دو سابقہ تحاریر (بذریعہ رسول “حجت علی الناس”) میں یہ واضح کیا جاچکا ہے کہ اتمام حجت کے نام پر قتال و بعض سزاؤں (جیسے کہ ارتداد) کے جن احکام کو جناب غامدی صاحب نبی کے براہ راست اور تاریخی مخاطبین تک محدود کرتے ہیں وہ ایک بے بنیاد مفروضے پرمبنی ہے۔ وہ مفروضہ یہ ہے کہ نبی کے براہِ راست مخاطبین کے لیے علم و یقین کا کوئی ایسا خصوصی درجہ ثابت ہوگیا تھا جو بعد والوں کے لیے حاصل ہونا ممکن نہیں یا بغیر وحی جس کے تحقق کا علم ہونا غیر نبی کے لئے محال ہے یا اس خصوصی علم کے بغیر بعض احکام کا اجرا درست نہیں۔ یہ استدلال قیام حجت کو دلیل کی صفت کے بجائے مخاطب کے شخصی احوال کے ساتھ خلط ملط کرنے پر مبنی ہے جبکہ قیامِ حجت علی الناس کا تعلق دلیل کے وصف کے ساتھ ہے اور وہ قطعی وصف آج بھی قائم ہے۔
اس غلطی کو مزید سمجھنے کے لئے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی مثال لیجئے جو صدیوں تک آپ علیہ السلام کی دعوت سنتی رہی مگر اس کے باوجود تجسیمی شرک پر قائم رہی۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ براہ راست مخاطب ہونے کی وجہ سے ان پر اتمام حجت ایک خاص درجے میں قائم ہوگیا تھا، تو سوال یہ ہے کہ وہ خاص معرفتی درجہ و دلیل آخر کیا تھی؟
• کیا ان کے شرک کے بطلان کی دلیل کمزور تھی کہ یہ کہا جاسکے کہ اس کمزوری کی بنا پر وہ اس سے باز نہ آئے؟ ہرگز نہیں
• جس تجسیمی شرک میں وہ مبتلا تھے، کیا اس کا بطلان جاننے کے لیے حضرت نوح علیہ السلام کی سینکڑوں سالہ دعوت شرط تھی؟ نہیں، بلکہ توحید اور شرک کے باب میں متکلمین کے نزدیک محض صحیح نظر ہی یقینی علم پیدا کرنے کے لیے کافی ہے، نیز جو حضرات تحسین و تقبیح عقلی کے قائل ہیں (جیسا کہ خود غامدی صاحب بھی) ان کے نزدیک اس معاملے میں بدون وحی شرعی تکلیف اور عند اللہ جوابدہی بھی ثابت ہوجاتی ہے اور جسے جاننے کے لئے کسی وحی کی ضرورت نہیں۔
لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس معاملے میں ان پر دنیاوی یا اخروی مواخذہ کسی ایسے معرفتی امتیاز کا نتیجہ تھا جو بعد والوں کے لیے حاصل نہیں ہوسکتا یا جس کی غلطی کے تحقق کا علم نبی کے سوا دوسروں کو نہیں ہوسکتا۔ آج بھی اگر کوئی شخص دنیا میں جس بھی وجہ سے تجسیم کا قائل ہو، ہم قطعی دلائل عقلیہ کی بنا پر یہ جانتے ہیں کہ وہ یقینی خطا پر ہے اور اس کے لیے کسی خصوصی خدائی خبر یا وحی کے ذریعے اضافی تصدیق کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ یہ کہنا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے براہ راست مخاطبین اگر تجسیمی شرک کریں تو انہیں کافر کہنا جائز ہے کہ ان پر کوئی خصوصی دلائل وغیرہ کے ساتھ اتمام حجت ہوگیا تھا لیکن بعد والوں کو عین ویسے تجسیمی شرک کی وجہ سے کافر کہنا جائز نہیں کہ ان پر ایسی معرفت ثابت نہیں نیز اس کے لئے کوئی خصوصی قسم کی خدائی قضا درکار ہے، یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں جن کا علم و دلیل، چاہے وہ عقلی ہو یا نقلی، سے تعلق نہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ اصل مواخذہ شرک پر نہیں بلکہ رسول کی صداقت کے دلائل کو جھٹلانے پر تھا، تو یہ بات بھی ہمارے موقف کو مزید مضبوط کرتی ہے کیونکہ اگر رسول کی صداقت کے وہی دلائل بعد والوں تک بھی یقینی طور پر منتقل ہوگئے ہیں تو پھر “رسول کی صداقت کے علم” کے اعتبار سے براہ راست اور بالواسطہ مخاطبین میں کوئی اصولی فرق باقی نہیں رہتا بلکہ “تاریخی طور پر رسول کے زمانے میں موجود ہونا” ایک اضافی وصف رہ جاتا ہے نہ کہ ایسا معرفتی وصف جس پر بعض مستقل شرعی احکام کی بنیاد رکھی جاسکے۔ الغرض “براہ راست مخاطب ہونا” بذات خود کوئی معرفتی علت (epistemic cause) نہیں ہے جو احکام پر موثر ہوسکے۔
جناب غامدی کے اپنے ایک موقف سے بھی درج بالا مقدمے کی تائید ہوتی ہے۔ ان کے مطابق رسول بالاخر غالب آتے ہیں اور یہ بذات خود ان کی سچائی کی قطعی دلیل ہوتی ہے۔ ان کی یہ بات بھی ہمارے مقدمے کو مضبوط کرتی ہے اس لئے کہ رسول اللہﷺ کی اپنے مخالفین پر یہ فتح بذات خود تواتر کے ساتھ منقول ہے جو یقینی علم کا فائدہ دیتا ہے۔ اس بنا پر بعد کے لوگوں کو بھی رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا وہی قطعی علم حاصل ہوسکتا ہے جو اس دلیل سے حاصل ہونا مطلوب ہے (خود ان کے بقول روم و فارس کی سب عوام کو یہ علم اس فتح سے حاصل ہوا تھا جس کی خبر انہیں تواتر سے پہنچی)۔ بلکہ ان کے موقف کا حاصل یہ ہے کہ بعد والوں کو نبیﷺ کی صداقت کی ایک ایسی اضافی قطعی دلیل میسر آگئی جو بہت سے اولین مخاطبین کو اس وقت میسر نہ تھی جب وہ دعوت کا انکار کررہے تھے، کیونکہ انہوں نے ابھی اس غلبے کے تحقق کا مشاہدہ نہیں کیا تھا جبکہ بعد والے اس کے وقوع کو بطور ایک متواتر تاریخی حقیقت جانتے ہیں۔




کمنت کیجے