمایت کرنے والی جماعت کے باہمی اختلافات میں خود کو ’’فریق’’ بنا کر ایک گروہ کی محبت وحمایت اور دوسرے گروہ کی تضلیل اور اس سے اظہار براءت کو ایمان کا معیار بنا لینا۔
ان عنوانات کی مزید تنقیح کی جائے تو واضح ہوگا کہ ان چار عنوانات کی بنیاد جن سوالات پر ہے، وہ اصلاً‌ تین ہیں جو تین مختلف نوعیت کی مذہبی اور فکری مشکلات کا عنوان ہیں:
پہلا سوال ’’متشِابہات’’ کے دائرے میں انسانی علم وعقل کے حدود سے متعلق ہے، یعنی جن چیزوں کی کُنہ یا حقیقت کو کماحقہ سمجھنا انسان کے لیے ممکن نہیں، ان میں مذہبی رویہ کیا ہونا چاہیے؟ شرع کی راہنمائی یہ تھی کہ اہل ایمان ان میں عدمِ خوض اور ترکِ جدال کا رویہ اختیار کریں اور اجمالاً‌ ان بیانات پر ایمان رکھیں جو شرع میں وارد ہوئے ہیں۔ انکارِ تقدیر اس اصول سے پہلا انحراف تھا، لیکن آخری نہیں تھا۔ اس رجحان نے مزید بہت سے انڈے بچے دیے جس کے نتیجے میں کلامی مباحث کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔
دوسرا سوال ایمان اور عمل کے باہمی تعلق کا تھا۔ شرع کی واضح راہنمائی یہ تھی کہ ایمان محض قول کا نام نہیں، بلکہ وہ عمل کا بھی متقاضی ہے اور نجات کے لیے دونوں مطلوب ہیں، تاہم ظاہری عمل، باطنی ایمان کو جانچنے کا واحد معیار نہیں، بلکہ بدعملی اور ایمان دونوں جمع ہو سکتے ہیں۔ شرع کی اس راہنمائی میں انسان کی بشری کمزوریوں کی رعایت بھی تھی، اختیار وارادہ کی آزادی اور توبہ واصلاح کی گنجائش بھی اس سے جڑی ہوئی تھی اور مسلمان معاشرے کی وحدت واجتماعیت کا سوال بھی اس کے ساتھ وابستہ تھا۔ اس سے انحراف نے ایک طرف ارجاء (یعنی عمل کو ایمان سے بالکل غیر متعلق قرار دینے) کی صورت اختیار کی اور دوسری طرف خارجیت یا تکفیر کی، اور ظاہر ہے، دونوں ہی مسلمانوں کی مذہبی واجتماعی زندگی کے لیے تباہ کن تھے۔
تیسرا سوال تاریخ سے متعلق تھا۔ رسول اللہ پر ایمان لانے والی جماعت میں اختلافات تاریخ میں رونما ہوئے تھے۔ مسلمانوں کے سامنے ان کے حوالے سے چیلنج یہ تھا کہ کیا وہ جماعتِ صحابہ کے اس ’’ابتلاء’’ اور رسول اللہ کے ہمراہ ان کی دینی خدمات اور ان کے دینی مقام کے مابین توازن پیدا کر سکتے ہیں؟ شرع کی راہنمائی یہی تھی، لیکن خارجیت، ناصبیت، اور رفض نے بظاہر الگ الگ عنوان سے الگ الگ موقف پیش کر کے رویہ ایک ہی اختیار کیا۔ خوارج نے اس پوری جماعت سے اظہارِ براءت کو ایمان کا تقاضا قرار دیا، رفض نے صرف اہل بیت کی محبت اور باقی سب سے براءت کو ایمان باور کروایا، اور ناصبیت نے اہلِ بیت کے بغض اور عداوت کو اپنا شعار بنا لیا۔
بحیثیت امت، مسلمانوں کے ’’مذہبی’’ چیلنج بنیادی طور پر آج بھی یہی ہیں اور یہی سوالات دوسرے تاریخی اور تہذیبی عوامل کے ساتھ مل کر آج بھی برگ وبار لاتے رہتے ہیں۔ متشابہات یعنی غیب کے دائرے کے ساتھ انسانی علم وعقل کا تعلق متعین کرنے کا سوال بہت ہی زیادہ وسیع ہو چکا ہے، لیکن ایسے سب مباحث کی اصل نوعیت ایک ہی ہے۔ ترکِ عمل اور تکفیری رویوں نے بھی بے شمار نت نئی صورتیں اختیار کر لی ہیں، لیکن بنیادی مسئلہ وہی ہے۔ اور تاریخی نزاعات میں ’’فریق’’ بن کر انھیں پاؤں کی زنجیر بنا لینے اور پا بہ زنجیر ہو کر تاریخ میں خود کو گھسیٹتے چلے جانے کی روش آج بھی قائم ہے۔
زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری          قصہء قدیم وجدید

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں