Home » بذریعہ رسول حجت علی الناس کا معنی
اسلامی فکری روایت کلام

بذریعہ رسول حجت علی الناس کا معنی

قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ(نسا: ۶۵)
یعنی بشارت دینے اور انذار کرنے والے رسولوں کی بعثت سے یہ مقصود ہے کہ لوگوں پر اللہ کی حجت قائم ہوجائے اور وہ اس کے سامنے (دلیل و برھان کی قلت ) کا عذر پیش نہ کرسکیں (یا اس کا معنی یہ ہے کہ لوگوں پر یہ واضح کردیا جائے کہ خدا ان سے کیا چاہتا ہے اور وہ کوئی عذر نہ پیش کرسکیں)
یہاں “الناس” سے مراد کسی خاص دور کے انسان نہیں ہیں اور نہ ہی یہاں “حجت” کا معنی کوئی خصوصی قسم یا درجے کی دلیل و علم ہے جو گویا صرف رسول کے براہ راست مخاطبین کو میسر ہوتا ہے۔ آیت اور اس کے سیاق میں ایسی تخصیص پیدا کرنے کا مفہوم موجود نہیں۔ لوگوں پر حجت کے معنی کو کسی خاص زمانے کے لوگوں کے لئے تب محدود کیا جاسکتا ہے جب یہ فرض کیا جائے کہ اس نبی و رسول کا ذکر نیز ان کی دعوت گم ہوگئی، نیز اسے کسی خاص علمی درجے میں بند کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی کی سچائی کو پہچاننے کا کوئی معرفتی ذریعہ حس، نظر و تواتر کے سوا بھی ہے جو گویا نبی کے براہ راست مخاطبین وغیرہ تک محدود تھا۔
چنانچہ بذریعہ نبی قیام حجت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر دور میں ہر نبی کے اور اسی طرح نبی آخر الزمان کی سچائی کے ایسے شواہد ظاہر بھی کئے اور انہیں آگے منتقل ہونے کا بندوبست بھی کیا کہ دنیا کے جس بھی شخص تک آپ علیہ السلام کی دعوت پہنچے وہ ان شواہد پر نظر کے ذریعے آپ کی سچائی کو جان سکتا ہے۔ متکلمین اسلام کے مطابق حس و نظر مفید علم ہیں نیز تواتر علم کا فائدہ دیتا ہے (یہاں علم سے ہماری مراد قطعی علم ہے جس سے انکار کا کوئی معقول جواز نہیں ہوتا)۔ اسلام کی سچائی جن بنیادی حقائق کا نام ہے، یعنی اللہ ایک ہے اور محمدﷺ اس کا رسول ہونے کے دعوے میں سچے ہیں، ان دونوں کے یقینی و قطعی علم حاصل ہونے کے وسائل آج بھی میسر ہیں، خود نبی علیہ السلام کے دور میں بھی لوگوں کو انہی علمی وسائل (یعنی حس، نظر و تواتر) سے آپ کی صداقت کا علم حاصل ہوا تھا۔
وجود باری اور توحید کا علم جن یقینی مقدمات سے حاصل ہوتا ہے وہ آج بھی اسی طرح درست ہیں جیسے نبی علیہ السلام کی حین حیات یا اس سے قبل ثابت تھے (بلکہ اس قضئے کا ثبوت دلیل نقلی پر موقوف ہی نہیں)۔ اسی طرح آپ علیہ السلام کا مبعوث ہونا نیز آپ علیہ السلام کی نبوت کا ثبوت جن معجزات اور ان کے مخالفین کے ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز آنے کے علم پر موقوف ہے، وہ واقعات تواتر کے ساتھ منقول ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ تواتر علم ضروری و یقینی کا فائدہ دیتا ہے۔ چنانچہ عند اللہ جوابدہی اور دنیاوی احکام کے اجرا کے نکتہ نگاہ سے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی شخص نے ان معجزات اور عدم معارضہ کا براہ راست مشاہدہ کیا تھا یا اسے تواتر سے اس کی خبر ملی۔ زید اگر کمرے میں گیند کا مشاہدہ کرے مگر اس کے وجود کا انکار کرے یا اسے کمرے میں گیند کی موجودگی کی متواتر خبر ملے مگر وہ اس کا انکار کرے، یہ دونوں باتیں علمی طور پر مساوی ہیں (یعنی دونوں میں قطعی علم کا انکار ہے)۔ لہذا اس دعوے کی کوئی نقلی و عقلی دلیل موجود نہیں کہ بعد کے لوگوں کے لئے نبی علیہ السلام کی سچائی کے ثبوت کم علمی درجے یا تیقن پر میسر ہیں اور اس لئے عند اللہ جوابدہی کے باب میں صرف اس بنا پر فرق نہیں کیا جاسکتا کہ ایک نے واقعہ دیکھا تھا اور دوسرے نے اسے تواتر سے جانا۔ روم و فارس وغیرہ کے علاقے کے اکثر عوام نے براہ راست آپ علیہ السلام کے معجزات کا مشاہدہ نہیں کیا تھا بلکہ انہیں یہ علم خبر متواتر سے میسر آیا تھا۔
اسی لئے علمائے کلام کہتے ہیں کہ جس شخص تک آپﷺ کی یہ دعوت پہنچ جائے کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں اور ان کی بات نہ ماننے سے اسے ابدی عقاب کا خطرہ ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ آپ کے دعوے کی سچائی کے دلائل پر نظر کرے۔ چونکہ نظر مفید علم ہے، لہذا اگر کوئی شخص اگلوں کی تقلید، اکابر کی پیروی، معاشرتی و گروہی تعصب، مادی مفادات، خواہش نفس و اعراض کے رویے سے مغلوب ہوئے بغیر دلائل میں صحیح نظر کرے تو وہ حق کو ضرور پالے گا، یہی خدا کا وعدہ ہے:
والَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: ۶۹)
چنانچہ وجود باری و توحید نیز محمدﷺ کے دعوی نبوت میں سچا ہونے کے علم سے محرومی یا تو عدم نظر کا نتیجہ ہوتی ہے یا کسی باطنی مانع کا اور یا فاسد نظر کا، نہ کہ دلائل کے ناکافی ہونے کا۔ لہذا ایسے کسی “باشعور ملحد” کا امکان موجود نہیں جو خلوص کے ساتھ صحیح نظر تو کررہا ہو مگر حق سے محروم ہو۔ ایسی باتیں سوفسطائیت ہیں جو نظر کے مفید علم ہونے کی نفی سے عبارت ہیں اور اپنی ذات میں متضاد ہیں۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں