Home » متکلمین اور مغربی فلسفے کے تصور عقل کا فرق اور ایک اہم الجھن
اسلامی فکری روایت شخصیات وافکار فلسفہ کلام

متکلمین اور مغربی فلسفے کے تصور عقل کا فرق اور ایک اہم الجھن

معاصر مباحث میں”عقل“ کے دو مختلف تصورات خلط ملط کردئیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے خلط مبحث پیدا ہوتا ہے: ایک علم کلام کا تصور عقل اور دوسرا کانٹ وغیرہ کی پیور ریزن۔

اشعری ماتریدی متکلمین جب یہ کہتے ہیں کہ خدا کے وجود کا علم بدون وحی بذریعہ عقل ہوسکتا ہے، تو ان کی مراد کوئی مجرد، خود مختار یا حقیقت سے الگ تھلگ تفہیمی ذہنی ساخت یا صلاحیت نہیں ہوتی، بلکہ علم ضروری (جیسے کہ حسیات و بدیہیات) ہوتی ہے، یعنی ایسے حقائق جو انسان کو براہ راست مشاہدے اور ناگزیر ادراک کی صورت معلوم ہوتے ہیں، جیسے میں موجود ہوں، میرے ارد گرد دنیا موجود ہے، یہاں اشیا میں تغیر واقع ہوتا ہے، جمع بین النقیضین محال ہے وغیرہ۔ یہ کوئی اختیاری نوعیت کے موضوعی اعتقادات (subjective        beliefs) یا نظری تشکیلات (constructs) نہیں ہیں، بلکہ ہر فکر کی بنیاد ہیں نیز جو تمام انسانوں میں مشترک ہیں۔ لہٰذا علم کلام میں ”آفاقی عقل“ سے مراد وہ ناگزیر اور مشترک حقائق ہیں جن کا انکار پاگلوں کے سوا کوئی انسان نہیں کرسکتا۔ متکلمین انہی علمی و عقلی بنیادوں سے وحی سے ماقبل خدا اور اس کی صفات نیز نبی کی صداقت پر استدلال قائم کرتے ہیں۔

اس کے برعکس کانٹین فلسفہ وغیرہ عقل کو حقیقت وضع کرنے والی ایک ماہیت (structuring        faculty) کے طور پر دیکھتا ہے جہاں عقل براہِ راست حقیقت سے متصل نہیں بلکہ حقائق سے فروتر خالی سانچے نما ایک صلاحیت ہے اور یہ گویا نکتہ صفر ہے (اس کا نام “صوری عقل” بھی کہا جاتا ہے)۔ پھر اس صفر مقامی صلاحیت میں ناظر اپنے اپنے سماجی و لسانیاتی تناظرات اور ذاتی اعتقادات سے کچھ بھی بھر لیتے ہیں جس کے بعد عقل کا کام ان مختلف تناظرات کو منظم و مرتب کرنا ہوتا ہے نہ کہ ان کی صحت کا حکم لگانا۔ چونکہ ان سماجی و لسانیاتی تناظرات وغیرہ کی تعیین کا کوئی ایسا آفاقی طریقہ نہیں کہ یہ سب باہمی طور پر قابل موازنہ ہوں نیز عقل تاریخ، ثقافت اور لسانیات سے تشکیل پانے والے ڈھانچوں کے ذریعے حقیقت کو منظم کرتی ہے، لہذا اس فکر کے مطابق عقل کے سبسٹنٹو یا جوہری تصورات معاشرتی کنسٹرکٹ یا بیک گراونڈ مفروضات وغیرہ سے عبارت ہیں۔ اسی بنا پر پوسٹ ماڈرن مفکرین کہتے ہیں کہ عقل کبھی نیوٹرل نہیں ہوتی اور ہمیشہ background        assumptions ساتھ رکھتی ہے۔ یہاں سے آلاتی عقل کے مخصوص تصورات کی بحث بھی جنم لیتی ہے جہاں عقل کا وظیفہ حقیقت کا ادراک نہیں بلکہ خواہشات وغیرہ کی تکمیل ہوتا ہے۔

اس فرق کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے بعض معاصر مسلم ناقدینِ جدیدیت ”عقل کی حجیت“ کی تعبیر سے متوحش ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ اسے جدید مغربی فلاسفہ کے معنی میں لیتے ہیں جہاں عقل کو حسی تجربے وغیرہ سے کٹی ہوئی معنی کی تخلیق و تشکیل میں ایک خود مختار صلاحیت سمجھ لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی وہ مغربی فلسفے کے تجزیات سے برآمد شدہ عقل کے اس تصور کو فی الحقیقت کوئی آفاقی حقیقت فرض کرلیتے ہیں کہ عقل کے بارے میں یہ تجزیہ برحق ہے، اور نتیجتاً یا وہ اسلامی کلام سے مایوسی محسوس کرتے ہیں اور یا مغرب کے اسی تصور عقل کو علم کلام پر پراجیکٹ کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسی بنا پر ان کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ عقل کا سفر صفر مقام سے نہیں ہوتا نیز مختلف ابتدائی مقامات بس اعتقادات کی طرح ہوتے ہیں اور بطور مسلمان ہم ان اعتقادات میں خدا اور نبی پر اعتقاد رکھ کر اسلامی عقل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ تاہم ایسی بات کہنا عقل کے بارے میں مغربی فلاسفہ کے تجزیات کی تردید نہیں بلکہ انہیں درست فرض کرتے ہوئے انڈورس کرنا ہے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ عقل کوئی ادراکی صلاحیت یا structuring         faculty وغیرہ نہیں بلکہ حقیقت سے متعلق (reality-tracking) معین حقائق کے علم سے عبارت ہے جو تمام انسانوں میں مشترک ہے اور معین حقائق کا یہی ناگزیر ادراک تمام انسانوں کی تکلیف کی بنیاد ہے۔ اسی لیے علم کلام میں جو چیز بطور عقل زیر بحث ہے وہاں حقیقت کی تشکیل زیر بحث نہیں ہوتی بلکہ یہ موجود حقیقت کے ادراک کا نام ہے۔ پس عقل کا نقطہ آغاز کوئی ثقافتی مفروضہ، ذہنی سانچہ یا background         assumption وغیرہ نہیں بلکہ علم ضروری کے وہ ناگزیر علمیاتی حقائق ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔ یوں علم کلام عقل کے لئے ایک درست اور زیادہ مضبوط و آفاقی تعبیر فراہم کرتا ہے۔

عقل کی بابت متکلمین و مغربی فلسفے کے تجزیے کا فرق واضح ہوجانے کے بعد ہمارے یہاں مغرب کی تردید کا کام کرنے والے کئی اہل علم حضرات کی ایک الجھن سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ ذیل میں اسے واضح کیا جاتا ہے۔

جدید مغربی فلسفے خصوصاً کانٹ نے عقل کے لیے ایک آفاقی اور خالص بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی جسے pure        reason یا formal        reason بھی کہتے ہیں۔ لیکن یہ منصوبہ آخرکار بری طرح ناکام ہوا کیونکہ یہ عقل ایک خالی اور مجرد سانچے کی مانند تھی جسے مختلف تہذیبیں، زبانیں اور فکری frame           works اپنے اپنے طریقے سے بھر سکتی تھیں اور جن کے مابین صحت و عدم صحت کا حکم جاری کرنا اس مجرد عقل کے دائرے سے باہر تھا۔ نتیجتاً حقیقت تک براہِ راست رسائی کے بجائے عقل خود ایک interpretive         structure بن کر رہ گئی، پھر پوسٹ ماڈرن فکر نے اسی بنیاد پر یہ کہنا شروع کردیا کہ ہر عقل اپنے پس منظر مفروضات اور تاریخی تناظرات کی اسیر ہے۔

چنانچہ کانٹ اور اس جیسے فلاسفہ کا جواب یہ نہیں کہ اسلامی عقل بھی بالآخر اعتقاد یا presuppositions پر قائم ہے کیونکہ ایسا کہنا دراصل عقل کے بارے میں انہی مغربی مفروضات کو قبول کرلینا ہے جنہوں نے عقل کو اضافی اور framework-dependent بنادیا۔ صحیح جواب یہ ہے کہ عقل کوئی خالی ملکہ یا مجرد صلاحیت نہیں بلکہ اضطراری علم ہے اور آفاق سے متعلق یہ علم آفاقیت کی بنیاد ہے۔ تاہم ردِ مغربیت کا کام کرنے والے احباب مغربی تجزیات کے تحت اسلامی عقلیت، یہودی عقلیت، یا سیکولر عقلیت وغیرہ جیسی تعبیرات استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ عقل بذاتِ خود ایک ہی ہے (یعنی علم ضروری) اور تمام انسانوں میں مشترک ہے۔ جو شخص عقل کے نظری تقاضوں کی پیروی کرتے ہوئے خدا اور رسول کی تصدیق کرے وہی عاقل ہے، اور جو ان اضطراری حقائق کے علم سے واضح ہونے والی دلالتوں کا انکار کرے وہ عقل کے تقاضوں سے اعراض کررہا ہے۔

لیکن جب ہم سیکولر عقل و اسلامی عقل وغیرہ بولتے ہیں تو خود عقل و علم ہی اضافی و ریلیٹو بن جاتے ہیں، نتیجتاً مزید فرق کرنے کے لئے ہمیں عقل کے ساتھ سلیم اور خبیث جوڑنا پڑتے ہیں، اور اس کے بعد بحث عقل سے ہٹ کر اس پر منتقل ہوجاتی ہے کہ سلیم اور خبیث کا معیار کیا ہے؟ چونکہ ابتدا ہی میں عقل کو غیر معیاری اور اضافی مان لیا گیا ہوتا ہے جو صحت و فساد کا حکم نہیں لگاتی، اس لیے پھر ہمارے پاس سلیم و خبیث کا کوئی پیمانہ باقی نہیں رہ جاتا۔ یوں آخر میں یہ حضرات عقیدے ہی کو سلیم و خبیث کا پیمانہ بنا کر اپنے اردگرد سرکولیریٹی کا ایک ایسا جال بنا لیتے ہیں جس سے نکلنا ممکن نہیں رہتا۔

خلاصہ یہ کہ ایک طرف یہ احباب فارمل عقل کے اس مغربی ماڈل کو درست مانتے ہیں جو حقیقت کو اضافی بناتا ہے، اور دوسری طرف وہ ایک ایسا آفاقی عقلی معیار (benchmark) بھی چاہتے ہیں جو تمام انسانوں کی تکلیف اور جواب دہی کی بنیاد بن سکے نیز جس کی رو سے اسلام واحد حق ہو۔ لیکن یہ دونوں باتیں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں (خود عقل کے مغربی تجزیات ہی واحد حق کے ایسے ہر دعوے کو رد کردیتے ہیں)۔ اسی داخلی ٹنشن کے نتیجے میں آخرکار یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ سرکولیریٹی کو بطور ناگزیر حقیقت قبول کرلینا چاہیے، نیز بعض لوگ اس مخمصے کا شکار ہو کر حق کی اضافیت کا نظریہ قبول کرلیتے ہیں اور بعض فکری انتشار و باطنی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ ابتدا ہی میں عقل کا ایک غلط معنی مقرر کرلینا ہے: یعنی ملکہ ادراک یا تفہیمی ساخت۔

اس غلط فہمی سے گلو خلاصی کا راستہ وہی ہے جو متکلمین نے بتایا کہ عقل ملکہ نہیں بلکہ ناگزیر متعین علم ہے، یعنی آفاقیت حقیقت کے ناگزیر آٖفاقی علم سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ انسانی ذھن کی کسی تشکیلی صلاحیت وغیرہ سے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں