سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام عالمین کے لیے رحمت بن کر آئے۔حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت سے نبی تھے جبکہ حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام ابھی مٹی اور روح کے درمیان تھے۔ حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام تک ہر نبی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا علم تھا اور اپنی امتوں کو اس کا ابلاغ کیا۔ سابقہ کتب سماویہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارات موجود ہیں۔ علامہ محمد اشرف سیالویؒ جو کہ اہل سنت کے ایک معتبر و مستند عالم تھے نے اس حوالے سے ایک کتاب لکھی جس کا نام ‘انبیاء سابقین اور بشارات سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘ ہے۔ اس کو اہل سنہ پبلی کیشنز دینہ نے شائع کیا ہے۔
حرف آغاز میں علامہ سیالویؒ نے لکھا ہے کہ انبیاء و رسل علیہم السلام نے اپنے دور میں توحید خداوند اور اپنی نبوت کے اعلان کے بعد جو سب سے اہم کام سر انجام دیا وہ سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کا بیان تھا۔ ان انبیاء نے اپنی امتوں کو عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اس بات کی تائید میں دور نبوی کے یہود کے طرزِ عمل کو دیکھا جا سکتا ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام، حضرت اسحاق علیہ الصلٰوۃ والسلام ، حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام ، حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام اور حضرت ہارون علیہ الصلٰوۃ والسلام جیسے اولو العزم انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھتے تھے لیکن اپنی دعاؤں میں توسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے کرتے تھے۔ ان کے اکابر مرتے وقت اپنے اصاغر کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد اور ان پر ایمان لانے کی وصیت کرتے۔ تبع یمانی ہو یا پھر شہنشاہ حبشہ شاہان بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کا دم بھرتے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جیسا شخص جو راہبوں کی صحبت اور خدمت میں رہا ان کی منزل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان ہی ٹھہری ۔ نجران کے عیسائیوں نے ہٹ دھرمی کے باوجود مباہلے سے پسپائی اختیار کی۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جیسے جید یہودی عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے ائے۔ یہ سب اس بات کے واقعاتی ثبوت ہیں کہ انبیاء سابقین علیہم السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کی خبر اپنی امتوں کو دی تھی۔ اس کے ساتھ کتب سماویہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی بشارات موجود تھیں۔
علامہ سیالویؒ نے لکھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اسلام کی حقانیت کا لوہا جہاد اور میدان علم میں منایا لیکن اب بدقسمتی سے مسلمان داخلی انتشار اور کمزوری کا شکار ہیں تو جہاد کے میدان کے ساتھ ساتھ علم کے میدان میں بھی اسلام کی حقانیت کو بیان کرنے کا وہ کام نہیں کیا جا رہا جس کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام کے مدمقابل قوتیں اپنی پوری طاقت سے اسلام پر حملہ آور ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے بارے میں وہ ذہنوں میں خدشات ڈالنے کے مکروہ عزائم رکھتے ہیں۔ علامہ سیالوی کہتے ہیں کہ یہ کتاب ایک کوشش ہیں کہ لوگوں کو اسلام کو چھوڑ کر یہودیت و نصرانیت اپنانے سے روکنے کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کو چھوڑ کر انبیاء سابقین علیہم السلام کی غلامی اختیار کرنے کی۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم انبیاء سابقین علیہم السلام اور کتب قدیمہ کی زبانی سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کے دلائل ان کے سامنے رکھیں۔ یہ کتاب اس ہی بات کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔
علامہ سیالوی رحمہ اللہ نے سب سے پہلے قرآن مجید کی سات آیات کو اپنے اس دعویٰ کے ثبوت کے لیے پیش کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر سابقہ انبیاء اور کتب سماویہ میں موجود تھا۔ اس کے لیے انہوں نے ان آیات کو نقل کیا ہے
سورہ الاعراف آیت نمبر ۱۵۷ میں واضح طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تورات و انجیل میں ذکر ہونے کو بیان کیا گیا ہے
دوسری آیت سورہ آل عمران کی آیت ۸۱ ہے جس میں انبیاء علیہم السلام سے میثاق کا ذکر ہے
تیسری نمبر پر سورہ الصف کی آیت ۶ کا حوالہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کا نام گرامی احمد کے ذریعے بشارت دی گئی ہے
چوتھی نمبر پر سورہ البقرہ آیت ۸۹ لائے جہاں یہود کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے فتح طلب کیا کرتے تھے۔ اس آیت کی وضاحت میں علامہ سیالویؒ نے دو معانی ذکر کیے ہیں ایک کے مطابق یہود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے دعا مانگتے تھے جبکہ دوسرے معانی کے مطابق یہود مدینہ کے غیر یہودی قبائل یعنی اوس و خزرج کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عنقریب آمد کے بتاتے اور ان پر غالب رہنے کی کوشش کرتے مگر جب ایمان کا وقت آیا تو اوس و خزرج کے لوگ ایمان لے آئے مگر یہود کی اکثریت ایمان سے محروم رہی۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ چند لوگ ہی ایمان لائے
پانچویں نمبر پر سورہ البقرہ کی آیت ۱۴۶ ہے جس میں بتایا ہے کہ یہود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں
چھٹے نمبر پر سورہ البقرہ کی آیت ۱۰۹ نقل کی ہے جس میں اہل کتاب کے حسد کا ذکر ہے اور ان کے فساد کا ذکر ہے جبکہ بتایا گیا ہے ان پر حق واضح ہو چکا ہے
ساتویں نمبر پر سورہ آل عمران کی آیت ۱۸۷ نقل کی ہے جس میں کتاب کے حاملین سے عہد لیا جانے کا ذکر ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کو نہیں چھپائیں گے۔
علامہ سیالوی نے یہ آیات بطور نمونہ پیش کی ہیں ورنہ مزید آیات اس بات کو ثابت کرنے کے لیے موجود ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کا سابقہ انبیاء علیہم السلام اور کتب سماویہ موجود ہونے کے ساتھ ساتھ عہد نبوی کے اہل کتاب کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچاننے کا ذکر موجود ہے۔ یہاں پر علامہ سیالوی نے ایک نکتہ پیش کیا ہے کہ بالفرض قرآن مجید کا یہ دعویٰ درست نہ ہوتا تو یقیناً اہل کتاب اس کو چیلنج کرتے اور اگر قرآن مجید ان کے چیلنج کی تصدیق نہ کرتا تو اسلام کو بآسانی وہ ختم کر سکتے تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ قرآن مجید کا دعویٰ سچ ہے اور ان کی کتب میں ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہے۔
اس کے بعد علامہ سیالوی نے تورات و انجیل اور صحف انبیاء علیہم السلام سے اپنی بات پر ثبوت لانے کا ذکر کیا ہے۔
ابتداء انہوں نے انجیل برنباس سے کی ہے۔ پہلے اس کی چار آیات جس میں ایک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح کی نورانیت اور لطافت کا ذکر ہے۔ ایک میں حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کا عرش پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام مبارک کو دیکھنا اور رب العزت سے ان کے متعلق دریافت کرنا، حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خبر دینا اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام گرامی کا حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے انگھوٹوں پر ظاہر ہونا جس کو انہوں نے چوم کر آنکھوں سے لگایا۔
یہاں پر ضمنی طور پر علامہ سیالوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نورانیت اور لطافت روح پر گفتگو کی ہے۔ اس کے ساتھ مسئلہ تقبیل ابہامین پر بھی بات کی ہے اور اس کے حق میں دلائل دئیے ہیں اور اس پر چند وارد ہونے والے اعتراضات کا بھی جواب دیا ہے۔
اس کے بعد علامہ سیالوی نے مزید آٹھ آیات انجیل برنباس سے پیش کی ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا ذکر موجود ہے۔ ایک آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی یہ بتایا ہے کہ ان کے اٹھائے جانے کے بعد ان کی تعلیمات اور شخصیت کو مسخ کر کے پیش کیا جائے گا آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بارے میں افراط و تفریط سے کام لیا جائے گا لیکن جب وہ رسول آئے گا تو میری شخصیت کا درست تعارف پیش کرے گا۔ اس پر آگے علامہ سیالوی نے مزید گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ حقیقت واقعہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی شخصیت کا درست تعارف قرآن مجید کے بغیر پیش نہیں کیا جا سکتا اور یہ بھی درست ہے عہد نبوی میں یہود و نصاری ان کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار تھے۔
علامہ سیالوی نے جو یہاں انجیل برنباس کی آیات نقل کی ہیں ان میں ایک میں شفاعت کبریٰ کا بیان ہے۔ روز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش سے حساب کتاب شروع ہونے کا ذکر ہے۔ اس کی تائید احادیث سے ہوتی ہے۔
اس کے بعد اگلے باب میں مزید چار آیات انجیل برنباس سے نقل کی ہیں جن حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زندہ اُٹھائے جانے اور ان کی جگہ بے وفائی کرنے والے کے مصلوب ہونے کا ذکر ہے۔ پھر ایک جگہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام تورات و زبور میں تحریف کا ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اگر تورات میں تحریف نہ ہوتی تو خدا زبور کو نازل نہ کرتا اور اگر زبور میں بھی تحریف نہ ہوتی تو ان پر انجیل نازل نہ ہوتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام بتاتے ہیں کہ ان کی کتاب میں بھی تحریف ہو گی۔ ایک اور آیت میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خبر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ نبوت کا باب آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات اقدس پر بند ہو جائے گا اور اس کے بعد نبوت کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوں گے۔ پھر ایک جگہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے بارے میں ابن اللہ ہونے کے نجس عقیدے کے بطلان کے لیے بتاتے ہیں کہ ان کی جانب منسوب اس اعتقاد فاسد کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے بیخ کنی ہوگی۔
انجیل برنباس کی یہ آیات نقل کرنے کے بعد علامہ سیالوی نے ان کے زندہ اٹھائے جانے اور یہودا اسکریوطی کے مصلوب ہونے کی قرآن مجید سے تائید میں سورہ آل عمران کی آیت نقل کی ہے۔ انجیل برنباس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے پیدا ہونے سے مصنف نے رد قادیانیت کا نکتہ نکلا ہے اور مرزا قادیانی کے کذب و افتراء کو ذکر کیا ہے۔
انجیل برنباس کی نقل کردہ آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ علامت بھی منقول ہے وہ جنوب سے پوری قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گے یہ بات بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صادق آتی ہے کیونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع ہیں۔
سابقہ کتب سماویہ میں تحریف والی آیت انجیل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اب راہ حق کو جاننے کا فقط ایک ہی ذریعہ ہے وہ قرآن مجید ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا۔
اس کے بعد انجیل برنباس سے ایک اور آیت نقل کی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشاروں پر چاند کا چلنے اور اس کے دو ٹکڑے ہونے کا ذکر حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی نقل ہوا ہے۔
سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ دونوں باتیں درست ثابت ہوتی ہیں۔ بچپن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشاروں پر چاند کے چلنے پر تصدیق کے لیے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی گواہی کو مصنف نے نقل کیا ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اس واقعے کو دیکھا۔ جبکہ شق القمر کا معجزہ بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور معجزات میں سے ہے ایک ہے اور اس پر قرآن مجید کی گواہی بھی موجود ہے۔
اس کے بعد انجیل برنباس سے علامہ سیالوی نے ایک اور اقتباس نقل کیا ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے حواریوں سے ایک عظیم رات کا ذکر کرتے ہیں جو کہ سو سال بعد آتی ہے اور بتایا ہے کہ یہ سالانہ جوبلی ہوگی۔
علامہ سیالویؒ کے نزدیک یہاں جس رات کا ذکر حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام شب میلاد کا ذکر کر رہے ہیں پھر اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے وضاحت کی ہے اور پھر میلاد النبی کے جواز پر گفتگو کی ہے۔ میلاد کے جواز کی حد تو ٹھیک ہے مگر یہاں پر علامہ سیالوی کے طرزِ استدلال میں جذبات کی ترجمانی زیادہ پائی جاتی ہے۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس رات ولادت باسعادت ہوئی وہ عظیم الشان رات تھی مگر یہاں پر انجیل برنباس کی جس بات سے انہوں نے میلاد کے جواز پر استدلال کیا ہے اس پر کئی سوالات اٹھ سکتے ہیں جن میں سب سے اہم انجیل برنباس کی اپنی حیثیت ہے۔ اس پر انشاء اللہ آگے بات ہو گی۔
یہاں علامہ سیالوی رح نے ایک اور نکتہ بھی ذکر کیا ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خوش نصیبی کا ذکر کیا ہے کہ ان کو سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور جس کو ایک لمحے کے لیے بھی یہ سعادت میسر آئی اس کے فضل و کمال کے ساتھ دنیا کے اغواث و اقطاب کی عمر بھر کی عبادتیں برابری نہیں کر سکتیں۔
انجیل برنباس سے ایک اور آیت نقل کی گئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مثال سورج سے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال چاند سے دی ہے جو سورج سے روشنی لیتا ہے اور باقی انبیاء علیہم السلام ستارے ہیں
اس پر علامہ سیالوی نے یہ بات ثابت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جامع جمیع کمالات انبیاء علیہم السلام تھے۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ہر کمال کا منبع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکت ہے ہر مخلوق اپنے کمالات میں آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے کمالات روحانیہ و جسمانیہ کی محتاج ہے۔
انجیل برنباس میں یہ بھی مذکور ہے کہ جب حساب کتاب مکمل ہو جائے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کا عدل کا مشاہدہ کرنے کے لیے جہنم کے پاس آئیں گے تو دوزخ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت سے کانپ جائے گا۔ اس وقت اہل جہنم کا عذاب رک جائے گا حتی کہ شیطان پر بھی۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحمت اللعالمین ہونے کا معلوم ہوتا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے تمام مخلوقات حتی کہ جہنمی بھی مستفید ہوں گے جب کچھ لمحوں کے لیے ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے عذاب رک جائے گا۔
انجیل برنباس کی ایک اور آیت نقل کی گئی ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے حواریوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو ان کی تعلیمات کو مانے گا وہ رحمت اور خلاصی پائے گا۔ یہاں پر سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحمت اللعالمین ہونے کی دلیل موجود ہے۔
انجیل برنباس کی ایک اور آیت نقل کی گئی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علامت کا ذکر ہے۔ جن میں شق القمر اور چاند کا جھولے میں آپ کے اشاروں پر گھومنے کا ذکر یہاں دوبارہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاؤہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ابر کے سایے کرنے کا بھی ذکر ہے۔ یہاں علامہ سیالوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن کے اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں آپ اپنے چچا جناب ابو طالب کے ساتھ سفر شام کی طرف گئے تو ابر کے سایے کی وجہ سے بحیرہ راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچان لیا۔
انجیل برنباس کے اس اقتباس میں یہ بھی ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بت پرستی کا خاتمہ کریں گے۔ سیرت کا مطالعہ کرنے سے اس بات کے حقیقت ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عقیدہ توحید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا مرکزی عقیدہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا اعلان بت پرستی کے خلاف اعلان جہاد تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح عطاء کی۔
علامہ سیالوی نے انجیل برنباس سے ایک اور آیت نقل کی ہے جس میں روز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرشتوں اور انبیاء علیہم السلام کے جھرمٹ میں آنا مذکور ہے۔ اس کے ساتھ شفاعت کبریٰ کا بھی بیان ہے کہ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے سب لوگ فائدہ حاصل کریں گے۔
انجیل برنباس میں ایک اور آیت نقل کی گئی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بنی اسماعیل میں سے ہونے کو ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے شاگردوں کو واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ ان کے بعد جو نبی آئیں گے وہ حضرت اسماعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسل سے ہوں گے۔ یہاں پر حضرت اسماعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ذبیح اللہ ہونے پر بھی انجیل برنباس سے علامہ سیالوی دلیل لائے ہیں۔
انجیل برنباس سے کچھ مزید حوالہ جات علامہ سیالوی نے نقل کیے ہیں جس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی بشارت دے رہے ہیں اور عجز و انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ میں ان کے جوتے کے تسمے کھولنے کی بھی لائق نہیں۔
اس طرح کا مضمون حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی انجیل متی ، لوقا اور مرقس میں موجود ہے۔ جس میں حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام ایک زور آور مسیحا کا ذکر فرما رہے ہیں۔ حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے ہاتھ میں چھاج ہو اور وہ اپنے کھلیان کو خوب صاف کریں گے ، گہیوں کو کتھے میں جمع کریں گے اور بھوسی کو آگ میں جلایا جائے گا۔
انجیل متی ، لوقا اور مرقس میں منقول حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس فرمان کا حقیقی مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اس کے حق میں آگے مصنف نے قدرے تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ اس بابت مسیحی علماء کی رائے یہ ہے کہ اس کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام ہیں۔ اس دعویٰ کا علامہ سیالوی نے سیرت عیسوی اور سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں تجزیہ کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اس بشارت کے حقیقی مصداق سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ ان میں سے کچھ دلائل پر بات کافی ہوگی۔
حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی عمر میں چھے ماہ کا فرق ہے۔ اور انجیل لوقا کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام ابھی رحم مادر میں تھے تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی عظمت کو پہچانتے تھے لیکن اس بشارت کا مصداق انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو کبھی نہیں کہا بلکہ انجیل متی کی روشنی میں دیکھا جائے تو حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام جب قید خانے میں تھے تو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی طرف پیغام بھیجا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کبھی یقین نہیں تھا کہ ان کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لیے ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے کمالات حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زندگی میں ہی ظاہر ہو چکے تھے اس کے باوجود آپ نے ایک مسیحا کی بشارت دی۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بعد آنے والے شخص (نبی) کے ہاتھ میں چھاج ہو گا جس سے وہ اپنے کھلیان کو خوب صاف کریں گے۔ سیرت عیسی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دیکھا جائے تو یہ بات پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کے حواریوں میں بھی آپس میں اختلاف ہو گئے۔ پولوس اور برنباس نے الگ الگ راہ اختیار کی۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والی جماعت یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا جائے تو انہوں نے جنگ اور دعوت دونوں میدانوں میں فتوحات حاصل کیں۔ بدر میں کفار کا غرور خاک میں ملایا تو کچھ ہی سالوں بعد قیصر و کسریٰ کا غرور خاک میں ملا دیا۔ لہذا دیکھا جائے تو حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام جس نبی کی بشارت دے رہے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔
حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بشارت پر مزید بات کرتے ہوئے علامہ سیالوی نے لکھا کہ کھلیان کی صفائی والی بات حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زندگی میں پوری نہیں ہوتی کیونکہ کئی منافق آخر دم تک آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ رہے۔ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دھوکا دینے والا یہودا اسکریوطی بھی آپ کے ساتھ تھا۔حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی زندگی میں خبیث اور طیب لوگوں میں تفریق نہیں کی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طیب و خبیث لوگوں میں تفریق کی اور منافقین کو نام لے کر مسجد سے نکالا
اس کے بعد انجیل یوحنا میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی بشارت ذکر کی گئی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ سے مددگار طلب کرنے کی درخواست ہے جو ابد تک ساتھ رہے گا۔
اس مددگار سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں اس پر مصنف نے گفتگو کی ہے اس حوالے سے مسیحی علماء کے شبہات کا بھی جواب دیا ہے۔ اس کے علاؤہ اس بشارت میں ابد تک ساتھ رہنے کا ذکر ہے جس کا مطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کا دائمی ہونا ہے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا بھی ثبوت ہے۔
عہد نامہ عتیق کی کتاب استثنا ایک عبارت نقل کی گئی ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام خداوند کے کوہ فاران سے لاکھوں قدسیوں میں جلوہ گر ہونے کا ذکر ہے۔ اور اس کے ساتھ آتشی شریعت کا بھی ذکر ہے۔ ایسے ہی عہد نامہ عتیق کی ایک کتاب حبقوق میں حبقوق نبی کی زبانی کوہ فاران سے جلال کے آسمان پر چھانے کا ذکر ہے۔
یہاں علامہ سیالویؒ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کوہ فاران مکہ مکرمہ کا پہاڑ ہے جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان توحید و رسالت کیا جبکہ آتشی شریعت وہ ہی ہے جس نے ماننے والوں کو کندن بنایا اور مخالفین کو بھسم کر دیا ۔ اس کے برعکس حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی شریعت کا نقشہ انجیل متی کی روشنی میں ذکر کیا ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ کوئی تمہاری دہنے گال پر تھپڑ مارے تو دوسری گال بھی اس کی طرف پھیر دے۔ لہذا یہاں بھی سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک ہی ہے۔
اس کے بعد علامہ سیالوی رح نے عہد نامہ جدید کی کتاب اعمال سے حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بشارت نقل کی ہے جس میں انہوں نے اپنی مانند ایک نبی کی بشارت دی۔ یہ بشارت عہد نامہ عتیق کی کتاب استثنا میں بھی حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس بشارت کا ذکر ہے اس میں یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے منہ میں اپنا کلام ڈالے گا وہ اس کے حکم کی پیروی کریں گے۔
مسیحی علماء کے نزدیک یہ بشارت حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بارے میں ہے جبکہ علامہ سیالوی نے مسیحی استدلال کو رد کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس بشارت کے مصداق صرف سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنتے ہیں۔
یہاں حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی مانند نبی کا ذکر کیا ہے۔ تو دیکھا جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اتنی مماثلت نہیں پائی جاتی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام دونوں صاحب شریعت نبی تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے۔ اس کا ذکر انجیل اربعہ میں موجود ہے۔ پھر پولوس نے تو شریعت کا ہی انکار کر دیا۔ جس طرح شریعت موسوی میں حدود و تعزیرات تھیں ایسے ہی شریعتِ محمدی میں بھی حدود و تعزیرات پائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ اور بھی کئی حالات میں ان دونوں جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کے درمیان مماثلت پائی جاتی ہے۔ جیسے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں نے کفار کے خلاف جہاد کیا جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زندگی میں یہ چیز نہیں ملتی۔
دونوں انبیاء علیہم السلام نے بت پرستوں اور کفار کو شکست دی۔
دونوں انبیاء علیہم السلام نے ہجرت کی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہر نبوت آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے کندھوں کے درمیان تھی جبکہ حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ید بیضا ملا۔
لہذا حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی یہ بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ہی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس پیش گوئی میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ وہ نبی بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہوگا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ نبی بنی اسرائیل میں سے نہیں ہوں گے جن کی بشارت حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام دے رہے ہیں وہ ان کے بھائی یعنی بنی اسماعیل سے ہوں گے۔ لہٰذا یہ ایک اور مضبوط دلیل ہے کہ اس بشارت کے مصداق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
اس بشارت میں یہ بھی ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام ان کے منہ میں ڈالے گا۔ قرآن مجید اس کی تصدیق کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی مرضی و حکم کے بغیر کلام بھی نہیں کرتے تھے۔ پھر قرآن مجید جیسا ابدی معجزہ جس کی مثال سابقہ کتب سماویہ سمیت کسی صحیفے میں نہیں ملتی۔ قرآن کا نزول سے لیکر تاقیامت تغیر سے پاک رہنا بتا رہا ہے کہ وہ کلام الٰہی جس کا ذکر حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے کیا کوئی خاص کلام تھا جس سے مراد قرآن مجید ہے۔
عہد نامہ عتیق کی کتاب استثنا آنے والے نبی کے بارے میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو باتیں وہ بتائیں گے جس نے اس کا انکار کیا اس سے اللہ تعالیٰ خود حساب لے گا۔ عہد نامہ جدید کی کتاب اعمال میں بھی ایسا ملتا ہے۔ اس پیش گوئی کے مصداق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنتے ہیں ناکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اپنی زندگی میں وہ طاقت نہیں مل سکی کہ وہ منکرین کا حساب کر سکیں۔ جبکہ بدر و حنین سے لیکر قیصر و کسریٰ کی شکست تک تاریخ اسلام اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس وعدہ کو اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ اس طرح عہد نامہ عتیق کی کتاب دانی ایل کی ایک عبارت بھی نقل کی ہے جو کہ بخت نصر کے خواب کے متعلق ہے۔ اس کی تعمیر حضرت دانیال علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمائی اور اس میں میں کچھ سلطنتوں کا نقشہ کھینچا جس میں ایک سلطنت کی تفصیلات خلفاء راشدین کے دور کی گواہی دیتی ہیں۔
سلطنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی ہی نشانیوں کا ذکر عہد نامہ عتیق کی کتاب یسعیاہ میں یسعیاہ نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی، زبور میں حضرت علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی ، زکریاہ میں حضرت زکریا علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی، کتاب حبقوق میں حبقوق نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی اور عہد نامہ جدید کی کتاب انجیل متی میں حضرت یحییٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبانی بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان سب عبارات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سلطنت کے واضح اشارے ملتے ہیں اور جس نبی کی بشارت یہ انبیاء علیہم السلام دے رہے ہیں اس کا مصداق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات ہی بنتی ہے۔ اس بشارات کا مصداق مسیحی علماء حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو لیتے ہیں لیکن یہاں بھی علامہ سیالوی رح نے ہر کتاب کی الگ الگ بشارت کے عنوان سے مسیحی علماء کے استدلال کی کمزوریاں ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ہیں۔ جس طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام کامیابی سے لوگوں کے دلوں میں ڈالا اور پھر منکرین کو علم اور میدان جنگ میں شکست دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے لوگوں نے دنیا کی بڑی طاقتوں کا غرور خاک میں ملایا، شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کاملیت و اکملیت یہ سب حقیقت واقع ہیں اس پر تاریخ کی گواہی موجود ہے۔ ضمنی طور پر ان بشارات سے ہم یہ بھی کہہ سکتے کہ خلافت راشدہ کا ذکر بھی سابقہ کتب سماویہ میں موجود ہے۔
علامہ سیالوی نے موضوع کے مطابق بھرپور دلائل فراہم کیے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عہد نامہ عتیق اور عہد نامہ جدید پر گہری نظر تھی۔ اس حوالے سے وہ ایک تنقیدی کتاب بھی لکھ چکے ہیں۔ اس کتاب میں دو طرح کے مآخذ سے استدلال کیا گیا ہے۔ ایک تو عہد نامہ عتیق اور عہد نامہ جدید ہے۔ دوسرا انجیل برنباس سے۔ بلکہ انجیل برنباس کو پہلا اور عہدنامہ جدید و عتیق کو دوسرا ماخذ کہنا زیادہ درست ہے کیونکہ مصنف نے آغاز انجیل برنباس سے کیا ہے۔ اور کتاب کا بیشتر حصہ انجیل برنباس سے متعلقہ مضامین کے بارے میں ہے۔
جہاں تک عہد نامہ جدید کا تعلق ہے وہ مسیحوں کے لیے اور عہد نامہ عتیق مسیحوں اور یہودیوں دونوں کے لیے ایک دلیل ہے۔ جس پر ان سے مکالمہ و مباحثہ کیا جا سکتا ہے اور پھر اس سے استدلال کرتے ہوئے علامہ سیالوی نے مسیحی علماء کے شبہات کا بھی حتی المقدور ازالے کی کوشش کی ہے جو کہ ایک عمدہ کاوش ہے لیکن جہاں تک انجیل برنباس کا تعلق ہے وہ مسیحی برادری کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کیونکہ وہ اس کا مکمل انکار کرتے ہیں۔ علامہ سیالوی اگر انجیل برنباس کے بارے میں گفتگو کرتے اور اس کے استنادی حیثیت پر کلام کرتے اور اس بارے میں مسیحی شبہات پر بات کرتے تو بہتر ہوتا۔ اس کے بعد اس کے اقتباسات مسیحی علماء پر حجت ہوتے۔ گوکہ علامہ سیالوی نے انجیل برنباس کے اندر مدحت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اقتباسات کا عمدہ انتخاب کیا ہے بلکہ ان کو ایک جمع کر دیا ہے لیکن انجیل برنباس کی اپنی حیثیت کے اوپر بات نہ کرنے کی کمی محسوس ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ علامہ سیالویؒ کی مغفرت فرمائے اور ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے




کمنت کیجے