
وسیم رضا ماتریدی
مابعد الطبیعیات اور علم الکلام کے باہمی تعلق پر کلاسیکی اسلامی روایت میں جو مباحث موجود ہیں، وہ ایک منظم اور متوازن علمی نقشہ پیش کرتی ہیں، البتہ ان کے اندر ایسے مفہومی اور منہجی سوالات کی گنجائش موجود ہے جو محض روایت کی سطح پر قبول نہیں کیے جا سکتے۔ خاص طور پر وہ موقف جس کے مطابق مابعد الطبیعیات “وجود بما هو وجود” کا علم ہے اور علم الکلام خدا کو بطورِ موضوع پہلے ہی فرض کر لیتا ہے، ایک ایسی تقسیم قائم کرتا ہے جو پہلی نظر میں واضح معلوم ہوتی ہے، مگر گہرے تجزیے میں کئی بنیادی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ یہ تقسیم صرف دو علوم کے درمیان فرق نہیں کرتی، بلکہ علم کی نوعیت، اس کی غایت، اور انسان کے ساتھ اس کے تعلق کو ایک خاص فلسفیانہ سانچے میں محدود کر دیتی ہے۔
یہ تصور علم کو ایک ایسے فریم میں رکھتا ہے جہاں “نظری علم” حقیقت کے بارے میں صدق تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اور “عملی علم” انسانی عمل کی درستی سے متعلق ہے۔ بظاہر یہ تقسیم ارسطویی روایت کے مطابق ہے، مگر اسی تقسیم کے اندر ایک بنیادی خلا موجود ہے: یہ علم کی اس جہت کو نظر انداز کر دیتی ہے جو نہ صرف حقیقت کو جاننے بلکہ اسے جینے، محسوس کرنے اور وجودی طور پر اختیار کرنے سے متعلق ہے۔ جب علم کو صرف “قضایا” اور “افعال” تک محدود کر دیا جائے تو وہ انسانی وجود کے اس پہلو کو نظر انداز کر دیتا ہے جہاں معنی، تعلق، اور داخلی تبدیلی جنم لیتی ہے۔ یہی وہ جہت ہے جہاں دینی علم اپنی اصل اہمیت کے ساتھ سامنے آتا ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جو اس فلسفیانہ تقسیم میں غائب ہے۔
چنانچہ پہلا بنیادی اشکال یہی ہے کہ علم کو محض نظری اور عملی خانوں میں تقسیم کر دینا، علم کی اس تیسری جہت کو خارج کر دیتا ہے جسے وجودی یا حضوری علم کہا جا سکتا ہے۔ یہی وہ جہت ہے جس میں دین انسان کے اندر معنی، ذمہ داری، اور خدا کے ساتھ زندہ تعلق کو پیدا کرتا ہے۔ اس کے بغیر علم محض تصدیقات کا مجموعہ رہ جاتا ہے، اور دین محض ایک نظری نظام میں تبدیل ہو جاتا ہے جس میں نہ داخلی حرارت باقی رہتی ہے نہ اخلاقی توانائی۔
اسی پس منظر میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ مابعد الطبیعیات کا موضوع “وجود بما هو وجود” ہے اور وہ اپنی تحقیق کے ذریعے خدا تک پہنچتی ہے، جبکہ علم الکلام خدا کو بطورِ موضوع پہلے ہی فرض کر لیتا ہے، تو یہ تقسیم ایک اور بنیادی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ اس میں خدا کو دو مختلف سطحوں پر رکھا جاتا ہے: ایک طرف وہ فلسفیانہ تحقیق کا نتیجہ بن جاتا ہے، اور دوسری طرف وہ ایمان کا مفروضہ۔ مگر یہ دوہری تقسیم خود اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہے کہ دینی شعور میں خدا نہ صرف نتیجہ ہے، نہ صرف مفروضہ، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جس کے ساتھ انسان کا تعلق علم، ایمان، اخلاق، اور وجود،چاروں سطحوں پر قائم ہوتا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا کو صرف مابعد الطبیعیات کی آخری منزل کے طور پر سمجھنا کافی ہے؟ فلسفیانہ استدلال ایک “واجب الوجود” تک تو پہنچ سکتا ہے، مگر وہ اس حقیقت کو معبود، رب، ہادی، اور اخلاقی مرکز کے طور پر نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس علم الکلام خدا کو صرف فرض نہیں کرتا بلکہ اس کی معقولیت، اس کی صفات، اس کے افعال، اور انسان کے ساتھ اس کے تعلق کو ایک منظم اور بامعنی نظام میں پیش کرتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ علم الکلام خدا کو “بلا دلیل” مان لیتا ہے، دراصل اس علم کی ساخت کو نا سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اشعری و ماتریدی علم الکلام ایمان کو معقول بناتا ہے، نہ کہ محض مفروضہ کی حد تک کی کوئی چیز ۔
اسی طرح وہ اصول بھی جس کے مطابق ہر علم اپنے موضوع کو پہلے سے فرض کرتا ہے اور اس کے وجود کو ثابت نہیں کرتا، اپنی جگہ ایک مفید اصول ہونے کے باوجود دینی علم کے باب میں محدود ہو جاتا ہے۔ طبیعیات اپنے موضوع—اجسام—کو مان کر چلتی ہے، اور ریاضی مقدار کو فرض کرتی ہے، مگر علم الکلام کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں موضوع صرف ایک “تصور” نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے ساتھ انسان کا وجودی تعلق قائم ہے۔ اس لیے علم الکلام میں خدا کو صرف ایک مفروضہ سمجھنا درست نہیں؛ وہ ایمان، وحی، عقل، اور انسانی تجربے کے مجموعے سے قائم ہونے والی حقیقت ہے۔ یہیں سے علم الکلام کی وہ خصوصیت ظاہر ہوتی ہے جو اسے محض فلسفیانہ مابعد الطبیعیات سے ممتاز کرتی ہے۔
مزید برآں، مابعد الطبیعیات کو تمام علوم کی بنیاد قرار دینا بھی ایک قابلِ نقد دعویٰ ہے۔ یہ درست ہے کہ مابعد الطبیعیات عمومی اصولوں اور وجود کے بنیادی سوالات پر بحث کرتی ہے، مگر دینی علم کی بنیاد صرف وجودی اصول نہیں، بلکہ وحی، نبوت، اور اخلاقی شعور بھی ہیں۔ اگر علم کی بنیاد کو صرف “وجود بما هو وجود” تک محدود کر دیا جائے تو دین کی وہ جہت جو ہدایت، معنی، اور انسانی تبدیلی سے متعلق ہے، پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ اس طرح علم ایک مجرد ساخت بن جاتا ہے جس کا انسان کی عملی اور روحانی زندگی سے تعلق کمزور پڑ جاتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم اشکال سامنے آتا ہے کہ اس فلسفیانہ تقسیم میں انسان خود کہاں ہے؟ علم کی بحث ہے، وجود کی بحث ہے، خدا کی بحث ہے، مگر انسان بطورِ ایک زندہ، محسوس کرنے والی، سوال کرنے والی، اور معنی تلاش کرنے والی ہستی غائب ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے علم الکلام—خاص طور پر اشعری و ماتریدی روایت—پُر کرتی ہے۔ یہ روایت خدا کو صرف وجودی حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی زندگی کے مرکز کے طور پر پیش کرتی ہے، اور علم کو صرف ادراک کا عمل نہیں بلکہ ہدایت اور تشکیل کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
چنانچہ اگر اس پوری بحث کو ایک متوازن زاویے سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مابعد الطبیعیات اور علم الکلام کا تعلق محض برتری یا کمتری کا نہیں، بلکہ تکمیل کا ہونا چاہیے۔ مابعد الطبیعیات وجود کی عمومی ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، مگر علم الکلام اس وجود کو معنی، مقصد، اور اخلاقی سمت فراہم کرتا ہے۔ مابعد الطبیعیات خدا تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے، مگر علم الکلام خدا کے ساتھ جینے کا فہم دیتا ہے۔
میرے نزدیک اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ علم کو صرف نظری اور عملی خانوں میں محدود نہ کیا جائے، بلکہ اس کی وجودی جہت کو بھی تسلیم کیا جائے۔ اسی طرح خدا کو نہ صرف فلسفیانہ نتیجہ سمجھا جائے اور نہ محض مفروضہ، بلکہ ایک ایسی حقیقت کے طور پر دیکھا جائے جو انسان کے علم، ایمان، اور وجود—تینوں کا مرکز ہے۔ اسی تناظر میں اشعری و ماتریدی علم الکلام زیادہ جامع اور متوازن دکھائی دیتا ہے، کیونکہ وہ عقل اور وحی کو باہم مربوط کرتا ہے، خدا کو محض علت نہیں بلکہ رب کے طور پر پیش کرتا ہے، اور علم کو محض ادراک نہیں بلکہ ہدایت اور معنی کے ساتھ جوڑتا ہے۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ مابعد الطبیعیات کی فلسفیانہ تقسیم اپنی جگہ اہم ہونے کے باوجود دینی علم کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔ اس کے برعکس علم الکلام—جب وہ اپنے اصل منہج کے ساتھ ہو—ایک ایسا جامع فریم فراہم کرتا ہے جس میں وجود، علم، خدا، اور انسان چاروں ایک مربوط معنوی نظام میں آ جاتے ہیں۔ یہی وہ نظام ہے جس میں علم محض جاننے کا عمل نہیں رہتا، بلکہ جینے، بدلنے، اور معنی پانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔




کمنت کیجے