Home » کرپٹوکرنسی اور فتاوی کی حدود
مدرسہ ڈسکورسز

کرپٹوکرنسی اور فتاوی کی حدود

کرپٹو کرنسی کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ “مال” ہے یا “مال نہیں”، شریعت کا سرے سے موضوع ہی نہیں ہے۔ یہ سوال پہلے عرف، معاشی تعامل، قانون اور ریاستی نظم کے دائرے میں آتا ہے۔
دین نے یہ طے نہیں کیا کہ ہر زمانے میں مبادلے کا ذریعہ کیا ہو گا۔ ایک دور میں چیز کے بدلے چیز کا مبادلہ ہوتا تھا۔ پھر سونا چاندی نے یہ حیثیت اختیار کی۔ اس کے بعد کاغذی نوٹ، بینک، چیک، کارڈ اور آن لائن ادائیگیوں کا نظام وجود میں آیا۔ شریعت نے یہ مقرر نہیں کیا تھا کہ قیامت تک صرف سونا چاندی ہی مال ہوں گے یا صرف وہی مبادلے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ان پر احکام اس لیے لگے کہ وہ اُس زمانے کے عرف میں مال اور نقد تھے۔ شریعت نے انہیں مال بنایا نہیں، بلکہ ایک موجود معاشی حقیقت پر اپنا حکم لگایا۔
یہ بالکل ایسا ہے جیسے آج کوئی شریعت سے یہ طے کروانا چاہے کہ بینک اکاؤنٹ میں درج رقم مال ہے یا نہیں، موبائل بیلنس، بجلی کا یونٹ، کمپنی کا شیئر یا ڈیجیٹل والٹ میں موجود رقم واقعی مال ہے یا نہیں۔ یہ چیزیں اپنی حیثیت عرف، قانون، اعتماد اور ریاستی نظم سے حاصل کرتی ہیں۔ شریعت ان کی معاشی حقیقت ایجاد نہیں کرتی، بلکہ اس حقیقت پر اپنا حکم لگاتی ہے۔
مال کا تصور ہمیشہ عرف، منفعت، قیمت اور ضمان سے متعلق رہا ہے۔ جس چیز کو لوگ قابلِ قدر سمجھیں، جس سے فائدہ اٹھایا جا سکے، جس پر لین دین ہو، جس کی قیمت قائم ہو، اور قانون اس پر ملکیت و ضمان کو تسلیم کرے، وہ مال کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ اس لیے کسی نئی چیز کو مال، اثاثہ یا مبادلے کا ذریعہ ماننے کا فیصلہ تنہا مفتی کے فتویٰ سے نہیں، بلکہ معاشرے، قانون، ریاست اور معاشی تعامل سے ہوتا ہے۔
البتہ شریعت کا دائرہ واضح ہے۔ وہ یہ بتاتی ہے کہ کسی معاملے میں سود، دھوکا، ضرر، غرر، قمار، ظلم یا ناجائز طریقے سے مال کھانے کا پہلو موجود ہے یا نہیں۔ علما کا اصل کام یہی اصول واضح کرنا ہے، مگر ان اصولوں کا اطلاق بھی حقیقتِ واقعہ، عرف اور قانون کو سمجھ کر ہو گا۔ ریاستی قانون اور عمومی تعامل کو نظر انداز کر کے کسی چیز کو سرے سے مال نہ ماننا علمی طریقہ نہیں ہے۔
اس غلط فہمی کا ایک تاریخی سبب بھی ہے۔ قدیم ادوار میں علما ہی بسا اوقات قاضی، مفتی، قانون دان اور ریاستی نظم کا حصہ ہوتے تھے، اس لیے فقہ، عدالت، عرف اور ریاستی قانون کئی جگہوں پر ایک ہی دائرے میں جمع ہو جاتے تھے۔ آج صورت حال بدل چکی ہے۔ جدید ریاست میں قانون سازی، عدالت، مالیاتی نظم اور ضابطہ بندی مستقل اداروں کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس لیے یہ فرق واضح رہنا چاہیے کہ شریعت، فقہ اور ریاستی قانون ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
شریعت خدا کا دین ہے۔ فقہ اس دین کو سمجھنے اور حالات پر منطبق کرنے کی انسانی کاوش ہے۔ ریاستی قانون اجتماعی نظم ہے، جس کے ذریعے معاشرہ ملکیت، ضمان، لین دین اور مالی معاملات کو منظم کرتا ہے۔ حلال و حرام کا اصول شریعت دے گی، مگر کسی نئی معاشی چیز کی قانونی حیثیت، ملکیت اور ضمان کا تعین ریاست، قانون اور عرف سے ہو گا۔
کرپٹو کا معاملہ ہو یا کوئی دوسری نئی صورت، یہی اصول سامنے رہنا چاہیے۔ ممکن ہے بعض صورتوں میں اس کا لین دین ضرر، دھوکے یا غیر معمولی ابہام کا باعث بنتا ہو۔ ایسی صورت میں بات اسی پہلو سے ہونی چاہیے۔ پورے معاملے پر ایک ہی جملے میں حکم لگا دینا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔
علما کو ایسے معاملات میں عوامی خطبات اور قطعی فتووں سے خاص احتیاط کرنی چاہیے۔ جدید معاشی اور قانونی مسائل میں پوری حقیقت واضح کیے بغیر دو ٹوک حکم دے دیا جائے، اور بعد میں اس پر رجوع یا ترمیم کی ضرورت پیش آئے، تو عام لوگ اسے دین کی کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ پھر طنز کیا جاتا ہے کہ ایک دن یہی چیز حلال تھی اور دوسرے دن حرام ہو گئی۔ حالانکہ مسئلہ دین کا نہیں، فتویٰ دینے کے طریقے اور حقیقتِ واقعہ کو سمجھے بغیر حکم لگانے کا ہوتا ہے۔
درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے کرپٹو کی معاشی، قانونی اور عملی حقیقت سمجھی جائے، پھر دیکھا جائے کہ اس کے استعمال میں دھوکا، غرر، قمار، سود، ظلم یا اکلِ مال بالباطل کا پہلو ہے یا نہیں۔
شریعت کا حکم حقیقت پر لگتا ہے، اور حقیقت صرف فتویٰ سے نہیں، عرف، قانون، معیشت اور ریاستی نظم سے متعین ہوتی ہے۔

محمد حسن الیاس

محمد حسن الیاس علوم اسلامیہ کے ایک فاضل محقق ہیں۔انھوں نے درس نظامی کی روائتی تعلیم کے ساتھ جامعۃ المدینۃ العالمیۃ سے عربی ادب کی اختصاصی تعلیم حاصل کی۔معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کے شاگرد اور علمی معاون ہونے کے ساتھ ان کے ادارے میں تحقیقی شعبے کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہیں۔

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں