Home » احمدیوں کی تکفیر
فقہ وقانون کلام

احمدیوں کی تکفیر

مرزا غلام احمد قادیانی نے دعوی کیا تھا کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی کا مصداق ہیں، جس کی خبر روایات میں وارد ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت نے اُن کا دعوی قبول نہیں کیا۔ تاہم، کچھ لوگوں نے اِسے تسلیم کر لیا۔ اِس سے مسلمانوں میں ایک تفریق پیدا ہوئی۔ بات بڑھی تو فریقین نے ایک دوسرے پر تضلیل اور تکفیر کے فتوے صادر کیے۔ پاکستان بننے کے بعد یہ اختلاف شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں ملکی قانون میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ مزید براں، اُن پر پابندیاں عائد کر دی گئیں کہ وہ خود کو مسلمان نہیں کہ سکتے، اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کا نام نہیں دے سکتے، اور شعائر اسلام کا کھلے عام اظہار نہیں کر سکتے۔ کچھ علما نے یہ قرارداد بھی پیش کی کہ عام مسلمانوں میں رائج نام رکھنا بھی اُن کے لیے ممنوع قرار دے دیا جائے۔ عوام نے احمدیوں کے خلاف اِس عمومی فضا سے شہ پا کر اُنھیں قتل کرنے، اُن پر توہینِ مذہب کےالزامات لگانے اور اُن کی عبادت گاہوں اور قبروں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
احمدیوں کو الگ امت قرار دینے اور اُن پرپابندیاں عائد کرنےکے جواز میں اہل علم دو استدلال پیش کرتے ہیں:
پہلا یہ کہ ہر نبی کے امتی ایک الگ امت ہیں۔ احمدی ایک ایسے نبی کو مانتے ہیں جسے دوسرے مسلمان نہیں مانتے، اِس لیے احمدی اور عام مسلمان دو الگ امتیں ہیں، جیسے یہود اورمسیحی الگ الگ نبیوں کے پیروکار ہونے کی وجہ سے الگ الگ امتیں ہیں۔ قرآن مجید نے بھی اُنھیں مستقل دینی گروہوں کی حیثیت سے خطاب کیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن بھی اُن کی الگ دینی حیثیتوں کو تسلیم کرتا ہے۔
دوسرا استدلال یہ ہے کہ اہلِ علم دین کے محافظ ہیں۔ دین کے حدود سے انحراف کو غیرِ دین قرار دینا اُن کی ذمہ داری ہے۔ وہ ایسا نہیں کریں گے تو عام مسلمان دین میں انحرافات کے حدود سے آگاہ نہیں رہیں گے اور باطل نظریات کو اسلام کا تقاضا سمجھ کر گم راہ ہو جائیں گے۔اِس لیے ضروری ہے اہلِ علم باطل نظریات اور اُن کے حاملین کو خارج از اسلام قرار دیں۔
یہ دونوں استدلال غلط فہمیوں پر مبنی ہیں، جن کو الگ الگ واضح کیا جاتا ہے۔
خدا کا دین ہمیشہ سے ایک ہی تھا۔ تمام انبیا اُسی کی دعوت دیتے تھے۔ اُن کے پیروکار الگ الگ امتیں نہیں تھے۔ بنی اسرائیل میں کثیر تعداد میں پیغمبر آئے، جن میں سے کچھ کو اُنھوں نے نہیں مانا، مگر وہ ایک ہی امت رہے۔ پھر مسیح علیہ السلام کو تسلیم کرنے پراُن میں اختلاف ہوا تو اُنھوں نے خود کو دو مختلف گروہوں میں تقسیم کر لیا، یعنی، یہود اور مسیحی۔ جب وہ علیحدہ ہو گئے تو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اُنھیں اُن کی اختیار کردہ شناختوں کے لحاظ سے مخاطب کیا۔ یہ اُن کی تفریق کے لیے سندِ جواز نہیں، بلکہ امرِ واقعہ کی رعایت تھی۔
دوسرے استدلال کی غلطی یہ ہے کہ علما نے خود کو دین کی محافظت کی سند خود ہی جاری کر دی ہے، اللہ تعالی نے اُنھیں اِس منصب پر فائز نہیں کیا۔ اُن کا منصب دین کے معلَّم اور مبلَّغ کا ہے، دین کے محافظ کا نہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے پیرو عقیدہءِ تثلیث جیسے منحرَف عقیدے کے باوجود خود کو اُن کا پیروکار کہتے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید نے بھی اُنھیں مسیح علیہ السلام کا پیروکار ہی کہا ہے۔
ارشاد ہوا ہے:
ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً وَرَھْبَانِیَّۃَ نِابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنٰھَا عَلَیْھِمْ اِلَّا ابْتِغَآئَ رِضْوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ۔ (الحدید ۵۷: ۲۷)
“پھر اُنھی (نبیوں) کے نقش قدم پر ہم نے اپنے اور رسول بھی بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کوبھی اُنھی کے نقش قدم پر بھیجا اور اُسے انجیل عطا کی اور اُس کے پیرووں کے دلوں میں رأفت و رحمت ڈال دی، مگر رہبانیت اُنھوں نے خود ایجاد کر لی۔ ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا۔ یہ بات ، البتہ ضرور فرض کی تھی کہ وہ اللہ کی خوشنودی چاہیں۔ پھر(جسے خود ایجاد کیا تھا)،اُس کی رعایت بھی اُس طرح نہیں کر سکے،جس طرح کہ اُس کا حق تھا۔ تاہم اُن میں سے جو لوگ ایمان پر قائم رہے، اُن کا اجر ہم نے اُنھیں عطا فرمایا، مگر اُن میں سے زیادہ نافرمان ہی نکلے۔”
یہاں دیکھا جا سکتا ہے کہ رہبانیت ایجاد کرنے والوں اور نافرمانوں کو بھی مسیح علیہ السلام کے متعبین کے ذیل ہی میں شمار کیا گیا ہے۔
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو اُن کے عقائد اور اعمال میں تاویل کی رعایت دیتا ہے اور کسی گروہ کو وہ نام نہیں دیتا جو وہ اپنے لیے اختیار نہیں کرتا۔ چنانچہ اُس نے مسیحیوں کے عقیدہء ِتثلیث کو شرک قرار دینے کے باوجود اُنھیں مشرک نہیں کہا، کیونکہ وہ تثلیث کو تاویل کے ذریعے سے توحید ہی کی ایک صورت باور کرتے تھے۔
احمدیوں کا معاملہ اصولاً اِس سے مختلف نہیں۔ وہ اِس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ جس مسیح کی آمد ثانی کی خبر دی گئی تھی وہ مرزا غلام احمد کی صورت میں آگیا تھا، اور اُن پر ایمان لانا دین کا تقاضا ہے۔ عام مسلمان بھی، اپنے زعم کے مطابق، مسیح پر ایمان لائیں گے جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ احمدیوں نے اپنے زعم میں جسے مسیح سمجھا اس پر ایمان لائے تو یہ کفر کیسے ہوگیا؟
احمدیوں کے نزدیک ختمِ نبوت کا عقیدہ مسیح علیہ السلام کے آمدِ ثانی کے نظریے سے نہیں ٹکراتا، کیونکہ خاتمہ صرف تشریعی نبوت کا ہوا ہے، غیر تشریعی نبوت جاری ہے، جس کا اعتراف خود مسلمانوں کی کلامی روایت میں موجود ہے۔ اِن وجوہات سے احمدیوں کو ان کے دعوی کے مطابق، مسلمان ہی کہا جائے گا۔ اُن کی غلط فہمی علمی مکالمے کو دعوت دیتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں بعض ایسے گروہ بھی موجود ہیں جو شرک مع اللہ میں مبتلا ہیں، جو دین میں سب سے بڑا جرم ہے۔ مگر اُن کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے اور امت کو اُن کے باطل عقائد سے بچانے کے لیے کوئی ایسی مہم نہیں چلائی جاتی جو احمدیوں کے خلاف چلائی گئی۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کے قلیل گروہ کے خلاف تکفیری مہم علم و استدلال سے زیادہ جذباتی اور سیاسی پس منظر رکھتی ہے۔ اِس کے پیچھے مناظروں اور باہمی تکفیر سے پیدا ہونے والا رد عمل اور مذہبی سیاست کا وہ دور ہےجس نے اختلافِ عقائد کو ملکی تقسیم کی بنیاد بنایا تھا اور پھر یہ چیز مسلمانوں کی نفسیات میں اتر گئی۔
مسلمانوں کے اہلِ علم کا فریضہ بس یہی ہے کہ وہ عقائد و اعمال کی غلطیاں لوگوں پر واضح کریں۔ تکفیر کا حق اُنھیں حاصل نہیں، یہ خدا کا اختیار ہے کہ بتائے کون جان بوجھ کر حق کا منکر ہے۔ وہی ہے جو سینے کے بھیدوں سے واقف ہے۔ ختمِ نبوت کے بعد خدا سے اِن حقائق کا علم حاصل ہونا ممکن نہیں۔ لوگوں کے ایمان و اعمال کا فیصلہ روزِ محشر خدا کی عدالت میں ہوگا۔
علما یہ سوچ رکھیں کہ اپنے حدود سے تجاوز کر کے خدائی اختیارات میں مداخلت پر خود اُنھیں بھی مواخذے کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر عرفان شہزاد

ڈاکٹر عرفان شہزاد، نیشنل یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز اسلام آباد میں استاذ ہیں اور ادارہ علم وتحقیق المورد کے ساتھ بطور تحقیق کار وابستہ ہیں۔
irfanshehzad76@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں