Home » علم الکلام پر بحث اور امام غزالی کا نکتہ نظر
شخصیات وافکار کلام

علم الکلام پر بحث اور امام غزالی کا نکتہ نظر

ڈاکٹر محمد رحمان

پچھلے دنوں علم الکلام پر بحث مباحثہ بہت گرم رہا۔ اس علم کے حق اور مخالفت میں کافی دلائل سننے کو ملے۔ مجھے اس شعبے میں بہت دلچسپی ہے، اس لیے انتظار میں تھا کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ دونوں جانب کے دلائل کو تول کر آسانی سے ایک متوازن نکتۂ نظر تشکیل دیا جا سکتا ہے، لیکن کسی طرف سے یہ کوشش نظر نہیں آئی۔ ایسے میں میں نے سوچا کہ کیوں نہ اصل ذرائع سے رجوع کیا جائے، اور حیرت کی انتہا نہ رہی کہ امام غزالی الاقتصاد فی الاعتقاد (Moderation        in        Belief) کے پہلے باب میں ہی اس موضوع کو واضح کر چکے ہیں۔
ان کے مطابق چار قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں۔ پہلا گروہ عام مسلمانوں کا ہے جو اپنے ایمان میں راسخ ہیں اور شکوک و شبہات کے شکار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس علم سے متعارف کروانے کی نہ صرف ضرورت نہیں بلکہ بعض اوقات یہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اور اندازِ تبلیغ کی مثال دیتے ہیں کہ اس دور کے بدوی عرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اس علم (علم الکلام) کی وجہ سے ایمان نہیں لائے تھے بلکہ ان کے دل گواہی دے رہے تھے کہ نبی کریم سچے ہیں۔
دوسرا گروہ ڈھیٹ قسم کے انکاری لوگوں کا ہے جن پر دلائل کی قوت اثر نہیں کرتی اور نہ ہی وہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ لاتوں کے بھوت ہیں جو باتوں سے نہیں مانتے۔ چنانچہ ان پر اس علم اور دلائل کا پیش کرنا نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ ایسے مباحث کا نتیجہ مزید ضد اور ہٹ دھرمی کی صورت میں نکلتا ہے۔
تیسرا گروہ ایسے مسلمانوں کا ہے جو روایت کی بنیاد پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ذہین و فطین لوگ ہیں اور دلائل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، چنانچہ کبھی کبھار ان کے دلوں میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے پہلی کوشش قرآن پاک کی آیات یا احادیث سے کرنی چاہیے، اور اگر ان کے شکوک کا ازالہ ہو جائے تو بہتر، ورنہ جس حد تک ضروری ہو دلائل سے قائل کیا جا سکتا ہے۔
چوتھا گروہ ایسے انکار کرنے والوں کا ہے جو ذہنی استعداد رکھنے کے ساتھ ساتھ سچ کی تلاش میں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اگر آپ دیکھتے ہیں کہ وہ سچ ماننے پر آمادہ ہو سکتے ہیں اور ان میں اتنی ذہانت موجود ہے کہ ان دلائل کو سمجھ سکیں تو نرمی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے بات کی جانی چاہیے۔
ان چار گروہوں کی تقسیم بڑی خوبصورتی سے نہ صرف ان اعتراضات کا جواب فراہم کرتی ہے جو علم الکلام پر وارد کیے جاتے ہیں بلکہ یہ بھی متعین کرتی ہے کہ اس علم کو کن پر پیش کیا جانا چاہیے اور کن پر نہیں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دین کی اشاعت و تبلیغ کے طریقۂ کار کی پیروی کی بات ہو یا علم الکلام کے مباحث کے دقیق ہونے کا اعتراض، امام غزالی بتا چکے ہیں کہ اگر تبلیغ کے اس انداز سے کام چلایا جا سکتا ہو تو ضرور چلایا جائے، اور اسی طرح اگر کسی میں دقیق مباحث سمجھنے کی صلاحیت نہیں تو اس پر وقت ضائع نہ کیا جائے۔ یہاں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ہر جگہ صورتِ حال یکساں نہیں ہوتی۔
جہاں تک نظری عقل، فطری عقل اور عقلِ سلیم جیسی خود ساختہ اصطلاحات کی بات ہے یا علم الکلام کا یونانی فلسفے پر مبنی ہونے کا اعتراض، چوتھے گروہ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انہیں ایسی خود ساختہ اصطلاحات کے ذریعے قائل نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اسی زبان میں بات کرنا ہوگی اور وہی پیمانہ استعمال کرنا ہوگا جسے وہ صحیح سمجھتے ہیں۔
آخر میں اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ علم الکلام اور وحی کے دلائل میں کوئی دوئی ہے۔ کچھ حضرات قرآن پاک کے ذریعے خدا کے وجود کے دلائل دینے کی کوشش میں پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ متکلمین انہی دلائل کو انتہائی چھان پھٹک کے ساتھ ایک منظم اور شفاف انداز میں پیش کرتے ہیں، جو ایمان والوں اور انکار کرنے والوں دونوں کے لیے یکساں مفید ہوں۔ معترضین اپنی کوشش میں دراصل اسی علمی روایت کو نئے نام اور نئے اسلوب میں دہرا رہے ہوتے ہیں جسے وہ غیر ضروری یا غلط سمجھتے ہیں۔
امام غزالی اس علم کو فرضِ کفایہ قرار دیتے ہیں۔ سب کے لیے اس سے واقفیت ضروری نہیں، لیکن ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو اس علم پر دسترس رکھتا ہو تاکہ مسلمانوں اور انکار کرنے والوں میں جو سچ کے متلاشی افراد ہیں ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کر سکے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں