Home » عقل، وحی اور عرفان: امام غزالیؒ کے فکری منہج کی تفہیم
اسلامی فکری روایت شخصیات وافکار فلسفہ

عقل، وحی اور عرفان: امام غزالیؒ کے فکری منہج کی تفہیم

وحید مراد

امام غزالیؒ کی تشکیک کے محرکات کچھ بھی رہے ہوں لیکن ان کا بنیادی سوال محض یہ نہیں تھا کہ کیا مانا جائے؟ بلکہ یہ تھا کہ کیسے جانا جائے؟ یعنی ان کا سوال یہ نہیں تھا کہ کون سا علم منطقی طور پر ممکن ہے، بلکہ یہ تھا کہ کون سا علم انسان کے وجود میں راسخ ہو سکتا ہے اور اس کی نجات سے نسبت رکھتا ہے۔ یہ سوال علم کی صداقت سے زیادہ اس کی وجودی معنویت کا ہے اور اسے محض معرفتِ علم (epistemology) کے فنی معیار پر پرکھنا مسئلے کی نوعیت کو بدل دینے کے مترادف ہے ۔
غزالیؒ نے اس بحران کے حل میں عرفان کو فیصلہ کن مقام ضرور دیا،لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وحی ان کے لیے ناکافی ثابت ہوئی یا انہیں کسی متبادل کی تلاش تھی۔ ان کے ہاں وحی معیار ہے اور عرفان اسی معیار کے تحت پیدا ہونے والی یقینی کیفیت۔ یہ خیال کہ عرفان کی مرکزیت گویا وحی کی ناکامی کا اعتراف ہے، نہ صرف غیر ضروری بلکہ فکری طور پر گمراہ کن ہے۔ یہ منطق مان لی جائے تو فقہ، اجتہاد، اخلاقی تربیت اور دینی عمل سب وحی کی ناکامی قرار پائیں گے، حالانکہ اسلامی روایت میں یہ سب وحی کے دائرے میں ہی پروان چڑھے ہیں۔ مسئلہ وحی اور عرفان کا نہیں بلکہ ان کی سطحوں کو خلط ملط کرنے کا ہے اور یہی عمل پورے فہم کو بگاڑ دیتا ہے۔
غزالیؒ کے ہاں وحی کا فہم اور اس پر یقین کی داخلی کیفیت ایک چیز نہیں۔ جس علم کو وہ نجات بخش کہتے ہیں، وہ وحی کے خلاف نہیں بلکہ اس کے زیرِ سایہ پیدا ہونے والا وہ علم ہے جو انسان کو شک سے یقین اور تقلیدسےشعوری ادراک تک لے جاتا ہے۔ یہاں بنیادی غلطی وجودی یقین (       existential certainty) اور علمی توجیہ (epistemic        justification) کو ایک ہی سطح پر رکھ دینے سے جنم لیتی ہے۔ غزالیؒ کے نزدیک ایمان وجودی طور پر فوری ہے، لیکن اس کی حفاظت اور تشکیل ہمیشہ علمی، اخلاقی اور تربیتی عمل سے ہوتی ہے۔ وہ عقل کو ترک نہیں کرتے بلکہ برہان، عرفان اور وحی کو درجہ وار ترتیب دیتے ہیں۔ عرفان عقل کی نفی نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔
یہ فہم وحی، تصوف، عرفان اور مابعدالطبیعات کے باہمی رشتے کو واضح کرتا ہے۔ وحی وہ ہدایت ہے جو براہِ راست الٰہی خطاب کے ذریعے نازل ہوتی ہے، جس کا منبع انسانی عقل یا تجربہ نہیں بلکہ خدا کی طرف سے رہنمائی ہے اور جس کا مقصد انسان کو غایت، اخلاقی حد بندی اور وجودی سمت دینا ہے۔ تصوف اسی وحی کے اخلاقی اور عملی اثرات کو انسانی زندگی میں مجسم کرنے کا طریقہ ہے جبکہ عرفان اس عمل کا باطنی اور تجرباتی پہلو ہے، جہاں معرفت قلبی ادراک کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ مابعدالطبیعات ایک تصوراتی علمی سرگرمی ہے جو وجود، علت، امکان اور ہستی کی ساخت جیسے سوالات کا تجزیہ کرتی ہے، اس کا مقصد ہدایت دینا نہیں بلکہ فکری تفہیم ہے۔ جب عرفان کو نظری عقل کے معیار پر پرکھا جاتا ہے تو اسے غیر علمی قرار دے دیا جاتا ہے، یہ ایک علمی مغالطہ ہے۔ کسی علم کو اس معیار پر رد کرنا جس پر وہ قائم ہی نہیں، دلیل نہیں؛ جیسے اخلاقیات کو تجرباتی سائنس یا جمالیات کو ریاضی کے اصولوں پر جانچنا۔
اسلامی روایت میں عرفان اور علم الکلام کبھی ہم سطح علوم نہیں رہے۔ علم الکلام استدلالی اور بین الاذہانی discipline ہے، جبکہ عرفان تزکیہ اور باطنی تحقق سے متعلق ہے۔ ان کا رشتہ تقابل کا نہیں بلکہ تکامل کا ہے، جیسا کہ امام غزالیؒ اور شاہ ولی اللہ کے ہاں نمایاں ہے۔ عرفان کو وحی کے بالمقابل متوازی راستہ سمجھنا ایک مصنوعی تضاد پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح عقل کو محض قیاسی یا استدلالی سرگرمی سمجھ لینا بھی ایک محدود تصور ہے۔ فلسفیانہ روایت میں عقل کی مختلف سطحیں تسلیم کی گئی ہیں؛ اس تناظر میں عرفان اگر استدلالی نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیر عقلی ہے، بلکہ وہ supra-discursive ہو سکتا ہے۔ مسئلہ عرفان کی علمی حیثیت کا نہیں بلکہ عقل کے محدود تصور کا ہے۔
یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ “عقلی ہونا”جبر کا نام نہیں۔ کلاسیکی اور جدید فلسفے میں عقل normativity ہے: وہ یہ نہیں بتاتی کہ کیا مانا جائے، بلکہ یہ واضح کرتی ہے کہ مانا جائے تو کس طرح معقول ہوگا۔ اشاعرہ، ماتریدیہ اور خود امام غزالیؒ کے نزدیک منطق خدا پر جبر نہیں بلکہ انسانی فہم کی ترتیب ہے اور منطق کو ontology پر حاکم فرض کرنا خود ایک فلسفیانہ لغزش ہے۔
جبر وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں فاعلانہ اختیار سرے سے موجود نہ ہو جبکہ عقلی علوم میں فاعل خود انسان ہوتا ہے۔ وہ سوال کا انتخاب کرتا ہے، مفروضہ قائم کرتا ہے، زاویۂ نگاہ متعین کرتا ہے اور نتائج کی تعبیر کرتا ہے۔ اس سطح پر عقل کوئی میکانکی عمل نہیں بلکہ ارادی اور معنوی سرگرمی ہے۔ اسی لیے عقلی ہونا لازماً ارادے سے خالی ہونا نہیں۔ عملی، اخلاقی اور غایتی عقل اس تصور کی نفی کرتی ہیں کہ عقل محض formal        logic یا        mathematical necessity تک محدود ہے۔ ایسی تعبیر عقل کی جامع تفہیم نہیں بلکہ اس کا محدود تصور ہے۔
جدید سائنس بھی classical        determinism کے دائرے سے آگے بڑھ چکی ہے۔ کوانٹم فزکس، probability        theory اور systems        theory واضح کرتی ہیں کہ عقلی علوم ضرورت اور امکان کے درمیان کام کرتے ہیں، نہ کہ مطلق جبر کے تحت۔ اس تناظر میں یہ کہنا کہ عقلی علوم کے تمام نتائج جبری اور میکانکی ہوتے ہیں، دراصل منطقی نتائج اور وجودی معانی کو خلط ملط کرنا ہے۔ ایک منطقی نتیجہ اپنی جگہ لازم ہو سکتا ہے،لیکن اس نتیجے کی تعبیر، اس کا اطلاق اور اس سے اخذ ہونے والا مفہوم انسانی حریت کے دائرے میں آتا ہے۔ علم بذاتِ خود جبر نہیں؛ جبر یا آزادی اس کے استعمال سے جنم لیتی ہے۔
مذہبی روایت میں ایمان کبھی blind        choice نہیں رہا بلکہ ہمیشہ “معقول اعتماد” کے طور پر سمجھا گیا ہے۔ ایمان سراسر غیر عقلی اور عقل سراسر جبری ہوتی تو مذہبی استدلال، دعوت، احتجاجِ حق اور اخلاقی ذمہ داری سب بے معنی ہو جاتے۔ انسانی حریت نہ خالص ایمان میں تحلیل ہوتی ہے اور نہ خالص عقل میں۔
منطق کا مقصد خدا کو کسی جبر کے تحت لانا نہیں بلکہ انسانی تصورِ الٰہ میں پیدا ہونے والے داخلی تضادات کو واضح اور منضبط کرنا ہے۔ یہ کہنا کہ منطق پر قائم علوم کا تقابل صرف اسی نوع کے علوم سے ممکن ہے، کوئی مسلم فلسفیانہ اصول نہیں بلکہ ایک خود ساختہ حد بندی ہے۔ علوم کے درمیان تقابل ہمیشہ نوعِ سوال، دائرۂ بحث اور مقصد کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ محض طریقۂ استدلال کی یکسانیت سے۔ اخلاق، مذہب، سماجیات اور فلسفہ اسی بین العلومی امکان پر قائم ہیں اور یہ امکان ختم کر دیا جائے تو مکالمہ ناممکن ہو جاتا ہے۔
اسی طرح مابعدالطبیعات کو مذموم قرار دینا(demonization)بھی غیر عادلانہ رویہ ہے۔ اسلامی روایت میں علم الکلام خود مابعدالطبیعاتی سوالات سے معمور ہے: صفات، علت، تخلیق اور نفس جیسے مباحث اس کی بنیاد ہیں۔ امام غزالیؒ مابعدالطبیعات کے منکر نہیں بلکہ مخصوص غیر ثابت شدہ دعوؤں کے ناقد ہیں۔ انہوں نے ابنِ سینا کی بعض الٰہیات پر تنقید کی،لیکن مابعدالطبیعی تفکر کو بحیثیتِ کل رد نہیں کیا۔ اس لیے غزالیؒ کو anti-metaphysical فریم میں فِٹ کرنا نہ فکری طور پر درست ہے اور نہ تاریخی طور پر۔ غزالیؒ کے ہاں وحی، عقل اور عرفان باہم متصادم نہیں بلکہ درجہ وار، مربوط اور تکمیلی نظام بناتے ہیں۔ مسئلہ علوم کا نہیں بلکہ ان کے باہمی تناسب کو بگاڑ دینے کا ہے۔ جب یہ نسبت واضح ہو جائے تو نہ وحی خطرے میں دکھائی دیتی ہے، نہ عقل مشتبہ، اور نہ عرفان غیر علمی۔
غزالیؒ کے حوالے سے وحی اور عرفان کا تقابل بظاہر اصولی لیکن داخلی ساخت میں کلیت پسندانہ اور تحکمانہ ہے۔ یہ علم کو مکالمے کے بجائے تصادم میں بدل دیتا ہے، جہاں فکری پیچیدگی کو نظر انداز کرکے سوال کو دوئی میں قید کر دیا جاتا ہے ۔ اختلاف کو امکان، تنوع اور تدریج کے بجائے فیصلہ کن صف بندی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ فلسفیانہ طور پر یہ رویہ فہم سے زیادہ طاقت کی نفسیات کا اظہار ہے۔ یہاں تقابل سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ تفریق کے لیے برتا جاتا ہے، نتیجتاً علم اپنی جستجو کھو کر اعتقادی ہتھیار بن جاتا ہے۔ یوں ایمان و کفر کی وجودی و اخلاقی پیچیدگی ایک سادہ علامتی تقسیم میں سمٹ جاتی ہے۔
اس کا سب سے بڑا نقصان فکری مکالمے کو ہوتا ہے۔ جہاں امکان اور تنوع ختم ہوں، وہاں سوال نہیں رہتا۔ روایتیں وہیں قائم رہتی ہیں جہاں سوال برداشت کیا جائے اور فہم کو ارتقائی عمل سمجھا جائے۔یہ طرزِ فکر یقین نہیں بلکہ عدمِ تحفظ کی علامت ہے۔ دوئی کے ذریعے حاصل ہونے والی قطعیت حقیقت کی گہرائی سے نہیں، امکان کے انکار سے جنم لیتی ہے۔ فکری دیانت کا تقاضا ہے کہ علم کو انا کی تسکین نہیں بلکہ فہم کی وسعت اور مکالمے کی بقا کا ذریعہ بنایا جائے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں