Home » اسلامی روایت میں سیاسی طاقت کا جواز (2)
اسلامی فکری روایت سیاست واقتصاد

اسلامی روایت میں سیاسی طاقت کا جواز (2)

دینی روایت کے تین شعبوں (عقیدہ، فقہ اور تصوف) کے ساتھ سیاسی طاقت کے تعامل اور انحصار کا ایک پہلو مشترک ہے اور بعض پہلو ان میں سے ہر شعبے کے ساتھ خاص ہیں۔ مشترک پہلو تو وہی ’’جواز’’ کا ہے جس کے بغیر طاقت محض جبر بن جاتی ہے، اور اس کا دیرپا تسلسل ممکن نہیں رہتا۔ یہ طاقت کی سب سے بڑی کمزوری ہے، یعنی طاقت بطور طاقت خود کو مستقل جواز نہیں دے سکتی۔ کسی معاشرے کے نظم کا رکھوالا بننے اور حق اطاعت claim کرنے کے لیے طاقت کو اپنا جواز خود سے الگ کسی ماخذ سے لینا پڑتا ہے جسے اس معاشرے میں استناد حاصل ہو۔
اسلامی تہذیب میں، معاشرے میں استناد کا ماخذ مذہب تھا اور سیاسی طاقت کے لیے مقرر کیے گئے اساسی اصول یعنی شورائیت اور کتاب اللہ کے متعلق فیصلہ، مذہبی نوعیت رکھتے تھے۔ جب ان دونوں اصولوں کی پاسداری تدریجاً‌ مجروح ہوتی چلی گئی اور خلفاء کے لیے علم شرع میں مہارت بھی عملاً‌ شرط نہ رہی تو سیاسی طاقت کا جواز بھی معاشرے کی نظر میں مشکوک ہوتا چلا گیا۔ طاقت کو ہر چیز سے بڑھ کر جواز کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے امکانات تخلیق کرنا اس کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ اسی ضرورت نے دوسری صدی ہجری میں عباسی خلفاء کو مجبور کیا کہ وہ فقہاء کو نظام سلطنت کا حصہ بنانے کی طرف پیش رفت کریں۔ اس بندوبست سے سلطنت کو شرعی جواز بھی حاصل ہوا، خلفاء کے بذات خود شریعت کا عالم نہ ہونے کی بھی ایک حد تک تلافی ہوئی، اور عدالتی نظام کو درکار پیشہ ورانہ مہارت کی ضرورت بھی پوری ہوئی۔ گویا فقہ اور سیاسی طاقت کے ملاپ نے سلطنت کی دینی، سیاسی اور انتظامی، تینوں ضرورتوں کو پورا کیا۔
یہی معاملہ عقیدے کا تھا۔ ابتدائی اسلامی تاریخ میں ظاہر ہونے والے تمام مذہبی اختلافات بنیادی طور پر سیاسی نظریے کے اختلافات تھے اور براہ راست یا بالواسطہ سیاسی طاقت کے سوال پر اثرانداز ہوتے تھے۔ چنانچہ سیاسی طاقت کے لیے کسی خاص اعتقادی نظریے کی سرپرستی کر کے اس کی تائید حاصل کرنا طاقت کے نظریاتی تحفظ کے پہلو سے بھی ناگزیر تھا، اور علماء اور عام لوگوں کی ہمدردی اور تائید حاصل کرنے کے لیے بھی بہت اہم تھا۔ یہ تعلق بھی بنیادی طور پر سیاسی ضرورت سے پیدا ہوا اور اسی کے تحت قائم رہا، اگرچہ اس کی عملی شکل مختلف حالات میں مختلف رہی۔ کہیں پہلے سے رائج اور مقبول مذہبی عقیدے کی تائید کی گئی، کہیں طاقت کی سرپرستی میں خاص نظریے یا عقیدے کی باقاعدہ ترویج کی گئی، اور کبھی کبھی مامون اور متوکل یا محمود غزنوی اور عالمگیر جیسے حکمران بھی پیدا ہوتے رہے جو شخصی طور پر بھی کسی خاص مذہبی نظریے یا عقیدے کی حمیت رکھتے تھے، گو یہ حمیت سیاسی محرکات سے بالکل الگ نہیں تھی۔
عقیدہ اور مذہبی قانون کے علاوہ مسلم معاشرے میں اعتبار واستناد پیدا کرنے والا ایک اور اہم ادارہ تصوف تھا جو ابتداءً‌ ترک دنیا، زہد اور تقویٰ وروحانیت کی دینی اقدار کی نمائندگی کرتا تھا۔ اسے مخالفت اور مزاحمت کے باوجود عام لوگوں میں اور پھر علماء کے طبقوں میں بھی وسیع پذیرائی ملی اور رفتہ رفتہ یہ معاشرے کی مذہبی شناخت کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔ تصوف کا براہ راست سیاسی بحثوں یا سلطنت کے نظام سے کوئی تعلق نہیں بنتا تھا، لیکن سماج میں حاصل قبولیت کی وجہ سے اس کی بالواسطہ سیاسی اہمیت غیر معمولی تھی۔ چنانچہ سیاسی طاقت نے اس ادارے کے ساتھ بھی سرپرستی اور عقیدت مندی کا طریقہ اختیار کر لیا۔ یوں عقیدہ، مذہبی قانون اور روحانیت کے ساتھ تعامل سے سیاسی طاقت نے، جواز کے سوال کا ایک دیرپا اور مستحکم حل تلاش کر لیا۔

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں