بشکریہ روزنامہ 92 نیور
پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے ’خوارج‘ کا ذکر زیادہ ہورہا ہے، لیکن ان ’خوارج‘کے فہمِ شریعت کے علمی جواب کے ضمن میں اب تک جو دو کوششیں ہوئی ہیں ان دونوں کو عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہوسکی: ایک، جناب جاوید احمد غامدی کا ’جوابی بیانیہ‘ اور ایک حکومتی اداروں کی کاوشوں سے تیار کیا گیا ’پیغامِ پاکستان‘۔ پہلی کاوش کا مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی علوم کی روایت کے لیے اجنبی ہے اور دوسری کاوش ’از دل خیزد‘ نہیں ہے، اس لیے ’بر دل ریزد‘ بھی نہیں ہوسکی۔ ضرورت اس حیران و ششدر قوم کے لیے ایسا طرز عمل تجویز کرنے کی ہے جو اجنبی پیوندکاری نہ ہو، بلکہ اسلامی روایت پر مبنی ہو۔ شیخ یوسف قرضاوی کا کام اس ضرورت کو پورا کرنے میں بہت مفید ہے۔
شیخ قرضاوی کی ’فقہ الجہاد‘ میں ایک اہم بحث ”تشدد پسند تنظیموں کی فقہ کا تجزیہ“ کے عنوان سے ہے جس میں شیخ قرضاوی نے کوشش کی ہے کہ مسلمان ریاستوں میں حکومتوں کے خلاف خروج کے قائلین کی فقہ کے اہم مبادی سامنے لا کر ان کی غلطی واضح کی جائے۔ یہ بحث بہت مفید نکات پر مشتمل ہے۔ اس کے شروع میں وہ لکھتے ہیں : ”جو بھی ان تشدد پسند جماعتوں کا جائزہ لے گا جو آج عرب دنیا میں قائم ہیں، جیسے جماعۃ الجہاد، الجماعۃ الاسلامیۃ، السلفیۃ الجہادیۃ، جماعۃ انصار الاسلام، جن کی انتہا القاعدہ کی تنظیم پر ہوتی ہے، تو وہ دیکھے گا کہ ان کا ایک مخصوص فلسفہ، نقطۂ نظر اور فقہ ہے جس کا یہ اپنے لیے دعوی کرتی ہیں اور قرآن و سنت کے دلائل اور علما کے اقوال سے استدلال کرتی ہیں۔“
اس ضمن میں شیخ قرضاوی خصوصاً درج ذیل امور ذکر کرتے ہیں کہ ان تنظیموں کی نظر میں:
1. مسلمانوں کے حکمران مرتد ہوچکے ہیں ؛
2. امام ابن تیمیہ کے مشہور فتوے کی رو سے ایسے حکمرانوں کے خلاف خروج واجب ہے ؛
3. یہ حکومتیں مسلمانوں پر غیر مسلموں نے مسلط کی ہوئی ہیں ؛
4. یہ حکمران برائی کو فروغ دیتے اور نیکی سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اللہ کے حرام کردہ کاموں کو جائز ٹھہراتے ہیں ؛
5. مسلمان ریاست میں مستقل رہایش پذیر غیر مسلم ’عقد ذمہ‘ توڑ چکے ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کو جزیہ نہیں دیتے ؛ اور
6. مسلمان ریاستوں میں سیاحت یا تجارت کی غرض سے آنے والے غیر مسلم بھی مباح الدم ہیں کیونکہ ان کی ریاستیں مسلمانوں سے برسرجنگ ہیں۔
شیخ قرضاوی صراحت کرتے ہیں کہ یہ شریعت کا یہ فہم درست نہیں ہے اور علما کی ذمہ داری ہے کہ اس کی غلطی واضح کریں۔ اس فہمِ شریعت میں وہ خصوصاً درج ذیل غلطیوں کی نشان دہی کرتے ہیں:
1. جہاد کے حکم کی حقیقت اور غیر مسلم اقوام کے ساتھ تعلقات کی صحیح بنیاد؛
2. مسلمانون کے ساتھ مستقل رہاش پذیر غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی صحیح نوعیت ؛
3. برائی کو بدلنے ( تغییر منکر ) کا صحیح طریق کار ؛
4. ظالم حکمران کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے شرائط ؛ اور
5. مسلمان کی تکفیر کا مسئلہ۔
شیخ قرضاوی لکھتے ہیں کہ یہ لوگ شاید پورے خلوص کے ساتھ اس فکر کے قائل ہیں لیکن خلوص یا حسن نیت سے غلط کام صحیح نہیں ہوجاتا۔
اس کے بعد شیخ قرضاوی نے خصوصاً اس پہلو پر تفصیل سے بات کی ہے کہ برائی کو دور کرنے (تغییر منکر) کے طریق کار میں ان لوگوں کو کیا غلطی لاحق ہوئی ہے ؟ یہاں وہ ان شرعی شرائط کا ذکر کرتے ہیں جن کی پابندی اس کام کے لیے اٹھنے والوں پر عائد ہوتی ہے:
1. یہ کہ اس کام کے برائی ہونے پر اجماع ہو کیونکہ اجتہادی اختلاف کو برائی قرار دے کر زبردستی ختم نہیں کیا جاسکتا ؛
2. مستحبات چھوڑ دینے کو منکر نہیں کہا جاسکتا ، بلکہ منکر سے مراد حرام ہے۔ نیز صغیرہ گناہوں کے معاملے میں کبیرہ گناہوں کی بہ نسبت تخفیف سے کام لیا جائے گا۔
3. اس برائی کا ارتکاب کھلے عام کیا جارہا ہو اور اس کے لیے کسی کے گھر میں جھانکنے یا تجسس کی ضرورت نہ ہو ؛
4. جس وقت اس برائی کا ارتکاب ہورہا ہو اس وقت اسے روکنے اور تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے، ایسا نہ ہو کہ ارتکاب کے بعد یا ارتکاب سے پہلے تغییر منکر کے نام پر جبر اور زبردستی سے کام لیا جائے۔
5. تغییر منکر کے لیے کی جانے والی کوشش میں زیادہ بڑی برائی یا برابر کی برائی وجود میں نہ آئے کیونکہ مسلّمہ شرعی اصول ہے کہ ضرر کو اس سے بڑے یا برابر کے ضرر کے ذریعے دور نہیں کیا جائے گا۔
شیخ قرضاوی نے امام غزالی کے حوالے سے تغییر منکر کے متعدد مراتب ذکر کیے ہیں، جیسے یہ بات واضح کرنا کہ یہ کام برا ہے؛ اس کے خلاف وعظ و نصیحت، زجر اور تخویف؛ ہاتھ سے براہ راست تبدیل کرنے کی کوشش؛ مارپیٹ کی دھمکی؛ برائی کے مرتکب کے خلاف طاقت کا استعمال اور اسے اور اس کے ساتھیوں کو مغلوب کرنے کی کوشش؛ اور آخری تدبیر کے طور پر اسلحے کا استعمال یا اس کی دھمکی۔ اس آخری کام کو شیخ قرضاوی اس بنیاد پر ناجائز قرار دیتے ہیں کہ معاصر ملکی قوانین کے تحت یہ ریاست کے کرنے کا کام ہے اور فرد کو اس کی اجازت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرعی لحاظ سے بھی یہ کام ہر فرد کے کرنے کا نہیں، بلکہ ان لوگوں کے کرنے کا ہے جن کو شریعت نے دوسروں کو زبردستی روکنے کا اختیار دیا ہو۔ جو لوگ شرعی اختیار کے بغیر قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں، وہ زیادہ بڑا فساد برپا کردیتے ہیں۔خود شیخ قرضاوی نے بھی ایک اور مقام پر اس شرعی اصول کی تصریح کی ہے۔
اس بحث کے بعد شیخ قرضاوی اس امر کی طرف آتے ہیں کہ جب برائی کا ارتکاب حکمران کی جانب سے ہورہا ہو تو کیا اس کو روکنے کے لیے طاقت استعمال کی جاسکتی ہے؟ اس ضمن میں جن روایات میں ایسے حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی بات آئی ہے، وہ ان کی تاویل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان سے مراد لازماً خروج اور بغاوت نہیں ہے۔ نیز فقہائے کرام میں جو حکمرانوں کے فساد کی صورت میں انھیں زبردستی روکنے کی کوشش کے جواز کے قائل ہیں، انھوں نے بھی اس کے لیے بہت کڑی شرائط رکھی ہیں جن کا پورا کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے تاریخ میں جب بھی حکمرانوں کی جانب سے ظلم ہوا ہے، تو فقہائے کرام نے اس ظلم کے خلاف تو آواز بلند کی ہے اور اس کی پاداش میں بہت سی صعوبتیں بھی جھیلی ہیں، لیکن مسلح بغاوت سے انھوں نے گریز کی راہ اختیار کی ہے۔ شیخ قرضاوی کا اٹھایا گیا یہ نکتہ بھی نہایت اہم ہے کہ اگر کوئی حکمران انفرادی طور پر برائی کا ارتکاب کرتا ہو، تو اس کی معزولی کی کوشش ایک الگ معاملہ ہے، لیکن جب پوری ریاستی مشینری برائی کے پھیلانے پر لگی ہوئی ہو تو کیا شراب کی چند بوتلیں توڑدینے، یا موسیقی کی کسی محفل پر دھاوا بول کر چند لوگوں کی مارپیٹ سے مسئلہ ہوجاتا ہے یا زیادہ بڑے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں؟




کمنت کیجے