دیوبندی طبقہ، شروع سے ہی، تجدد پسند شخصیات یا حلقوں کے خلاف ایک خاص حد سے آگے جا کر پوزیشن کیوں نہیں لیتا اور ایک طرح کی coexistence یا ایک نوع کی تقسیم کار کیوں قبول کر لیتا ہے۔
میری دانست میں دیوبندی، مذہبی طبقوں میں سب سے ’’سمجھ دار’’ (shrewd) طبقہ ہیں۔ وہ یہ خوب سمجھتا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر معاشرے میں ریلیونٹ رہنے کے لیے بنیادی ضرورتیں دو ہی ہیں: ایک، عام مسلمانوں کی دینی ضروریات کا انتظام، اور دوسرا طبقہ علماء کے تسلسل کو قائم رکھنا۔ یہ طبقہ مساجد ومکاتب، تبلیغی تحریکوں اور خانقاہوں وغیرہ کے ذریعے سے پہلی ضرورت کی اور مدارس کے سیٹ اپ کے ذریعے سے دوسری ضرورت کی تکمیل کرتا ہے۔ اس انتظام سے جو بھی عوامی قوت اور اثر ورسوخ حاصل ہوتا ہے، وہ موقع اور حالات کے لحاظ سے مذہبی جماعتوں اور سیاسی تحریکوں کی صورت بھی اختیار کر لیتا ہے، لیکن وہ دراصل بنیادی حکمت عملی کا ایک نتیجہ اور حاصل ہوتا ہے۔
دیوبندی حکمت عملی (جو ضروری نہیں کہ باقاعدہ سوچی سمجھی یا شعوری ہو) کا نہایت اہم پہلو حریف مذہبی بیانیوں کے ساتھ تعلق میں توازن قائم رکھنا ہے۔ یہ توازن وہ روایتی بیانیوں کے ساتھ بھی قائم رکھتے ہیں اور تجدد پسند بیانیوں کے ساتھ بھی اور اس کا بنیادی مفاد مجموعی ماحول میں مذہبی شناخت اور مذہبی فضا کو مضبوط رکھنا ہوتا ہے تاکہ اس کے اندر دیوبندی بیانیہ بھی اپنا کام جاری رکھ سکے۔ اگر روایتی دینی شناختیں، چاہے ان کے ساتھ دیوبندی بیانیے کا تعلق مخاصمت کا ہو، اس پہلو سے کمزور ہوں کہ اس سے سیکولرائزیشن کی اسپیس بڑھ جائے تو ظاہر ہے، یہ نتیجہ مآلاً خود دیوبندی بیانیے کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔ اس لیے فرقہ وارانہ مخاصمت میں دیوبندیوں کی مجموعی ترجیح ’’توازن’’ کو قائم رکھنا ہی رہتی ہے، وہ اس کو بگڑنے نہیں دیتے۔
تجدد پسند حلقوں کے متعلق دیوبندی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ بھی یہی ہے۔ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ نئی دینی تعبیرات (جنھیں روایتی طبقے ’’تجدد’’ کا عنوان دینا زیادہ پسند کرتے ہیں) کا مخاطب بنیادی طور پر مسلمانوں کی عام اکثریت نہیں ہوتی، بلکہ وہ طبقے ہوتے ہیں جو جدیدیت کے کھڑے کیے ہوئے سوالات کے روبرو ذہنی وعقلی اطمینان چاہتے ہیں۔ دیوبندی علماء کو اس کا بھی پورا ادراک ہے کہ بہت سے دینی مواقف یا مسائل کی تعبیر نو کی گنجائش بھی ہے اور ضرورت بھی، لیکن وہ یہ سارا بوجھ خود نہیں اٹھاتے، بلکہ ایک بڑی سمجھ دارانہ حکمت عملی سے کام لیتے ہیں جس کے تین نکات ہیں:
1. اپنا بنیادی تشخص یہی رکھا جائے اور اس پر اصرار کیا جائے کہ ہم ’’روایت’’ کے نمائندہ اور ’’تجدد’’ کے خلاف ہیں، کیونکہ اس کے بغیر ایک روایتی مذہبی سماج میں استناد اور اعتماد قائم رکھنا بہت مشکل ہے۔
2. جس حد تک دینی مسائل ومواقف میں ’’تجدد’’ ناگزیر ہو اور دیوبندی حلقے میں بھی اس کے خلاف کوئی بہت بڑا ردعمل پیدا ہونے کا خدشہ نہ ہو، وہاں اجتہادی زاویہ نظر اختیار کر لیا جائے اور اس سے یہ فائدہ بھی حاصل کیا جائے کہ علماء، نئے تقاضوں سے بالکل آنکھیں بند کیے ہوئے نہیں ہیں۔
3. اور جس دائرے میں بہت ریڈیکل ری تھنکنگ کی یا بہت ہی نئے انداز کے یا ’’خطرناک’’ قسم کے اجتہاد کی ضرورت ہو، وہاں ایک محتاط پوزیشن لیتے ہوئے یہ کام متجددین کو کرنے دیا جائے تاکہ پہلے مرحلے میں جو بھی ردعمل سامنے آنا ہے، اس کا رخ روایتی علماء کی طرف نہ ہو۔ ہاں، جیسے جیسے کوئی نیا زاویہ قبولیت حاصل کرتا چلا جائے یا ردعمل کمزور ہو جائے یا اس کے کچھ عملی فوائد بھی سامنے آ جائیں، ویسے ویسے خاموشی سے اسے اختیار بھی کر لیا جائے۔
یہ چاہے بہت سوچی سمجھی نہ ہو، لیکن ایک brilliant strategy ہے جس سے دیوبندی طبقہ بیک آن دو نمایاں فوائد حاصل کر لیتا ہے: پہلا، جدید دانش کے ساتھ نبرد آزمائی سے متجددین، مذہب کو جو عقلی تائید فراہم کرتے ہیں، اس کی جزئیات سے اختلاف رکھتے ہوئے اس کے مجموعی اثرات کو اپنی جدوجہد کے لیے کارآمد بنانا۔ اور دوسرا، فکر واجتہاد میں جدت کاری کا بوجھ اصلاً اٹھائے بغیر اس کے حاصلات سے مستفید ہوتے رہنا۔




کمنت کیجے