Home » فزیکل اور میٹافزیکل کی مشہور مگر غلط تقسیم
فلسفہ

فزیکل اور میٹافزیکل کی مشہور مگر غلط تقسیم

جدید علمیات کی غلطیاں اس قدر عام ہوگئی ہیں کہ بات سمجھانے کے لئے ان میں گفتگو کرنا پڑتی ہے، فزیکل (طبعی) و میٹافزیکل (مابعد طبعی)کی تقسیم بھی اسی میں سے ایک ہے۔ ہمارا رجحان یہ ہے کہ حقیقت کی ان دو خانوں میں تقسیم غیر مفید ہونے کے علاوہ غلط بھی ہے، اس تقسیم کا اگر کوئی فائدہ ہو بھی تو محض تدریسی (pedagogical) نوعیت وغیرہ کا ہوسکتا ہے نہ کہ حقیقی۔ درست اصطلاح کے مطابق میٹافزکس وجود (و عدم) کے احکام کا علم ہے (یعنی کیا موجود ہے اور کیسے وغیرہ)، اور اس اعتبار سے جسے فزیکل کہتے ہیں وہ بھی میٹافزیکل ہی ہے کیونکہ وہ بھی موجود ہے۔ “فزیکل بمقابلہ میٹافزیکل” کہنا ایسے ہے جیسے کوئی “وجود بمقابلہ وجود” کہے۔ درست تقسیم مادی (متحیز) و غیر مادی موجودات کی ہوسکتی ہے اور یہ دونوں میٹافزکس کا موضوع ہیں، اسلامی کلام میں موجودات کو عام طور پر اسی طرح تقسیم کیا جاتا ہے۔ چنانچہ فزیکل اور میٹافزیکل کی تقسیم دراصل علم کے موضوعات کی نہیں بلکہ جدید اصطلاحی بدفہمی کی پیداوار ہے۔ جسے میٹافزکس بمعنی وجود کے علمی احکام کہتے ہیں، اسلامی کلام میں اس کے لئے قریب ترین اصطلاح “امور عامہ” ہے، اور جسے اب غلط طور پر فزیکل کے مقابلے میں میٹافزیکل کہا جاتا ہے اس کے لئے قریب ترین لفظ “مجردات” ہے۔ کچھ لوگ ان امور سے واقفیت اور ان کی رعایت کئے بغیر ہی آج کی غلط العام اصطلاح میں میٹافزکس بول کر متکلمین کے بارے میں ماہرانہ گفتگو کرتے ہیں۔

اب یہ سمجھئے کہ علم کشفی صفت (factive state) سے عبارت ہے، جب ہم کہتے ہیں کہ “مجھے فلاں شے کا علم ہے” تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ “فلاں بات سچ (true) ہے”۔ علم اپنی اس ماہیت میں ایک ہی ہے، چاہے وہ حس کے ذریعے حاصل ہو، عقلی نظر و استدلال سے، یا نبی کی صادق خبر سے اس لئے کہ یہ کشف حقیقت ہے اور حقیقت اصلا حقیقت ہوتی ہے، حسی، عقلی، خبری نہیں ہوتی (اگرچہ اس کے علم کا ذریعہ مختلف ہو)۔ اس بنا پر “مابعد الطبعیات” اور “غیب” کی تقسیم و درجہ بندی بھی کوئی حقیقی علمی تقسیم نہیں بلکہ محض تعلیمی و تدریسی مقاصد کے لئے اختیار کردہ ایک غیر منضبط تقسیم ہے۔ جو حس میں نہیں لیکن دلیل سے معلوم ہے وہ بھی حقیقت ہے، اور اگر اس پر دلیل قائم نہیں تو اس کا حقیقت ہونا یا نہ ہونا طے نہیں۔ کسی شے کا ہمیں علم ہو اور وہ حقیقت نہ ہو، یہ ایک فضول بات ہے کیونکہ یہ کسی شے کے علم ہونے کے معنی ہی کے خلاف ہے۔

اگر کوئی کہے کہ مابعد الطبعی سے اس کی مراد وہ امور ہیں جو براہ راست حس میں نہیں آتے، تو اصطلاح پر جھگڑا چھوڑ کر ہم کہیں گے کہ حسی ہو یا غیر حسی دونوں میں حقیقت ہونے کے لحاظ سے فرق نہیں، یعنی ایسا نہیں کہ حسی و غیر حسی حقیقت و وجود کی کوئی مستقل اقسام ہیں یا ایک قسم زیادہ حقیقی ہو اور دوسری کم حقیقی ہو وغیرہ۔ نیز اس اصطلاح میں بھی بات کی جائے تو مابعد الطبعیات و غیب میں کوئی فرق نہیں کیونکہ غیب وہ حقیقت ہے جو حس سے پرے ہے نہ کہ دلیل سے کیونکہ جو دلیل سے پرے ہے اس کے سچ ہونے کا کوئی مطلب نہیں۔ چنانچہ بہت سے غیبی امور دلیل عقلی سے معلوم ہوتے بلکہ اسی سے معلوم ہوسکتے ہیں جیسے خدا کا موجود ہونا، اس کا حوادث سے منزہ ہونا، اس کا قادر ہونا وغیرہ اور بہت سے مابعد الطبعی حقائق وحی کی خبر کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتے جیسے فرشتے کا وجود، کسی خاص فعل پر عند اللہ ثواب یا عقاب ملنا، مرنے کے بعد حساب کتاب وغیرہ۔

پھر اگر کوئی کہے کہ غیب سے اس کی مراد وہ امور ہیں جو نہ حس میں آتے ہیں اور نہ دلیل عقلی سے معلوم ہوتے ہیں بلکہ صرف نبی کی خبر سے معلوم ہوتے ہیں اور ایمان ان سے متعلق ہوتا ہے، تو ہم کہیں گے کہ یہ حقیقت کی نہیں بلکہ محض اصطلاح کی تحدید ہے۔ اس تقسیم میں کسی نئی قسم کی حقیقت یا وجود کا اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ صرف علم کے ایک خاص طریق حصول کو ایک خاص نام دے دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس طرح کی تعریف نہ کسی وجودی امتیاز کو ثابت کرتی ہے اور نہ کسی حقیقی علمی تقسیم کو، بلکہ یہ محض ایک اصطلاحی سہولت (pedagogical        and            terminological            convenience) ہے جسے حقیقت کی تقسیم پر محمول کرنا محل نظر ہے۔ دوسری بات یہ کہ انبیا کی اخبار میں حسی و عقلی امور بھی بیان ہوتے ہیں اور جسے شرعی اصطلاح میں ایمان کہتے ہیں اس میں ان امور کی تصدیق بھی شامل ہے۔ چنانچہ نبی کی خبر اور اس پر ایمان کو ایسی اصطلاحی چیز کے ساتھ خاص کرنا داخلی طور پر بھی محدود تناظر ہی میں کارآمد ہے۔

فزیکل و میٹافزیکل کی غلط تقسیم کے پیچھے ایک غلط مفروضہ یہ کارفرما ہوتا ہے کہ گویا حصول علم کا طریقہ خارجی شے کی ماہیت و حقیقت و وجود کے تعین پر اثر انداز ہوتا ہے، یعنی means          of            knowledge گویا modes         of           being ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ علم factive state یا حقیقت سے متعلق کشفی صفت سے عبارت ہے، یہ کشف کیسے ہوا اس کا کسی شے کی حقیقت کے تعین میں کردار نہیں۔ ایک ہی حقیقت کا ادراک مختلف طرق سے ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ایک سچا شخص یہ خبر دے کہ کمرے کے اندر گیند موجود ہے، تو مجھے اس کے بتانے سے کمرے میں موجود گیند کا علم ہوگیا۔ اگر میں خود کمرے میں جاؤں اور وہاں گیند پاؤں تو اس سے بھی مجھے کمرے میں گیند کے وجود کا علم ہوتا ہے۔ “کمرے میں گیند کے وجود” کے اس علم کی سچائی میں جو اس سچے شخص کی خبر سے حاصل ہوا اور اس علم میں جو خود دیکھنے سے ہوا، دونوں میں نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ مثلاً حسی مشاہدے سے مجھے گیند کی موجودگی کے سوا بھی متعدد امور کا علم ہوا کہ مثلاً اس کا خاص رنگ، اس کا سائز، کمرے میں اس کا مقام، دیگر اشیا کے ساتھ اس کا فاصلہ وغیرہ وغیرہ، لیکن یہ سب “کمرے میں گیند کے وجود” پر اضافی علم ہے نہ کہ اس کے وجود کی حقیقت کا کوئی مختلف علم۔

اسی طرح اگر کمرے میں گیند کے وجود کی خبر مجھے ایک بہت بڑے مجمع سے ملے تو اس سے حاصل ہونے والے علم میں اور براہ راست مشاہدے سے ہونے والے علم میں اس اعتبار سے بھی کوئی جوہری فرق نہیں کہ یہ دونوں علم ضروری و قطعی کی قبیل سے ہیں۔ “حسی حقیقت”، “نظری حقیقت” و “خبری حقیقت” نام کی حقیقت کی کوئی الگ سے کیٹیگریز نہیں جنہیں فزیکل، میٹافزیکل و غیب وغیرہ کی تقسیمات کے لئے بنیاد بنا لیا جائے، یہ سب خلط مبحث ہے۔ نہ ہی یہ بات درست ہے کہ خبر کے ذریعے حاصل ہونے والا علم وجودی اعتبار سے الگ یا مثلاً کم حقیقی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا کہ خبر صادق اور بصری حس میں فرق یہاں یہ ہے کہ حس متعلقہ شے کو زیادہ متعین اور مفصل صورت میں منکشف کر دیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ فرق معلوم کی تفصیل میں ہے، نہ کہ معلوم کی حقیقت میں۔

علم سے متعلق یہ سب غلط فہمیاں اسی فلسفیانہ رجحان کی پیداوار ہیں جو فرضی قسم کی شرائط علم (conditions        of         knowledge) کی نوعیت کو بنیاد بنا کر موجودات و ماہیات وغیرہ کی نوعیت (types         of          being) کا تعین کرتا ہے، اور نیتجتاً یہ آنٹالوجی اور علمیات کے فرق کو گڈمڈ کردیتا ہے۔ چنانچہ فزیکل و میٹافزیکل، حسی و غیر حسی، حاضر و غیب وغیرہ یہ از خود “حقیقت کی اقسام” نہیں ہیں بلکہ محض اعتباری تقسیمات ہیں۔

آخری بات یہ کہ جن امور کا علم اس دنیا میں ہمیں بصری حس سے ہوتا ہے (یا وہ بعض جن کا بصری حس سے علم نہیں ہوتا)، اس میں حس کی کوئی تاثیر نہیں بلکہ یہ حواس وغیرہ امور عادیہ میں سے ہیں۔ خدا چاہے تو جسے امور عادیہ کی بنا پر نابینا کہتے ہیں اس میں مثلاً رنگ کا وہ علم پیدا کردے جو بینا کو حاصل ہوتا ہے۔ رنگ کا علم رنگ کی ذات سے لازم نہیں آتا، اگر ایسا ہوتا تو جمادات کو بھی یہ حاصل ہوتا یا مثلاً نابینا کو بھی حاصل ہوتا، آنکھ وغیرہ محض عادی امور ہیں، ان کا اس حقیقت سے تعلق نہیں جن کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس دنیا میں بعض حقائق کا علم مثلاً آنکھ سے ہونا انہیں بصری حقائق (eye        bound        realities) کی ایک الگ وجودی قسم نہیں بنا دیتا اور نہ ہی اس سے علم کی کوئی جداگانہ نوع وجود میں آجاتی ہے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں