علی رضوی صاحب کے موقف پر سوالات
محترم علی محمد رضوی صاحب نے ایمان و عقل سے متعلق جس رائے کا اظہار کیا ہے اس پر ہم نے پانچ سوالات پوچھے:
1۔ امام غزالی و اشاعرہ و ماتریدیہ میں سے کس نے عقل کے بارے میں یہ کہا ہے کہ یہ ایمان پر قائم ہوتی ہے؟ علم کلام وغیرہ کی کتب میں عقل کے معنی پر باقاعدہ بحث موجود ہے، یہ کوئی غیر معروف تصور نہیں ہے۔ کیا آپ ان کتب کی بحثوں سے عقل کے بارے میں ان آئمہ کی یہ رائے بتا سکتے ہیں؟
2۔ آپ کی بات کا حاصل یہ بن گیا ہے کہ ایمان بغیر دلیل و علم کسی بات کو مان لینا ہے، ایمان کا یہ تصور ہماری تاریخ میں کس نے پیش کیا ہے؟
3۔ اسلامی تاریخ میں اشاعرہ و ماتریدیہ بشمول امام غزالی یہ موقف کس کا ہے کہ بنیادی اسلامی ایمانیات ناقابل استدلال ہیں ( have no proof or demonstration)؟ بنیادی اسلامی عقائد یہ ہیں: خدا موجود ہے، وہ فاعل ہے نہ کہ علت موجبہ، عالم حادث ہے اور خدا اس کا خالق ، وہ حوادث سے ماورا ہے، علیم ہے، قدیر ہے، مرید ہے، متکلم ہے، وہ واحد ہے، وہ انبیا مبعوث کرسکتا ہے اور ان کی سچائی میں دلیل بھی قائم کرسکتا ہے، اور اس نے انبیا مبعوث کئے، اس نے محمد ﷺ کو مبعوث کیا اور ان کی سچائی کی دلیل مقرر کی لہذا محمد ﷺ اپنے دعوی نبوت میں سچے ہیں۔ ان میں سے کونسا عقیدہ ہے جس پر ائمہ اسلام کے مطابق دلیل نہیں دی جاسکتی؟
4۔ آپ کا ماننا ہے کہ عقل کے تصورات چند بیک گراونڈ مفروضات پر قائم ہوتے ہیں اور اس لئے عقل سے ایمانیات کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایک اعتقاد کے مقابلے میں کسی دوسرے اعتقاد کی اولیت کا مسئلہ کیسے حل ہوتا ہے؟ کیا آپ کے نزدیک یہ سب مساوی ہیں؟ اگر بعض اولی ہیں تو کیوں کر؟ آپ کا اعتقاد آپ کے مخالف کے اعتقاد سے درست کیسے ہے؟ اگر جواب نبی کی خبر ہو تو جس خبر کو نبی کی خبر کہہ دیا گیا وہ واقعی صدق ہے اس کا علم کیسے ہوتا ہے؟ ایک شخص کسی بھی خبر کا نام نبی کی خبر رکھ دے تو اس پر ایمان رکھنے سے وہ حق ہوجائے گی؟
5۔ اس پر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس جملے کا کیا مطلب ہے کہ شرع میں انسان کی تکلیف کی بنیاد عقل ہے؟ آپ کے موقف کے مطابق معاملہ سرکولر بن گیا: عقل کا مدار ایمان ہے اور ایمان کی تکلیف کا مدار عقل ہے۔
ان پانچ سوالات کے علاوہ ہمارا ایک ضمنی ملاحظہ بھی تھا۔ اشاعرہ کو عقل کی تحدیدات دکھانے کے معاملے میں اس طرح مغربی فلسفے کا پیش رو بنا کر دکھانا بذات خود پرابلمیٹک ہے، ان کی بحث کی جہت وہ نہیں جو صاحب تحریر کی جانب سے یہاں بیان کی گئی ہے۔ ہماری رائے میں یہ علم کلام کی رویژنسٹ تشریح ہے۔
علی رضوی صاحب کے جوابات پر تبصرہ
ان سوالات کے جواب میں محترم ڈاکٹر علی رضوی صاحب نے اپنے موقف کو واضح فرماتے ہوئے تفصیلی تحریر لکھی جس کے لئے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ تاہم ان کے جواب پر ہمارے کچھ ملاحظات ہیں جنہیں ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔
ابتدائی دوسوالات کے جواب پر تبصرہ
پہلے و دوسرے سوال میں ہم نے یہ پوچھا تھا ایمان دلیل عقلی سے ماورا ہوتا ہے نیز عقل کا تصور ایمان پر قائم ہوتا ہے، یہ موقف اشاعرہ، ماتریدیہ میں سے کس کا ہے؟ اس پر انہوں نے بس اتنی بات فرمائی ہے کہ میں نے ان کی بات کا مطلب غلط سمجھا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں علم کلام کے روایتی جھگڑوں کا چشمہ لگا کر ان کی بحث دیکھ رہا ہوں۔ ان کے مطابق وہ عقل کے مخالف نہیں ہیں بلکہ اس کے ناکافی ہونے کے قائل ہیں۔ اس کے فوری بعد آپ صوری اور جوہری عقل کے فرق کی اہمیت کو اجاگر فرماتے ہیں جو ان کے بقول ان کے اس مقدمے کی اصل دلیل ہے کہ عقل کا جوہری رخ ہمیشہ پس منظر مفروضات سے طے ہوتا ہے۔
لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ صوری و جوہری عقل کا حوالہ دینے سے ہمارے پہلے دونوں سوال غیر متعلق کیسے ہوگئے؟ یہی تو ہم نے پوچھا ہے کہ عقل کے بارے میں یہ کس کا موقف ہے؟ اسی طرح انہوں نے اپنی فکر پر وارد ہونے والے سرکولیریٹی کے سوال (سوال نمبر 5) سے بچنے کےلئے عقل کی جو دو مزید قسمیں متعارف فرمائی ہیں یعنی عقل بطور مناطِ تکلیف (جہاں عقل کا ترجمہ Capacity for Understanding کیا گیا ہے) اور عقل بطورِ مقتدر و حاکم، یہ تقسیم اسلامی روایت میں کسی سے لی گئی ہے یا یہ آپ کا اپنا بنایا ہوا کوئی نیا فریم ورک ہے یا آپ علم کلام کے افکار کی کوئی نئی شرح فرمارہے ہیں؟ اسی طرح آپ نے جو یہ نیا دعوی فرمایا ہے کہ عقل بالذات مابعد الطبعی حقائق کا احاطہ کرنے میں مستقل نہیں، یہ دعوی آپ کا موقف ہے یا اشاعرہ ماتریدیہ یا امام غزالی کا؟
الغرض آپ نے اس اصل سوال کو علم کلام کے روایتی جھگڑوں کے نام پر ٹال دینا کافی سمجھا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایمان و عقل پر اپنے اس موقف کی صحت کی جانچ کے لئے انہیں کسی روایتی حوالے کے ضرورت نہیں ہے اگرچہ ان کا یہ خیال ہو کہ وہ اسلامی روایت کی یا مثلاً امام غزالی کی تعلیمات کا پرچار فرمارہے ہیں۔ ہم ابتدا ہی میں یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہمارے لئے بالذات ان کے موقف (کہ عقل ایمان پر مبنی ہوتی ہے) کی صحت سے زیادہ دلچسپی اس خیال میں ہے کہ یہاں گویا علم کلام کی سنی روایت یا امام غزالی کی نمائندگی ہورہی ہے۔
اب ہم ان کے موقف اور اس میں پیوست چند اہم مسائل و شبہات پر تبصرہ کرتے ہیں۔
1) حقائق میں خلط مبحث
آپ کی گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ وہ علم، عقل و ایمان، مفروضہ، اعتقاد وغیرہ میں فرق کا لحاظ نہیں رکھتے اور آپ کی تحریر میں انہیں ہم معنی امور کے طور پر برتا گیا ہے، یعنی وہ ڈھیلے ڈھالے انداز میں کسی بھی اعتقاد کو، بھلے وہ مبنی بر دلیل و علم ہو یا نہ ہو، ایمان و مفروضہ کہہ دیتے ہیں اور یہ بات ان کی تحریر میں جا بجا بکھری ہوئی ہے (خوف طوالت سے ہم تفصیل میں نہیں جاتے)۔ علم و ایمان کا اس طرح استعمال کیٹیگری مسٹیک ہے جس کی اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی علمی اصطلاح میں علم و یقین دلیل پر مبنی حال ہے اور ایمان اسی علم سے متعلق ہے (علم سے ہماری مراد کشف حقیقت سے متعلق صفت یا حال ہے اور یہی اشعری ماتریدی متکلمین کا تصور علم ہے) اور جو اعتقادی حال بدون علم و دلیل ہو وہ جہل یا اس کی قسم سے ہے (جیسے تقلیدی اعتقاد یا نرا اعتقاد)۔ اسی طرح علم ضروری کو بغیر ضروری وضاحت کے مفروضہ کہتے رہنا بھی خلط مبحث ہے۔ لہذا یہ جملے کہ عقل و علم ایمان پر قائم ہوتے ہیں وغیرہ، یہ بذات خود کنفیوژن کا ذریعہ ہیں اور علم کلام کے ماہرین کی تکنیکی مباحث میں ایسی گفتگو کے حوالے کے لئے کوئی سراغ ملنا ممکن نہیں۔ ہاں اگر وہ یہ کہیں کہ نرا اعتقاد(belief) یا فیتھ بغیر دلیل کے ہوتا ہے تو یہ درست بات ہے، لیکن ایمان کو بلا دلیل کہنا کیٹیگری مسٹیک ہے۔
اسی خلط مبحث کے باعث وہ عقل کو علم و دلیل سے الگ تھلگ ایک چیز کے طور پر تھیورائز کرتے نظر آتے ہیں، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ عقل گویا علم سے ماورا و ماقبل کوئی مستقل چیز و ماہیت وغیرہ ہے جو علم کی تشکیل میں کردار ادا کرتی ہے۔ درست قول کے مطابق عقل علم ہے (اس پر زیادہ سے زیادہ یہ کوالیفائر لگایا گیا ہے کہ یہ علم ضروری ہے لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا)۔ مسلمان اہل علم کے نزدیک علم انسان کو حس، نظر (جسے بعض حضرات عقل بھی کہہ دیتے ہیں) اور خبر سے حاصل ہوتا ہے (بعض نے خبر کو نظر کی ایک قسم کہا)۔
اگر یہ غلط فہمیاں دور ہوجائیں تو بات یوں ہے کہ علم ضروری کے قضایا علم ہیں نہ کہ نرا اعتقاد۔ مثلاً میں موجود ہوں، میرے ارد گرد ایک عالم موجود ہے جو حس سے معلوم ہوا ہے، اس عالم میں چیزیں تبدیل ہورہی ہیں، یہ عالم یا قدیم ہے اور یا حادث، جمع بین النقضین محال ہے وغیرہ ان امور کے علم ہونے کے لئے کوئی مزید دلیل درکار نہیں ہے، یہ امور خود اپنی دلیل و صداقت کا بیان ہیں اس لئے کہ یہ حقیقت سے متعلق ہیں۔ اس دنیا میں ایسا کوئی نام نہاد علم نہیں جو ان امور کے بارے میں ہم آھنگی کے ساتھ شک کرکے دو قدم بھی سفر کرسکے، نیز ایسا کوئی سچا قضیہ نہیں (بشمول انبیا کی وحی سے ثابت اخبار) جو مثلاً جمع بین النقیضین کی سچائی کو لازم نہ ہو۔ اگر کوئی اس علم ضروری کا نام اعتقاد یا مفروضہ رکھنا چاہتا ہے تو نام رکھنے میں جھگڑا نہیں، لیکن اسے اس طور پر اعتقاد یا مفروضہ سمجھنا کہ گویا کسی ناظر کے ذہن نے بس یہ تصور قائم کرلیا ہے اور اس کا حقیقت سے متعلق ہونا معلوم نہیں وغیرہ، تو یہ کیٹیگری مسٹیک ہے۔ اس سے ان کے اس نکتے کا غیر متعلق ہونا بھی واضح ہوگیا کہ کوئی علم صفر سے شروع نہیں ہوتا۔ ہاں یہ بات درست ہے تاہم اس بابت ان کی تفہیم محل نظر ہے، نکتہ اول (علم ضروری) کا موجود ہونا اس کے آربیٹریری یا نرا فیتھ ہونے یا علم نہ ہونے کے ہم معنی نہیں۔
2) صوری و جوہری عقل کا فرق؟
جہاں تک ان کے صوری و جوہری عقل کے فرق کی بات ہے، تو ہمارے نزدیک وہ غیر متعلق ہے اس لئے کہ جنہیں وہ علم کے صوری قضایا کہتے ہیں وہ بھی جوہری (یعنی حقیقت سے متعلق) ہوتے ہیں۔ اگر وہ جوہری نہ ہوں تو ان صورتوں (مثلاً استخراجی منطق کی دلیل کے مقدمات) میں کسی معین شے کی خبر بھر لینے سے کسی جوہری علم کا حصول ممکن نہیں۔ اگر logical form صرف ذہنی کھیل ہو اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو تو پھر valid inference بھی truth-preserving نہیں رہتا چاہے جزئی جوہری مقدمات سچ ہوں(جو چیز خود reality-tracking نہیں، وہ reality-tracking knowledge پیدا نہیں کرسکتی)۔ ایسے میں ان صورتوں کے اندر سے وحی کی اخبار میں مذکور جزئی امور کو گزار لینے سے بھی جو نتیجہ اخذ ہوگا وہ بھی حقیقت سے متعلق نہ ہوگا اس لئے کہ ساخت آپ کے بقول از خود حقیقت سے متعلق نہیں۔ اور اگر آپ کہیں کہ یہ صورتیں حقیقت سے متعلق ہیں، تو ان کا جوہری علم ہونا ثابت ہوا اور نتیجتاً صوری و جوہری عقل کی دوئی جاتی رہی۔ یہ بات خوب یاد رکھنا چاہئے کہ صوری قضایا کوئی برف جمانے والے خالم خولی سانچے نہیں ہیں جو از خود کسی حقیقت سے متعلق نہیں بس ان میں جمنے والی برف ان کی ساخت کے مطابق ہوتی ہے۔ علی رضوی صاحب کی اس رائے پر ہم پہلے بھی تبصرہ کرچکے ہیں کہ ان کے بقول امام غزالی کے نزدیک اولیات عقلیہ جیسے کہ جمع بین النقیضین کا محال ہونا گویا ذہن کی تفہیمی ساخت سے متعلق ہیں نہ کہ خارج از ذہن حقیقت سے۔ یہ رائے درست نہیں۔
چنانچہ ان کے بیان کردہ صوری و جوہری قضایا میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں کہ صوری قضایا زیادہ عموم کے ساتھ زیادہ اشیا پر صادق ہیں لیکن ان کا ادراک و معرفت بھی علم ہے (نہ کہ اعتقاد و مفروضہ وغیرہ)۔ یہاں تفصیل کا وقت نہیں ورنہ اہل علم جانتے ہیں کہ ماتریدی اشعری اٹامک روایت میں کلی قضایا آخری تجزئیے میں جزیات سے متعلق احکام ہیں نیز یہ اشتراک لفظی ہیں، لہذاformal universals کو حقیقت سے الگ تھلگ مجرد ساختیں سمجھنا اپنی بنیاد ہی میں غلط ہے۔ پس جب صوری و جوہری کے فرق کا مفروضہ ہی درست نہیں تو اس سے ان کا یہ مفاد حاصل نہیں ہوتا کہ عقل اعتقاد (جسے وہ غلط طور پر ایمان کہتے ہیں) پر مبنی ہوتی ہے۔
3) ثبوت کا نیا معیار
جناب علی رضوی صاحب کے مطابق کلامی دلائل ریاضی و منطق کی طرح قطعی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد انہیں قبول نہیں کرتی (اس سے بھی آپ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ دلائل کی قطعیت وغیرہ پس منظر مفروضات وغیرہ سے آتی ہے)۔ آپ کسی چیز کے ثبوت ہونے کا یہ پیمانہ مقرر فرماتے ہیں:
“ثبوت فراہم کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی عاقل انسان، خواہ اس کے پسِ منظر کے مفروضات کچھ بھی ہوں، وہ ان دلائل کو سن کر منطقی طور پر ایمان لانے پر مجبور ہو جائے۔”
اس پر ہمارا تبصرہ درج ذیل ہے:
- کسی شے کے علمی ثبوت کا یہ پیمانہ کہاں سے لیا گیا ہے، ہمیں نہیں معلوم۔ تاہم اس پیمانے کی رو سے متکلمین تو کیا، خدا کی جانب سے تمام انبیا کے لئے ظاہر کی جانے والی تمام دلیلیں (جنہیں قرآن میں آیات بینات کہا گیا ہے) بھی ثبوت کے معیار سے فروتر ہیں کیونکہ وہ بھی سب لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور نہ کرسکیں!
- کسی دلیل کی قطعیت و ظنیت کا تعلق اس کے الزام (bindingness) کے پہلو سے متعلق ہے نہ کہ اس بات سے کہ ہر ناظر بالفعل اسے قبول کرلے، اور دلیل کا الزامی پہلو اس طریقے سے متعلق ہے جس سے علم حاصل ہوا کہ مثلاً وہ بات ضروری علم میں سے ہے، اگر نہیں بلکہ نظری یا استدلالی علم میں سے ہے تو خود اس استدلال کی صفت کیا ہے (مثلاً اگر وہ استقرا ہے تو کیا استقرائے تام ہے یا ناقص، اگر سبر و تقسیم (abduction)ہے تو کیا inference to only explanation ہے یا inference to many، یا کیا وہ استخراجی ہے وغیرہ)۔
- چنانچہ دلیل کی صحت و قوت اور کوئی شخص اسے کیوں قبول نہیں کررہا، یہ دو الگ سوالات ہیں۔ میڈیکل سائنس میں کئی ایسی ویکسینز ہیں جن کا متعدد تجربات سے مفید ہونا ثابت ہے لیکن دنیا میں کروڑوں انسان انہیں استعمال کرنے سے کتراتے ہیں، آج بھی لاکھوں کروڑوں لوگ سائنسی evidence کے باوجود جعلی علاج، توہمات یا anti-vaccine نظریات کی طرف جاتے ہیں، کیا اس سے ڈاکٹرز یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ہمارا طریقہ تحقیق غلط یا کمزور ہے؟ الغرض کہنے کامطلب یہ کہ دلیل کی صحت و عدم صحت نیز اس کی الزامی قوت کا تعین علمی اصول پر ہوتا ہے۔
- اس کے برعکس درج بالا پیمانے میں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ مخالف اگر کسی دلیل اور اس کے نتیجے کو قبول نہیں کررہا تو مطلب یہ ہوا کہ وہ ثبوت نہیں۔ لیکن سامنے والے کی جانب سے کسی واضح دلیل کو نہ ماننے کا یہ مطلب کیسے نکل آیا کہ ثبوت ناکافی یا اس میں الزام کا پہلو نہیں؟ آخر اس سے یہ نتیجہ کیوں نہیں نکلتا کہ مثلاً وہ کندذھن ہے، پاگل ہے، تقلید کا رسیا ہونے کی وجہ سے غور کرنے سے اعراض کررہا ہے، اسے کوئی شبہ لاحق ہے، ھٹ دھرم ہے، مکابرہ کررہا ہے، مفادات یا سٹیکس داؤ پر لگے ہونے کی بنا پر حقیقت تسلیم نہیں کررہا وغیرہ وغیرہ؟
- ہم پوچھتے ہیں کہ اگر دلیل میں الزام کا پہلو نہ ہو تو آخر کیا وجہ ہے کہ بعض اختلاف کرنے والوں کو پاگل، بعض کو کافر و فاسق اور بعض کو مجتہد مصیب کہا جاتا ہے؟ کیا یہ احکام ناظر کی مرضی و خیال کی جانب لوٹتے ہیں یا دلیل کی قوت کی جانب؟ اگر از خود دلیل میں لزوم کا پہلو نہ ہو، تو انبیا کے منکرین پر گناہ و سزا کا حکم کیسے لگتا ہے؟ کیا علی صاحب کے نزدیک ہر اختلاف کرنے والا ایک ہی درجے پر ہے؟ اگر نہیں (اور ہمارے نزدیک قرین از قیاس یہی ہے کہ آپ اس کے قائل نہیں) تو کیوں؟ اگر وجہ خود ایمان سے خارجی دلائل ہیں تو یہ ان کے قول موقف کے خلاف ہے۔ الغرض اس پیمانے میں سامنے والے کے عدم قبولیت سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا گیا ہے کہ عدم قبولیت دلیل کے نان بائنڈنگ (غیر ملزم) ہونے کے ہم معنی ہے جبکہ درمیان میں کئی مفروضے ہیں۔
- جب کوئی شخص کسی بات کو قبول نہیں کرتا، تو بذات خود اس بات کی بھی علمی اہمیت ہے کہ نہ ماننے کی وجہ کیا ہے؟ اگر وہ وجہ علمی پیمانے پر دلیل کی قوت کا تعین کرنے میں اثر انداز نہیں ہوتی تو محض عدم قبولیت کو حوالہ بنا کر دلیل کو کمزور قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مثلاً ایک داعی کسی ملحد کو گالیاں دے کر اسے دلیل حدوث پیش کرے جس کے بعد ملحد اس داعی سے نفرت کی بنا پر اس کی بات پر غور نہ کرے، تو اس عدم قبولیت کا دلیل کی قوت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شدید بھوکا طالب علم کلاس میں استاد کی بات پر توجہ نہیں دیتاوغیرہ۔ یہی حال ان متعدد امور کا ہے جنہیں “دل کے احوال” قرار دے کر ایمان کو علم و ایمان کو پراسرر چیز بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ بغور دیکھا جائے تو دلیل سے توجہ ہٹانے کے ایسے نفسی احوال بذات خود ایک علم ہے۔
- آپ کی گفتگو سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ صرف ریاضی و منطق ان کے معیاری ثبوت پر پورا اترتے ہیں جبکہ یہ دعوی بھی محل نظر ہے۔ مثلاً خود ریاضی میں بھی مختلف مذاہب ہیں، کئی لوگوں نے منطق کے بنیادی قواعد پر اعتراض وارد کرنے کی کوشش کی ہے (یعنی وہ خود کو ان کے اقرار پر مجبور نہ پاسکے!)۔ یوں ریاضی و منطق بھی ثبوت ہونے سے فروتر ہوگئے۔ اگر زید کہے کہ 2 جمع 2 دس ہوتے ہیں، اور کوئی زید کو صبح سے شام تک دو جمع دو 4 ہونے کے قائل کرنے کی کوشش کرے مگر زید اپنے ارادے سے انکار کرتا رہے، تو اس سے کیا یہ نتیجہ نکلے گا کہ زید احمق ہے یا یہ نتیجہ نکلے گا کہ 2 جمع 2 چار کا اصول غیر قطعی ہے جس میں زید پر لزوم کا پہلو نہیں؟ استدلال کی اسی غلطی کو اوپر واضح کیا گیا ہے۔ پھر یہ خیال بھی محل نظر ہے کہ ریاضی جیسی قطعی دلیل کوئی نہیں۔ درست بات یہ ہے کہ ریاضی ہو یا منطق، ہر جگہ علم کے وہی طریقے کارفرما ہیں جو دیگر علوم میں ہیں اور ریاضی کی کوئی خصوصیت نہیں اور یہی وجہ ہے کہ جو شخص دیگر علوم میں ان کا انکار کرے گا وہ ریاضی و منطق سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ بلکہ بعض حقائق ایسے ہیں جو ریاضی سے زیادہ اولی یا اس سے مساوی قطعی ہیں اور جو ان کا انکار کرے وہ ریاضی کا بھی انکار کرے گا۔ مثلاً میں موجود ہوں، میرے ارد گرد ایک دنیا ہے، اس دنیا میں اشیا تبدیل ہوتی ہیں وغیرہ۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ سب ریاضی کی طرح قطعی نہیں تو ہمیں کوئی ایسا شخص دکھایا جائے جو ان امور کا تو انکار کرے یا ان میں شک لیکن ریاضی کی مساواتوں کو قطعی حقیقت سمجھتا ہو (اہل علم جانتے ہیں کہ مثلاً الجبرا ساکن آبجیکٹس جبکہ کیلکولس متحرک اشیا سے متعلق ہے، اب اگر کوئی حرکت و سکون کے بارے میں ہی شک میں ہو تو یہ ساری ریاضی اس کے کس کام کی؟)۔ الغرض ریاضی کو یوں بڑھا چڑھا کر واحد قطعی قسم کا علم بنا کر پیش کرنا بھی درست نہیں اور ہم اس بات کے قائل نہیں کہ کلامی دلائل ریاضی کی طرح قطعی نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ریاضی کو بالکل قطعی برھان کہا جاتا ہے، دنیا کے شاید ۹۵ فیصد سے زیادہ لوگ اس کے اکثر حصے کو نہ سمجھتے ہیں اور نہ قبول یا رد کرنے کی علمی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ تو ریاضی سے بے زار ہوتے یا غلط تصورات رکھتے ہیں، کیا اس سے theorem کی صحت متاثر ہوجاتی ہے؟ اب اگر کوئی کہے کہ ” اگر یہ برہان واقعی مضبوط ہوتا تو سب لوگ اسے مان رہے ہوتے “، تو یہ مغالطہ ہوگا، کیونکہ برہان کی قوت کا تعلق خود اس کی اپنی صفات سے ہے، نہ کہ عوامی قبولیت سے۔
خلاصہ یہ کہ دلیل کی اقناعی قوت (persuasive power) اس کے “علم ہونے” سے حاصل ہوتی ہے۔ عقلی دلالت مشاہد یا ناظر کی صفت نہیں ہے بلکہ یہ ایک شے کی کسی شے پر اپنی ذات کی بنا پر ہوتی ہے جیسے حادث کی دلالت محدِث پر (متکلمین بشمول امام غزالی اسی کو دلیل عقلی کہتے ہیں، یہ ان کی اصطلاح ہے)، اگر اس کائنات میں کوئی بھی ناظر موجود نہ ہو تب بھی یہ بات اپنی ذات میں سچ ہوگی۔ چنانچہ دلیل میں یہ بات قابل تحقیق ہوتی ہے کہ مقدمات نیز ان میں ربط قطعی ہے؟ یہاں سے دلیل قوت حاصل کرتی ہے، اور یہ مقدمات و روابط کی قطعیت بالاخر علم ضروری و بدیہی کی طرف لوٹتی ہے۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ بدیہیات و علم ضروری اضافی، غیر قطعی یا نرے مفروضے ہوتے ہیں وغیرہ، تو اسے سفسطہ (skepticism) کہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص بحث کو اس درجے تک لے جانا چاہتا ہے تو پھر ہم کہیں گے کہ “مجھے نہیں معلوم کہ میں نے آپ کی کوئی تحریر پڑھی یا نہیں، میرا ایمان کمزور ہے”، اللہ اللہ خیر سلا۔ رہ گئی یہ بات کہ وہ کون سے شخصی احوال ہیں جو کسی شخص کے لئے عند اللہ عذر کا باعث ہوسکتے ہیں یا جس کی بنا پر وہ کسی دلیل کو قبول نہیں کررہا، اس کا دلیل کی قطعیت یا الزامی پہلو سے تعلق نہیں اور نہ اس سے دلیل کی دلالت سبجیکٹو معاملہ ہوجاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی آنکھ کا مریض سورج نہ دیکھ سکے تو سورج کے وجود کا معاملہ سبجیکٹو نہیں ہوجاتا۔
آپ نے یہ بھی پوچھا ہے کہ دلیل کی اقناعی قوت کا مخاطب کیا ہے، ذہن یا قلب؟ ہم کہتے ہیں زیر بحث گفتگو میں یہ سوال غیر متعلق ہے کہ علم ضروری کا محل ذہن ہے، قلب ہے یا آنکھ وغیرہ۔ درج بالا تفصیل کے بعد ان کے اس سوال پر کسی تبصرے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ عدمِ اطمینان کا معیار اور سبب کیا ہے۔
4) سرکولیریٹی سے بچنے کے لئے عقل کے دومعنی کی ایجاد
جناب علی رضوی صاحب کے موقف پر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر عقل کا مدار ایمان ہے اور ایمان لانے کی تکلیف کا مدار عقل پر ہے، تو یہ سرکولیریٹی ہے۔ اپنی تحریر کے آخر میں سرکولیریٹی کو قبول کرلینے کے باوجود البتہ اس سوال کا جواب دینے کے لئے انہوں نے عقل کے دو معنی وضع فرمائے ہیں تاکہ سرکولیریٹی کے الزام سے بچا جاسکے۔ ایک کا نام انہوں نے عقل بطورِ مناطِ تکلیف رکھا اور وہ ان کے نزدیک یہ ہے:
“شریعت میں انسان کو مکلف بنانے کے لیے جس عقل کو بنیاد بنایا گیا ہے، وہ انسان کی وہ ادراکی صلاحیت ہے جس سے وہ خطابِ الٰہی کو سمجھ سکے اور صواب و خطا میں تمیز کر سکے۔ اس معنی میں عقل مقدم ہے (مجنون سے تکلیف ساقط ہو جاتی ہے)”
وہ مزید لکھتے ہیں:
“عقل اپنی ادراکی صلاحیت (مرتبۂ اول) کے ساتھ وحی کو سمجھتی ہے اور اس کی سچائی کا اعتراف کرتی ہے۔”
اس پر ہمارے چند ملاحظات ہیں:
پہلی بات: اس بیان کا صاف مطلب یہ ہے کہ عقل کا یہ پہلا مفہوم ان حقائق کے ادراک سے ماقبل ہے جنہیں شریعت نے موضوع بنایا ہے۔ اس کے بعد ان کا یہ قول کیسے درست رہا کہ عقل کا ہر تصور (بشمول اسلامی عقل) ایمان پر مبنی ہوتا ہے؟ یہاں تو آپ نے خود الٹ ترتیب مان لی ہے اور نتیجتاً وہ سرکولیریٹی برقرار رہی جس سے وہ بچنے کی کوشش میں تھے۔
دوسری بات: آپ کی بیان کردہ یہ عقل ایک بلیک بکس کی طرح ہے جس کا کنٹنٹ وہ نہیں بتاتے، لہذا ہمیں نہیں معلوم کہ ادراکی صلاحیت سے ان کی کیا مراد ہے۔ مسلمانوں کی کلامی روایت میں اس سے مراد علم ضروری کی قضایا ہیں اور یہ ایک متعین بات ہے۔ اس کے برعکس عقل کا ترجمہ انڈرسٹینڈنگ کی صلاحیت کرنا بظاہر کانٹین ڈسکورس وغیرہ سے متعلق کوئی چیز لگتی ہے، تاہم صاحب تصنیف کو وضاحت کا حق ہے۔
تیسری بات: خطاب الہی ہم عام لوگوں کے لئے براہ راست وحی نہیں ہوتا بلکہ دلیل لفظی کی صورت ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کے اصول پر تکلیف کی مناط جس عقل پر ہے، وہ ایسی عقل ہے جو دلیل لفظی (یعنی مدعی نبوت کے دعوی نبوت) کی صداقت کو جانچ کر اس کی صداقت پہچان سکے۔ اب وہ کونسے قضایا ہیں جن سے وحی کی سچائی کا حکم اخذ ہوتا ہے؟ کیا بھلا یہ بات قابل فہم بھی ہے کہ خدا کی معرفت مدعی نبوت کی خبر پر موقوف ہو؟ کیا نبی کا تصور خدا کا تصور ہوئے بغیر قابل فہم ہے؟ اگر نہیں ہے اور یہ قطعاً ممکن نہیں، تو ایسے میں وحی کی معرفت بذریعہ دلیل عقلی چند ماقبل مابعد الطبعیاتی حقائق کی معرفت کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ بلکہ خود وحی کی معرفت کا اس کے سوا اور کیا معنی ہے کہ فلاں شخص اپنے اس دعوے میں سچا ہے کہ خدا نے اس سے کلام کیا ہے اور ہمیں اس کی بات کا مکلف بنایا ہے؟ یہ بذات خود بدون وحی ایک حقیقت کا ادراک ہے، اگر عقل اس میں مستقل نہیں تو دلیل لفظی کا اعتبار کس چیز سے ثابت ہوتا ہے؟ الغرض علی صاحب نے عقول کے دو معنی تو وضع فرمائے، تاہم آپ اول الذکر کو بلیک بکس بنا کر آگے بڑھ گئے ہیں جبکہ امام غزالی سمیت ان سے قبل اور بعد کے متکلمین نے اس علم کو متعین کیا ہے جن پر مدعی نبوت کے دعوے کی صداقت کا علم موقوف ہے، خود الاقتصاد نیز المستصفی میں بھی امام صاحب نے ان امور کی نشاندہی کی ہے جو ماقبل وحی دلیل عقلی سے معلوم ہوتے ہیں۔
چوتھی بات: عقل کا جو دوسرا مفہوم انہوں نے وضع کیا ہے، یعنی عقل بطورِ مقتدر و حاکم (Sovereign Authority) ، وہ بھی غیر دلچسپ اصطلاح سازی معلوم ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہم جب عقل کی خود مختاری کی نفی کرتے ہیں، تو وہ اس دعوے کی نفی ہے کہ عقل وحی کی دستگیری کے بغیر، مستقل بالذات طور پر مابعدالطبیعیاتی حقائق کا احاطہ کر سکتی ہے یا اخلاقی اقدار کا حتمی قانون وضع کر سکتی ہے۔”
اگر ان کی مراد یہ ہے کہ عقل کسی بھی مابعد الطبعیاتی حقیقت کے ادراک میں مستقل نہیں تو اس دعوے کا اسلامی کلام سے تعلق ثابت کیا جائے کہ یہ کس سے لیا گیا ہے۔ اس کے برعکس میسر کتب کلام کے مطابق امام باقلانی سے لے کر جوینی غزالی رازی و مابعد سب کے ہاں اس پر اتفاق ہے کہ حقائق تین طرح کے ہیں:
الف) وہ جن کا ادراک صرف دلیل عقلی سے ہوتا ہے نہ کہ دلیل نقلی سے، اس کی مثالیں عالم کا حدوث، وجود باری، اس کی تنزیہ و صفات ذاتیہ وغیرہ ہیں
ب) وہ جن کا ادراک صرف دلیل نقلی سے ہوتا ہے نہ کہ دلیل عقلی سے، اس کی مثال اشاعرہ کے نزدیک عند اللہ کل افعال پر (جبکہ ماتریدیہ کے نزدیک بعض افعال پر) مرتب ہونے والے تحسین و تقبیح کے احکام ہیں
ج) وہ جو دونوں سے جانے جاسکتے ہیں، اس کی مثال رویت باری کا ممکن ہونا ہے
چنانچہ ان کا یہ دعوی اشعری و ماتریدی علمی روایت سے ہم آھنگ نہیں۔
البتہ اگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دلیل عقلی سے تمام مابعد الطبعیاتی حقائق (ہمارے نزدیک یہ اصطلاح بھی پرابلمیٹک ہے تاہم فی الوقت ہم اسے قبول کرلیتے ہیں) کا ادراک نہیں ہوتا (کہ مثلاً مرنے کے بعد کے احوال وغیرہ) تو یہ بات عادتاً درست ہے کہ اللہ تعالی انسانوں میں عادتاً تمام حقائق کا علم خلق نہیں فرماتے اگرچہ ایسا ہونا محال نہیں (یعنی خدا چاہے تو انسان کو ایسے تمام حقائق کا علم بدون نبی کی خبر بلکہ بدون استدلال بطور علم ضروری بھی ہوسکتا ہے)۔ اسی طرح اگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دلیل عقلی سے عند اللہ تحسین و تقبیح کا کوئی حکم معلوم نہیں ہوتا تو اشاعرہ یہ بات کہتے ہیں لیکن اس بات کا ان کی وضع کردہ عقل کی دو قسموں کے بحث سے تعلق نہیں (یہاں اس پر تفصیل کا موقع نہیں، اشاعرہ کا یہ نتیجہ بذات خود دلیل عقلی سے متعلق ہے) اور اشاعرہ کو کانٹ و دیگر مغربی فلاسفہ کے فلسفے کا پیش رو بنا کر پیش کرنا خلط مبحث ہے۔
پانچویں بات: اوپر بیان کردہ امور سے متعلق ایک مزید بات پر غور کیجئے۔ آپ کا فرمانا ہے کہ وحی کی سچائی کے اعتراف کے بعد عقل خود مختاری کو چھوڑ دیتی ہے۔ اس سے یہی مراد ہو سکتی ہے کہ جب عقل کو دلیل سے ایک بات کا علم ہو جاتا ہے کہ یہ شخص اس دعوے میں سچا ہے کہ عند اللہ فلاں بات پر ثواب و عقاب ہوگا، تو وہ اس کے تقاضے پر عمل کرتی ہے اور اس امر کی نقیض کو تسلیم نہیں کرتی نیز وہ اس حقیقت کو بھی پہچانتی ہے کہ سچے کی خبر مطابق واقعہ ہوتی ہے۔ اب اگر مثلاً جمع بین النقیضین کا محال ہونا آپ کے نزدیک علم نہیں بلکہ نرا فیتھ یا اعتقاد یا بس کوئی ذھنی ساخت وغیرہ ہے تو ہمیں نہیں معلوم کہ عقل ایسا کیوں نہیں کہہ سکتی کہ نبی تو سچا ہے لیکن اس کی بات ماننے کی ضرورت نہیں! اسی جانب ہم نے اشارہ کیا تھا کہ جو شخص علم ضروری کو نرا اعتقاد یا ذھن کی کوئی تفہیمی ساخت وغیرہ کہہ کر ان کے حقیقت سے متعلق ہونے پر شک کرے گا یا حقیقت سے ان کا رشتہ کاٹ دے گا، اس کے لئے مدعی نبوت کی تصدیق اور نتیجتاً اس کی بات پر عمل کرنے کا بطور علم (یعنی حقیقت سے متعلق ہونے کا) حکم جاری کرنا محال ہے۔ چنانچہ علی رضوی صاحب وحی سے جو علمی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس مفاد کا حصول اس ماقبل علم ضروری کو علم مانے بغیر ممکن نہیں، اگر یہ نرا اعتقاد وغیرہ ہے نہ کہ حقیقت سے متعلق علم، تو ہمیں نہیں معلوم کہ آپ انبیا کی اخبار کو نرے اعتقاد کے بجائے حقیقت کیسے اور کس مفہوم میں کہتے ہیں۔ ایک غیر منطقی چھلانگ لگائے بغیر یہ فاصلہ عبور کرنا ممکن نہیں۔
خلاصہ یہ کہ نہ سرکولیریٹی کے سوال کا کوئی جواب ہوسکا اور نہ ہی بعض اخبار کے وحی ہونے کے علم کا اعتبار جس ماقبل علم ضروری پر موقوف ہے اسے علم نہ کہنے کا کوئی چارہ نکل سکا۔
5) عقل کی تحدید نہ کہ مخالفت کا دعوی اور سرکولیریٹی کو قبول کرلینا
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جناب علی رضوی صاحب کو پانچویں سوال (یعنی ان کی فکر میں سرکولیریٹی ہونے) کے اپنے جواب پر تسلی نہیں تھی، لہذا آپ نے تحریر کے آخر میں جاکر سرکولیریٹی کو ایک ناگزیر چیز کے طور پر قبول کرلینے کی دعوت دے دی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
“ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ کوئی بھی تصورِ عقل بالآخر ایمان پر مبنی ہوتا ہے جس کی حتمی عقلی توجیہ ناممکن ہے، کیونکہ یہ مفروضات عقل کو متشکل کرتے ہیں۔ اس موقع پر علمی دور (Epistemic Circularity) کا اعتراف لازمی ہے، جس سے مفر ناممکن ہے۔”
شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر میں جابجا متضاد و سرکولر امور دکھائی دیتے ہیں جس کی ایک مثال ایک ہی تحریر میں سرکولیریٹی سے بچنے اور اسے قبول کرتے رہنے کی کوشش ہے۔ دوسری مثال یہ ہے کہ ایک طرف آپ فرماتے ہیں کہ اسلامی ایمانیات جیسے کہ وجود باری وغیرہ کے دلائل باطل نہیں البتہ وہ حقائق کا ریاضیاتی قسم کا ثبوت فراہم نہیں کرتے (ریاضیاتی پہلو پر اوپر بات گزر گئی، یہاں اہم بات یہ ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ ایسے دلائل ہیں)، ساتھ یہ بھی مانتے ہیں کہ تمام ایمانیات (اصل میں اعتقادات) مساوی نہیں بلکہ ان کی صحت پر داخلی و خارجی دلائل کی بنا پر حکم لگانا ممکن ہے۔ اس دوسری بات کا مطلب یہ بنا کہ جسے یہ مختلف فیتھ کہتے ہیں ان میں وجہ ترجیح کا پیمانہ دیگر دلائل پر موقوف ہوتا ہے، لیکن یہ بھی ان کے موقف کے خلاف ہے کیونکہ اس صورت میں فیتھ کا جواز خود فیتھ سے نہیں آیا۔ اگر وہ کہیں کہ میں دلیل کا مخالف نہیں تو اسے حتمی بھی نہیں سمجھتا، تو سوال واپس آگیا: متعدد فیتھ کے مابین ترجیح کیسے قائم ہوئی؟ ہمارے نزدیک یہ باتیں عقل کی تحدید نہیں بلکہ خلط مبحث کا معاملہ ہیں۔ سرکولیریٹی کو قبول کرلینے کے بعد ایسا ہی ڈسکورس جنم لے سکتا ہے۔
6) ایمان اللہ کی مخلوق ہونے کا مفہوم
آپ نے تحریر کے آخر میں جو چند باتیں خطابی انداز میں فرمائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایمان کا بالاخر سبب اللہ کی جانب سے اسے خلق کیا جانا ہے نہ کہ دلائل وغیرہ۔ تاہم اس بحث میں اللہ کے تخلیقی فعل کو حوالہ بنانا غیر متعلق اس لئے ہے کہ اس باب میں ایمان کی تخلیق کی کوئی تخصیص نہیں، اس کائنات کے کل حادث امور بشمول حادث علم چاہے ضروری ہو یا استدلالی اللہ ہی کے خلق کرنے سے ہے (نہ کہ اشیا کی ذاتی تاثیر سے جیسا کہ مثلا مسلم فلاسفہ وغیرہ کا نظریہ ہے)۔ یعنی معاملہ یوں نہیں ہے کہ اللہ کوئی صلاحیت یا ملکہ نما چیز دے کر بندوں کو فکر کے لئے چھوڑ کر ایک طرف ہوجاتا ہے اور پھر درمیان میں کبھی کبھار ایمان کی تخلیق کے لئے مداخلت فرماتا ہے۔ چنانچہ یہاں متعلقہ بحث یہ نہیں کہ سبب حقیقی اللہ کا فعل ہے، بلکہ یہ ہے کہ اللہ کی عادت کیا ہے اور علم کے باب میں متکلمین اسے یوں ادا کرتے ہیں کہ “نظر مفید علم ہے” اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کی یہ عادت ہے کہ وہ بعض علم پر بعض کو مرتب فرماتا ہے۔ لہذا اس بحث میں خدا کی تخلیق کو اپنی بات کی حمایت میں لے آنا غیر متعلق ہے اس لئے کہ جو لوگ نظر کے مفید ہونے کے موقف کے تحت دلائل کی بات کرتے ہیں وہ یہ نہیں کہہ رہے ہوتے کہ خدا خالقِ علم و ایمان نہیں۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ جو شخص دلیل عقلی و نظر کےمفید علم ہونے کا قائل نہ ہو وہ دراصل اللہ کی خلقی عادت پر سوال اٹھا رہا ہوتا ہے۔
جناب علی رضوی صاحب کی تحریر سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ معاملے کی اس درست جہت پر توجہ نہ دے پانے کی بنا پر آپ ایمان یعنی علم کے اللہ کی عادت کے تحت جاری ہونے کے بجائے اسے خرق عادت پر محمول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور شاید اسی وجہ سے (عادی) علم پر ان کا اعتماد برقرار نہیں رہا اور نتیجتاً آپ کے ہاں سوفسطائی فکر کے دلائل جھلکنا شروع ہوجاتے ہیں اور سوفسطائیت سے پیدا ہونے والے خلا کو پھر آپ خرق عادت سے حاصل ہونے والے ایمان سے بھر لیتے ہیں۔ تاہم اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ خرق عادت کے حقیقت سے متعلق ہونے کی بحث عادی امور پر شک کے بعد ممکن نہیں رہتی۔ ان مشکلات کا حل اس فکر کے حاملین یوں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ “دیکھو بالاخر کچھ نہ کچھ ماننا ہی ہوتا ہے، ہم بس یہ مانتے ہیں”، یوں یہ اپنے تئیں علم کی بحث کو عقیدے و ایمان کی بحث بنا لیتے ہیں جبکہ حقیقتاً یہ علم کو ناممکن بنا کر جہالت، ریلیٹوازم و سبجکٹوازم کی اندھیر نگری کی جانب رواں دواں ہونے کا سفر ہے۔ خدا نے ہمیں علم کا مکلف بنایا ہے۔
7) علم کلام کے فنکشنز
جناب علی رضوی صاحب کہتے ہیں کہ زاہد صاحب عقل کو مفروضات سے عاری چیز سمجھتے ہیں نیز انہیں (یعنی زاہد صاحب کو) یہ زعم ہے کہ عقلی دلائل کے زور سے وہ سب لوگوں کو مسلمان بنا لیں گے۔
پہلی بات پر اصولی تبصرہ اوپر گذرچکا کہ لفظ مفروضے کا استعمال یہاں غلط ہے، یہاں درست لفظ علم ضروری ہے اس لئے کہ مفروضے یا اعتقاد وغیرہ کو علم نہیں کہا جاتا۔ چنانچہ ہم یوں کہیں گے کہ ہمارا تصور عقل مفروضے نہیں علم ضروری سے عبارت ہے، ایسا علم ضروری جس سے مفر ممکن نہیں اور اسی کو ھائیلائیٹ کرتے ہوئے قاضی باقلانی صاحب بتاتے ہیں کہ اسے علم ضروری کہنے کی وجہ اس علم کا اضطراری ہونا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علی صاحب کے نزدیک علم کلام کا بنیادی فنکشن دوسروں کو بالفعل حقیقت کا قائل کرلینا ہے جبکہ یہ غلط فہمی ہے۔ یہ علم کلام کا صرف ایک حاصل ہے، نہ واحد اور نہ ہی بنیادی ترین (بلکہ ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی علم کا اصل مقصد یہ نہیں ہوتا کہ دوسروں سے بس اپنی بات منوائی جائے)۔ علم کلام کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
الف) علم کلام اصلاً علم ہے اور کسی بھی علم کی طرح اس کا مقصد ایک خاص علم (یعنی عقائد اسلامیہ کے حقیقت سے متعلق ہونے کی معرفت) کا حصول ہے۔ متکلم کا کہنا یہ ہے کہ “محمدﷺ اپنے دعوی نبوت میں سچے ہیں” یہ ضروری علم نہیں بلکہ استدلالی یا نظری علم ہے۔ لہذا یہ معرفت حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ کن ماقبل حقائق کی دلالت سے اس حقیقت کا علم ممکن ہے تاکہ ہر عاقل شخص غور و فکر سے اس سچائی کا علم حاصل کرسکے۔ علم کلام ان قطعی علمی بنیادوں کی کھوج لگاتا ہے جن پر انسان اپنی فکر و عمل کی بنیاد کھڑی کرسکے۔ چنانچہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ اسلام کی دعوت کی آفاقیت کی بنیاد بھی ایک آفاقی طور پر حاصل شدہ علم (یعنی علم ضروری ) ہےاور اس بنا پر جس شخص تک نبی علیہ السلام کی دعوت پہنچ گئی اس پر آپ کی سچائی کا علم حاصل کرنا واجب ہے۔
ب) یہ علم فرد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ علم و بصیرت حاصل کرے، تقلید کو ترک کرے، اپنے دینی فرائض ادا کرے اور مستحکم بنیادوں پر قائم اسلامی معاشرے کا ایک فعال رکن بنے۔
ج) اجتماعی سطح پر اس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ ایک ماہر طبقہ تیار کرتا ہے جو دوسرے مسلمانوں کے ساتھ علمی انداز میں گفتگو کرے اور اختلافات کو علمی منہجی طریقے سے حل کرے۔ اس اعتبار سے علم کلام مسلمان اہل علم کو باہم رابطہ و مکالمے کے لیے ایک مشترک فکری ڈھانچہ اور علمی زبان فراہم کرتا ہے۔
د) ان ماہرین کی یہ ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ وہ غیر مسلم معاشروں کے قائدین اور ان کے اہل فکر کے ساتھ بھی علمی انداز میں مکالمہ کریں، ان کے شبہات کا ازالہ کریں اور انہیں دین کی دعوت دیں۔
ھ) علم کلام کا ایک اہم علمی مقصد یہ بھی ہے کہ وہ دوسرے علوم کے لیے بنیادی مقدمات اور اولین اصول (first principles) فراہم کرے تاکہ دیگر علوم کے ماہرین کے اپنے علوم پر قدم جم سکیں۔ اس ضمن میں اس کا ایک مقصد نصوص یعنی دلائل لفظیہ کی ہم آہنگ تشریح کے قواعد فراہم کرنا بھی ہے۔
و) علم و مکالمے کی ترویج میں اہم بات صرف یہ نہیں ہوتی کہ ماضی و حال کے سب لوگ آپ کی بات کے قائل ہوئے یا نہیں بلکہ یہ مستقبل کی جنریشنز کا معاملہ بھی ہے نیز ان لوگوں کا بھی جنہوں نے کسی ایک جانب ہونے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا ہوتا اور وہ بحث میں شریک فریقین کے دلائل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ علم تشکیل نہیں دیں گے تو دوسرا فریق اس گروہ کو اپنے ساتھ ہانک لے جائے گا۔ علم کلام علم کی تشکیل کے ذریعے اس مقصد کو بھی ممکن بناتا ہے۔
الغرض علم کلام کوئی ایسا بھکاری نما مشغلہ نہیں کہ مثلاً راہ چلتے لوگوں کے سامنے منت سماجت کرکے دلیل حدوث رکھ کر یہ توقع کی جائے کہ وہ اس پر ذرا سا غور کرتے ہی فوراً خدا کے قائل ہوجائیں گے۔ تمام علوم میں سے چوٹی کے علم کے بارے میں ایسا خیال سطحی ہوگا۔
8۔ اعتقاد کی متعدد وجوہات کی بات
جناب علی رضوی صاحب کا کہنا ہے کہ لوگ متعدد وجوہ سے خدا و اسلام پر ایمان (اصلا اعتقاد کہنا چاہئے) لے آتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ بحث یہ نہیں ہے کہ لوگ اعتقاد کن کن وجوہ کی بنا پر رکھتے ہیں (ظاہر ہے کسی فعل کو کرنے کی لوگوں کی اغراض مختلف ہوسکتی ہیں کہ مثلا کوئی کسی خاتون سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کوئی مالی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے وغیرہ) بلکہ یہ ہے کہ کیا ان سب وجوہات سے خدا کا علم بھی حاصل ہوتا ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ خدا کی معرفت و علم (جسے ایمان کہتے ہیں) کیسے ممکن ہے، علم کلام اس سوال سے بحث کرتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص مثلاً کسی حادثے، یا نفسیاتی الجھن وغیرہ کی وجہ سے خدا یا مذہب پر یقین رکھنا شروع کرتا ہے، تو اس سے یہ ذمہ داری ساقط نہیں ہوجاتی کہ وہ خدا کا علم حاصل کرے۔ اسی لئے ذاتی و نفسیاتی قسم کی وجوہات دین کے انتخاب میں معیار نہیں بلکہ معیار علم و دلیل ہے، اگر ذاتی سکون وغیرہ جیسے نفسی امور از خود معیار بننے لگیں تو ہر مذہب حق بن جائے گا جبکہ یہ محال ہے۔ ایسی نفسی وجوہات کو معیار تسلیم کرنا مذہب کی نجکاری ہے۔ اسی طرح جس شخص کا اسلام سے متعلق اعتقادی دعوی صرف اس وجہ سے ہو کہ مثلاً وہ مسلمان کے گھر پیدا ہوا یا اس کے ابو یا محلے وغیرہ والے مسلمان ہیں، تو اسے متکلمین کی اصطلاح میں مقلد کہتے ہیں اور مقلد کے ایمان کی نوعیت کی بحث کتب کلام میں ملاحظہ کرنا چاہئے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علی رضوی صاحب کے نزدیک اصل مطلوب چیز بس اعتقاد (belief or faith) ہے جس کی بہت ساری وجوہات میں سے بس ایک دلیل عقلی ہے، یوں گویا دلیل یعنی علم اور دیگر وجوہ سے حاصل حال مساوی ہیں اور اسی لئے وہ ان سب کو ایمان کہہ دیتے ہیں، جبکہ شرع کو اور متکلمین اسلام کو اعتقاد میں اصل دلچسپی نہیں، ان کے ہاں زیر بحث اصل سوال خدا پر اعتقاد کے بجائے اس کے علم کا ہے۔ قرآن نے اسی پر زور دیا ہے کہ خدا کا علم حاصل کرو۔ رہی بات لوگوں کے اعتقادات کی وجوہات کی تو یہ علم کلام کا موضوع نہیں ہے (ممکنہ طور پر یہ سوشیالوجی وغیرہ کا موضوع ہوسکتا ہے)، علم کلام کا موضوع یہ ہے کہ کیا خدا کا علم ممکن ہے، ہاں تو کیسے، نیز وہ علم کیا ہے؟ متکلم خدا و مذہب کا بطور علم فروغ چاہتا ہے۔ فیتھ یا اعتقاد کا معنی تو اپنے ذہن و نفس کو کسی خیال کے ساتھ باندھ لینا ہے اور کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ بھی اعتقاد باندھا جاسکتا ہے۔ خدا نے بندوں کو علم کا مکلف بنایا ہے اور ہمیں علم کی ترویج کرنا ہے۔
اگر سارے لوگ اس علم کو قبول نہیں کررہے تو اس سے علم کی ترویج نیز اس کے حق و موثر ہونے کا موقف ترک نہیں جاسکتا۔ اگر مسلمان اب تک ساری دنیا پر اسلامی احکام پر مبنی حکومت قائم نہیں کرپائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی کوشش کرنا غیر معقول ہے۔ پس دلائل عقلیہ سے سب لوگوں کے متاثر نہ ہوسکنے کو دلیل بنا کر سوفسطائیت، سبجیکٹوازم و سرکولیریٹی وغیرہ کو گلے نہیں لگایا جاسکتا۔
آخری بات
ہم نے محترم علی رضوی صاحب کے موقف پر دیگر نکات کا ذکر تبعاً کیا ہے جن پر مزید گفتگو بھی ہوسکتی ہے۔ ہماری اصل دلچسپی یہ معلوم کرنا ہے کہ عقل و ایمان کے تعلق کے بارے میں جو دعوے آپ نے فرمائے ہیں، وہ اشعری و ماتریدی علمی روایت میں کس شخصیت (بشمول امام غزالی) کا موقف ہے؟ اگر آپ کو اس روایت سے متصل ہونے میں دلچسپی نہ ہو، تو ہمیں بھی ایسے کسی موقف پر مزید بحث کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
وما علینا الا البلاغ




کمنت کیجے