جناب جوہر صاحب کا کانٹین خیالات سے متاثر ہونے کی بنا پر کہنا ہے کہ امام غزالی نے قدم عالم کے مسئلے میں مسلم فلاسفہ کی تکفیر اس لئے کی کہ ان لوگوں نے مابعد الطبعیات کو دین بنانے کی کوشش کی۔ جوہر صاحب کے مطابق مابعد الطبعیات غیب کا متبادل ہے، غیب وہ امور ہیں جو نبی کی خبر سے معلوم ہوتے ہیں اور مسلم فلاسفہ نے عالم کو قدیم مان کر اس کی جگہ مابعد الطبعیات لانے کی کوشش کی۔ عالم قدیم ہے یا حادث، یہ نبی کی جانب سے غیب کی خبر ہے۔
تبصرہ
مدعی کا یہ دعوی غیر علمی و بے بنیاد ہے اور یہ اپنی طرف سے ایک بات بنا کر امام صاحب کے سر تھوپنے کی کوشش ہے۔ امام صاحب نہ صرف یہ کہ عالم کے حادث ہونے کو عقل سے ثابت مانتے ہیں بلکہ ان کے مطابق وہ عقل ہی سے ثابت ہوسکتا ہے، نقل (نبی کی خبر) سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ متکلمین کے ہاں یہ بات معروف ہے کہ وہ حقائق کو تین اقسام میں رکھتے ہیں:
(الف) وہ جو صرف دلیل عقلی سے ثابت ہوسکتے ہیں نہ کہ دلیل نقلی سے،
(ب) وہ جو صرف دلیل نقلی سے ثابت ہوسکتے ہیں نہ کہ دلیل عقلی سے، اور
(ج) وہ جو دونوں سے ثابت ہوسکتے ہیں
امام غزالی کتاب “الاقتصاد فی الاعتقاد” (جو “تھافت الفلاسفة” کے بعد لکھی گئی) میں اس تقسیم کو دہراتے ہوئے لکھتے ہیں:
أن ما لا يعلم بالضرورة ينقسم إلى ما يعلم بدليل العقل دون الشرع، وإلى ما يعلم بالشرع دون العقل، وإلى ما يعلم بهما. أما المعلوم بدليل العقل دون الشرع فهو حدث العالم ووجود المحدث وقدرته وعلمه وارادته، فإن كل ذلك ما لم يثبت لم يثبت الشرع، إذ الشرع يبنى على الكلام فإن لم يثبت كلام النفس لم يثبت الشرع. فكل ما يتقدم في الرتبة على كلام النفس يستحيل إثباته بكلام النفس وما يستند إليه ونفس الكلام أيضاً فيما اخترناه لا يمكن اثباته بالشرع. ومن المحققين من تكلف ذلك وادعاه
مفہوم: “وہ امور جوعلم ضروری (یعنی اولیات) سے سوا ہیں تین اقسام کے ہیں: جو صرف دلیل عقلی سے معلوم ہوتے ہیں نہ کہ دلیل شرعی سے، وہ جو صرف دلیل شرعی سے معلوم ہوتے ہیں نہ کہ دلیل عقلی سے اور وہ جو دونوں سے معلوم ہوسکتے ہیں۔ پہلی قسم (جو صرف دلیل عقلی سے ثابت ہوتے ہیں) میں ان امور کا علم شامل ہے: حدوث عالم اور اس کے محدث کا علم، اس محدث کی صفات جیسے کہ قدرت، علم و ارادہ کا علم۔ ایسا اس لئے ہے کہ اگر یہ امور ثابت نہ ہوں تو شرع کا اثبات ممکن نہیں کیونکہ شرع کلام (یعنی خطاب الہی) سے عبارت ہے، جب تک (ذات باری کی صفت) کلام نفسی ثابت نہ ہو شریعت ثابت نہیں ہوسکے گی۔ اصول یہ ہے کہ ہر وہ شے جو (ترتیب میں) کلام نفسی پر مقدم ہے اس کا اثبات کلام نفسی اور اس پر مبنی امور سے ہونا محال ہے۔ بعض محققین نے البتہ تکلف سے کام لیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کا دعوی کیا ہے”
چنانچہ امام غزالی کہہ رہے ہیں کہ عالم حادث ہے یا قدیم، یہ دلیل نقلی سے نہیں دلیل عقلی سے ثابت ہوسکنے والے امور میں سے ہے اور دیگر متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کی طرح اس کتاب کے پہلے باب میں آپ نے عالم کے حادث ہونے پر عقلی دلیل قائم کی ہے۔ چنانچہ امام صاحب تو خود مدعی کے بقول مابعد الطبعیات مابعد الطبعیات کھیل رہے ہیں، اب کیا کرنا ہے؟
اسی طرح امام غزالی کی آخری عمر کی کتب میں سے ایک “المستصفی” ہے جس کا موضوع اصول فقہ ہے۔ اس کے مقدمے میں آپ علم کلام کی فضیلت و دائرہ کار پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ییں:
وَالْمُتَكَلِّمُ هُوَ الَّذِي يَنْظُرُ فِي أَعَمِّ الْأَشْيَاءِ وَهُوَ الْمَوْجُودُ، فَيَقْسِمُ الْمَوْجُودَ أَوَّلًا إلَى قَدِيمٍ حَادِثٍ، ثُمَّ يَقْسِمُ الْمُحْدَثَ إلَى جَوْهَرٍ وَعَرَضٍ، ثُمَّ يَقْسِمُ الْعَرَضَ إلَى مَا تُشْتَرَطُ فِيهِ الْحَيَاةُ مِنْ الْعِلْمِ وَالْإِرَادَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْكَلَامِ وَالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ وَإِلَى مَا يَسْتَغْنِي عَنْهَا كَاللَّوْنِ وَالرِّيحِ وَالطَّعْمِ، وَيَقْسِمُ الْجَوْهَرَ إلَى الْحَيَوَانِ وَالنَّبَاتِ وَالْجَمَادِ وَيُبَيِّنُ أَنَّ اخْتِلَافَهَا بِالْأَنْوَاعِ أَوْ بِالْأَعْرَاضِ.
ثُمَّ يَنْظُرُ فِي الْقَدِيمِ فَيُبَيِّنُ أَنَّهُ لَا يُتَكَثَّرُ وَلَا يَنْقَسِمُ انْقِسَامَ الْحَوَادِثِ، بَلْ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ وَاحِدًا وَأَنْ يَكُونَ مُتَمَيِّزًا عَنْ الْحَوَادِثِ بِأَوْصَافٍ تَجِبُ لَهُ وَبِأُمُورٍ تَسْتَحِيلُ عَلَيْهِ وَأَحْكَامٍ تَجُوزُ فِي حَقِّهِ وَلَا تَجِبُ وَلَا تَسْتَحِيلُ، وَيُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَائِزِ وَالْوَاجِبِ وَالْمُحَالِ فِي حَقِّهِ.
ثُمَّ يُبَيِّنُ أَنَّ أَصْلَ الْفِعْلِ جَائِزٌ عَلَيْهِ، وَأَنَّ الْعَالَمَ فِعْلُهُ الْجَائِزُ، وَأَنَّهُ لِجَوَازِهِ افْتَقَرَ إلَى مُحْدِثٍ، وَأَنَّ بَعْثَةَ الرُّسُلِ مِنْ أَفْعَالِهِ الْجَائِزَةِ، وَأَنَّهُ قَادِرٌ عَلَيْهِ وَعَلَى تَعْرِيفِ صِدْقِهِمْ بِالْمُعْجِزَاتِ، وَأَنَّ هَذَا الْجَائِزَ وَاقِعٌ. عِنْدَ هَذَا يَنْقَطِعُ كَلَامُ الْمُتَكَلِّمِ وَيَنْتَهِي تَصَرُّفُ الْعَقْلِ، بَلْ الْعَقْلُ يَدُلَّ عَلَى صِدْقِ النَّبِيِّ.
ثُمَّ يَعْزِلُ نَفْسَهُ وَيَعْتَرِفُ بِأَنَّهُ يَتَلَقَّى مِنْ النَّبِيِّ بِالْقَبُولِ مَا يَقُولُهُ فِي اللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِمَّا يَسْتَقِلُّ الْعَقْلُ بِدَرَكِهِ وَلَا يَقْضِي أَيْضًا بِاسْتِحَالَتِهِ فَقَدْ يَرِدُ الشَّرْعُ بِمَا يَقْصُرُ الْعَقْلُ عَنْ الِاسْتِقْلَالِ بِإِدْرَاكِهِ إذْ لَا يَسْتَقِلُّ الْعَقْلُ بِإِدْرَاكِ كَوْنِ الطَّاعَةِ سَبَبًا لِلسَّعَادَةِ فِي الْآخِرَةِ وَكَوْنِ الْمَعَاصِي لِلشَّقَاوَةِ، لَكِنَّهُ لَا يَقْضِي بِاسْتِحَالَتِهِ أَيْضًا، وَيَقْضِي بِوُجُوبِ صِدْقِ مَنْ دَلَّتْ الْمُعْجِزَةُ عَلَى صِدْقِهِ، فَإِذَا أُخْبِرَ عَنْهُ صَدَّقَ الْعَقْلُ بِهِ بِهَذِهِ الطَّرِيقِ فَهَذَا مَا يَحْوِيهِ عِلْمُ الْكَلَامِ فَقَدْ عَرَفْتَ هَذَا أَنَّهُ يَبْتَدِئُ نَظَرُهُ فِي أَعَمِّ الْأَشْيَاءِ أَوَّلًا وَهُوَ الْمَوْجُودُ
مفہوم: “متکلم کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ (حقائق میں) سب سے عام چیز پر نظر کرتا ہے اور وہ ہے وجود۔ چنانچہ وہ سب سے پہلے موجودات کو قدیم اور حادث میں تقسیم کرتا ہے، پھر حادث کو جوہر اور عرض میں تقسیم کرتا ہے، پھر عرض کو یوں تقسیم کرتا ہے (کہ بعض وہ ہیں) جن کے لیے حیات شرط ہے جیسے علم ارادہ قدرت کلام سماعت اور بصارت، اور وہ جن کے لیے حیات شرط نہیں جیسے رنگ ہوا اور ذائقہ، اور جوہر کو حیوان، نبات اور جمادات میں تقسیم کرتا ہے، اور واضح کرتا ہے کہ ان کے مابین اختلاف یا تو انواع کے اعتبار سے ہے اور یا اعراض کے اعتبار سے۔
پھر وہ قدیم میں غور و فکر کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ وہ نہ کثرت کو قبول کرتا ہے اور نہ حادث موجودات جیسی تقسیمات کو، بلکہ ضروری ہے کہ وہ ایک ہو اور حادث موجودات سے ایسے اوصاف کے ذریعے ممتاز ہو جو اس کے لیے واجب ہیں، اور ایسے امور کے ذریعے جو اس پر محال ہیں، اور ایسے احکام کے ذریعے جو اس کے حق میں جائز ہیں نہ کہ واجب اور محال، اور یوں وہ اس (قدیم ذات) کے حق میں جائز واجب اور محال کے مابین فرق کرتا ہے۔
پھر وہ واضح کرتا ہے کہ فعل کرنا اس (قدیم ذات) کے حق میں جائز یا ممکن ہے، اور یہ کہ یہ عالم اس کے ممکن افعال میں سے ہے، اور یہ کہ اپنے ممکن ہونے کی وجہ سے عالم ایک محدِث کا محتاج ہے، اور یہ کہ رسولوں کی بعثت اس کے ممکن افعال میں سے ہے، اور یہ کہ وہ اس پر قادر ہے (کہ نبی مبعوث کرے) نیز معجزات کے ذریعے ان کی سچائی کی دلیل مقرر کرنے پر بھی قادر ہے، اور یہ بھی کہ یہ ممکن فعل واقع بھی ہوا۔
اس مقام (یعنی نبی کی سچائی کی دلیل معلوم ہوجانے) پر متکلم کا کلام اور عقل کی کارفرمائی ختم ہو جاتے ہیں اس لئے کہ عقل نبی کی سچائی پر دلالت کرتی ہے، متکلم اس کے بعد خود کو معزول کرلیتا ہے اور اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اللہ اور آخرت کے بارے میں نبی کی ان باتوں و امور کو قبول کرتا ہے جن کے ادراک میں عقل خود مستقل نہیں اور جن کے محال ہونے کا بھی وہ حکم نہیں لگاتی کیونکہ شریعت ایسے امور لے کر آسکتی ہے جن کے ادراک میں عقل خود مستقل نہیں ہوتی۔ ایسا اس لئے کہ عقل اس بات کے ادراک میں مستقل نہیں کہ طاعت آخرت میں سعادت کا سبب ہے اور معاصی شقاوت کا سبب ہیں، لیکن وہ ان کے محال ہونے کا بھی حکم نہیں لگاتی بلکہ عقل اس شخص کی سچائی کے واجب ہونے کا حکم دیتی ہے جس کی سچائی پر معجزہ دلالت کرچکا۔ پس نبی کی طرف سے جس چیز کی جس طرح خبر دی جائے عقل اسی طرح اس کی تصدیق کرتی ہے۔
پس یہ وہ امور جن پر علم کلام مشتمل ہے، اور اس تفصیل سے تم یہ بات جان چکے کہ اس علم کا نقطہ آغاز حقائق میں سب سے عام حقیقت پر غور و فکر کرنا ہے: یعنی ‘وجود’۔”
خوب نوٹ کیجئے کہ نبی کی اخبار کا دائرہ شروع ہونے سے قبل امام غزالی کن کن مابعد الطبعیاتی امور کے طے ہوچکنے اور ان میں عقل کے مستقل ہونے کی بات کررہے ہیں۔ نیز یہ اقتباس ان لوگوں کے لئے بھی غور کا مقام ہے جو کلام کو گویا شبہات کے جواب وغیرہ کا دفاعی منہج ( apologetic discourse) سمجھتے ہیں جبکہ خود علم کلام کے ماہرین کی نظر میں یہ علم “وجود” (ontology) کی بحث سے متعلق ہے۔
ان حضرات کے سامنے جب ائمہ کلام کی عبارات پیش کرکے ان کا موقف بتایا جائے تو ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ تم لوگ عبارات پیش کرکے فلسفے کی صحافیانہ رپورٹنگ کرتے ہو، تم لوگوں کو متن پڑھنا اور اسے سمجھنا نہیں آتا، ہم تمہاری طرح دماغ کی عدمیت سے فلسفے و کلام کے متون نہیں پڑھتے۔ ظاہر ہے یہ کوئی علمی بات نہیں، کسی مصنف کی تفہیم کا یہ کوئی طریقہ نہیں کہ اس نے جو کچھ لکھا اسے یکسر اگنور کرکے اپنے ذاتی تاثر کی بنا پر ایک رائے قائم کرلی جائے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ان ماہرین کی خصوصیت متکلمین کے متون کا گہرا فہم نہیں ہے بلکہ ان کا المیہ ان متون کو نہ پڑھنا ہے، اتنا ہی نہیں کہ یہ علمائے کلام کے متون پڑھتے نہیں بلکہ پڑھنا چاہتے بھی نہیں بلکہ انہیں پڑھنے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود علمائے کلام کے موقف کے صریح خلاف باتیں کرکے یہ غیر شعوری طور پر ان پر کذب بیانی کے مرتکب ہیں۔




کمنت کیجے