Home » ابن سینا کا واجب الوجود
اسلامی فکری روایت شخصیات وافکار کلام

ابن سینا کا واجب الوجود

علامہ ابن سینا ارسطو کے فلسفے سے متاثر ہوکر عالم کو قدیم اور واجب کہتے تھے۔ قدیم عالم ممکن کیسے ہوسکتا ہے، یہ سوال ابن سینا کے لئے ایک چیلنج تھا اس لئے کہ قدیم صرف ہوتا ہے اور اس پر عدم محال ہوتا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے وہ بصری معتزلہ کی جانب رجوع کرتے ہیں جو انہی کی طرح کسی شے کو عدم سے وجود دئیے جانے کو ممکن نہیں سمجھتے تھے، لہذا انہوں نے “معدوم شے ہے” کا نظریہ اختیار کیا جس کے مطابق ماہیات موجود ہونے سے قبل از خود ثابت ہوتی ہیں البتہ وہ وجود سے محروم ہوتی ہیں، پھر خدا ان پر وجود کی صفت لاحق کرکے انہیں بطور حادث موجود کرتا ہے نیز وجود اسی طرح ایک حقیقی صفت ہے جیسے مثلاً کوئی رنگ یا علم وغیرہ۔ وجود و ماہیت کی اس دوئی کو ارسطو کی ھولی مارفزم پر لاگو کرتے ہوئے ابن سینا کہتے ہیں کہ مادہ و فارم صرف اشیا کی ماہیت من حیث الماہیت (essence        qua        essence) سے متعلق ہیں اور انسان ماہیت کو اس سوال سے علی الرغم سوچ سکتا ہے کہ ماہیت موجود ہے یا نہیں۔ اس ذھنی کاوش سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ماہیت وجود سے الگ ہے نیز ممکن الوجود کا وجود اس کی ماہیت پر زائد ہوتا ہے۔ یہاں سے ان کا تصور ممکن جنم لیتا ہے: ممکن الوجود وہ شے ہے جس کا وجود اور عدم بغیر کسی تضاد لائق فہم ہو یا اس کی ماہیت از خود نہ وجود کا تقاضا کرے اور نہ عدم کا، لیکن چونکہ ممکن الوجود پائے جانے کے لئے علت کا محتاج ہوتا ہے لہذا موجودات میں ایک ایسا وجود بھی ہونا چاہئے جس کا عدم محال ہو، یعنی جس کا (یا جس پر) وجود واجب ہو نیز اس کے وجود کا یہ وجوب خود اس کے اپنے اندر ہو۔ پس اگر ممکن الوجود پایا جارہا ہو تو یہاں سے واجب الوجود کے پائے جانے پر استدلال ہوتا ہے۔ یوں ابن سینا کے خیال میں ممکن الوجود کا تصور واجب الوجود کو لازم ہے۔
یہاں یہ سمجھنا اہم ہے کہ ابن سینا کے اس نظرئیے کی اصل خاصیت یہ کہنا نہیں کہ خدا کا عدم محال ہے کیونکہ یہ بات ابن سینا سے قبل مسلمانوں کے سب گروہ کہتے آئے ہیں، بلکہ یہ کہنا ہے کہ خدا کی حقیقت و ماہیت وجود ہے، بالفاظ دیگر وجود ہی اس کی کل ماہیت ہے (اگر واجب الوجود کی ماہیت کو وجود سے الگ مانا جائے تو ابن سینا کے مطابق وہ ممکن الوجود ہوجائے گا)۔ یہ واجب الوجود ذات ابن سینا کی علت ہے جسے وہ ارسطو کے efficient        cause کے طور پر متعارف کراتے ہیں نیز جس سے وجود کا صدور بطور وجوب (out        of        necessity) ہوتا ہے۔
ابن سینا کی جانب سے خدا کو اس معنی میں واجب الوجود کہنے پر امام غزالی و رازی وغیرہ نے متعدد نقد کئے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نظریہ متعدد قسم کے تضادات و مسائل کا شکار ہے (یہ امور تفصیل طلب ہیں)۔ قدم عالم کی رائے سے جنم لینے والے مسائل کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو ابن سینا کا یہ نظریہ اس کمزور دھاگے پر قائم ہے کہ انسانی ذھن چونکہ ماھیت کو وجود سے الگ سوچ لیتا ہے لہذا ماہیت وجود سے الگ متحقق ہے۔ ظاہر ہے ہر وہ شے جسے انسانی ذہن سوچ سکے یہ اس کے خارج میں متحقق ہونے کی دلیل نہیں، یہ استدلال زیادہ سے زیادہ مفہومی تغایر ثابت کرتا ہے لیکن اس سے خارجی تغایر لازم نہیں آتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انسانی ذھن ماہیت کی بھی ماہیت سوچتا ہے بلکہ خود وجود بطور وجود علی الرغم اس سے کہ وہ موجود ہے یا نہیں اسے بھی سوچتا ہے۔ نیز جو حضرات وجود و ماہیت کی دوئی کے قائل نہیں (جیسے ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ) اور جو بجا طور پر وجود کو ماہیت کے خارجی تحقق کے سوا کوئی الگ صفت نہیں مانتے، وہ اس دلیل سے یکسر متاثر نہ ہوں گے۔ مزید یہ کہ ابن سینا کا یہ دعوی بھی محل نظر ہے کہ امکان کی بنیاد وجود اور ماہیت کا تغایر ہے۔ محض دو متغایر امور کے فرض کر لینے سے احتیاج لازم نہیں آتی۔ جب دو متغایر امور کو قدیم فرض کیا جائے تو عقل ان کے باہمی استقلال کو بھی جائز سمجھتی ہے، یعنی دلیل عقلی اس بات کو محال نہیں کہتی کہ دو قدیم اور متغایر حقائق ایک دوسرے سے بے نیاز ہوں اور وہ از خود کسی علت کی احتیاج کے بغیر پائے جائیں۔ ابن سینا کا یہ کہنا تحکم ہے کہ محض کثرت امکان کو لازم ہے۔ پس اگر وجود و ماہیت کا تغایر بذات خود احتیاج کو ثابت نہیں کرتا تو عالم کے بارے میں “قدیم مگر ممکن” کا دعوی بھی اپنی بنیاد کھو دیتا ہے، لہذا یہ بنیادی سوال قائم رہتا ہے: عالم قدیم ہوتے ہوئے ممکن کیسے ہے؟
امام رازی کہتے ہیں کہ وجود جیسی صفت جس کا کسی ماہیت کے بغیر قابل فہم ہونا ہی محل نظر ہے، اسے نہ صرف یہ کہ از خود خارج میں متحقق ماننا بلکہ اسے تمام موجودات کی اصل کہنا ایک نہایت کمزور خیال ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ابن سینا نے واجب الوجود کو جس طرز (یعنی وجود بشرط لا شی) پر بیان کیا ہے وہ اسے ایک مجرد کلی مفہوم (یا پلاٹونک فارم) بنادیتا ہے (جی ہاں ایک ایسی چیز جس کا ابن سینا خود ناقد ہے)۔ یہ بھی یاد رہے کہ ابن سینا کے اس نظرئیے میں وجود کوئی پراسرار یا نامعلوم قسم کی چیز نہیں ہے بلکہ وہ بنیادی تصور ہے جس سے انسان بداھتاً واقف ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا اگر محض وجود ہے تو انسان کو خدا کی کل حقیقت معلوم ہے اور واجب الوجود کی حقیقت اور دیگر موجودات کے وجود کے مابین امتیاز کی توضیح دشوار ہوجاتی ہے۔ نیز خود ابن سینا کے ہاں یہ تردد دکھائی دیتا ہے کہ واجب الوجود کا یہ تصور بدیہی ہے یا استدلالی، اگر یہ بدیہی ہے تو اس پر برھان دینے کی ضرورت نہیں، اور اگر یہ استدلالی ہے (جیسا کہ خود ابن سینا بعض مقامات پر کہتے ہیں) تو جس وجود کے تصور سے برہان کا آغاز کیا جارہا ہے وہی وجود واجب الوجود کی حقیقت اور خارج میں اس کے متحقق ہونے کی دلیل کیسے بن گیا؟ اسی طرح ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا اگر علت موجبہ اور صرف وجود ہے، تو اس سے ایسی اشیا کا صدور کیسے ہوا جو ماہیت و وجود کا مجموعہ ہیں (گویا واجب سے امکان کا صدور کیسے ہوا)؟ اس کا جواب دینے کے لئے “واحد سے صرف واحد کا صدور ہوتا ہے نیز اس سے متعدد قسم کی عقول کی تاثیرات کا سلسلہ چلتا ہے” کے ایک پیچیدہ مگر غیر مفید فلسفے کو متعارف کرانے کی کوشش کی جاتی ہے جو فلسفے سے زیادہ کسی دیومالا کا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔
اس نقد کے بعد ابن سینا کی فکر سے متاثر متاخرین جیسے کہ علامہ طوسی و علامہ تفتازانی وغیرہ نے اس میں چند بنیادی قسم کی تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی (مثلاً طوسی وجود مطلق و وجود خاصہ کا فرق متعارف کراتے ہیں وغیرہ)، اسی طرح وجود و ماھیت میں دوئی کے قائلین وجودی مفکرین نے بھی اس مسئلے پر اپنے مواقف پیش کئے، تاہم اس سب کے باوجود اس فکر کے تضادات و عقدے حل نہیں ہو پاتے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں