Home » اسلامی روایت میں سیاسی طاقت کا جواز (1)
اسلامی فکری روایت سیاست واقتصاد

اسلامی روایت میں سیاسی طاقت کا جواز (1)

ہر تہذیب کی طرح مسلم تہذیب میں بھی سیاسی طاقت کے جواز کا مسئلہ عملاً‌ وفکراً‌ کشمکش اور نزاع کا عنوان رہا ہے۔ قبائلی گروہوں یا چھوٹی سطح کی شہری ریاستوں کی حد تک سیاسی نظم کی بنیاد اتفاق رائے یا باہمی مفاہمت پر رکھی جا سکتی ہے، لیکن بادشاہتوں یا سلطنتوں کا قیام اس اصول پر ممکن نہیں ہوتا۔ چنانچہ کسی بھی سلطنت میں سیاسی طاقت اپنا جواز اولاً‌ طاقت سے اور پھر بعد کے مراحل میں کسی مقررہ سیاسی اصول سے اخذ کرتی ہے، یعنی سیاسی طاقت کو ابتداءً‌ زورِ بازو سے قائم کیا جاتا ہے اور پھر اس کے تسلسل کے لیے کوئی اصول مقرر کرنا پڑتا ہے۔ تاریخ کی تمام سلطنتیں اسی اصول پر قائم ہوئی ہیں۔
اسلامی تاریخ میں بھی مدینہ کی شہری ریاست اتفاق رائے اور معاہدے کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی، لیکن جزیرہ عرب کی حدود کے اندر اور پھر اس سے باہر اس کی توسیع تلوار کے زیر سایہ کی گئی۔ تاہم اس کے تسلسل اور بقا کے لیے سیاسی اصول ناگزیر تھا۔ وہ اصول یہ مقرر کیا گیا کہ خلافت کا منصب قریش کے خاندان کے پاس (اور پہلے مرحلے میں ان میں سے مہاجرین کے پاس) رہے گا، کیونکہ عرب ان کے علاوہ کسی کی سیادت کو قبول نہیں کریں گے، اور قریش پابند ہوں گے کہ اپنے اندر سے خلیفہ کا انتخاب شوریٰ کے اصول پر کریں اور اقتدار واختیار سے متعلق اپنی ذمہ داریاں کتاب اللہ یعنی شرعی اقدار اور اصول وضوابط کے مطابق انجام دیں۔
سیاسی اصول کا یہ پہلو مثبت تھا، لیکن اس کے ساتھ منفی پہلو سے بھی اصول مقرر کئے گئے تھے۔ وہ حسب ذیل تھے:
(۱) اگر قریش کے، کتاب اللہ کے مطابق حکومت کرتے ہوئے کوئی ان سے اقتدار کے باب میں نزاع کرے تو اسے فساد شمار کیا جائے اور ایسے شخص یا گروہوں کو قتل کر دیا جائے۔
(۲) اگر قریش کے مختلف گروہ آپس میں اقتدار کے باب میں نزاع کا شکار ہو جائیں اور شوریٰ کے اصول پر معاملات طے نہ کر سکیں تو عام مسلمان حتی الامکان ان کے قتل وقتال اور خونریزی کا حصہ بننے سے گریز کریں، اور جو گروہ بالفعل اقتدار قائم کر لے، اسی کے تحت اجتماعی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں۔
(۳) قریش اسلام اور اس کے ارکان (مثلاً‌ نماز وغیرہ) پر قائم رہتے ہوئے، حکمرانی کتاب اللہ کے خلاف کریں اور جبر وناانصافی سے کام لیں تو اس پر صبر کیا جائے اور نظم اجتماعی کے خلل کے مقابلے میں اس کو گوارا کیا جائے۔
(۴) اگر حکمران کھلے کفر کے مرتکب ہوں تو ان کی اطاعت سے دست کش ہونا جائز ہے۔
ان ہدایات کے ساتھ آئندہ کے تاریخی واقعات سے متعلق یہ اطلاعات بھی دی گئی تھیں کہ ایک وقت تک قریش، حکمرانی کی ذمہ داری باہمی مشاورت سے اور علیٰ منہاج النبوۃ انجام دیتے رہیں گے، لیکن پھر دونوں حوالوں سے بگاڑ پیدا ہوگا جو تدریجاً‌ بڑھتا ہوا شدید جبر واستبداد کی صورت اختیار کر لے گا۔ پھر اس کے بعد کسی موقع پر کوئی عادل حکمران سامنے آئے گا جو دوبارہ منہاج نبوت کے مطابق حکمرانی کی یاد تازہ کر دے گا۔
شوریٰ اور کتاب اللہ کے اصولوں کے تحت قریش کو حکمرانی کا جو حق دیا گیا تھا، اس کے خلل پذیر ہونے سے مختلف تاریخی مراحل میں سیاسی طاقت کے جواز اور بالفعل موجود سیاسی طاقت کو چیلنج کرنے کے متعدد اور متنوع بیانیے سامنے آئے، لیکن ان سب کا بنیادی فریم ورک عموماً‌ یہی چار پانچ نکات رہے ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا۔
قریش کے مختلف خاندان شوریٰ کے اصول پر خلیفہ کے انتخاب اور انتقال اقتدار پر متفق نہیں رہ سکے تو پھر سب فریقوں نے جوازِ اقتدار کے اپنے اپنے بیانیے پیش کرنے شروع کر دیے۔ امویوں کے اقتدار کے خلاف سیاسی عصبیت کو منظم کرنے کی کوشش شروع میں بنو ہاشم اور بنو تیم کی طرف سے کی گئی۔ پھر بنو ہاشم میں بھی آل عباسؓ، آل علیؓ اور آل فاطمہؓ باہم فریق بنتے چلے گئے۔ ابتدائی پانچ چھ صدیوں کی سیاسی تاریخ انھی کے مابین کشمکش سے عبارت ہے۔
کچھ دوسرے گروہوں نے قریش کے ساتھ خلافت کی تخصیص کے اصول پر سوال اٹھایا اور اہلیت کو معیار قرار دینے کا موقف پیش کیا۔ اس موقف کی بنیاد پر خوارج کے مختلف گروہوں نے عصبیت کو منظم کرنے اور بالفعل قائم اقتدار کو چیلنج کرنے کے لیے حکم بغیر ما انزل اللہ کی وجہ سے حکمرانوں کی اور کبیرہ گناہوں نیز غاصب حکمرانوں کی اطاعت کی وجہ سے عام مسلمانوں کی ’’تکفیر’’ کا مذہبی بیانیہ اختیار کیا اور کئی صدیوں تک سیاسی کشمکش میں ایک فعال کردار ادا کرتے رہے۔ ان میںسے بھی بعض گروہوں کو کچھ علاقوں میں محدود سطح پر حکومت قائم کرنے کا موقع ملا۔
تاہم خوارج اور معتزلہ وغیرہ کے موقف کے برعکس سیاسی اقتدار کے جواز کا یہ ابتدائی اصول (یعنی قریش کے کسی نہ کسی خاندان سے تعلق) اسلامی سیاسی فکر کے مرکزی دھارے میں دیر تک موثر اور کارآمد رہا ہے۔ یہاں تک کہ عباسی سلطنت کے پچھلے دور میں جب مختلف علاقوں میں متنوع خاندانی عصبیتوں نے اپنی گرفت قائم کر لی تو بھی سند کے لیے وہ عباسی خلیفہ سے ہی توثیق کا اہتمام کرتے رہے۔ عباسی سلطنت کی حدود سے باہر جن خاندانوں نے حکومت قائم کی، وہ بھی خلیفہ کی رسمی توثیق حاصل کرتے رہے ہیں۔
البتہ عرب خلافتوں کے اضمحلال اور پھر انہدام کے مرحلے میں ہمارے اہل فکر کو سیاسی تھیوری میں ’’تغلب’’ کو بنیادی اصول کی حیثیت سے شامل کرنا پڑا، اس لیے کہ کسی قسم کے نظری جواز کے بغیر سیاسی طاقت کو مستحکم رکھنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ اصول تسلیم کیا گیا کہ جس علاقے میں جو بھی گروہ بالفعل اقتدار قائم کر کے انتشار کو ختم کرنے اور سیاسی نظم قائم کرنے کے قابل ہو، اس کے اقتدار کو جواز حاصل ہوگا اور اس کے خلاف بغاوت اور خروج وغیرہ کی شرعی حیثیت وہی ہوگی جو اس سے پہلے قریشی خلیفوں کے خلاف بغاوت کی ہوتی تھی۔
اس پورے منظرنامے میں موعودہ عادل خلیفہ (جس کے لیے بعض روایات میں مہدی کا لقب بھی آیا ہے) کی پیشین گوئی بھی اقتدار کے دعووں کو جواز دینے کے ایک مستقل سیاسی اصول کے طور پر کام کرتی رہی ہے۔ اس نوعیت کے ان گنت دعوے صدر اول سے لے کر حالیہ تاریخ تک سامنے آتے رہے ہیں اور عرب سے عجم تک اور سنی مسلمانوں سے شیعہ مسلمانوں تک، ہر علاقے اور ہر طبقے کو ان کا سامنا رہا ہے۔ ان میں سے بعض کو تاریخ میں کامیابی بھی ملی ہے، جس کی مشہور مثال گیارہویں/بارہویں صدی عیسوی میں شمالی افریقہ میں دولتِ موحدین کا بانی محمد بن تومرت ہے جس کی قائم کردہ سلطنت تقریباً‌ ڈیڑھ صدی تک موجود رہی۔
یوں اگر دور جدید سے پہلے کی سیاسی فکر کا خلاصہ کیا جائے تو اقتدار کے جواز کی حسب ذیل بنیادیں مختلف حالات میں سیاسی عصبیت کو منظم کرنے کے کام آتی رہی ہیں:
1. قریشیت (اہل سنت کی سیاسی فکر)
2. اہل بیت میں سے ہونا (شیعی سیاسی فکر)
3. نسبی تعلق کے بغیر، شخصی اہلیت اور شریعت کی پابندی (خوارج، معتزلہ)
4. تغلب اور استقرارِ نظم (متاخر سنی سیاسی فکر)
5. مہدویت کا دعویٰ (متفرق شخصیات اور تحریکیں)
سیاسی اقتدار کے جواز کی سابقہ پانچ بنیادوں کا تعلق براہ راست سیاسی عصبیت کی تنظیم سے تھا۔ یعنی ان میں سے ہر ایک، حالات کی سازگاری کے ساتھ، مدعی اقتدار کے گرد لوگوں کو جمع کرنے کے لیے کارآمد اور موثر تھی۔ ظاہر ہے، یہاں ان سب کی مشروعیت کا متفقہ ہونا مراد نہیں۔ یہ سب نزاعی تھیں، لیکن ہر ایک کو فکر اور سماج میں اتنی پذیرائی اور قبولیت میسر تھی کہ وہ تنظیم عصبیت کے لیے کارآمد بن سکتی تھی۔
براہ راست سیاسی دعووں کا جواز مہیا کرنے کے علاؤہ دو اور اہم سماجی مظاہر اسلامی تاریخ میں پیدا ہوئے جن کا تدریجاً سیاسی اقتدار کے ساتھ ایک قریبی تعلق قائم ہوتا چلا گیا اور نچلی صدیوں تک آتے آتے وہ گویا سیاسی طاقت کے اسٹرکچر کا ایک لازمی حصہ بن گئیں۔ جدید دور سے پہلے سیاسی کشمکش کی حرکیات کو، اور اسی طرح جدید دور میں ان حرکیات کی نئی تشکیل کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ان کو مد نظر رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔
ان میں سے پہلا مظہر، دینی روایت کے قائم کردہ تین اہم شعبوں یا اداروں یعنی کلام، فقہ اور تصوف کے ساتھ سیاسی طاقت کا ایک قریبی تعلق بلکہ ان پر انحصار کا وجود میں آنا تھا۔ اس سمبندھ کے گہرے سیاسی مضمرات تھے جن کا تسلسل دور جدید تک قائم ہے۔
دوسرا مظہر، تصوف کے دائرے میں کشف و الہام اور عرفان کی روایت کا پختہ ہونا تھا جس کی اہمیت کا درست اندازہ جدید دور میں کرنا مشکل ہے، لیکن ماقبل جدید معاشرے میں اس کے اثرات بہت وسیع اور گہرے تھے۔ اس مظہر کا تعلق براہ راست سیاسی کشمکش سے نہیں تھا، لیکن اس میں سیاسی طاقت کے سوال پر بالواسطہ اثرانداز ہونے کی صلاحیت موجود تھی۔

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں