Home » اثباتِ باری اور جوہری کانٹین بیانیہ: ترجمے کی ڈنڈی اور فکر کی گمراہی
شخصیات وافکار فلسفہ کلام

اثباتِ باری اور جوہری کانٹین بیانیہ: ترجمے کی ڈنڈی اور فکر کی گمراہی

صابر علی

علم الٰہیات المعروف مابعدالطبیعات کے ضمن میں محمد دین جوہر کے بے بنیاد نظریات کو تقویت پہنچانے کے لیے ان کے متاثرین متنوع قسم کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ فی الحال بحث کا محور امام سراج الدین ارموی کے عربی متن ”الفرق بین العلم الالھی وعلم الکلام“ کا وہ اردو ترجمہ ہے جو محمد بھٹی نے کیا ہے اور رسالہ جی کے تازہ شمارہ میں شائع ہوا ہے۔ اس عربی متن مذکور کے صفحہ نمبر 75 کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں:

وقد عرفتَ في غير هذا الموضع غير مرّة أنّ موضوع كلّ علم ما يُبحث فيه عن لواحقه الخاصّة به؛ فيكون هذا الموجود الخاصّ موضوعاً في علم الكلام، وهذا الموضوع الخاصّ إنّما يُبحث عن إنّيّته ووجوده في العلم الإلهيّ الّذي يُبحث فيه عن الموجود بما هو موجود ليكون مسلّم الإنّيّة والوجود في هذا العلم، فإنّ موضوع العلم لا يكون مطلوباً فيه؛ فإنّه لا يبحث عن إنّيّة الموضوع؛ بل عمّا يلحقه من الأمور الخاصّة به.
اب پہلے آپ اس متن کا وہ ترجمہ ملاحظہ کریں جو محمد بھٹی نے کیا ہے یا جیسے یہ رسالہ جی میں شائع ہوا ہے، ہمارا مقصد اس ترجمے کی تسہیل و تدقیق یا زبان و محاورہ پر بحث کرنا ہرگز نہیں اور نہ ہی ترجمہ میں ایسا کوئی عیب ہے:
”قبل ازیں یہ بات بتکرار آپ کے علم میں لائی جا چکی ہے کہ کسی بھی علم کا موضوع کوئی ایسا امر ہوتا ہے کہ جس کے لواحقِ خاصہ کے بارے میں اس علم میں بحث کی جائے۔ بنابریں علم الکلام کا موضوع یہی موجودِ خاص ہے۔ جہاں تک بات ہے اس موجودِ خاص کی انیت اور اس کے وجود کی تو وہ الہیات میں زیرِ بحث آتے ہیں کہ جس کا موضوع موجود بما ھو موجود ہے ۔رہا علم الکلام تو اس میں موجودِ خاص کی انیت اور اس کا وجود مسلم اور طے شدہ امر کی حیثیت رکھتا ہے۔ موضوعِ علم مطلوب فی العلم نہیں ہوتا لہٰذا علوم میں موضوع کی انیت وغیرہ کو تحقیق و جستجو کا ہدف بنانے کی بجائے اس کے لواحق و لوازمات کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ بنابریں، واجب الوجود کا اثبات اور اس کا وجود علم الکلام میں موردِ طلب و تحقیق نہیں ہے بلکہ وہ تو اس علم کے مسلمات میں سے ہے۔“
اب آپ میرا ترجمہ ملاحظہ کریں پھر اصل مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ دلاتے ہیں:
”آپ اس سے قبل بھی دیگر مقامات پر کئی بار یہ جان چکے ہیں کہ ہر علم کا موضوع وہ چیز ہوتی ہے جس کے مخصوص لواحق سے اس علم میں بحث کی جائے۔ لہٰذا، یہ موجودِ خاص(ذاتِ باری تعالیٰ) علمِ کلام کا موضوع ٹھہرا۔ اب اس مخصوص موضوع کا اثبات اور اس کے وجود کی بحث دراصل علمِ الٰہی (مابعدالطبیعیات) میں کی جاتی ہے، وہ علم جس میں موجود سے بحیثیتِ وجود بحث ہوتی ہے تاکہ یہ موضوع (یعنی ذاتِ باری تعالیٰ کا وجود) اس علم (علمِ کلام) میں پہلے سے تسلیم شدہ (مسلّم) قرار پائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی علم میں اس علم کے اپنے موضوع (کے وجود) کو ثابت نہیں کیا جاتا؛ کیونکہ کوئی بھی علم اپنے موضوع کے وجود پر بحث نہیں کرتا بلکہ صرف ان مخصوص امور پر بحث کرتا ہے جو اس موضوع کو لاحق ہوتے ہیں۔“
اب ہم اصل مسئلہ کی طرف آتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ پیراگراف اور اس سے ملحق پچھلی عبارت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خواجہ جوہر کا مابعدالطبیعات بارے موقف بے بنیاد، جاہلانہ اور اسلامی روایت سے بالکل متضاد ہے۔ اور یہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ نائب مدیر علی پوری کا موقف بھی بالکل بے بنیاد اور حشوی ہے کہ اثباتِ وجودِ باری شریعت یا وحی سے ہوتا ہے۔
اس سے اہل سنت کا یہ دعویٰ بالکل درست ثابت ہو رہا ہے کہ امام ارموی کے نزدیک خدا کے وجود (اثبات باری تعالیٰ) کی اصل، خالص اور بنیادی بحث علمِ کلام کا نہیں بلکہ مابعدالطبیعیات /علم الٰہی یا الٰہیات (جس کا موضوع وجود بحیثیت وجود ہے) کا حصہ ہے۔ مابعد الطبیعیات خدا کے وجود کو ثابت کر کے علمِ کلام کے حوالے کرتی ہے۔ اس سے خواجہ جوہر کا یہ موقف ردی ہو جاتا ہے کہ مابعدالطبیعیات لایعنی سرگرمی ہے۔
امام ارموی نے واضح کر دیا کہ علمِ کلام چونکہ خدا کی ذات (موجودِ خاص) کو اپنا موضوع بناتا ہے اور کوئی علم اپنے موضوع کو خود ثابت نہیں کرتا، اس لیے علمِ کلام میں خدا کا وجود پہلے سے فرض (مسلّم) مانا جاتا ہے اور اس میں صرف خدا کی صفات پر بحث ہوتی ہے۔ اور یہ مسلّم کہاں ہوتا ہے؟ یہ مسلّم علم الٰہی میں ہوتا ہے ، نہ کہ شریعت میں۔
یہ عبارت نائب مدیر کی اس بات کی جزوی تائید کرتی ہے کہ علمِ کلام کا بنیادی کام خدا کا وجود ثابت کرنا نہیں، لیکن یہ اس کے اپنے موقفِ عجیبہ کے لیے زہر ہے کہ خدا کا عقلی اثبات ممکن ہی نہیں یا یہ جدیدیت کی پیداوار ہے۔ امام ارموی واضح کر رہے ہیں کہ خدا کا عقلی اثبات بالکل ہوتا ہے، بس وہ علم کلام کی بجائے مابعد الطبیعیات (علم الٰہی) کے ذمے ہے! یوں ، خواجہ جوہر کی مابعدالطبیعیات میں چاند ماری نری گپ بازی بن کر رہ جاتی ہے اور ”غیر اسلامی مابعدالطبیعیات“ کا ٹنٹا اٹھتے ہی ٹیں ہو جاتا ہے۔
اب ہم اس عبارت اور اس کے ترجمہ سے متعلق دوسری بات کی طرف آپ کی توجہ دلاتے ہیں جس کے لیے ہم نے محمد بھٹی کا ترجمہ اور اپنا ترجمہ بھی پیش کیا تھا۔
اس ترجمہ میں ایک مقام ایسا ہے جہاں پورے کلامی اور فلسفیانہ مقدمے کا گلا گھونٹ کر اسے خواجہ جوہر اور ”جی“ کی پراپیگنڈا لائن کے تابع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یعنی ایک تو نادانی ایسی ہے کہ مابعدالطبیعیات کو ردی ثابت کرنے کے لیے انہوں نے برس ہا برس محنت کی اور پوری تیاری کے ساتھ آئے۔ اور تیاری کیسی کہ پہلا ترجمہ ہی اپنے خلاف چھاپ دیا کیونکہ موضوع کی سمجھ ہی نہیں۔ اب جب اس تضاد کی طرف توجہ دلائی گئی تو ہٹ دھرمی دیکھیے کہ لگاتار تاویلوں میں مصروف ہیں اور۔۔۔ (اور الزام ہمیں دیتے ہیں کہ مولوی تاویل کرتے ہیں)۔ آئیے دیکھتے ہیں کیسے۔
عربی عبارت یہ ہے:
”وهذا الموضوع الخاصّ إنّما يُبحث عن إنّيّته ووجوده في العلم الإلهي الدّي يُبحث فيه عن الموجود بما هو موجود ليكون مسلّم الإنّيّة والوجود في هذا العلم“
اس عربی عبارت کا ترجمہ یوں ہے:
”اور اس مخصوص موضوع (یعنی ذاتِ باری تعالیٰ) کے اثبات اور اس کے وجود کی بحث اس علمِ الٰہی (مابعدالطبیعیات) میں کی جاتی ہے جس کا موضوع وجود بحیثیتِ وجود ہے تاکہ (ليكون) یہ (خدا کا وجود) اس علم (علمِ کلام) میں پہلے سے تسلیم شدہ اور ثابت شدہ قرار پائے۔“
اب ذرا کانٹین متبعین کے پراپیگنڈا آرگن ”جی“ (مترجم:محمد بھٹی) کا کمالِ فن ملاحظہ کریں: (اس کنفیوژن کے ساتھ کہ خیانت نائب مدیر نے کی یا مترجم نے؟)
”جہاں تک بات ہے اس موجودِ خاص کی انیت اور اس کے وجود کی تو وہ الہٰیات میں زیرِ بحث آتے ہیں کہ جس کا موضوع موجود بما ھو موجود ہے۔ رہا علم الکلام تو اس میں موجودِ خاص کی انیت اور اس کا وجود مسلّم اور طے شدہ امر کی حیثیت رکھتا ہے۔“
اب بد دیانتی کا ارتکاب یعنی ڈنڈی کہاں ماری گئی؟:
ترجمہ نے عربی لفظ”لیکون“ (لام تعلیل، انگریزی میں سو دیٹ، ”تاکہ“ ) کو مکمل طور پر ہضم کر لیا ہے اور ایک جملے کو کاٹ کر دو الگ الگ جملے بے ربط جملے بنا دیے ہیں۔
امام ارموی کے جملے میں علت اور معلول کا رشتہ ہے کیونکہ لیکون میں لام تعلیل ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مابعدالطبیعیات (الہٰیات) خدا کے وجود کو دلائل سے ثابت کرتی ہے”تاکہ“علمِ کلام اِس ثابت شدہ عقلی وجود کو بطور مسلّمہ استعمال کرے۔ یعنی علمِ کلام میں خدا کا وجود اس لیے ”مسلّم“ (تسلیم شدہ) ہے کیونکہ مابعد الطبیعیات اسے عقل سے ثابت کر کے کلام کے حوالے کر چکی ہے۔
ترجمہ میں لسانی واردات ڈالنے سے ”تاکہ“(ليكون) حذف ہو گیا اور الگ جملہ وجود میں آ گیا۔ محمد بھٹی صاحب نے ترجمہ کیا (یا نائب مدیر نے اس میں مدیرانہ کارروائی ڈال کر اسے یوں بنا دیا): ”رہا علم کلام تو اس میں وجودِ باری طے شدہ حیثیت رکھتا ہے۔“
اب ”رہا علم کلام۔۔۔الخ“ تعلیل سے نکل کر استیناف میں چلا گیا۔اب تعلیل اور استیناف میں کیا فرق ہوتا ہے، یہ تو ادیب اول، مفکر عظیم، مقلد و شارح کانٹ جانتا ہی ہو گا (حالانکہ کانٹ نے کہا تھا اپنی عقل سے کام لو)۔ اس ترجمے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ علمِ کلام کا الہٰیات کی ثابت کردہ دلیل سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ علمِ کلام میں خدا کا وجود خود بخود بغیر کسی عقلی بنیاد کے (شاید محض وحی یا ڈوگما کی بنیاد پر) پہلے ہی سے ”مسلّم اور طے شدہ“ہے۔ اور درحقیقت یہی تاثر خود متاثرینِ جوہر پیش کر کے اس پر اپنی حماقت و خیانت کا جھنڈا گاڑے بیٹھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مابعدالطبیعیات کا انکار خود ایک مابعدالطبیعیات ہے۔ اہل سنت کی تمام کلامی و الٰہیاتی روایت شروع سے آج تک اشعریہ و ماتریدیہ سمیت وجودِ باری کے اثباتِ عقلی پر متفق ہے، اختلافی معاملات کی نوعیت دوسری ہے، اس معاملے میں نہیں۔ خواہ وہ عرفانی روایت ہو یا کلامی۔ یہ محض ڈھونگ اور ڈھکوسلا ہے کہ عرفان میں یوں ہوتا ہے فلاں ہوتا ہے۔ مثلاً یہ نئی جوہری گپ:”عرفان ہمارا علم الحقائق ہے، اور یہ عالم کا شعبہ نہیں ہے، عارف کا مسئلہ ہے۔“ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ اسے عارف کی خبر ہے نہ عرفان کی نہ علم کی، بلکہ عرفان کی سراسر توہین ہے۔ اس کی ایسی گپ بازی کا اقلیم دلالت کے حاشیوں میں بھی دخل نہیں، ہاں لفظیات کی دلالی میں اونچا نام ہے۔ خیر، چھوڑیے ۔
یہ ڈنڈی کیوں ماری گئی؟
1۔اس ایک لفظ (ليكون / تاکہ) کو اڑانے کے پیچھے ایک پورا پراپیگنڈا ماڈل کارفرما ہے۔ نائب مدیر اور محمد دین جوہر کا موقف ہے کہ خدا کا عقلی اثبات ناممکن ہے اور مابعدالطبیعیات لایعنی بکواس ہے۔ اگر وہ امام ارموی کا درست ترجمہ کر دیتے ( الہٰیات خدا کو ثابت کرتی ہے تاکہ کلام اسے مسلّم مانے) تو امام ارموی کی زبانی ثابت ہو جاتا کہ خدا کا عقلی اثبات بالکل ممکن ہے اور یہ مابعدالطبیعیات کا عظیم کام ہے۔
2۔ لفظ ”ليكون“ غائب کر کے مترجم (یا نائب مدیر) نے قاری کو یہ دھوکادیا کہ علمِ کلام میں خدا کو بس عقیدے اور ڈوگما کی بنیاد پر ”مسلّم“ مان لیا جاتا ہے۔ حالانکہ امام ارموی کہہ رہے ہیں کہ یہ اندھا عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ مابعدالطبیعیات کی عقلی موشگافیوں کا حاصل ہے جو کلام کو دیا گیا ہے۔
3۔ امام ارموی مابعد الطبیعیات کو علم کلام پر فوقیت دے رہے ہیں (کہ وہ خدا کو ثابت کرتی ہے اور کلام اس پر انحصار کرتا ہے)۔ پراپیگنڈا آرگن ”جی“ کی ٹیم چونکہ مابعدالطبیعیات کی منکر ہے، اس لیے جوہریوں نے ترجمے میں اس منطقی انحصارکو ہی غائب کر دیا تاکہ ان کے مدیر و مفکر اعظم کا بھرم قائم رہے۔
خلاصہ یہ کہ امام ارموی کے موقف کا خون جوہریوں کی کرگسی صفت کی بدولت ہوا تاکہ کانٹ کی اتباع میں مردارخوری کی عادت پوری کی جائے۔
ڈنڈی میں نحوی ڈنڈا:
آئیے اس فقرے”لِـيَكُونَ مُسَلَّمَ الإنّيّةِ والوجودِ في هذا العلم“کی باقاعدہ نحوی تحلیل کرتے ہیں:
”لِـ“ (لام): یہاں ”لِ“ لام تعلیم ہے۔ یہ فعل مضارع (يَكُونَ) پر داخل ہو کر اسے منصوب کر رہا ہے کیونکہ اس کے اور فعل کے درمیان ”اَنْ“محذوف ہے۔ اس لام کا مطلب ہوتا ہے تاکہ ”سو دیٹ“ یا ”اِن آرڈر ٹو“ یا ”اس مقصد کے لیے کہ“ ۔ یہ لام ہمیشہ ایک علت کو اپنے پہلے والے جملے سے جوڑتا ہے۔
”يَكُونَ“ (فعلِ ناقص): یہ فعل مضارع ناقص منصوب ہے۔ اسے اپنا معنی مکمل کرنے کے لیے ایک ”اسم“ اور ایک ”خبر“ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ضمیرِ محذوف (اسمِ يَكُونَ): ” يَكُونَ“ کے اندر ایک ضمیرِ مرفوع متصل چھپی ہوئی ہے جس کی تقدیر”هُوَ“ (وہ) ہے۔ یہ ”هُوَ“ يَكُونَ کا اسم ہے۔
یہ ”هُوَ“ کس کی طرف لوٹ رہا ہے؟ اس چھپی ہوئی ضمیر (هُوَ) کا مرجع(اینٹی سی ڈینٹ) پیچھے موجود لفظ ”الموضوع الخاصّ“ ہے۔
امام ارموی نے پچھلی سطر میں واضح کیا تھا کہ ”الموضوع الخاص“ سے مراد ”ذاتِ باری تعالیٰ“ یا ”وجودِ باری“ ہے۔ لہٰذا اس ضمیر کا مطلب ہوا ”وہ موجودِ خاص (یعنی خدا کا وجود)“۔
”مُسَلَّمَ“ (خبرِ يَكُونَ): یہ يَكُونَ کی خبر ہے، اس لیے زبر کے ساتھ ہے۔ یہ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے” تسلیم کیا گیا“ یا” پہلے سے ثابت شدہ مانا گیا“۔ یہ لفظ آگے الإنّيّة کی طرف مضاف ہو رہا ہے۔
”في هَذَا العِلْمِ“ (جار مجرور): یہاں ”هذا العلم“ (اس علم) سے مراد”علمِ کلام“ ہے۔
اب اصل مفہوم یہ بنا: ”الہیات میں خدا کے وجود کو دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے ”تاکہ“وہ (خدا کا وجود) تسلیم شدہ اور ثابت شدہ ہو جائے اس علم (یعنی علمِ کلام) میں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ اگر مترجم ”لامِ تعلیل“ کا درست ترجمہ (”تاکہ“) کر دیتا تو قاری کو فوراً سمجھ آ جاتا کہ الہٰیات (مابعد الطبیعیات یا علم الٰہی) خدا کے وجود کو عقلی طور پر ثابت کرتی ہے۔ اور علمِ کلام الہٰیات کا محتاج ہے کیونکہ علمِ کلام میں خدا کا وجود اسی صورت میں ”مسلّم“ (تسلیم شدہ) مانا جاتا ہے جب الہٰیات اسے ثابت کر کے کلام کے حوالے کرے۔
چونکہ جوہری مذہب کے پراپیگنڈا آرگن ”جی“ کے ذریعے محمد دین جوہر اور علامہ علی پوری کا پورا فلسفہ ہی یہ ہے کہ مابعد الطبیعیات (الہٰیات) ایک لایعنی اور بیکار سرگرمی ہے اور عقیدے کا عقل سے کوئی تعلق نہیں لہٰذااس لامِ تعلیل کی موجودگی ان کے حشوی مذہب کے عظیم الشان گپ محل میں دائنامائت ثابت ہو رہی تھی۔ اس لیے باجماعت طور پر بڑی محنت کر کے، نظر ثانی سے گزار کر علمی وفکری معیار کے نام پر اہل سنت کی علمی روایت سے عوام کو بدظن کرنے اور اپنی گپ بازی کو اصل اسلام ثابت کرنے کے لیے جو پراپیگنڈا آرگن در بدر پہنچایا جا رہا ہے، اس میں عبارت کا ربط توڑا گیا، ”تاکہ“کو غائب کیا گیا اور یہ جھوٹا تاثر دیا کہ علمِ کلام میں خدا کا وجود خود بخود، بغیر کسی عقلی (الہٰیاتی) دلیل کے ”مسلّم اور طے شدہ“ ہوتا ہے۔ حالانکہ پچھلی عبارت اس جھوٹے تاثر کی نفی صراحت سے کر رہی ہے، پر کیا کیجیے کہ دو تین ناہنجار کرگسی اسی جھوٹے تاثر ہی کو اصل حقیقت بنا کر تحت الثریٰ میں اپنی سیٹ پکی کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔
٭٭٭
نوٹ: مترجم سے غلطی ہو سکتی ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں، ہاں ایسے موضوعات کے ترجمہ میں کوئی تاویل کی جاتی ہے تو قابل افسوس ہے۔
مزید نوٹ: یہ تحریر احباب پر معاملہ واضح کرنے کے لیے ہے۔ علمیات پہ تو خواجہ کو مغل صاحب ہی کافی ہیں۔ ہاں عرفان میں بھی پنجہ آزمائی کرنا چاہتا ہے تو اوپن چیلنج دے رہا ہوں۔ اس لیے آہو خور کرگسی خواہ مخواہ قے کر کے تعفن نہ پھیلائیں اور اپنے خواجہ سے معاملات کی وضاحت طلب کریں کیونکہ ان کے اپنے سیاسی و علمی فلسفہ کی رُو سے کوئی بھی احتساب سے بالا نہیں۔
منسلک امیجز میں صفحہ 23 اور 24 نمبر والے امام برتی رحمہ اللہ کے ہیں، اللہ ہمارے اسلاف و اکابر کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور یومِ حساب تک اپنا فضل ان پاک روحوں پر برساتا رہے۔ آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صابر علی نے پنجاب یونیوسٹی سے جینڈت اسٹڈیز مین ایم۔فل کیا ہے ۔ آنجناب کئی  اہم کتب (جیسے وائل حلاق کی  ” ناممکن ریاست ” اصلاح جدیدیت ” ) کے مترجم  اور کئی اہم ریسرچ پیپرز کے مصنف ہیں ۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں