ہمارے گزشتہ دو سو سالہ مذہبی اور غیر مذہبی علوم ایک بنیادی سوال سے اعراض کے نتیجے سے پیدا ہوئے ہیں اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا متکلم اور فاعلِ علمی سے ایک ہی چیز مراد ہے؟ مثلاً قرآن مجید کلام الہی ہے اور شعر کلامِ شاعر ہے۔ ہم ان دونوں کے حوالے سے متکلم اور منشائے متکلم کا سوال اٹھا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ فزکس کی کتاب کا متن بھی کلام ہے یا وہ صرف متن ہے؟ کیا فزکس کی کتاب میں بھی کوئی منشا کا حامل متکلم ہے یا وہ صرف فاعل علمی کا پیدا کردہ متن ہے؟ جس طرح کلام الہی اور کلام شاعر کے حوالے سے متکلم اور منشائے متکلم کی بحث اٹھائی جا سکتی ہے، تو کیا ہم فزکس کی کتاب کے حوالے سے بھی متکلم اور منشائے متکلم کا سوال اٹھانے کے مُجاز ہیں؟ متکلم کے کلام میں منشا کا سوال اس کے وجود کے حوالے سے پیدا ہوتا ہے، اور اول اس وجود کا ہونا، اس وجود کا خاص ہونا اور پھر اس وجود کا مراتب وجود میں معلوم ہونا منشائے کلام کو متعین کرتا ہے۔ یعنی متکلم اور منشائے متکلم کا سوال ایک خاص حفظِ مراتب کے بغیر بالکل ہی بے معنی ہے۔ اہم تر یہ کہ کلام، منشائے کلام اور متکلم کا ہونا صرف اس وقت فرض کیا جا سکتا ہے جب کوئی مخاطَب بھی فرض کیا جا سکے، اور مخاطَب کے بغیر یہ سب محال ہے۔ فزکس کی کتاب کا متن بھی اگر کلام، منشائے کلام اور متکلم کا حامل ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کا مخاطب کون ہے؟
گزارش ہے کہ فزکس کی کتاب متن ضرور ہے لیکن کلام بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ وہاں کوئی متکلم ہی نہیں ہے، اور نہ اس میں کوئی منشائے متکلم موجود ہے، کیونکہ منشائے متکلم، متکلم سے خاص ہوتی ہے اور کسی مخاطَب کو فرض کرتی ہے۔ فزکس میں فاعل علمی تو موجود ہوتا ہے لیکن متکلم کوئی نہیں ہوتا۔ مثلاً ہم شعر کے بارے میں منشائے متکلم کا سوال اٹھا سکتے ہیں لیکن علمِ عروض یا علمِ صرف کے حوالے سے یہ سوال مضحکہ خیز ہے۔ اسی طرح فزکس کے حوالے سے منشائے متکلم کا سوال اٹھانا بھی نہایت غیرعلمی اور قطعی لغو بات ہے۔
ہمارے علوم میں متکلم اور فاعلِ علمی کے بنیادی سوال سے اعراض خبر و نظر میں نہایت بنیادی نوعیت کے التباس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اور ہمارے گزشتہ دو سو سالہ علوم اسی التباس کی پیداوار ہیں۔ التباس، شعور کے ایک گڑھے کا نام ہے جہاں ایمان اور عقل کی روشنی نہیں پہنچتی اور اس میں پڑی ہوئی ساری چیزیں تاریکی کی وجہ سے ایک جیسی ہی نظر آتی ہیں۔ متکلم اور فاعلِ علمی دونوں قطعی مشخص entities ہیں، لیکن باہم قطعی یک نگر (mutually exclusive) ہیں یعنی متکلم فاعلِ علمی کی جگہ نہیں لے سکتا اور فاعلِ علمی متکلم نہیں بن سکتا۔
بنیادی طور پر، متکلم اور منشائے متکلم کی بحث ان متون میں ہو گی جن کا تعلق خبر سے ہے کیونکہ منشائے متکلم تبھی ممکن ہو گی جب متکلم مرید (صاحب ارادہ) ہو، اور کلام میں اپنی منشا کو داخل کرنے کا اہل و مُجاز و مختار ہو۔ فاعل علمی نہ مجاز و مختار ہے اور نہ غیرمجاز و غیر مختار ہے۔ فاعلِ علمی عقل انسانی کی ایک ایسی فرضی تشکیل ہے جو پہلے سے متعین صرف ایسی تصوراتی/علمی حرکت کی محتمل ہوتی ہے جو عقلی محضیت (pure rationality) سے شہودی معروض تک ہو، اور جس میں سے منشا اور مراد مطلقاً خارج ہو۔ فزکس کے متن میں منشا و مراد کو ڈھونڈنا علم و عقل سے قطعی بے بہرہ ہونے کا موقف ہے۔ خبر اور اس سے متعلق علوم میں عقل کا رول قوامی (constitutive) نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے، کیونکہ خبر سے متعلق عقلی علوم کی حیثیت خبر کو تسلیم کر لینے کے مابعد ہے، جبکہ علوم نظر یا نظری علوم میں عقل کا رول مکمل طور پر قوامی ہوتا ہے، اور جن میں فاعلِ علمی ایک ریاضیاتی منطق پر تصوراتی حرکت کا پابند ہوتا ہے اور اس حرکت میں جبر لزوم کے طور پر داخل ہوتا ہے۔
معنی کا سوال بھی صرف علومِ خبر تک محدود ہے، کیونکہ نظری علوم آلاتی ہونے سے کبھی ترفع نہیں پا سکتے۔ عقلی علوم صرف تصور (concept) تک محدود ہوتے ہیں، اور فاعلِ علمی عقلی علوم کی ادھیڑ بن انھیں سے بروئے کار لاتا ہے۔ لہٰذا، فاعل علمی کے پیدا کردہ علمی متن پر معنی کا سوال وارد نہیں کیا جا سکتا۔ نظری علوم میں فاعل علمی چونکہ ایک مستقل حرکت میں ہوتا ہے اس لیے تصورات کی داخلی نسبتیں بھی مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ تصور مادی اور اثباتیاتی شے کی ساخت و ہیئت کی تشکیل میں کھپ جاتا ہے کیونکہ خود اس کی ”شکل“ اینٹ روڑے سے ملتی جلتی ہوتی ہے جبکہ معنی حضوری اور سیالی ”فیض“ ہے جو نفس انسانی کو گوندھنے اور پھر ڈھالنے کے کام آتا ہے۔
فلسفیانہ اور عقلی علوم میں جو چیز فاعلِ علمی ہے، ادب، فن اور ادبی تنقید میں اس کے لیے متبادل ترکیب ”موتِ مصنف“ ہے کیونکہ ان علوم میں بھی منشائے متکلم کے حامل کسی متکلم کا ہونا ضروری ہے۔ مصنف کی ضرورت یافتِ معنی، حصول معنی اور ترسیل معنی کے لیے ہوتی ہے، اور جہاں معنی کا سوال ہی ختم ہو جائے وہاں مصنف کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔ ادب و فن وغیرہ میں تو”مصنف کی موت“ کا اعلان ہو گیا ہے کیونکہ وہاں کوئی منشائے معنوی باقی ہی نہیں رہی/رہا ہے، لیکن دوسری طرف فاعل علمی ڈجیٹل کشتے وغیرہ نگل کر مزید طاقتور ہو گیا ہے۔ ابھی چند دہائیاں قبل کوئی فاعلِ علمی ساری عمر میں جتنی کتابیں لکھ سکتا ہے، ڈجیٹل ہونے کے بعد اب وہی فاعل علمی اتنی کتابیں ایک گھنٹے میں لکھ سکتا ہے۔ انشا و تحریر وغیرہ کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں بصد تقریب و اہتمام عروسِ معنی کی حجلۂ لفظ میں جلوہ آرائی مقصود ہو۔ کارِ حرف و معنی انسانوں کو ہی زیبا رہا ہے اور ہمیشہ سے وہی کرتے آئے ہیں۔ یہ کام مشینوں کے کرنے کا نہیں ہے کیونکہ ان کا کام پیداواری نوعیت کا ہوتا ہے۔ اب متن بھی مشینی پیداوار (production) کی عملداری میں آ چکا ہے۔ مشینی اور صنعتی پیداوار میں معنی کا سوال ہی ختم ہو جاتا ہے، اور صرف سیاسی طاقت اور سرمایہ باقی رہ جاتے ہیں۔ بناوٹی ذہانت نے فاعلِ علمی کی نئی تشکیل کی ہے اور اسے مکمل طور پر صنعتی بنا دیا ہے۔ جہانِ متن میں اب کوئی متکلم اور مخاطَب باقی ہی نہیں رہا ہے۔ سوچنے کی بات اب یہ ہے کہ بناوٹی ذہانت کی سونامی سے جو سیلِ متن امڈ آیا ہے اس میں کلام و معنی کی ڈوبتی نیّا کو کیونکر محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔




کمنت کیجے